ایرانی رہبر اعلیٰ کا حسن نصر اللہ کے ’خون کا بدلہ‘ لینے کا اعادہ، اسرائیل نے حساب برابر کر دیا: نیتن یاہو

حزب اللہ نے ایک بیان میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ کے ’خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘ دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حسن نصر اللہ کی موت کو ’تاریخی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’حساب برابر کر دیا۔‘

خلاصہ

  • حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سربراہ حسن نصر اللہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت جمعے کو بیروت میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ہوئی۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سربراہ کے 'خون کا بدلہ' لینے کا اعادہ کیا ہے۔
  • اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حسن نصر اللہ کی موت کے بعد حساب برابر ہو گیا۔
  • عراق کے وزیر اعظم نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کوئی جنگ بندی نہیں ہوگی: اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز

    اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ’شمال میں کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں کاٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اس وقت تک اپنی پوری طاقت سے لڑتا رہے گا جب تک فتح حاصل نہیں ہو جاتی اور شمالی اسرائیل کے رہائشی بحفاظت اپنے گھروں کو لوٹ نہیں جاتے۔

    اس سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اب تک جنگ بندی کی تجویز کا جواب نہیں دیا ہے۔

    امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے لبنان میں 21 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز کے جواب میں نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا تھا: ’جنگ بندی سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔ یہ ایک امریکی-فرانسیسی تجویز ہے جس کا وزیر اعظم نے جواب تک نہیں دیا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی سرحد پر لڑائی میں کمی لانے کے بارے میں مبینہ ہدایت کے بارے میں خبریں بھی حقیقت کے برعکس ہیں۔

    ’وزیراعظم نے آئی ڈی ایف کو ہدایت کی ہے کہ وہ انھیں پیش کیے گئے منصوبوں کے مطابق پوری طاقت کے ساتھ لڑائی جاری رکھیں۔ نیز، غزہ میں بھی لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ جنگ کے تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔‘

  2. گذشتہ رات اسرائیلی حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں: لبنان

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی لبنان کے علاقے یونین میں رات گئے اسرائیلی حملے میں 9 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابھی ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

    اس سے قبل وزارت صحت نے کہا تھا کہ قنا اور ایتا الشعب میں چار دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

  3. جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا: چیف جسٹس کا جسٹس منصور علی شاہ کو خط

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی نئی کمیٹی پر اعتراضات کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس منصور کے خط کا جواب دے دیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن ہیں تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد انھوں نے کمیٹی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور چند روز قبل اس کمیٹی کے اجلاس میں بطور احتجاج شرکت بھی نہیں کی تھی۔

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس منصور کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو ججز کمیٹی میں شامل نہ کرنے کے بارے میں لکھا تھا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ انھوں نے جسٹس آفریدی سے رابطہ کیا تاہم جسٹس آفریدی نے کمیٹی میں شامل ہونے سے معذرت کر لی تھی۔

    چیف جسٹس نے اپنے خط میں کہا ہے کہ جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا کیونکہ وہ جسٹس آفریدی کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی ارڈیننس کے ذریعے ترمیم کے بعد ججز کمیٹی میں سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز کے علاوہ کمیٹی کا تیسرا رکن چیف جسٹس اپنی مرضی سے منتخب کرسکتے ہیں جبکہ ترمیم سے قبل یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سنیئر ترین ججز پر مشتمل ہوتی تھی۔

    اس ایکٹ میں ترمیم کے بعد چیف جسٹس نے جسٹس منیب اختر کو ججز کمیٹی سے نکال دیا تھا اور ان کی جگہ جسٹس امین الدین کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس منیب اختر گرمیوں کی چھٹیوں میں دستیاب نہیں تھے اور فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت 14 روز میں ہونا لازمی ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس منیب اختر کا کمیٹی کے دوران رویہ مناسب نہیں تھا اور وہ کمیٹی کے اجلاس سے واک آوٹ بھی کر گئے تھے۔

    چیف جسٹس نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ جسٹس منیب اختر نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی ارڈیننس کے تحت ترمیم پر اس کی مخالفت کی تھی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں جسٹس منیب اختر کی کمیٹی سے اخراج پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت کی جانے والی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاق اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپنی درخواست میں پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے صدارتی ارڈیننس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

  4. لبنان کے حوالے سے اہم خبریں

    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے بدھ کی رات حزب اللہ کے 75 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ حملے شامی سرحد کے قریب اور جنوبی لبنان میں اسلحے کے ڈپو، راکٹ لانچرز اور عسکری عمارتوں پر کیے گئے ہیں۔
    • اسرائیل میں اپوزیشن پارٹی کے سربراہ یائیر لپید نے کہا ہے کہ اسرائیل کو امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کی لبنان میں جنگ بندی کی تجویز قبول کرلینی چاہیے ’لیکن صرف سات دنوں‘ کی جنگ بندی۔
    • امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور ان کے اتحادیوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے لبنان میں 21 روزہ عارضی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
    • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی اور لبنان میں اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں جاری حملوں کے سبب پاکستانی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔
  5. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔