حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات: عمران خان نے مطالبات تحریری طور پر دینے کی اجازت دے دی، بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کسی ڈیل کے لیے نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں پیش کیے گئے مطالبات میں عمران خان سمیت تمام رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل ہے۔

خلاصہ

  • سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت، آئینی عدالت نے سزا یافتہ قیدیوں کی نقل و حرکت کی رپورٹ طلب کر لی
  • لاس اینجلس میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث 30 ہزار افراد کو فوری انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔
  • خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے تین مختلف آپریشنز کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کارروائیوں کے دوران تین فوجی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • عمران خان تک رسائی نہیں دی جاتی تو مذاکرات کی تیسری نشست کی ضرورت نہیں: شیخ وقاص اکرم
  • کوئٹہ میں مسلح افراد کے حملے میں ایک راہگیر بچہ ہلاک جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
  • چین کے زیرِ انتظام تبت میں منگل کے روز آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 126 ہو گئی ہے جبکہ 190 کے قریب افراد زخمی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے: ’قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟‘ جسٹس جمال مندوخیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا ہے کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے اور اگر ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟

    سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے جس کے تحت ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے کیس میں یہی بنیادی آئینی سوال ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے اور قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟

    وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔ خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں اور اس میں مختلف دیگر کیٹیگریز بھی شامل ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کا سب سیکشن (3) افواج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا فوجداری معاملے کو اس آرٹیکل میں شامل کیا جا سکتا ہے؟

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا ہے کہ آئین میں سویلنز کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کے لوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہی تو سوال ہے کہ افواج پاکستان کے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیسے کیا جا سکتا؟

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ بنیادی آئینی حقوق کی بنیاد پر آرمی ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا جس پر عدالت کی جانب سے جواب دیا گیا کہ اگر کوئی شہری فوج کا حصہ بن جائے تو کیا وہ اپنے بنیادی حقوق سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کوئی شہری روکنے کے باوجود کسی فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہو گا اور کیا کام سے روکنے کے الزام پر اس کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ اس سوال پر وزارت دفاع کے وکیل لاجواب ہو گئے اور کہا کہ عدالت کی جانب سے ایسی صورت حال بتائی گئی ہے کہ جس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

    بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے وزارت دفاع کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ اگر وہ شہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل چلے گا صرف چوکی کے باہر کھڑے ہونے پر تو کچھ نہیں ہو گا۔

    عدالت نے وزارت دفاع کے وکیل کو کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی سماعت کے اختتام پر روسٹم پر آ گئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو فوجی عدالت کی جانب سے دس سال سزا سنائے جانے کے بعد جیل تو منتقل کر دیا گیا ہے لیکن ان کے ساتھ عام قیدیوں جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب کے بیٹے کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو اس کے ساتھ فوجی تحویل میں ہو رہا تھا۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ بتایا جائے جیل منتقل ہونے والوں کےساتھ جیل مینول کے مطابق سلوک ہو رہا یا نہیں؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے تو حکم بھی جیل مینول کے مطابق سلوک کا دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت عدالتی حکم کو نہیں مان رہے۔

  2. تبت کے مقدس شہر شگاتزا میں زلزلے سے 95 افراد ہلاک، 130 زخمی

    تبت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح چین کے زیرِ انتظام تبت میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 130 افراد زخمی ہیں۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق تبت کے مقدس شہر شگاتزا میں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے آنے والے زلزلے کی شدت 7.1 تھی اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد علاقے میں آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔

    چینی فضائیہ نے علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    زلزلے کے جھٹکے پروسی ممالک نیپال اور انڈیا میں بھی محسوس کیے گئے۔ تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نیپالی حکام نے بتایا ہے کہ فی الحال نیپال میں زلزلے سے ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں۔

    اس خطہ سے ایک فالٹ لائن گزرتی ہے جس کی وجہ سے یہاں زلزلے عام ہیں۔

    تبت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شگاتزا کا شمار تبت کے مقدس ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ پنچن لامہ کی روایتی نشست ہے جو تبتی بدھ مت میں دلائی لامہ کے بعد دوسری اہم شخصیت مانے جاتے ہیں۔

    زلزلہ مرکز کے نزدیک واقع علاقہ ٹنگری ماؤنٹ ایورسٹ پر جانے والے کوہ پیماؤں میں کافی مقبول ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق ٹنگری میں منگل کی صبح ماؤنٹ ایورسٹ دیکھنے جانے والے سیاحوں کے دورے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور سیاحتی مقام مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے محقق جیانگ ہائیکون نے چین کے قومی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو بتایا کہ 5 کی شدت کا ایک اور زلزلہ اب بھی آسکتا ہے تاہم کسی بڑے زلزلے کا امکان کم ہے۔

  3. شمالی کوریا کا آواز کی رفتار سے 12 گنا تیز ہائپر سونک میزائل تجربہ کرنے کا دعویٰ

    شمالی کوریا کا دعوی ہے کہ اس کا نیا میزائل آواز کی رفتار سے 12 گنا تیز پرواز کر سکتا ہے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کا دعوی ہے کہ اس کا نیا میزائل آواز کی رفتار سے 12 گنا تیز پرواز کر سکتا ہے

    شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سوموار کے روز ہائپر سونک وار ہیڈ سے لیس درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    پیونگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس میزائل سے خطے میں موجود کسی بھی دشمن کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    یہ پچھلے دو ماہ میں شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا پہلا میزائل تجربہ ہے۔

    یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن جنوبی کوریا کے رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے سیول میں موجود تھے۔

    ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیزی سے سفر کرتے ہیں اور انھیں روکنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

    شمالی کوریا کا دعوی ہے کہ اس کا نیا میزائل آواز کی رفتار سے 12 گنا تیز پرواز کر سکتا ہے جو تقریباً 1500 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بنتی ہے۔

    اس سے قبل جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا سے فائر کیا جانے والا میزائل 1100 سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    جنوبی کوریا کی فوج نے اس کو ’اشتعال انگیزی کا واضح عمل‘ قرار دیتے ہوئے اس کی ’سخت مذمت‘ کی ہے۔

  4. تبت میں 7.1 شدت کا زلزلہ، درجنوں افراد ہلاک

    تبت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ منگل کے روز چین کے زیرِ انتظام تبت میں آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور دیگر 62 زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کی شدت 7.1 تھی جبکہ اس کا مرکز تبت کا شہر شگاتزا تھا۔ یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کے بعد علاقے میں کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔

    زلزلے کے جھٹکے نیپال، بھارت اور بھوٹان میں بھی محسوس کیے گئے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 6.8 تھی اور اس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

    سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں منہدم ہوتی دیکھی جا سکتی ہیں۔

    چین کی فضائیہ نے متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

    علاقے میں پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔

    تبت کے زلزلہ بیورو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق کر رہے اور فی الحال ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تخمینہ فراہم نہیں کر سکتے۔

  5. اسرائیلی فوج کا شمالی غزہ میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں جھڑپوں کے دوران اس کے دو فوجی ہلاک اور دو دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    ٹائمز آف اسرائیل نے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے ایک کی شناخت کیپٹن ایتان اسرائیل شکنازی کے نام سے کی ہے۔ 24 سالہ شکنازی نہال بریگیڈ کی 932 ویں بٹالین میں ڈپٹی کمپنی کمانڈر تھے۔

    اخبار نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ دوسرے فوجی کا نام بعد میں ظاہر کیا جائے گا۔

    اسرائیلی فوج کا مزید کہنا تھا کہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں اسی واقعے میں 932 ویں بٹالین کے دو دیگر فوجی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حنون میں ٹینک شکن میزائل حملے میں 23 سالہ سارجنٹ یوریل پیریٹز بیت ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے تھے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

  6. امریکہ میں برفانی طوفان: چھ افراد ہلاک، لاکھوں صارفین کو بجلی کی فراہمی معطل

    برفانی طوفان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں برفانی طوفان کے نتیجے میں کئی ریاستوں میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

    حکام کے مطابق امریکی ریاستوں ٹیکساس، میسوری، کنساس، ورجینیا اور جنوبی کیرولائینا میں برفانی طوفان کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ان میں سے بیشتر اموات سڑکوں پر برف جمنے کے باعث ہوئی ہیں جبکہ ٹیکساس میں ایک بس سٹاپ کے باہر سے ایک شخص کی لاش ملی ہے۔

    سات امریکی ریاستوں میری لینڈ، میسوری، ورجینیا، مغربی ورجینیا، کنساس، کینٹکی اور آرکنساس میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

    ریاست کنساس کے کئی حصوں میں اب تک 18 انچ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے جس کے باعث بیشتر سڑکیں بند ہیں۔

    برفانی طوفان امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں لوڈشیڈنگ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ پاور آؤٹیج کے مطابق چھ ریاستوں میں بجلی کے ترسیل کے نظام میں خلل پڑا ہے جس کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ کے قریب صارفین بجلی سے محروم ہیں۔

    برفانی طوفان کی وجہ سے اب تک تقریباً 2200 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جب کہ 23 ہزار سے زائد کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    موسم کی پیش گوئی کرنے والے اداروں کے مطابق منگل کو بھی سرد موسم جاری رہے گا تاہم آئند چند دنوں میں سردی کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے۔

  7. بریکنگ, جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا کے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا کے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    تقریباً ایک دہائی تک وزیر اعظم رہنے کے بعد جسٹن ٹروڈو کینیڈا کی گورننگ پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

    ٹروڈو نے اوٹاوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک وزیر اعظم رہیں گے جب تک کہ لبرل پارٹی کا نیا لیڈر منتخب نہیں ہو جاتا۔

  8. کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    Justin

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ عہدہ چھوڑنے کے ساتھ ہی ان کے بطور وزیراعظم نو برس کے دور اقتدار کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

    اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ کینیڈا کے وزیراعظم نے لبرل پارٹی کی قیادت بھی چھوڑنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    گذشتہ ماہ جسٹن ٹروڈو کے وزیر خزانہ نے پالیسی معاملات پر اختلافات کو وجہ بتاتے ہوئے مستعفی ہو گئے تھے۔ ان اختلافات میں سے ایک نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈین اشیا پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی سے نمٹنے سے متعلق تھا۔

    کینیڈین وزیراعظم کے بارے میں اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق دس بجکر 45 منٹ پر ایک نیوز کانفرنس میں مستعفی ہونے کا اعلان کریں گے۔

    عوام میں بھی جسٹن ٹروڈو کی مقبولیت کھو رہی ہے اور کچھ سروے اس بات کا پتا دے رہے ہیں کہ اس برس ہونے والے عام انتخابات میں ان کی جماعت شکست کے رستے پر گامزن ہے۔

    وہ اس تاثر کو زائل کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کے ارکان انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کر رہے ہیں اس وجہ سے وہ بدھ کو پارٹی کے اجلاس سے قبل ہی اپنا استعفیٰ پیش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    تاہم ذرائع نے یہ کہا ہے کہ یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ جسٹسن ٹروڈو فوری طور پر اپنے منصب سے علیحدہ ہو جائیں گے یا پھر نئے وزیراعظم کے انتخاب تک وہ یہ عبوری طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹن ٹروڈو نے اپنے مستقبل کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

    تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان کی جگہ جو بھی آئے گا اسے انتخابی مہم چلانا ہو گی اور پھر منتخب ہو کر امریکہ سے ممکنہ تجارتی جنگ بھی کرنا ہوگی۔

  9. مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کی فائرنگ سے تین اسرائیلی ہلاک، آٹھ زخمی

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہری کی ایک بس اور دوسری گاڑیوں پر فائرنگ سے تین اسرائیلی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

    میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 60 کے پیٹے والی دو خواتین اور 40 کے پیٹے والے ایک شخص بھی شامل ہیں۔ جس بس پر فائرنگ کی گئی اس کے ڈرائیور شدید زخمی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’دہشتگردوں‘ نے ہائی وے 55 پر واقع الفندوق گاؤں کے قریب بس پر فائرنگ کی اور پھر وہاں سے فرار ہو گئے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور دو فلسطینی شہری تھے۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر فوجی چوکیوں کو تعینات کیا اور فائرنگ کے مرتکب افراد کی تلاش کے لیے کومبنگ آپریشن شروع کر دیا۔

    اسرائیلی ایمبولینس سروس کے ایک اہلکار نے اسے ایک بہت شدید حملہ قرار دیا جس میں مختلف گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایمبولیسن سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے فوری کارروائی کی اور تلاش کے دوران ہمیں دو خواتین اور ایک مرد کے بارے میں علم ہوا کہ وہ مر چکے ہیں جنھیں متعدد گولیاں لگی تھیں۔ بیان کے مطابق ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا اور ہم نے انھیں اس وقت ہی مردہ قرار دیا۔

    اس سروس کے معالجین نے بس کے زخمیوں کا اندر جا کر علاج بھی کیا جن کا گولیاں لگنے سے خون بہہ رہا تھا۔

    اس جگہ سے دو زخمیوں کو اسرائیل کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    انھوں نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس حملے کے ذمہ داران میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔

    اگرچہ حماس نے حملہ آوروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ غزہ جنگ سمیت اس وقت جاری اسرائیلی جرائم کے خلاف ایک ہیروز والا جوابی تھا۔

  10. کوئی بیک ڈور رابطے ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئی

    Gohar Ali Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمارے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں اور نہ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو کمیٹی عمران خان نے بنائی ہے وہی مذاکرات کر رہی ہے جبکہ مذاکراتی کمیٹی کے دو اجلاسوں کے علاوہ کہیں کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

    پی ٹی آئی کے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ دو اجلاس ہو چکے ہیں۔ اور مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی بتایا تھا۔ کہ عمران خان سے ملاقات کرنی ہے اور امید تھی کہ آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو گی لیکن ابھی تک کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

    بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ’امید ہے کل ہماری عمران خان سے ملاقات ہوجائے گی۔‘ انھوں نے وضاحت دی کہ ’عمران خان کی اہلیہ ’بشریٰ بی بی مذاکراتی سلسلے میں شامل نہیں ہیں۔‘

    ان کے مطابق ہمارے دو ہی مطالبات ہیں: اسیران کی رہائی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے ان دو مطالبات کے لیے ایک ٹائم فریم دے رکھا ہے۔

    NA Secretariat

    ،تصویر کا ذریعہNA Secretariat

    واضح رہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان دوسرا مذاکراتی دور جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے زبانی طور پر عمران خان اور دیگر افراد کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے دو مطالبات پیش کیے گئے۔

    اسی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں آگے بڑھنے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی کے لیے وقت بھی مانگا گیا۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن نے کہا ہے کہ عمران خان نے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے، اپوزیشن کے مطابق مذاکرات مثبت طریقے سے جاری رکھنے کے لیے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی عمران خان سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلی میٹنگ میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کرے گی۔‘

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یعنی حکومت کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات اور سہولت لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تحریک انصاف نے ایک ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے جس کے بعد بات چیت کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ اپوزیشن کے مطالبات اگر تحریری شکل میں آئیں گے تو ہم دیکھیں گے وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک میں جمہوری استحکام کی بات کی ہے، اپوزیشن کا لہجہ سخت نہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی جانب سے سراہا گیا ہے، بات چیت کا خوشگوار ماحول میں ہونا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرائی جائے: پی ٹی آئی وکیل کی درخواست

    عمران خان کی ٹیم میں شامل ایک وکیل نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کو ایک درخواست دی ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ سیاسی کمیٹی کے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات سے قبل عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سات رکنی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات کھلے ماحول میں کروائی جائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’مذاکراتی کمیٹی کی کل (بروز منگل) ملاقات کا انتظام کروایا جائے۔‘

    ڈیالہ جیل انتظامیہ نے مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات سے متعلق درخواست وصول کرلی۔

  11. توشہ خانہ مقدمہ تحقیق طلب ہے، عمران خان سے ایف آئی اے نے کبھی سوال تک نہیں پوچھا: اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Tosha Khana 2.0

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقدمے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ عدالت نے اس سے قبل اس مقدمے میں عمران خان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔

    فیصلے کے مطابق بلغاری سیٹ کا تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے پر کارروائی بنتی ہی نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ جب تحفہ جمع نہ کرانے پر کارروائی ہو ہی نہیں سکتی تو یہ مزید انکوائری کا کیس ہے۔

    14 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی تحریری فیصلہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جاری کیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ پر سعودی ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ کا تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا الزام ہے۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے پر فوجداری کارروائی شروع کی گئی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پراسیکیوٹر کے مطابق تحفہ جمع نہ کروا کر بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے۔

    فیصلے میں لکھا ہے کہ پراسیکیوٹر کے مطابق تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کروا کر کرمنل بریچ آف ٹرسٹ کیا گیا۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ پر دباؤ ڈال کر تحفے کی قیمت کم لگوانے کا بھی الزام ہے۔

    فیصلے کے مطابق یہ الزام ہے کہ جیولری سیٹ کم قیمت لگوا کر لینے سے قومی خزانے کو 3 کروڑ 28 لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا۔

    ایف آئی اے کی طرف سے جمع کردہ چالان کے مطابق تحفے کی رسید کے ساتھ ساتھ تحفہ جمع کرانا بھی لازم تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق سنہ 2018 کے توشہ خانہ قواعد کے مطابق تحفہ نہیں بلکہ صرف رسید جمع کرانا لازم تھی۔ فیصلے کے مطابق اس بات سے انکار نہیں کیا گیا کہ عمران خان نے ڈپٹی ملٹری سکیریٹری کے ذریعے رسید توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

    عدالت کے مطابق بادی النظر میں تحفہ جمع نہ کرائے جانے پر کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی تھی۔ فیصلے کے مطابق اس معاملے سے نکلنے کے لیے 2023 میں کابینہ ڈویژن نے آفس میمورینڈم میں ترمیم کرتے ہوئے لکھا کہ رسید کی جگہ تحفہ جمع نہ کرانے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    عدالت کے مطابق 2023 میں جاری کیا گیا آفس میمورینڈم 2023 سے ہی نافذالعمل نہیں ہو سکتا تھا۔ فیصلے کے مطابق ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی تسلیم کیا کہ آفس میمورینڈم کا اطلاق دو سال پہلے ہونے والے عمل پر نہیں ہو سکتا۔

    عدالت کے عارضی تعین کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس مزید انکوائری کا کیس ہے۔

    عدالت کے مطابق پراسیکیوٹر نے زور دیا کہ عمران خان توشہ خانہ ون میں بھی سزا یافتہ ہیں اور ضمانت کے حقدار نہیں ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کی توشہ خانہ ون کیس میں سزا نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض نہ کرنے پر معطل ہو چکی ہے اور نیب پراسیکیوٹر توشہ خانہ ون کیس بےضابطگیوں کے باعث سزا کالعدم کر کے ریمانڈ بیک کرنے کی بھی استدعا کر چکے ہیں۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے تحفے کی کم قیمت لگوانے میں بانی پی ٹی آئی کے اثراندز ہونے کے پہلو پر زور دیا ہے جبکہ ایف آئی اے کا یہ کیس ہی نہیں کہ عمران خان یا ان کی اہلیہ نے براہ راست دھمکی دی یا دباؤ ڈالا۔

    عدالت کے مطابق تحفے کی قیمت کا تعین کرنے والے صہیب عباسی کا بیان بھی تاحال ٹرائل کورٹ کے سامنے ریکارڈ نہیں ہوا۔

    فیصلے کے مطابق صہیب عباسی چیئرمین نیب کی جانب سے معافی ملنے پر کیس میں وعدہ معاف گواہ بنے جبکہ ایف آئی اے حکام کی جانب سے صہیب عباسی کی معافی سے متعلق کچھ سامنے نہیں آیا۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں پر گراف جیولری سیٹ حاصل کرنے سے متعق الزام لگایا گیا۔ تحفے کی رقم جمع کرانے کی رسید عمران خان نہیں بلکہ بشریٰ بی بی کے نام پر جاری کی گئی۔

    عدالت نے قرار دیا کہ عمران خان 72 سال کے ہیں اور اس کیس میں چار ماہ سے زائد عرصے تک زیرحراست رہے ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق کیس ایف آئی اے کو منتقل ہونے کے بعد تفتیشی افسر نےعمران خان سے سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عمران خان کے خلاف ریفرنس نیب نے دائر کیا تھا۔ عدالت کے مطابق اس مقدمے کے دستاویزی شواہد پہلے ہی پراسیکیوشن کے قبضے میں ہیں، ٹمپرنگ کا کوئی خدشہ نہیں۔

    عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ ’عمران خان ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال نہ کریں اور ہر سماعت پر ٹرائل کورٹ میں پیش ہوں۔‘ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان ضمانت کا غلط استعمال کریں تو پراسیکیوشن ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی آج کی سماعت کا احوال

    اُدھر ااڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس پر سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ دوران سماعت عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں۔

    آج کی سماعت کے دوران اس کیس میں بنیامین نامی گواہ پر جرح مکمل کر لی ہے۔ یہ سرکاری گواہ سیکشن آفیسر ہیں۔ پیر کو ہی پراسیکیوشن کے گواہ ڈپٹی سیکریٹری کوارڈینیشن محمد احد کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا۔

    واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں مجموعی طور پر تین گواہوں پر جرح مکمل کر لی گئی ہے جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر پراسیکیوشن کے مزید چار گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اب آٹھ جنوری کو ہوگی۔

  12. حکومت تاثر دے رہی ہے کہ عمران خان کے بیک ڈور رابطے ہیں: علیمہ خان

    ALEEMA KHAN

    ،تصویر کا ذریعہNamal Knowledge City

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ عمران خان اس طرح کسی ڈیل کے ذریعے باہر آ جائیں جیسے یہ خود کرتے رہے ہیں۔

    اڈیالہ جیں میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کے بیک ڈور رابطے اور چینل سے بھی ہو رہے ہیں۔‘ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کے واضح دو مطالبات ہیں کہ نو مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور تمام بے گناہ لوگوں کو رہا کریں۔

    علیمہ خان نے کہا کہ القادر ٹرسٹ پر بھی عمران خان نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر اس میں سزا سنانی ہے تو سنا دیں۔ واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں تیسری بار اسلام آباد کی ایک عدالت نے فیصلہ سنانے میں تاخیر کی ہے اور اب اس کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنائے جانے کا امکان ہے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان ڈھائی برسوں سے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ جس میں انھیں پہلے دو سال کے لیے اور پھر چھ ماہ کے لیے ملک سے باہر جانے کا کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بالواسطہ پیغامات ان کے ذریعے بھی دیے گئے ہیں۔

    علیمہ خان نے شکوہ کیا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف عمران خان سے ملاقات تک نہیں کرنے دی جا رہی ہے۔

  13. امن معاہدہ برقرار ہے، معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا: صوبائی مشیر اطلاعات

    خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ کرم کی صورتحال پر ’امن معاہدہ برقرار ہے، معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درامد یقینی بنایا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج ہی سے تمام فیصلوں پر عملدرامد کا آغاز شروع ہو چکا ہے۔ مشیر اطلاعات کے مطابق ’ڈپٹی کمشنر پر حملہ کرنے والوں کو جلد گرفتار کرکے قانون کے شکنجے میں لائیں گے۔‘ ان کے مطابق امن دشمن کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

    ان کے مطابق واقعے میں ملوث شرپسندوں کو قانون کے گرفت میں لائیں گے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ کرم مین شاہراہ پر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مشران کو بھی حملے میں ملوث مجرمان کو جلد ازجلد حوالے کرنے کا کہا گیا ہے۔ علاقے کو اسلحہ سے مکمل پاک کیا جائے گا اور اسلحہ رکھنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    پاڑہ چنار تک راستے کھولنے کے لیے کوششیں جاری

    خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں امن کی بحالی اور پاڑہ چنار تک راستے کھولنے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن سرکاری حکام کی جانب سے اب تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ امدادی سامان کب پاڑہ چنار کے لیے روانہ کیا جا سکے گا۔

    مقامی سطح پر ایسی اطلاعات ہیں کہ امدادای سامان کے ٹرک ٹل میں موجود ہیں لیکن راستوں کی بندش کی وجہ سے اب تک یہ ٹرک روانہ نہیں کیے جا سکے ہیں۔

    ضلع کرم سے منتخب رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اپر کرم میں پاڑہ چنار میں جاری دھرنا حکومتی یقین دہانیوں کے بعد وقتی طور پر موخر کیا گیا ہے لیکن اگر کوئی عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔

    دوسری جانب لوئر کرم بگن کے مقام پر دھرنا جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ امدادی سامان کے ٹرک ابھی تک روانہ نہیں ہو سکے اور اس بارے میں انھوں نے کمشنر کوہاٹ سے بات کی ہے اور انھوں نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ امدادی سامان جلد پاڑہ چنار کے لیے روانہ کیا جائے۔

    حمید حسین کا کہنا تھا کہ علاقے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    اپر کرم پاڑہ چنار میں شیعہ آبادی ہے اور علاقے میں خوراک ادویات اور تیل کی شدید قلت ہے۔ ہسپتالوں کے لیے ادویات حکومت کی جانب سے فراہم کر رہی ہے جبکہ مارکیٹ میں میڈیکل سٹورز پر ادویات دستیاب نہیں ہیں جس سے لوگوں کو مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرم میں شدید سردی کی وجہ سے نمونیا سمیت مختلف امراض میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب لوئر کرم میں اہل سنت کی اکثریت ہے۔

    اہل سنت کے رہنما حاجی سلیم خان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں طے معاہدے میں یہ واضح تھا کہ سڑک پر سکیورٹی کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ انتطامیہ کی جانب سے دو مقامی افراد کو حراست میں لیے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ بگن کے لوگوں سے بات چیت کریں اور ان کے تحفظات اور مطالبات پر غور کریں کیونکہ ایک طرف اگر کانوائے پر حملہ ہوا تو دوسری جانب بگن میں لوگوں پر حملے میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق ’حکومت کو مکمل امن کے قیام کے لیے جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے۔‘

    ضلع ہنگو سے مقامی صحافی اسرار الحق نے گذشتہ روز بگن پہنچے تھے اور انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر پر حملے کے بعد سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے اور اس سے پہلے جب بگن پر حملہ ہوا اور اس میں لوگوں کا نقصان ہوا تھا اس پر غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بگن بازار جل گیا تھا جہاں چند ایک دکانیں تھیں جہاں سبزیاں رکھی ہوئی تھیں۔ بگن میں بہت کم لوگ اس وقت موجود ہیں کیونکہ بیشتر لوگ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور جو موجود ہیں یہ وہ ہیں جو اپنے گھروں اور دکانوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

    مقامی صحافی کے مطابق لوگ اپنے نقصانات کا ازالہ چاہتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے گذشتہ روز ضلع کرم میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جبکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض مقامات پر کرفیو بھی نافذ رہے گا۔

  14. اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس: عدالت کا علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

    علی امین گنڈاپور

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے غیر قانونی اسلحے اور شراب برآمدگی کیس میں پولیس کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پیر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو یہ حکم دیا کہ علی امین گنڈاپور کو ’مسلسل عدم پیشی پر‘ گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔

    اس کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشت نے کی جس دوران مقدمے کے تفتیشی افسر بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ جبکہ علی امین گنڈا پور اور ان کے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش نہ ہوئے۔

    عدالت نے عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا اور جج نے ریمارکس دیے کہ ’نہ تو ملزم پیش ہوا اور نہ ہی اس کا وکیل۔‘

    ایس ایس پی آپریشنز نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے سابقہ عدالتی حکم کی تعمیل میں کوئی رپورٹ پیش نہ کی۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 21 جنوری تک ملتوی کی ہے۔

    خیال رہے کہ اکتوبر 2024 کے دوران عدالت نے اس کیس میں علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کو 23 اکتوبر تک انھیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    نومبر 2024 کے دوران علی امین گنڈاپور کے وکیل نے کہا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت میں توسیع کی ہے جس پر جج نے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ کا حکم نامہ طلب کیا تھا۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کیس 2016 کا ہے جب مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ کے قریب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور کی گاڑی سے پانچ کلاشنکوف اسالٹ رائفلز، ایک پستول، چھ میگزین، ایک بلٹ پروف جیکٹ، شراب اور آنسو گیس کے تین گولے برآمد کیے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما نے پولیس کے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دو لائسنس یافتہ کلاشنکوف رائفلوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اور گاڑی میں اسلحہ کا لائسنس موجود تھا۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ شراب کی بوتل میں شہد لے کر جا رہے تھے جسے پولیس اہلکاروں نے ضبط کیا تھا۔

  15. اسرائیل کے ساتھ مُمکنہ جنگ بندی معاہدہ، حماس نے 34 یرغمالیوں کی فہرست جاری کر دی

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کے ساتھ 34 یرغمالیوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں فلسطینی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہائی کے لیے تیار ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے یرغمالی اب تک زندہ ہیں۔

    حماس کی جانب سے سامنے آنے والی یرغمالیوں کی جو فہرست سامنے آئی ہے اُن میں 10 خواتین اور 11 عمر رسیدہ مرد یرغمالی بھی شامل ہیں جن کی عمریں 50 سے 85 سال کے درمیان ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ متعدد ایسے یرغمالیوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں کہ جو بیمار ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حماس نے اسرائیل کو یرغمالیوں کی کوئی فہرست فراہم کی ہے۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہفتے کے اختتام پر جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    حماس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کسی بھی معاہدے کا انحصار غزہ سے اسرائیلی انخلاء اور مستقل جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر ہوگا۔

    اس سے قبل حماس نے 19 سالہ اسرائیلی یرغمال لیری الباغ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں نتن یاہو حکومت سے معاہدے پر پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔

    انھیں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران غزہ کی سرحد پر نہال اوز فوجی اڈے پر چھ خواتین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

    اس دن حماس کے عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کر کے تقریباً 1200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیلی افواج کی جوابی کارروائیوں میں اب تک غزہ میں کم از کم 45,805 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  16. جے یو آئی کا پی بی 45 کے انتخابی عمل میں دھاندلی کا الزام، کوئٹہ میں موبائل سروس بند, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    جمیعت العلما اسلام کا کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی ۔ 45 کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ہونے والے انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی کے خلاف حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے باہر احتجاج آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔

    اتوار کو شام پانچ بجے پولنگ کے کے وقت کے ختم ہونے کے بعد جمیعت العلماء اسلام کے کارکنوں کی بڑی تعداد ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر کے باہر جمع ہوگئی اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔

    جمیعت العلماء اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ ان کے پارٹی کے امیدوار 2024 کے عام انتخابات میں بھی اس نشست سے کامیاب ہوئے تھے لیکن فارم 47 میں ان کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’اتوار کو جب اس حلقے کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب ہوا تو فارم 45 کے مطابق ان کے امیدوار نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیا لیکن فارم 47 میں ان کو دوبارہ ہروایا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کے خلاف ہم ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوگئے جہاں حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کا دفتر موجود ہے۔‘

    مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ ’ہمیں احتجاج پر مجبور کیا گیا لیکن اس مرتبہ ہم اپنا حق لینے کے لیے مئوثر احتجاج کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں اس نشست سے پیپلزپارٹی کے امیدوار علی مدد جتک کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

    تاہم بلوچستان ہائیکورٹ کے جج پر مشتمل ایک الیکشن ٹریبونل نے حلقے کے 15پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کے باعث علی مدد جتک کو نااہل قرار دے کر ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

    مولانا عبدالواسع نے بتایا کہ ’اتوار کو ہونے والے پولنگ کے بعد جو فارم 47جاری کیا گیا اس میں دوبارہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کو کامیاب قرار دیا گیا۔‘

    مگر پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کو مخالفین کی جانب سے ایک جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔

    تاہم دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس کو دو روز کے لیے بند کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پی ٹی اے سے موبائل فون سروس بند رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔

    محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ موبائل فون سروس 7جنوری تک بند رہے گی۔ کوئٹہ شہر میں موبائل فون سروس بند ہونے کا سلسلہ اتوار کی شب 11 بجے شروع ہوا۔

    موبائل فون سروس بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    جمیعت العلماء اسلام کے امیر مولانا عبدالواسع نے موبائل فون سروس کی بندش کو بلاجواز قرار دیا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کوئٹہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر دوبارہ انتخاب میں دھاندلی کے خلاف جے یوآئی نے احتجاج کی کال دی تھی جسے ناکام بنانے کے لیے موبائل فون سروس کو بند کیا گیا۔

  17. برفانی طوفان کی وجہ سے 30 امریکی ریاستوں میں حالات سنگین ہونے کا خدشہ

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی دو ریاستیں کنساس اور میسوری اس وقت برفانی طوفان کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جہاں شدید برف باری اور کم سے کم درجہ حرارت کا گزشتہ ایک دہائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    ان ریستوں سے ملحقہ چند علاقوں میں اتوار کی دوپہر سے اب تک 10 انچ تک برف پڑ چُکی ہے۔

    تاہم امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے وسط سے مشرقی ساحل تک تقریباً 30 امریکی ریاستوں میں صورتحال سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی اور فلاڈیلفیا سمیت کئی بڑے شہروں میں شدید برف باری کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی برفانی طوفان سے متاثرہ ریاستوں سے کئی حادثات کی بھی اطلاعات ہیں۔

    برفانی طوفان سے متاثرہ علاقوں کی چند تصاویر:

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہAP

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  18. عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری تک موخر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا فیصلہ 13 جنوری تک موخر کر دیا گیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔

    گزشتہ ماہ اس مقدمے سے متعلق عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اس مقدمے پر فیصلہ 23 دسمبر کو سنانے کا کہا تھا تاہم اس دن اس مقدمے کا فیصلہ نہیں سنایا جاسکا اور عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کے لیے چھ جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی۔

    ایک عدالتی اہلکار کے مطابق احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا ایک جوڈیشل کورس پر ہیں اس لیے آج اس مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کے امکانات کم ہیں۔

    ملزمان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھیں اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا آج اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا ہے یا نہیں تاہم وہ آج عدالت میں پیش ہوں گے۔

    آج اس مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی بجائے اسلام آباد میں واقع احتساب عدالت میں ہوگی۔

    واضح رہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی مقدمے کا فیصلہ ملزمان کی موجودگی میں سنایا جاتا ہے۔

  19. امریکہ کی سات ریاستوں میں برفانی طوفان کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ، لاکھوں افراد متاثر

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی سات ریاستوں میں شدید برفانی طوفان کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکہ کی جن ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے اُن میں کنساس، مسوری، کینٹکی، ورجینیا، مغربی ورجینیا، آرکنساس اور نیویارک شامل ہیں۔

    امریکہ کی سات ریستوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد ہوائی اڈوں پر پروازوں کو یا تو معطل کر دیا گیا ہے یا پھر پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔

    برفانی طوفان کی وجہ سے متاثر ہونے والی ریاستوں میں سے کینٹکی، انڈیانا، میری لینڈ، واشنگٹن ڈی سی اور ورجینیا میں سکول پہلے ہی بند کرنے کا اعلان کیا جا چُکا ہے۔

    تاہم امریکہ بھر میں ہی تقریباً چھ کروڑ افراد کو اس شدید موسمی صورتحال میں محتاط رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ امریکہ کی برفانی طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں لوگوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔

    Snow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مجموعی طور پر 30 امریکی ریاستوں کو شدید موسمی صورتحال کے تحت محتاط رہنے کا کہا گیا ہے کیونکہ طوفان کے ملک بھر میں مشرق کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔

    امریکی ریاست کنساس کے شمال مشرق میں تمام شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے اور ریاست میسوری کی سرحد کے قریب واقع کنساس سٹی ہوائی اڈے سے ہزاروں پروازیں منسوخ کردی گئیں۔

    کنساس سٹی کے عہدیدار برائن پلاٹ نے اس طوفان کو تاریخ کا بد ترین برفانی طوفان قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے گزشتہ 32 برسوں میں 10 انچ سے زیادہ برف نہیں دیکھی۔‘

    امریکی ریاست کنساس میں منفی 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی شدید سرد ہوائیں چل رہی ہیں۔

  20. ’دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریب کی دکانوں کے علاوہ متعدد گھروں تک کو نقصان پہنچا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    social media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ’ہمارا گھر دھماکے کے مقام سے اچھا خاصا فاصلے پر ہے لیکن دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہمیں ایسا لگا جیسے یہ ہمارے گھر کے ساتھ ہوا۔‘

    یہ کہنا تھا بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے شمس اللہ (فرضی نام) کا جن کا گھر بہمن میں اس مقام سے کچھ فاصلے پر ہے جہاں سنیچر کو زور دار دھماکہ ہوا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جائے وقوعہ کے قرب و جوار میں بڑی تعداد میں گھروں اور دکانوں میں شیشے ٹوٹنے کے علاوہ شٹر اور دروازے تک متاثر ہوئے ۔

    سرکاری حکام کی جانب سے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے تاہم ابھی تک دھماکے میں ہلاک ہونے چار افراد کی شناخت ہوئی ہے۔

    اس واقعے میں ایک بس سمیت چار گاڑیوں اور دو موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    علاقے کے لوگوں نے دھماکے کے بارے میں کیا بتایا؟

    شمس اللہ نے بتایا کہ ’جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت وہ اپنے گھر میں موجود تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا گھر دھماکے کے مقام سے زیادہ قریب نہیں ہے لیکن دھماکے کی شدت وہاں بھی زیادہ محسوس ہوا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں لیکن اس دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی جس کے باعث ہم خوفزدہ ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دھماکے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ روڈ کی جانب سے دھواں اٹھنا شروع ہوگیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دھماکے سے روڈ کے ساتھ بڑی تعداد میں گھروں کے شیشے ٹوٹنے کے علاوہ ان کی کھڑکیاں اور دروازے متاثر ہوئے۔‘

    شمس اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جہاں دھماکہ ہوا اُس مقام کے قریب جو دکانیں تھیں ان کے شٹر بھی ٹوٹ گئے اور دروازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کسی کو بھی جائے وقوعہ کی جانب نہیں جانے نہیں دیا گیا۔‘

    social media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    دھماکے میں چار گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا؟

    نجی کمپنی کے جس بس کے قریب دھماکہ ہوا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ مکران انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کراچی سے ایک سے زیادہ بسوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار آرہے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان بسوں کے آگے اور پیچھے سکیورٹی تھی تاہم دھماکہ آخری بس کے قریب ہوا جس کی وجہ سے اس میں آگ بھڑک اٹھی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’آگ کو بجھانے کے لیے فوری طور پر اقدام نہ ہونے کے باعث یہ بس مکمل طور پر جل گئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ جن دو سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچا ان میں سے ایک سکیورٹی فورسز کی گاڑی تھی جس پر سگنل جیمرز لگے ہوئے تھے جبکہ دوسری گاڑی سیریس کرائمز انویسٹی گیشن یونٹ کوئٹہ کے ایس ایس پی ذوہیب محسن کی تھی جو کہ چھٹی پر تربت آئے ہوئے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں گاڑیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا کیونکہ یہ دونوں اس بس سے کچھ فاصلے پر تھیں۔‘

    اہلکار نے بتائے کہ دھماکے کے باعث دو موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    سرکاری حکام نے اب تک ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں کیا بتایا؟

    تربت کے علاقے بہمن میں پیش آنے والے واقعے کو 24گھنٹے سے زائد کا گزرنے کے باوجود سرکاری حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے۔

    تاہم گزشتہ شب حکومت بلوچستان کے ترجمان نے جو بیان جاری کیا اس کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی شناخت ہوئی ہے۔

    سینیچر کی شب ان کے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن لوگوں کی شناخت ہوئی ان میں نور خان، عبدالوہاب، اعجاز اور لیاقت علی شامل تھے۔

    جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تربت کے ایم ایس ڈاکٹر احمد بلوچ نے بتایا کہ سینیچر کی شب تک ہسپتال میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے صرف 11افراد کو لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر معمولی زخمی تھے۔

    مکران انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے جن چار افراد کی شناخت ہوئی وہ بس کے اندر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ بس کے باہر دھماکے کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان ہلاک ہونے والوں میں سے ایک بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار تھا۔

    انھوں نے بتایا جن زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال طبی امداد کی فراہمی کے لیے منتقل کیا گیا وہ بھی بس کے باہر دھماکے کی زد میں آکر زخمی ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بس کے اندر ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں ابھی تک مقامی انتظامیہ کو معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے ۔

    خیال رہیکہ بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے علاوہ مکران پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والی بس نجی کمپنی کی تھی جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار تربت سے کراچی آرہے تھے۔

    بہمن میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جس کو مجید بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایک عسکریت پسند نے کیا۔

    BBC

    بہمن کہاں واقع ہے ؟

    بہمن تربت شہر سے مغرب میں 8کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔جبکہ تربت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

    تربت ایران سے متصل ضلع کیچ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ ضلع کیچ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ طویل عرصے سے شورش سے متاثر ہیں۔