پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں میں تین پولیس اہلکار ہلاک، عام شہریوں کی اموات کی بھی اطلاعات ہیں: وزیرِ اعظم انوار الحق
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا کہنا ہے ’تشدد کے راستے سے کسی بھی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں سے 90 فیصد مان لیے گئے ہیں اور باقی پر بات ختم نہیں ہوئی۔
خلاصہ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزراعظم کے مطابق بدھ کے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان چھڑپوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور 150 زخمی ہوئے ہیں
بظاہر پاکستانی اداروں کے فیصلوں نے ایک مخصوص جماعت کی انتخابات لڑنے کی صلاحیت کو محدود کیا: عام انتخابات 2024 پر کامن ویلتھ رپورٹ
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں چار روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا گیا ہے
حماس شاید صدر ٹرمپ کا مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبہ مسترد کر دے: سینیئر عہدیدار حماس
انڈونیشیا کی فلسطین میں 20 ہزار امن فوج تعینات کرنے کی پیشکش: پاکستانی قیادت بھی اس سے متعلق کوئی فیصلے کرے گی، اسحاق ڈار
صدر ٹرمپ کی مجوزہ امن معاہدے پر ردعمل کے لیے حماس کو تین سے چار دن کی ڈیڈ لائن
لائیو کوریج
انڈونیشیا کی فلسطین میں 20 ہزار امن فوج تعینات کرنے کی پیشکش، پاکستانی قیادت بھی اس متعلق کوئی فیصلے کرے گی: اسحاق ڈار
پاکستان نے فلسطین سے متعلق مجوزہ امن معاہدے پر آٹھ اسلامی ممالک کے بیان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس امن منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فوج تعینات ہو گی اور انھیں نہیں لگتا کہ حماس اس منصوبے کی مخالفت کرے گی۔ ان کے مطابق ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ حماس اس پلان کی حمایت کرے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انڈونیشیا نے فلسطین میں 20000 فوجی تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امید ہے پاکستان کی قیادت بھی اس متعلق کوئی فیصلہ کرے گی۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آٹھ مسلم ممالک نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور مسئلے کے حل کے لیے بات کی ہے اور ٹرمپ کی ٹیم کی طرف سے 20 نکاتی امن پلان میں آٹھ مسلم ممالک نے ترامیم کیں۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آٹھ مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات کا مقصد بہتے خون کو روکنا اور غزہ میں امن واپس لانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ غزہ میں قیام امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف بالکل واضح تھے، ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے قبل ہی غزہ کے مسئلے پر مسلم ممالک سے رابطے شروع کر دیے تھے۔
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کی کوشش تھی کہ کسی طریقے سے غزہ میں امن لایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات سے قبل آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک میٹنگ شیڈول کی، اس میٹنگ کے ایجنڈے میں غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کی کوشش، معصوموں کا خون بہنے کا سلسلہ روکنا اور غزہ کی پٹی میں امداد پہنچانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اس کا مقصد غزہ کے شہریوں کی علاقہ بدری کو روکنا، جو پہلے ہی علاقہ چھوڑ چکے ہیں ان شہریوں کو واپس لانا، تباہ شدہ پٹی کی بحالی کا عمل کو ممکن بنانا اور ویسٹ بینک کو اسرائیل کے ہڑپنے کے پروگرام کا سدباب کرنا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے وزیر اعظم شہباز شریف نے بہت بھرپور خطاب کیا، جس کی بہت پذیرائی ہوئی۔ ان کے مطابق کئی سربراہان ممالک وزیراعظم شہباز شریف کے پاس آئے اور انھوں نے فلسطین کی بھرپور نمائندگی پر شکریہ ادا کیا۔
ان کے مطابق شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ ملاقات کے علاوہ علیحدہ بھی ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ شہباز شریف نے چانسلر آف آسٹریا، کویت کے ولی عہد، سری لنکا کے صدر، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر، اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس اور عالمی بینک کے صدر سے بھی ملاقات کی۔ ان کے مطابق ’یہ تمام ملاقاتیں بہت اچھے ماحول میں ہوئیں۔‘
حماس نے ذمہ داری سے مجوزہ امن معاہدے کا جائزہ لے گی، قطری وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہAP
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
حماس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ اس 20 نکاتی امن معاہدے کا جائزہ لے رہی ہے جسے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی بھی حمایت حاصل ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترحمان نے بھی کہا ہے کہ حماس کے مذاکرات کاروں کے وفد نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجوزہ امن معاہدے کو ذمہ داری سے مطالعہ کرے گا۔
ماجد الانصاری نے یہ بھی کہا ہے کہ قطر اب حماس کے مذاکرات کاروں اور ترک رہنماؤں سے آج اس مجوزہ پلان پر بات کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے قطر سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ حماس کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اس کے رہنماؤں کو ملک بدر کرے ورنہ ’اسرائیل خود ایسا کرے گا۔‘
ستمبر کے آغاز میں دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ حماس کے رہنماؤں پر ’وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے‘ مزید حملے کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی طرف سے مجوزہ 20 نکاتی امن معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ انھوں نے قطری وزیراعظم کو فون کر کے قطر پر اسرائیلی حملے کی معافی بھی مانگی۔
حماس ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی امن پلان کا ’اچھی نیت‘ سے جائزہ لے رہی ہے
،تصویر کا ذریعہEPA
حماس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ 20 نکاتی امن پلان کا اچھی نیت سے جائزہ لے رہی ہے۔
اگر فریقین اس معاہدے پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس معاہدے کے تحت فوری طور پر جنگ بندی ہو جائے گی اور اسرائیلی افواج ان جگہوں پر چلی جائیں گی جس پر فریقین راضی ہوں گے۔
اس مجوزہ پلان کے تحت تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، اس کے بعد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور غزہ میں امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
اس منصوبے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ غزہ پر فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین سمیت ایک عبوری حکومت کی حکومت ہوگی، جس کی نگرانی ایک نئی بین الاقوامی عبوری تنظیم کرے گی۔
’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے موسوم اس ادارے کی صدارت امریکی صدر کریں گے جو برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
نیتن یاہو نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران اس تجویز کی حمایت کی۔
دریں اثنا، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ ’غزہ کی پٹی میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ روز غزہ کی پٹی کے 160 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل طاقت کے زور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرے گا: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔
ان کے ٹیلیگرام پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں نیتن یاہو سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ فلسطینی ریاست کے قیام پر متفق ہو گئے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’نہیں بالکل نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کر دہ 20 نکاتی معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کیا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی طاقت کے زور پر مخالفت کرے گا۔
واضح رہے کہ 20 نکاتی امن پلان میں یہ کہا گیا ہے کہ جب غزہ کی تعمیر اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات متعارف ہوں گی تو پھر ایسے میں فلسطین کا حق خود ارادیت اور نئی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے گا۔
کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ: دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت دس ہلاک، چار حملہ آور بھی مار دیے گئے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کے
روز ایف سی ہیڈکوارٹر کے نزدیک ہونے والے دھماکے میں 10 افراد کے ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
صوبائی وزیرِ صحت بخت کاکڑ نے فون پر بی بی سی
کو بتایا کہ دھماکے کے بعد سے اب تک کم از کم 10 افراد کی لاشیں ہسپتال پہنچائی جا
چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دھماکے
کی وجہ سے 30 زخمیوں کو بھی طبی امداد کے لیے ٹراما سینڑ منتقل کیا گیا ہے۔
وزیرِ صحت کے مطابق
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب حکومتِ بلوچستان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
دھماکے کے بعد شہر کے
علاقے ماڈل ٹاؤن سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا اور فائرنگ کی آوازیں بھی آئیں۔
کوئٹہ شہر کے علاقے
شہباز ٹاؤن کے ایک رہائشی حمید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا
کہ انھیں محسوس ہوا جیسے یہ ان کے گھر کے اندر ہوا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے
کے بعد فائرنگ کی بھی آوازیں بھی سنائی دی۔
حمید خان نے بتایا کہ
وہ جب اپنے گھر سے باہر نکلے تو انھوں نے روڈ پر دیکھا کہ ایک گاڑی کے شیشے ٹوٹے ہوئے
تھے۔
ان کا کہا تھا کہ پوچھنے
پر گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ دھماکہ ایک سوزوکی گاڑی میں ہوا۔
’ڈرائیور نے بتایا کہ دھماکہ ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب ہوا۔
ان کے مطابق،
ڈرئیور کا کہنا تھا کہ دھماکے کی جگہ کے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ
گئے۔
دھماکے اتنا شدید
تھا کہ اس کی شدت پشین سٹاپ، ماڈل ٹاؤن، شہباز ٹاؤن اور قرب و جوار کے دیگر علاقوں
میں محسوس کی گئی جبکہ اس کی آواز کوئٹہ میں دور دور تک سنی گئی۔
دھماکے کی وجہ سے متعدد
گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے کے بعد صوبائی انتظامیہ نے کوٸٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نفاذ کردی ہے اور تمام عملے کو ہسپتالوں میں موجود رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ان بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کا حوصلہ پست نہیں کیا جا سکتا اور عوام اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
کینیڈا نے انڈیا کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا: ’یہ گینگ ملک میں مقیم انڈینز میں خوف و ہراس کا باعث بن رہا ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنکینیڈا نے بشنوئی گینگ کو ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیم قرار دیا ہے.
کینیڈا نے انڈیا کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار
دے دیا ہے جس کے بعد اب وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اس گروہ کی ملکیت
میں موجود جائیداد اور رقم کو ضبط یا منجمد کر سکے۔
وفاقی وزیر برائے عوامی تحفظ نے سوموار کے روز اس کا اعلان
کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گینگ کینیڈا میں مقیم انڈین برادریوں میں خوف و ہراس کا
ماحول پیدا کر رہا تھا۔
گذشتہ سال کینیڈا کی پولیس نے الزام لگایا تھا کہ انڈین
حکومت کے ایجنٹ بشنوئی گینگ کے ارکان کو قتل، بھتہ خوری اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے
استعمال کر رہے تھے، اور یہ کارروائیاں خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے
لیے کی جا رہی تھیں۔
انڈیا نے اس وقت ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا
کہ کینیڈا نے اس سلسلے میں کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔
اس نئی فہرست بندی یا اعلان کے نتیجے میں نہ صرف حکومت
کو جائیداد اور پیسہ منجمد کرنے کا اختیار ہوگا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو
دہشت گردی سے متعلق جرائم جیسے کہ مالی معاونت، سفر اور بھرتی پر کارروائی کا اختیار
بھی حاصل ہو گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے پبلک سیفٹی یا عوامی تحفظ آنند سانگری نے ایک
بیان میں کہا کہ 'بشنوئی گینگ نے مخصوص برادریوں کو دہشت، تشدد اور دھونس کا نشانہ
بنایا۔ اس گروہ کو دہشت گرد قرار دینا ہمیں ان کے جرائم کے خلاف مزید مؤثر اور طاقتور
اقدامات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔'
کینیڈا نے بشنوئی گینگ کو ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ
تنظیم قرار دیا ہے، جسے انڈیا سے تعلق رکھنے والا 32 سالہ گینگسٹر لارنس بشنوئی چلا
رہا ہے حالانکہ وہ پچھلے دس سال سے جیل میں ہے۔
کینیڈا کا کہنا ہے کہ یہ گینگ ان کے ملک میں موجود ہے اور ان علاقوں میں فعال ہے جہاں بڑی تعداد میں انڈین نژاد برادریاں آباد ہیں۔
انڈیا میں تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ بشنوئی اب بھی
ایک ایسے گینگ کو کنٹرول کر رہا ہے جس میں تقریبا 700 ارکان شامل ہیں۔ اس گینگ کے ارکان
مشہور شخصیات سے بھتہ وصول کرنے، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ، اور ٹارگٹ کلنگ میں
ملوث ہیں۔
کینیڈا کا یہ اقدام اپوزیشن جماعتوں اور البرٹا و برٹش
کولمبیا کے وزرائے اعلیٰ کے دباؤ کے بعد سامنے آیا، جنھوں نے کہا تھا کہ اس گینگ کے
خلاف مختلف پابندیاں لگانے کے لیے اسے 'دہشت گرد' قرار دینا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک
2023 میں وینکوور کے نواح میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجّر کے قتل کے بعد
کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس واقعے کے کچھ عرصے بعد اس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو
نے انڈین حکومت پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
خیال رہے کہ انڈیا نے ہردیپ سنگھ نجر کو سنہ 2020 میں
دہشت گرد قرار دیا تھا اور انھیں دو مسلح افراد نے کینیڈا میں ایک سکھ عبادت گاہ کے
باہر قتل کر دیا تھا۔ اس قتل کے الزام میں چار افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔
بہر حال کشیدگی کے بعد اگست میں دونوں ممالک نے نئے ہائی
کمشنر تعینات کیے ہیں۔
گذشتہ ہفتے وزیر اعظم مارک کارنی کے قومی سلامتی کے مشیر
نے اوٹاوا میں صحافیوں کو بتایا کہ انڈیا نے کینیڈین حکام کے ساتھ جاری تحقیقات میں
تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مشیر نتھالی ڈروئن نے کہا کہ انھوں نے حال ہی میں انڈین
حکام سے ایک نتیجہ خیز ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں نے سکیورٹی سے متعلق خدشات پر
بات چیت کی اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے، خاص طور پر سرحد پار دباؤ
یا جبر سے گریز کرنے پر اتفاق کیا۔
طالبان کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کے بعد افغانستان میں ٹیلی کام سگنلز بھی بند
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
افغانستان میں طالبان کی حکومت کی جانب سے فائبر آپٹک
انٹرنیٹ کنکشن منقطع کرنے کے ہفتوں بعد ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز پر
پابندی عائد کر دی ہے۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی عالمی تنظیم نیٹ بلاکس کی
رپورٹ کے مطابق ملک میں اس وقت ’مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ‘ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ ان کا افغانستان
کے دارالحکومت کابل میں اپنے دفاتر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ افغانستان بھر میں موبائل
انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی کی سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
تاحال طالبان کی جانب سے اس بندش کے بارے میں کوئی
بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ 2021 میں اقتدار آنے کے بعد سے طالبان نے اسلامی قوانین کی
اپنی تشریح کے مطابق متعدد پابندیاں عائد کی ہیں۔
ایک طالبان اہلکار کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کی بندش اگلی
ہدایات تک لاگو رہے گی۔
ایک نجی خبر رساں ادارے طلوع نیوز نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپ ڈیٹس کے لیے ان کے
سوشل میڈیا پیجز کو فالو کریں کیونکہ اسے اپنے ٹیلی ویژن اور ریڈیو نیٹ ورکس میں رکاوٹوں
کی توقع ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق، کابل ہوائی اڈے سے پروازیں بھی
متاثر ہوئی ہیں۔
پروازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ
فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق، کم از کم آٹھ پروازیں جنھیں منگل کے روز کابل بین الاقوامی
ہوائی اڈے سے روانہ یا پہنچنا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دوحہ حملے پر معافی مانگی اور آئندہ قطر کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا ہے: قطر
،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
قطر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے
دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے پر معافی مانگی ہے اور مستقبل میں ایسے حملے نہ
کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے
بیان میں کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے امیر اور وزیراعظم محمد بن
عبدالرحمان بن الجاسم الثانی کو ٹیلی فون کیا اور اُس گفتگو میں امریکی صدر کے
ساتھ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو بھی موجود تھے۔
بیان کے مطابق یہ ٹیلی فون کال
قطر پر اسرائیلی جارحیت کے بعد کی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے امریکی
کوشش کا حصہ تھی۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے بیان
میں کہا گیا ہے کہ دورانِ گفتگو اسرائیلی وزیراعظم نے دوحہ پر حملے اور قطر کی سالمیت کی خلاف ورزی پر معافی
مانگی ہے جس کے نیجے میں ایک قطری شہری ہلاک ہوئے تھے۔
بیان کے مطابق اسرائیل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ دوبارہ
کبھی بھی قطر کی سرزمین کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
قطر کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی فونک
بات چیت میں قطر کے خلاف ہونے والی بیرونی جارحیت روکنے کی ضمانت کے ساتھ
ساتھ امریکہ اور قطر کے مابین دفاعی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
قطر کے امیر اور وزیراعظم نے
ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے کہا
کہ قطر کو محفوظ بنانے اور دوبارہ ایسی خلاف ورزیوں نہ ہونے کی ضمانت دینا
قابلِ قدر ہے۔
ستمبر میں اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک
عمارت پر فضائی حملہ کیا تھا جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی کی اس حملے میں اسرائیل
نے قطر میں موجود حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’7 اکتوبر کے
وحشیانہ قتل عام کے براہ راست ذمہ داران‘ کو نشانہ بنایا۔
حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اس کے مذاکراتی وفد کے
ارکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔
رہائشی علاقے میں ہونے والے اس حملے کے بعد قطر نے
اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 15
اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایک ہی ہدف پر 10 گولہ باری کی۔
پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل غزہ جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے کی ابتدا سے ہمارے ساتھ ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہPak PM Office
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا
ہے پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل غزہ میں جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے کے اوائل
سے ہی اُن کے ساتھ ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیل کے وزیر اعظم
بنیامین نتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے غزہ میں جنگ بندی
اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا قیام امن کے لیے مجوزہ منصوبہ پیش کیا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم
اور فیلڈ مارشل نے سو فیصد اس مجوزہ منصوبے کی حمایت کی ہِے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کی
حمایت پر تمام عرب اسلامی ممالک کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ذکر بھی
کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے وزیراعظم
اور فیلڈ مارشل اس منصوبے ابتدا سے ہی ہمارے ساتھ ہیں۔ درحقیقت انھوں نے ایک بیان بھی
جاری کیا ہے جس میں اس معاہدے پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم
نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’بہت
بڑا ‘ دن ہے۔
گذشتہ روز ہونے والی اس پریس کانفرنس
سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے
20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں
نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی لانے
کے لیے فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن ناگزیر ہو گا۔‘
انھوں نے طویل پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’یہ بھی میرا پختہ یقین ہے کہ
صدر ٹرمپ اس انتہائی اہم اور فوری مفاہمت کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن مدد کے لیے
پوری طرح تیار ہیں۔ میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس جنگ کے خاتمے میں خصوصی ایلچی اسٹیو
وٹکوف کے اہم کردار کو سراہتا ہوں۔‘
منتخب اسلامی ممالک کا غزہ جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر دیر پا قیامِ امن کے مجوزہ منصوبے کا خیر مقدم
،تصویر کا ذریعہPak PM House
منتخب اسلام ممالک کے گروپ نے
غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سنجیدہ کوشش کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر رضامندی ظاہر
کی ہے۔
امریکہ کی جانب سے غزہ میں امن
کے لیے مجوزہ منصوبے کے اعلان کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر،اردن، ترکی،
انڈونیشیا اور پاکستان کی وزراتِ خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں منتخب اسلامی ممالک کے گروپ نے خطے میں امن کے لیے امریکہ کے
کردار پر زور دیتے ہوئے اس مجوزہ منصوبے کا خیر مقدم کیا جس کے تحت غزہ میں جنگ
بندی، تعمیرِ نو، فلسطینی عوام کی نقل مکانی روکنے اور مغربی کنارے کا الحاق
نہ کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔۔
بیان میں کے کہا گیا ہے کہ جامع
معاہدے کے تحت ہونے والی جنگ بندی، اسرائیل کا مکمل انخلا، غزہ میں امداد کی
فراہمی، فلسطینیوں کی نقل مکانی روکنا، مغویوں کی رہائی، علاقے میں سکیورٹی کا
طریقہ کار، تعمیر نو اور غزہ کا مغربی کنارے کا حصہ کے طور پر دو ریاستی حل کی
بنیادں پر ہونے والے دیرپا امن کے معاہدے میں امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے
تیار ہیں۔
مشترکہ بیان میں ان ممالک نے اس
منصوبے کو حتمیٰ شکل دینے اور اس پر عمل درامد شروع کرنے کے لیے امریکہ سمیت تمام
فریقین کے ساتھ مل کر کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اقوامِ
متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع سائیڈ لائن پر امریکی صدر ٹرمپ نے منتخب اسلامی
ممالک کو مدعو کیا تھا اور اُن سے غزہ میں امن کے منصوبے پر بات کی تھی۔
اگرچہ اس اجلاس کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلامیہ
جاری نہیں کیا گیا تھا جس سے یہ علم ہو سکے کہ اس اجلاس میں کیا بات چیت ہوئی اور
اسلامی ممالک کے سربراہان نے غزہ یا دیگر امور پر کیا موقف پیش کیا۔
تاہم امریکی صدر کے بیان کے مطابق انھوں نے اسرائیلی
مغویوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق منتخب اسلامی ممالک کے سربراہان سے
کہا کہ ’اس گروپ سے بہتر کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا ہے۔‘
مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔ شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی لانے کے لیے فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن ناگزیر ہو گا۔‘
انھوں نے طویل پوسٹ مںی مزید لکھا کہ ’یہ بھی میرا پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس انتہائی اہم اور فوری مفاہمت کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن مدد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس جنگ کے خاتمے میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اہم کردار کو سراہتا ہوں۔‘
’میں اس بات پر بھی پختہ یقین رکھتا ہوں کہ خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔‘
ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کے لیے نئے امن منصوبے پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے غزہ کے لیے ایک نئے امن منصوبے پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے حماس کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی اس منصوبے کو قبول کرے۔
وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ اس مجوزہ امن منصوبے میں کہا گیا ہے کہ 72 گھنٹوں کے اندر حماس 20 زندہ یرغمالیوں اور دو درجن سے زائد یرغمالیوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کرے جس کے عوض غزہ میں فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس تجویز کے تحت اسرائیلی جیلوں میں موجود درجنوں غزہ کے باشندوں کو رہا بھی کیا جائے گا۔
جنگ بندی کے مذاکرات سے واقف ایک فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے 20 نکاتی مجوزہ منصوبہ حماس کے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت آئندہ غزہ پر حکومت کرنے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
گذشتہ روز ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو ’امن کے لیے ایک تاریخی دن‘ قرار دیا ہے۔
لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ اگر حماس اس منصوبے پر راضی نہیں ہوتی تو نتن یاہو کو ’حماس کے خطرے کو ختم کرنے کا کام سرانجام دینے‘کے لیے امریکی حمایت حاصل ہو گی۔
اس موقع پر نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کرتی ہے یا اس پر عمل نہیں کرتی ہے تو اسرائیل ’کام تمام کر دے گا۔‘
مقبوضہ مغربی کنارے پر حکومت کرنے والی فلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر کی اس ضمن میں کوششوں کو ’مخلصانہ اور پرعزم‘ قرار دیا ہے۔
اپنی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں فلسطینی اتھارٹی نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے، غزہ میں انسانی امداد کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے اور یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ’امریکہ، خطے کی ریاستوں اور شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کی تجدید کرتی ہے۔‘
اگر اس مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے تو اس کے تحت غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل مرحلہ وار غزہ پر اپنا قبضہ ختم کرے گا اور اس ضمن میں وائٹ ہاؤس جانب سے ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں تین مرحلوں میں اسرائیلی افواج مرحلہ وار انداز میں غزہ سے نکل جائیں گی۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت حماس اپنے ہتھیار ڈال دے گی اور اس کی سرنگیں اور ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز کو تباہ کر دیا جائے گا۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ ہر اسرائیلی یرغمالی کی باقیات کے عوض 15 فلسطینوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔
منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک بار جب دونوں فریق، اسرائیل اور حماس، اس پر متفق ہو جائیں گے تو ’غزہ کی پٹی میں فوری طور پر مکمل امداد کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔‘
امریکہ نے غزہ پر مستقبل کی حکمرانی کے لیے اپنے منصوبے کا ایک خاکہ بھی پیش کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر غزہ پر حکمرانی ایک ’ٹیکنو کریٹک اور غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی‘ کرے گی جس کی نگرانی ’ایک بین الاقوامی عبوری باڈی‘، جسے بورڈ آف پیس کہا گیا ہے، کرے گی۔ صدر ٹرمپ اس بین الاقوامی عبوری باڈی کے سربراہ صدر ٹرمپ ہوں گے۔
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم سر ٹونی بلیئر اس گورننگ باڈی کا حصہ ہوں گے جبکہ اس میں شامل دیگر رہنماؤں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ٹونی بلیئر نے اس منصوبے کو ’جرات مندانہ‘ قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اسے حقیقت میں بدلنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس کو اب اس منصوبے سے اتفاق کرنا چاہیے اور اپنے ہتھیار ڈال کر اور باقی تمام یرغمالیوں کو رہا کر کے غزہ کے عوام کے مصائب کا خاتمہ کرنا چاہیے۔‘
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فرانس جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔‘
میکرون نے کہا کہ ’اسرائیل اور حماس کو دو ریاستی حل کی بنیاد پر خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔‘
منصوبے میں مزید کہا گیا ہے کہ حماس کا غزہ میں بننے والی آئندہ حکومت میں کوئی کردار نہیں ہو گا، ’براہ راست، بالواسطہ یا کسی بھی دوسری شکل میں۔‘
اس منصوبے کو امریکہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ’اقتصادی ترقی کا منصوبہ‘ کہتا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل غزہ پر قبضہ یا اس کا الحاق نہیں کرے گا‘ اور اس کی افواج وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقے سے مرحلہ وار واپس جائیں گی۔
منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بجائے کہا گیا ہے کہ ’ہم لوگوں کو وہاں رہنے کی ترغیب دیں گے اور انھیں ایک بہتر غزہ کی تعمیر کا موقع فراہم کریں گے۔‘
یہ منصوبہ ایک حتمی فلسطینی ریاست کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے۔
جنگ بندی کے مذاکرات سے واقف ایک فلسطینی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قطری اور مصری حکام نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے وائٹ ہاؤس کا منصوبہ دوحہ میں حماس کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔‘
اس سے قبل حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ کسی بھی ایسی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو، لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں فلسطینی مفادات کا تحفظ، غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانا اور جنگ کو ختم ہونا چاہیے۔
ہتھیار چھوڑ دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اہلکار نے کہا کہ ’جب تک اسرائیلی قبضہ جاری ہے مزاحمت کے ہتھیار ایک سرخ لکیر ہیں۔‘
گذشتہ روز کی اہم خبریں
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی ایک عدالت نے میانمار میں ’سکیم سینٹر‘ چلانے کے جرم میں ایک مافیا خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہر معاملے پر ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں۔
قطری ثالثوں کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان کے زیر حراست امریکی شہری رہا کر دیا گیا۔
امریکہ کی ریاست مشی گن میں اتوار کے روز چرچ پر ایک مسلح شخص کی جانب سے گاڑی چڑھانے اور فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تاجروں اور عوام کی نمائندہ تنظیم ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی کال پر 29 ستمبر کو ریاست میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔