ایرانی رہبر اعلیٰ کا حسن نصر اللہ کے ’خون کا بدلہ‘ لینے کا اعادہ، اسرائیل نے حساب برابر کر دیا: نیتن یاہو
حزب اللہ نے ایک بیان میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ کے ’خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘ دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حسن نصر اللہ کی موت کو ’تاریخی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’حساب برابر کر دیا۔‘
خلاصہ
حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سربراہ حسن نصر اللہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت جمعے کو بیروت میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ہوئی۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سربراہ کے 'خون کا بدلہ' لینے کا اعادہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حسن نصر اللہ کی موت کے بعد حساب برابر ہو گیا۔
عراق کے وزیر اعظم نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
لائیو کوریج
امریکہ کو جنگ بندی کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے: سعودی سفیر
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر السعود کا کہنا ہے کہ غزہ میں سعودی قیادت میں امن فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے
برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر السعود
کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے مزید
دباؤْ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’پوری بین الاقوامی
برادری ناکام ہو چکی ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات
معمول پر لانے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرے گی تو ان کا کہنا تھا کہ فی الحال
توجہ جنگ بندی پر ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر
لانے کا خواہاں ہے لیکن فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب غزہ کی تعمیرِ نو
میں مدد کرے گا تو سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت صرف ایک فلسطینی ریاست
کے طور
ایسا کرے گی۔ ان
کا مزید کہنا تھا غزہ میں سعودی قیادت میں امن فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج کا فضائی حملوں میں حزب اللہ کے سینیئر رہنماؤں کی ہلاکت کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ حملے میں حزب اللہ کے مزید سینئر رہنما بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ڈی ایف نے منگل کے روز بیروت کے علاقے میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے قبل آئی ڈی ایف نے کہا تھا کہ انھوں نے حزب اللہ کے میزائل اور راکٹ فورس کے سربراہ ابراہیم محمد قبیسی کو ہلاک کر دیا ہے۔
اب ایک اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہا حملوں میں قبیسی کے نائب سمیت دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب شام کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملہ صبح سویرے کیا گیا، جس کا ہدف دمشق کے دیہی علاقوں میں شام اور لبنان کی سرحد پر ان کے ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی: مذاکرات کے تئیں مایوسی کی فضا, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ، بیروت
گذشتہ روز کچھ امید تھی کہ مغربی ممالک کی جانب سے کی جانے والی شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ہو سکتی ہے لیکن آج صبح ماحول بہت زیادہ مایوس کن ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس گروپ پر حملے جاری رکھے گا۔ اس کارروائی میں شدید اور وسیع پیمانے پر فضائی حملے شامل ہیں جن میں لبنان بھر میں 600 سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم 90،000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک معروف حکمت عملی ہے جس میں بین الاقوامی دباؤ کے باعث مذاکرات تو کیے جائیں لیکن ان کے کامیاب ہونے کی خواہش نہ ہو۔
اندرون ملک ان پر سخت گیر اتحادیوں کی جانب سے حملے جاری رکھنے کے لیے دباؤ ہے اور فوجی حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ حزب اللہ کو کززور کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد جنوبی لبنان میں زمینی حملہ بھی کیا جا سکتا ہے جس کی مدد سے اس گروپ کو سرحد سے دور دھکیلا جا سکتا ہے۔
حزب اللہ نے بھی پیچھے ہٹنے کے کوئی اشارے نہیں دیے ہیں اور وہ اسرائیل پر راکٹ داغنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس کے حملے صرف اسی صورت میں رکیں گے جب غزہ میں جنگ بندی ہوگی۔
لبنان سے آج صبح 10 میزائل داغے گئے: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ آج صبح لبنان سے فائر کیے جانے والے 10 میزائلوں کی نشاندہی کے بعد شمالی اسرائیل میں واقع تیبریاس اور حیفا میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’کچھ میزائلوں کو روکا گیا اور دیگر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کھلے علاقوں میں گرے ہیں۔‘
دریں اثنا اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ تیبریاس میں سائرن بجنے کے بعد ایک راکٹ کھلے علاقے میں گرا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
جنگ بندی کے حوالے سے ابھی بات چیت ہو رہی ہے: اسرائیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر بات چیت جاری رہے گی۔ آج صبح سویرے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکہ کی قیادت میں جنگ بندی کے اقدام کے بارے میں بہت سی غلط رپورٹنگ کے بارے میں ’کچھ نکات کی وضاحت‘ کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل شمالی سرحد پر لوگوں کی اپنے گھروں کو محفوظ واپسی یقینی بنانے کے لیے امریکی زیر قیادت میں کیے جانے والے اقدامات میں شامل ہے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیموں نے جمعرات کو ملاقات کی یہ کہ آنے والے دنوں میں بات چیت جاری رہے گی۔
یہ بیان امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت اتحادیوں کی جانب سے لبنان میں عارضی جنگ بندی کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں غزہ میں سفارتی تصفیے کے لیے لڑائی میں فوری طور پر 21 دن کے وقفے کی تجویز دی گئی ہے۔
جمعرات تک اسرائیلی سیاست دانوں بشمول وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ’شمال میں جنگ بندی نہیں ہوگی‘۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز پر اسرائیل کے ساتھ بات کی گئی ہے۔ حالانکہ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کا ملک لڑائی جاری رکھے گا۔
دوسری جانب لبنان کے وزیر خارجہ عبد اللہ بو حبیب نے گذشتہ رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ’لبنان اس وقت ایک ایسے بحران کا سامنا کر رہا ہے جو اس کے وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘
عبداللہ بو حبیب نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس بحران پر قابو پانا ناممکن ہے۔
غزہ میں پناہ گزینوں کے زیراستعمال سکول پر حملہ، 11 افراد ہلاک: حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت, ڈیوڈ گریٹن، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں حماس کے زیرِ
انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں بے گھر خاندانوں کے لیے سکول میں
قائم کی گئی ایک پناہ گاہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حماس کے زیرِانتظام وزارتِ
صحت کے مطابق جبالیا کے پناہ گزین کیمپ میں واقع سکول پر اسرائیلی حملے کے سبب ہلاک
اور زخمی ہونے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج
کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی کارروائی میں حماس کے جنگجوؤں کی زیرِاستعمال ’کمانڈ
اینڈ کنٹرول سینٹر‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
غزہ میں ادارہ برائے شہری
دفاع کا کہنا ہے کہ جبالیا کے پناہ گزین کیمپ میں بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینی
مقیم ہیں۔
سکول میں رہائش پذیر رامی عبدالنبی
نامی پناہ گزین کا کہنا ہے کہ سکول پر دو راکٹس گِرے تھے اور ان کے پھٹنے سے ایسا محسوس
ہوا جیسے کوئی ’زلزلہ‘ آیا ہو۔
انھوں نے خبر رساں ادارے
روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ جگہ بے گھر افراد کے لیے ایک محفوظ مقام ہونی چاہیے، لیکن یہ
حملہ ایک خوفناک قتلِ عام تھا۔‘
غزہ میں تقریباً ایک برس پہلے
شروع ہونے والے جنگ کے نتیجے میں 19 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں اور ان
کی رہائش کے لیے بہت سارے سکولوں کو عارضی پناہ گاہوں میں بدل دیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ اور اس کے
پارٹنر اداروں نے سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کر کے اندازہ لگایا ہے کہ اس
جنگ کے دوران غزہ میں کم از کم 61 فیصد سکولوں پر براہ راست حملے ہوئے ہیں، جبکہ
24 فیصد سکولوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔
کیا مشرقِ وسطی خصوصاً اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سفارتکاری کے ذریعے جنگ بندی ممکن ہے؟, ٹوم بیٹمین، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ، یورپی یونین اور
10 دیگر ممالک کے لبنان میں جنگ بندی کے مطالبے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنی تجویز پر
عملدرآمد کے لیے قریقین پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
رات میں زوم پر ہونے والی
ایک بریفنگ کے دوران صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے سینیئر حکام نے صحافیوں کو
بتایا کہ جنگ بندی کی تجویز کا اعلان ایک اہم ’پیشرفت‘ ہے۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ
کی قیادت میں اہم یورپی ممالک اور عرب ریاستوں کا جنگ بندی کی تجویز پر متفق ہونا
ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی
ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ سے لڑائی کو روکنے اور 21 روز جنگ بندی کی درخواست
کی ہے تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ان ممالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2006
میں اقوامِ متحدہ میں منظور کی گئی قرار داد کے تحت اسرائیل اور لبنان کے درمیان
تنازع کو حل کیا جائے۔
ان ممالک کی جانب سے غزہ
میں بھی جنگ بندی کے معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس وقت امریکہ اور اس کے
اتحادیوں کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جا ری کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ابھی دنیا بھر
کے ممالک کے سربراہان اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود
ہیں۔
لیکن امریکی حکام کی جانب
سے ’پیشرفت‘ کے دعوے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی کے
لیے تیار ہیں۔
لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے
جیسے امریکی حکام دونوں فریقین پر دباؤ ڈالنے اور جنگ بندی کے حوالے سے اپنے
منصوبے کو باوزن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جب پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل
اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق ہیں تو ایک امریکی سینیئر افسر نے کہا کہ: ’میں یہ
بتا سکتا ہوں کہ ہماری فریقین سے بات چیت ہوئی ہے اور ہمیں محسوس ہوا کہ یہ (جنگ
بندی کے) مطالبے کے لیے صحیح وقت ہے، انھیں اس تحریر (مشترکہ اعلامیے) کے بارے میں
علم ہے۔ ہم چاہیں گے کہ وہ آنے والے گھنٹوں میں اپنے عمل ذریعے اس ڈیل پر اتفاق
کرلیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حزب اللہ اور امریکہ کے
درمیان براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔ سینیئر امریکی افسر کا کہنا تھا کہ انھوں نے
اپنی تحریر پر اسرائیلی حکام اور لبنان کی حکومت سے بات چیت کی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے لبنانی حکومت
حزب اللہ سے بات چیت کرے گی۔
اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے
کی شرط پر امریکی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ لبنان اور اسرائیل کی
حکومتیں اسے (جنگ بندی کو) قبول کرلیں گی تو دونوں طرف جنگ بندی ہو جائے گی۔‘
اس بات میں وزن تو نظر آ رہا
تھا لیکن اس زوم کال کے بعد جب صبح سفارتکار سو کر اُٹھے تو انھیں لبنان میں مزید
اسرائیلی فضائی حملوں اور اسرائیل میں حزب اللہ کے مزید راکٹ حملوں کی خبریں ملیں۔
یہ ہفتہ لبنان کے لیے
انتہائی خونی ثابت ہوا ہے کیونکہ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں
اب تک 50 بچوں سمیت 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کیا جنگ بندی کا منصوبہ
کامیاب ہو سکتا ہے؟
جنگ بندی کے حوالے سے
ابتدائی آثار اچھے نہیں ہیں۔ جمعے کو اقوامِ متحدہ کی اجلاس میں شرکت کے لیے آنے
والے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جو بیان جاری ہوا ہے اسے
دیکھ کر لگتا ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک کسی بھی معاہدے یا تجویز سے اتفاق نہیں کیا
ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کے
دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو نے اپنی فوج کو ’پوری قوت کے ساتھ‘
لڑائی جاری رکھنے کے احکامات دیے ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم نجیب
میقاتی نے بھی ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ لبنان نے جنگ بندی
پر اتفاق کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات ’مکمل جھوٹ‘ پر مبنی ہیں۔
امریکہ اور اتحادی ممالک
کی جانب سے جاری کیا جانے والا مشترکہ اعلامیہ دراصل اسرائیل اور حزب اللہ پر بین
الاقوامی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ لڑائی کو رُکوایا جا سکے۔
اس معاہدے پر رواں ہفتے
نیویارک میں مزید کام ہوگا اور یہ آگے بھی جاری رہے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں ’فوری جنگ بندی‘ کے الفاظ
استعمال کیے ہیں۔
خیال رہے اسرائیل پر حماس
کے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں متحرک
انداز میں ان قراردادوں کو بلاک کیا تھا جن میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا
گیا تھا اور پھر اچانک صدر بائیڈن نے جنگ بندی کے الفاظ ادا کیے اور امریکہ کی اس
معاملے پر پوزیشن تبدیل ہو گئی۔
اس کے بعد سے امریکہ
سفارتی عمل کے ذریعے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے
تبادلے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
امریکہ کا الزام ہے کہ حماس
اور اسرائیل میں ’سیاسی فیصلہ کرنے کی طاقت‘ کا فقدان ہے۔ دوسری جانب امریکہ
اسرائیل کو ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہے۔
ان تمام چیزوں کو دیکھتے
ہوئے اس بات کی توقع کرنا ذرا مشکل ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل اور حزب
اللہ کو دباؤ کے ذریعے جنگ بندی کے لیے راضی کر سکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب گراؤنڈ
پر لڑائی جا ری ہے، اسرائیلی فضائی حملے ہو رہے ہیں اور گذشتہ ہفتے پیجر حملوں کے
بعد حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لیکن حزب اللہ اور اسرائیل
کے درمیان معاہدہ غزہ سے مختلف ہوگا کیونکہ غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کے دوران
یرغمالیوں کے تبادلے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے، لیکن حزب اللہ اور
اسرائیل کے درمیان کسی بھی مذاکرات میں یرغمالیوں کا کوئی ذکر نہیں۔
لیکن اس لڑائی میں دونوں
فریقین کو ہی اپنے مقاصد عزیز ہیں۔ اسرائیلی اپنے شمالی علاقے میں نقل مکانی کرنے
والے 60 ہزار لوگوں کو باحفاظت واپس اپنے گھر بھیجنا چاہتا ہے جہاں انھیں لبنان سے
راکٹ حملوں کا ڈر نہ ہو۔
دوسری جانب حزب اللہ لبنان
میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کا خاتمہ چاہتی ہے کیونکہ وہاں تقریباً 90 ہزار
افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔
لبنانی تنظیم چاہے گی کہ
ملک میں اس کی برتری اور اس کے جنوبی حصے میں اس کی موجودگی برقرار رہے۔ ان کی
کوشش یہ بھی ہوگی کہ گذشتہ ہفتے کے حالات و واقعات کے سبب مسالک کی بنیاد پر تقسیم
ملک کے اندر اس کے خلاف مزاحمت نہ بڑھے۔
لبنان اور اسرائیل کے
تنازع کے حل کے لیے امریکہ نمائندہ خصوصی آموس ہوکسٹائن کی مہینوں پر محیط تمام
کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ امریکہ
اور اس کے اتحادی 21 دن کی جنگ بندی اس لیے چاہتے ہیں تاکہ اس وقفے کے دوران اس
تنازع کا کوئی دیر پا حل نکالا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کی قرار داد
1701 پر عملدرآمد پر مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ حزب اللہ جنوبی
لبنان سے واپس چلی جائے اور ہتھیاروں کا استعمال چھوڑ دے۔
سنہ 2006 کے بعد سے
اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ایک دوسرے پر قرار داد 1701 کی خلاف ورزی کا الزام لگا
رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً
دو دہائیوں سے حل نہ ہونے والے اس معاملے کو ایک قلیل مدتی منصوبے کے تحت حل کرنے
کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جب میزائل گرنے کا سلسلہ
جاری ہو ایسے میں سفارتکاری سے اتنی توقع رکھنا شاید زیادہ سودمند ثابت نہ ہو۔
اسرائیل ’پوری قوت کے ساتھ‘ حزب اللہ کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا: وزیرِاعظم نتن یاہو, ٹوم بینیٹ، بی بی سی لندن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لبنان میں جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود
بھی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنے ملک کی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ’پوری
قوت کے ساتھ‘ حزب اللہ کے خلاف لڑائی جاری رکھے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے
مطابق جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 92 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق
پیر سے اب تک اسرائیلی حملوں مِیں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔
حزب اللہ نے تصدیق کی ہے
کہ بیروت کے جنوب میں ایک عمارت پر ہونے والے حملے میں اس کے ڈرون یونٹ کے کمانڈر
محمد سرور ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ اور یورپی
یونین نے بدھ کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تین ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کی
تجویز دی تھی۔
ابتدائی طور پر امید کی جا
رہی تھی کہ جنگ بندی کی تجویر پر عمل ہوگا کیونکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی نمائندے
ڈینی ڈینن نے کہا تھا کہ ان کا ملک تمام آپشنز پر غور کرنے کو تیار ہے۔
لیکن جمعرات کو یہ تجویز
اسرائیلی سیاستدانوں نے مسترد کردی تھی۔ نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی
میں شرکت کے لیے آنے والے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا تھا کہ
اسرائی اپنے مقاصد کے حصول تک لبنان میں کارروائیاں ’نہیں روکے گا۔‘
اسرائیلی وزیرِاعظم کے
مطابق شمالی اسرائیل میں شہریوں کی بحفاظت واپسی ان کا سب سے بڑا مقصد ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا
کہنا ہے کہ جنگ بندی کی تجویز پر اسرائیلی سے ’مشاورت‘ کی گئی تھی۔ تاہم کچھ ہی گھنٹوں
بعد اسرائیلی وزیراعظم نے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
نیو یارک میں بات کرتے
ہوئے برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے بھی مطالبہ کیا کہ لبنان میں تنازع کو حل
کرنے کے لیے ’فوری جنگ بندی کی جائے اور کسی سفارتی معاہدے پر پہنچا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ
تنازع کسی ایسی بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے ’جسے کوئی کنٹرول نہیں کرسکے گا۔‘
حزب اللہ اور اسرائیل میں
جھڑپیں تقریباً ایک برس قبل شروع ہوئی تھیں اور اس سبب تب سے لے کر اب تک شمالی
اسرائیل سے تقریباً 70 ہزار لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا
کہنا ہے کہ پیر کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد تقریباً 90 ہزار افراد
بےگھر ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل بھی تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد نے لبنان میں نقل
مکانی کی تھی۔
جمعرات کو اسرائیلی فوج نے
کہا تھا کہ اس کی جانب سے جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں حزب اللہ کے اہداف کو
نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا
کہ اس کی جانب سے لبنان اور شام کے سرحدی علاقے میں بھی کارروائی کی گئی ہے تاکہ
ہتھیاروں کی ترسیل کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب حزب اللہ کا
کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے علاقوں کریات آتا پر 50 جبکہ سفید پر 80 راکٹ
فائر کیے ہیں۔
خیال رہے بدھ کو اسرائیلی
فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلیوی نے کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی
کارروائیاں فوج کے لیے ’دشمن کی سرزمین میں داخلے‘ کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
جمعرات کو اسرائیلی فضائیہ
کے کمانڈر میجر جنرل تومر بار کا سکیورٹی اہلکاروں کو کہنا تھا کہ انھیں لبنان میں
’زمینی کارروائیوں کے لیے تیار‘ رہنا چاہیے۔
اسرائیل لبنان کشیدگی: آئی ڈی ایف کا فضائی حملوں میں حزب اللہ کے 220 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی
ایف) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فضائیہ
کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کے روز لبنان میں حزب اللہ کے تقریباً 220 ٹھکانوں کو
نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان
اہداف میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں کے علاوہ وہ مقامات بھی شامل ہیں کہ جہاں سے اسرائیلی
علاقے پر میزائل داغے گئے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنے
بیان میں کہا ہے کہ لبنان میں جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اُن میں حزب اللہ کے
ہتھیاروں کے ذخیرے بھی شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آئی
ڈی ایف حزب اللہ صلاحیت کو کم کرنے اور انھیں تباہ
کرنے کے لئے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے گی۔
صوابی: پولیس سٹیشن میں دھماکے سے ایک شخص ہلاک، متعد زخمی
خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں پولیس تھانے کے اندر دھماکے
سے ایک شخص ہلاک اور 23 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ زخمی ہونے والوں
میں سے بیشتر پولیس اہلکار ہیں۔ مزید یہ کہ دھماکے کی نوعیت
معلوم کی جا رہی ہے تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دھماکہ تھانے میں موجود بارودی
مواد سے ہوا ہے۔ دھماکے کی وجہ سے پولیس سٹیشن کی عمارت کے سامنے والے حصے کو
نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعلیٰ
خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو فوری صوابی پولیس سٹیشن
پہنچنےکی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ
نے ہدایت کی کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کرکے رپورٹ پیش کی جائے اور زخمیوں کو
بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
واضح رہے کہ صوابی کے جس پولیس سٹیشن میں دھماکہ ہوا ہے یہ شہر
کے ایک گُنجان آباد اور بلند مقام پر واقع ہے۔
صوابی میں ریسکیو 1122 کے اہلکار محمد لقمان نے بی بی سی کو
بتایا کہ انھیں کنٹرول پر اطلاع موصول ہوئی تھی کہ تھانے میں آگ لگی ہے جس پر وہ
فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے تھے۔ تاہم یہاں آگ کے علاوہ تھانے کی عمارت کا بڑا
حصہ منہدم ہو چُکا تھا جس پر ایمبولینسز اور دیگر گاڑیاں بھی طلب کر لی گئیں۔
باچا خان میڈیکل کمپلیکس کے ترجمان رحم خان یوسفزئی نے بی
بی سی کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں 8 زخمی لائے گئے ہیں جن میں 2 کی حالت تشویشناک
بتائی گئی ہے جن میں سے ایک کو آئی سی یو اور دوسرے کو آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا
گیا ہے۔ جبکہ باقی افراد کو زیادہ زخم نہیں آئے تاہم تمام زخمیوں کو طبی امداد
فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں دو حوالاتی اور ایک راہگیر شامل
ہے۔
حزب اللہ کا شمالی اسرائیل پر 80 میزائل داغنے کا دعویٰ
حزب اللہ کا کہنا
ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے شہر صفد پر 80 میزائل داغے ہیں۔
ٹیلیگرام ایپ پر
اپنی ایک پوسٹ میں گروپ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ’غزہ میں ثابت قدم فلسطینی عوام کی
حمایت‘ اور ’لبنان اور اس کے عوام کے دفاع اور اسرائیل کی جانب سے شہروں کی وحشیانہ
خلاف ورزی کے جواب میں‘ ہے۔
اسرائیلی پولیس
کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد صفد اور روش پینا میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں
ہے تاہم علاقے میں املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی
فوج کے مطابق لبنان سے اسرائیل کی سرزمین پر تقریباً 40 پروجیکٹائل فائر کیے گئے تھے۔
اسرائیل اگر لبنان میں زمینی فوج بھیجتا ہے تو وہ کب تک وہاں رہے گی؟, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالوی نے گزشتہ روز اپنے سپاہیوں کو بتایا تھا کہ فضائی
حملوں کا ایک مقصد ان کے لیے لبنان میں داخل ہونے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
اسرائیل صرف فضائی
حملے کے ذریعے حزب اللہ کے راکٹوں کے خطرے کو ختم نہیں کر سکتا کیونکہ ابھی بھی
حزب اللہ کے بہت سے جنگجو زیرِ زمین سرنگوں اور غاروں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کو
2006 میں حزب اللہ کے ساتھ لڑی گئی آخری جنگ میں بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا اور
فضائی حملوں میں ناکامی کے بعد بالآخر انھیں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو شکست دینے
کے لیے ٹینک اور پیدل فوج بھیجنی پڑی تھی۔
یہ جنگ 34 دن جاری
رہنے کے بعد اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ساتھ بنا کسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی۔
اس قرارداد کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے شمال میں سرحد سے کچھ فاصلے پر رہنا
تھا۔
تاہم حزب اللہ کے
جنگجوؤں نے جنوبی لبنان کو اپنا اڈہ بنا لیا جہاں سے وہ پچھلے 11 ماہ سے شمالی
اسرائیل پر راکٹ برسا رہے ہیں۔
لیکن اگر اسرائیل
لبنان میں زمینی فوج بھیجتا ہے تو وہ کب تک وہاں رہے گی؟
سنہ 1982 سے سنہ
2000 تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود تھیں۔ جب وہاں ہونے والے جانی نقصانات کی
وجہ سے اسرائیل میں سیاسی دباؤ حد سے بڑھ گیا تو انھیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
اب یہ
خطرہ ایک بار پھر پیدا ہو گیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کی دراندازی غیر معینہ مدت
تک کے لیے ہو سکتی ہے جیسا کہ غزہ میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
70,000 سے زائد بے گھر افراد 500 پناہ گاہوں میں مقیم ہیں: لبنانی وزیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کے وزیر
داخلہ بسام مولوی نے بیروت میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ لبنان
میں تقریباً 70,100 بے گھر افراد اس وقت 533 پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
اقوام متحدہ کے
اندازے کے مطابق پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
مولوی کا کہنا
تھا کہ گزشتہ تین دنوں میں لگ بھگ 27,000 لوگ لبنان سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والوں میں سے نصف شامی شہری ہیں جو اپنے آبائی ملک لوٹ رہے ہیں۔
ایک اندازے کے
مطابق 15 لاکھ بے گھر شامی باشندے لبنان میں مقیم ہیں۔
اسرائیل کا بیروت میں حزب اللہ کے فضائی یونٹ کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے بیروت
کے جنوبی مضافاتی علاقے پر فضائی حملے میں حزب اللہ کے ایک فضائی یونٹ کے سربراہ کو
ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی
ویب سائٹ ایکس پر شائع ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں
نے بیروت پر فضائی حملہ کیا جس میں محمد حسین سرور مارے گئے۔
حزب اللہ نے ابھی
تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ سرور نے 1980 کی دہائی میں حزب اللہ میں شمولیت اختیار کی اور اسرائیل
کو نشانہ بنانے والے کئی ڈرون حملوں کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔
دوسری جانب لبنان
کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ آج بیروت کے ایک جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی
حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو ئے ہیں۔
لبنانی حکام کے
مطابق ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔
اس سے قبل ایک سکیورٹی
ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے جمعرات کی سہ پہر بیروت
کے جنوبی مضافات میں ایک حملے میں ’حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
آج ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی: لبنانی وزارت صحت
،تصویر کا ذریعہEPA
لبنان کی وزارت
صحت کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ملک بھر میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی
تعداد 26 ہو گئی ہے۔
شمال مشرقی لبنان
کے علاقے یونین میں 20 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 19 شامی تھے۔
تین افراد ضلع
ٹائر کے قصبوں میں مارے گئے۔
جنوبی لبنان کے
علاقے قنا میں ایک شخص اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوا۔
کیڈمس میں دو
افراد مارے گئے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے لیے کوئی آسان آپشن نہیں, ڈینیئل ڈی سیمون
،تصویر کا ذریعہEPA
گزشتہ ہفتے اسرائیل نے باضابطہ طور ایک نیا جنگی ہدف مقرر کیا: شمالی اسرائیل میں بے گھر ہونے والے 60,000 سے زائد لوگوں کی بحفاظت ان کے گھروں کو واپسی۔
اس ہدف کے مقرر کیے جانے کے بعد سے اسرائیلی قیادت کے بیانات میں تندی اس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جس میں ان کے خیال میں یہ ہدف صرف فوجی کارروائی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملے غزہ میں جنگ بندی کے بعد ہی رکیں گے۔ بظاہر اس تنازعے کے نتیجے میں لبنانی شہریوں کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والے نقصان کے باوجود وہ اس موقف سے پیچھے ہٹتے دکھائی نہیں دیتے۔
نصراللہ لبنان میں اسرائیل کے زمینی حملے کے امکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ان کی فوج کے لیے موقع اور اسرائیل کے لیے جہنم ثابت ہوگا۔
لیکن دونوں فریق جانتے ہیں کہ اگر وہ اس راہ پر چلتے رہے تو یہ دونوں کے لیے تکلیف دہ اور خطرات سے خالی نہ ہوگا۔
اسرائیل فضائی حملوں سے اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکا اور اس ہفتے حزب اللہ نے اسرائیل پر مزید حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ممکنہ زمینی حملے کے بارے میں بیانات کے باوجود قیادت اس بات سے آگاہ ہے کہ اس سے قبل بھی زمینی حملے سے اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کرنے اور حزب اللہ کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔
28 ستمبر کو پی ٹی آئی راولپنڈی میں جلسہ نہیں احتجاج کرے گی: عمران خان
،تصویر کا ذریعہAFP
سابق وزیر اعظم اور
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں
نئے توشہ حانہ مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو
کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28 ستمبر کو ان کی جماعت راولپنڈی میں جلسہ نہیں احتجاج کرے
گی۔
بانی پی ٹی آئی
کا کہنا تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست
واپس لے رہے ہیں۔
عمران خان کا کہنا
تھا کہ انھیں معلوم ہے حکومت نے جلسے کی اجازت نہیں دینی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر
حکومت نے اجازت دی بھی تو شہر سے باہر دینگے اس لیے جلسے کے بجائے اب ہم راولپنڈی
میں سنیچر کے روز بھرپور احتجاج کرینگے۔
کمرہ عدالت میں
موجود صحافی بابر ملک کے مطابق جب سابق عمران خان سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کے
ترجمان رؤف حسن نے کہا ہے کہ سٹیبلشمنٹ سے مزاکرات پارٹی پالیسی ہے تو سابق وزیر
اعظم کا کہنا تھا کہ رؤف حسن کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں سب کو کہتا ہوں سٹیبلشمنٹ سے
مزاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
’اسٹیبلشمنٹ کے
لوگ رائٹ دکھا کے لیفٹ مارتے ہیں۔‘
عمران خان کا
کہنا تھا کہ وہ آٹھ ستمبر کے جلسے کے بعد اپنی جماعت کو واضع کرچکے ہیں کہ ہم کسی
سے کوئی مزاکرات نہیں کرینگے۔
ایک اور صحافی نے
سوال کیا کہ کیا علی امین گنڈا پور کیلئے بھی یہی ہدایات ہیں جس پر عمران خان کا
کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور سمیت تمام قیادت کو ہدایات ہیں کہ سٹیبلشمنٹ سے
مزاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
نئے توشہ خانہ کیس
میں عمران خان، بشری بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 2 اکتوبر کی تاریخ مقرر
سپیشل جج سینٹرل
شاہ رخ ارجمند نے نئے توشہ خانہ مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشری بی
بی پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 2 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
اس مقدمے میں
ضمانت کی درخواست کی سماعت پر پراسکیوشن کی جانب سے دلائل مکمل نہ ہونے پر عمران
خان غصے میں اگئے اور انھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواستوں پر
آج ہی فیصلہ سنائیں۔
انھوں نے کہا کہ
انتخابات سے قبل بھی انھیں تین مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔
اسرائیل کا لبنان-شام کی سرحد پر حملہ
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے شام اور لبنان کی سرحد کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا
ہے جن کے باے میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ انھیں ’ہتھیاروں کی منتقلی‘
کے لیے استعمال کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج کا
کہنا کہ اس حملے کا مقصد ’لبنان میں ہتھیاروں کے داخلے اور حزب اللہ کو مسلح ہونے سے
روکنا ہے۔
لبنان کے وزیر
ٹرانسپورٹ علی حمیح کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملہ شام اور لبنان کو جوڑنے والے ایک
چھوٹے پل کے شام کی طرف والے سرے پر ہوا ہے۔
حمیح نے خبر رساں
ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھیں فی الحال معلوم نہیں کہ آیا پل اب بھی قابل
استعمال ہے یا نہیں۔
جبری گمشدہ افراد کے خاندانوں کے لیے پچاس پچاس لاکھ روپے کے چیک لے کر آئیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم
اسلام آباد ہائی
کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس محسن اخترکیانی
کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ جبری گمشدہ افراد کے
خاندانوں والوں کے لیے پچاس پچاس لاکھ روپے کے چیک لے کر آئیں۔
تین رکنی بینچ کے
دیگر ارکان میں جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس ارباب محمد طاہر شامل ہیں۔
جمعرات کے روز
ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آج ہم آرڈر کر رہے ہیں،
جن افراد کو کمیشن جبری گمشدہ ڈکلئیر کر چکا ہے، ان افراد کی فیملی کے لئے پچاس
پچاس لاکھ روپے کے چیک لے کر آئیں۔
عدالت نے جبری
گمشدگیوں سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو ان کیمرہ بریفنگ کے لیے طلب کرلیا ہے اس کمیٹی
میں ائی ایس آئی ایم آئی اور آئی بی کے نمائندے شامل ہیں۔
جمعرات کے روز درخواست
گزار کی وکیل ایمان زینب مزاری، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل، نمائندہ
وزارت دفاع برگیڈیئر(ر) فلک ناز اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
ایمان مزاری کا
کہنا تھا کہ 10 جنوری کو اٹارنی جنرل نے اس عدالت میں بیان حلفی دیا تھا کہ کوئی
بندہ لاپتہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نو ماہ گزرنے کے باوجود لوگوں کو جبری
طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔
ایمان مزاری نے
دعویٰ کیا کہ اگست کے مہینے سے لیکر اب تک 187 لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا
ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کو لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔
لاپتہ افراد سے
متعلق عدالت کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
لارجر بینچ کا
کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کشمیر، افغانستان یا کسی جیل میں ہیں، زندہ ہیں یا مردہ ہیں،
بتانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی
جنرل نے کہا کہ ہم نے کچھ فہرستیں عدالت میں جمع کروائیں ہیں، اس میں کچھ لوگ
افغانستان گئے ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا
کہ لاہور یا کراچی یونیورسٹی سے جن بچوں کو اٹھایا گیا وہ افغانستان نہیں گئے۔
جسٹس محسن اختر کیانی
کا کہنا تھا کہ ہمیں لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنا
ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا
کہ اس مسئلے کو حل کرنے کا میکنزم وزارتِ دفاع بنا سکتی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی
کا کہنا تھا وزارتِ دفاع اور انٹیلی جنس ایجنسیاں پالیسی بنا کر وفاقی حکومت کو دیں۔
حزب اللہ کا شمالی اسرائیل میں رافیل ملٹری انڈسٹری کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حزب اللہ نے ایک حملے میں اسرائیل کے دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق شمالی
اسرائیل میں حیفہ کے قریب واقع اسرائیلی فوج کی تنصیبات اس حملے کا ہدف تھی۔
اس سے قبل اسرائیلی
فوج کا کہنا تھا کہ لبنان سے تقریباً 45 راکٹ اس کی سرزمین پر داغے گئے تھے۔ اسرائیلی
فوج کے مطابق، ان میں سے کچھ راکٹ کو روک لیا گیا تھا جبکہ باقی کھلے میدان میں
گرے تھے۔
خبر رساں ادارے اے
ایف پی کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے راکٹوں سے ’رافیل ملٹری انڈسٹری
کمپلیکس‘ پر حملہ کیا ہے۔
رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس
سسٹمز ایک اسرائیلی دفاعی فرم ہے جس نے آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کیا ہے۔