شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے: ’قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟‘ جسٹس جمال مندوخیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہReuters
شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا ہے کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے اور اگر ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟
سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے جس کے تحت ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔
دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے کیس میں یہی بنیادی آئینی سوال ہے۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے اور قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟
وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔ خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں اور اس میں مختلف دیگر کیٹیگریز بھی شامل ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کا سب سیکشن (3) افواج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا فوجداری معاملے کو اس آرٹیکل میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا ہے کہ آئین میں سویلنز کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔
وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کے لوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہی تو سوال ہے کہ افواج پاکستان کے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیسے کیا جا سکتا؟
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ بنیادی آئینی حقوق کی بنیاد پر آرمی ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا جس پر عدالت کی جانب سے جواب دیا گیا کہ اگر کوئی شہری فوج کا حصہ بن جائے تو کیا وہ اپنے بنیادی حقوق سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کوئی شہری روکنے کے باوجود کسی فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہو گا اور کیا کام سے روکنے کے الزام پر اس کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ اس سوال پر وزارت دفاع کے وکیل لاجواب ہو گئے اور کہا کہ عدالت کی جانب سے ایسی صورت حال بتائی گئی ہے کہ جس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے وزارت دفاع کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ اگر وہ شہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل چلے گا صرف چوکی کے باہر کھڑے ہونے پر تو کچھ نہیں ہو گا۔
عدالت نے وزارت دفاع کے وکیل کو کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی سماعت کے اختتام پر روسٹم پر آ گئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو فوجی عدالت کی جانب سے دس سال سزا سنائے جانے کے بعد جیل تو منتقل کر دیا گیا ہے لیکن ان کے ساتھ عام قیدیوں جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب کے بیٹے کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو اس کے ساتھ فوجی تحویل میں ہو رہا تھا۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ بتایا جائے جیل منتقل ہونے والوں کےساتھ جیل مینول کے مطابق سلوک ہو رہا یا نہیں؟
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے تو حکم بھی جیل مینول کے مطابق سلوک کا دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت عدالتی حکم کو نہیں مان رہے۔



























