گزشتہ روز کی چند اہم خبریں
گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر:
- ضلع کُرم میں حالات کو معمول پرلانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے کرم میں ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو حکومت کے حوالے نہ کیا گیا تو وقوعہ کے مقام پر سخت کاروائی کی جائے گی۔ کرم میں سخت کشیدہ حالات کے تناظر میں کوہاٹ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد جاری سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وقوعہ کے مقام پر سخت کاروائی کے لیے آپریشن کی ضرورت پڑنے پر مقامی آبادی کو عارضی طور پر منتقل کیا جائے گا جبکہ کرم میں دفعہ 144 نافذ ہوگی اور قافلوں کی آمدورفت کے دوران سڑکوں پر کرفیو ہوگا۔
- صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سنیچر کے روز ڈپٹی کمشنر پر کیے جانے والے حملے کا مقدمہ پانچ افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی کرم بمعہ اپنے گارڈز، ڈرائیور، ایف سی نفری کے ہمراہ کانوائے کے انتظامات چیک کرنے صدہ سے بگن کی طرف جارہے تھے۔ جس وقت وہ انتظار گاہ بگن، جو کہ تھانہ اخمدی شمع سے تقریبا 12 کلو میٹرمغرب پر واقع ہے، پر پہنچے تو اس وقت ان کی گاڑیوں پر 25 کے قریب نامعلوم دہشت گردوں نے قتل کے ارادہ سے اندھا دھند فائرنگ کی۔
- مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم میں شرپسندوں نے فائرنگ کر کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ سکیورٹی کے پیش نظر چند مقامات پر کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ شر پسندی دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔
- گلگت بلتستان کے سیاحتی مقام ہنزہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شاہراہ قراقرم پر تین روز سے جاری دھرنے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔ سیاح متبادل راستوں پر سفر کرنے پر مجبور۔
