آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔

خلاصہ

  • ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
  • صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
  • صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
  • اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں تقریباً 3200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہیومن رائٹس ایجنسی

    امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ جاری کی ہے۔ ایجنسی کے مطابق 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3,186 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم 210 بچوں سمیت 1,394 عام شہری شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 1,153 فوجی جبکہ 639 اموات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

  2. نیتن یاہو اس جنگ کو نہ صرف اسرائیل بلکہ دُنیا کی بقا کے جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں, سبیسچیئن اشر، نامہ نگار برائے عالمی اُمور

    اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی نیوز کانفرنس میں اس جنگ سے متعلق مختلف معاملات کا احاطہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اس جنگ سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    اُنھوں نے اپنی نیوز کانفرنس کا آغاز عبرانی زبان میں گفتگو سے کیا، جس میں اُن کی مخاطب اسرائیلی عوام تھی۔ اُنھوں نے اپنی عوام کی ثابت قدمی کی تعریف کی اور کہا کہ اُنھیں آنے والے کچھ عرصے تک اس کی ضرورت ہو گی۔

    اپنی تقریر کے انگریزی حصے میں اُنھوں نے دُنیا کو پیغام دیا کہ اس جنگ کے معاملے میں دُور اندیشی سے کام لینا ہو گا اور ثابت قدم رہنا ہو گا۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ فوجی کارروائی نہ کی جاتی تو ایران کی جانب سے میزائل فائر کرنے والے جوہری وار ہیڈز کا امکان ہو سکتا تھا اور اس سے امریکی عوام کو بھی خطرہ ہے۔

    لیکن یہ نیتن یاہو کی جانب سے ایک طرح سے اس جنگ سے متعلق وضاحتوں کا سلسلہ تھا۔

    یہ اس جنگ کے حوالے سے دُنیا کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی، جس کے ذریعے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایران کہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دُنیا کے لیے وجود کے خطرے کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

    نیتن یاہو نے یہ احساس دلانے کی بھی کوشش کی کہ اسرائیل اور امریکہ کے مابین اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہے اور یہ تاثر دینا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کوئی اختلاف ہے تو یہ ’فیک نیوز‘ ہے۔

  3. ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مابین کوئی تناؤ ان ممالک کے تعلقات کی ساخت کو تبدیل نہیں کر سکتا, ٹام بیٹ مین، نامہ نگار برائے امریکی محکمہ خارجہ

    اپنی نیوز کانفرنس میں نیتن یاہو نے امریکہ اور اسرائیل تعلقات کے بارے میں اُن دعوؤں کی تردید کی جن کے بارے وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے ملک میں مسائل کا سامنا ہے۔ یعنی امریکہ میں بڑھتا ہوا یہ تاثر کہ امریکہ کو اس جنگ میں اسرائیل نے گھسیٹا اور یہ کہ دونوں اتحادی اہداف پر متفق نہیں ہیں۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ’فضول بات‘ ہے کیونکہ اُن کے بقول ٹرمپ خود کئی دہائیوں سے ایران سے درپیش خطرات سے متعلق خبردار کرتے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو نے ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بارے میں سوالات کو نظرانداز کر دیا، جس میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل نے اسے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر بمباری کرنے سے پہلے نہیں بتایا تھا (اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اُنھوں نے ایسا کیا تھا)۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ معمولی اختلافات آگے چل کر ایک بڑی دراڑ بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ٹرمپ کچھ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے اسرائیل متفق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر وہ کسی متفقہ پالیسی سے پیچھے ہٹتے ہیں۔

    لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ رہنما بعض معاملات پر مختلف آرا رکھ سکتے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔ امریکی کانگریس کئی دہائیوں سے اسرائیل کے دفاع کے لیے اس کی مدد کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو خطے کے دیگر ممالک پر دفاعی سبقت حاصل ہے۔

    لہذا دونوں رہنماؤں کے مابین کوئی تناؤ ان ممالک کے تعلقات کی ساخت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    تقریباً ہر صدر نے کسی نے کسی موقع پر اسرائیلی رہنما پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بڑی تصویر یہ ہے کہ ٹرمپ نے سب سے پہلے ایران کے خلاف اس جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ ابھی بھی نیتن یاہو کو اس جنگ کی سمت سے متعلق چھوٹ دے رہے ہیں۔

  4. متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور بحرین پر میزائل اور ڈرون حملے

    گذشتہ چند گھنٹوں میں متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور بحرین سے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال ایران کی طرف سے آنے والے خطرات کا جواب دے رہے ہیں۔ انھوں نے شہریوں کو مطلع کیا ہے کہ انھیں فضائی دفاعی نظام کی مدد سے حملوں کو روکے جانے کی آوازیں سنائی دے سکتی ہیں۔

    کویت نے بھی شہریوں کو فضائی دفاعی نظام کی مدد سے حملوں کو روکنے کے باعث ہونے والے دھماکوں کے متعلق خبردار کیا ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حکام کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ملک کے مشرقی علاقے میں مزید پانچ ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے سائرن بجائے جانے کے بعد شہریوں کو قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کو کہا تھا۔ بعد ازاں حکام کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ’ایرانی جارحیت‘ کا نتیجہ تھا، اور شارپنل لگنے سے ایک گودام میں آگ لگی تھی۔

  5. ایران کے گیس فیلڈ پر حملے اور امریکہ اسرائیل اتحاد کے مشترکہ جنگی مقاصد پر اٹھتے سوالات, سبیسچیئن اشر، نامہ نگار برائے عالمی اُمور

    ایران کے اہم قدرتی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ جنگی مقاصد پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔

    واضح طور پر اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، نیتن یاہو نے ایسی ’جعلی خبروں‘ کو محض قیاس آرائیاں قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر یہ دعویٰ کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹا ہے۔

    جیسا کہ وہ پہلے بھی کئی بار کر چکے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نے ان کی نظر میں ایرانی حکومت سے دنیا کو لاحق خطرات کی ایک واضح تصویر کھینچنے کی کوشش کی- ان کا اصرار تھا کہ ٹرمپ بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں۔

    عبرانی میں بات کرتے ہوئے، انھوں نے اسرائیلی عوام کی ہمت کی تعریف کی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دنیا کو بھی اس تنازع کے حوالے سے اسی طرح کا طویل المدتی نقطہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلے 20 دن کی جنگ کے بعد ایران کے پاس یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت نہیں بچی اور نہ ہی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت رہی ہے۔

    لیکن تہران اسرائیل پر مسلسل راکٹ داغ رہا ہے، اور ایک میزائل کے ٹکڑے شمالی شہر حیفہ میں تیل کی تنصیب پر بھی لگے ہیں۔

  6. آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات جلد شروع ہو جائیں گے، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی او ایم) کا تین روزہ اجلاس آج ختم ہوگیا ہے۔

    آئی او ایم کے سربراہ وکٹر جمنیز فرنانڈیز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی تنظیم اگلے ہفتے ایران اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محفوظ گزر گاہ کے لیے ایک فریم ورک تلاش کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرے گی۔

    فرنانڈیز کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی بھی ملک ان مذاکرات سے باہر نہیں ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پورے خطے کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔

  7. مشرقِ وسطی کی تازہ ترین صورتحال

    یروشلم میں سائرن کی آوازیں اور آسمان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی تازہ حملوں کی اطلاعات ہیں- اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران بالکل بھی تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

    توانائی کا بحران بدستور بحث کا ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت جلد شروع ہو جائے گی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایرانی گیس فیلڈ پر حملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ کارروائی ’اسرائیل نے اکیلے کی تھی۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران جنگ کے حوالے سے تین اہداف کا اعادہ کیا ہے جن میں ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔

  8. اسرائیل نے امریکہ کو ایران جنگ میں نہیں گھسیٹا، صدر ٹرمپ کی درخواست پر مستقبل کے حملے روکے ہیں: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ 20 روز کی جنگ کے بعد اب ایران کے پاس نہ تو یورینیئم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت باقی رہی ہے اور نہ ہی بیلسٹک میزائل بنانے کی۔

    جمعرات کے روز اپنے پیغام کے ابتدا میں انھوں نے عبرانی زبان میں بات کی جس کا بعد میں انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ان کی تمام صلاحیتوں کو مکمل طور پر کچل دیں گے۔‘

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کی صلاحیت کو ’اس حد تک تباہ کر دیا ہے‘ کہ وہ ’اپنے منصوبوں کو پورا نہیں کر سکے گا۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ایران کا منصوبہ اسرائیل میں ہزاروں عمارتوں کو منہدم کرنا تھا۔ ’لیکن اس کے بجائے عمارتیں لبنان اور خود ایران میں گر رہی ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم مشرقِ وسطیٰ کو بدل دیں گے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔‘

    ان کے مطابق ایران ’اپنی تاریخ میں کبھی اتنا کمزور نہیں رہا‘ جبکہ اسرائیل ’پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ جنگ کب تک چلے گی، نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ’یہ اتنی ہی دیر چلے گی جتنی دیر ضروری ہو۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم مل کر کام کریں گے اور مل کر ہی جیتیں گے۔‘

    نیتن یاہو نے ایران جنگ میں اسرائیل کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں: ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔

    نیتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ ایک اور ’جعلی خبر‘ کو بھی رد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس دعوے کی طرف تھا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے ساتھ تصادم کے لیے گھسیٹا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’کیا کوئی شخص صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟‘

    ان کے بقول ٹرمپ ’ہمیشہ وہی فیصلے کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں امریکہ کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہوں۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل نے ایرانی گیس فیلڈز پر حالیہ حملے کے بارے میں ٹرمپ کو پہلے سے بتایا تھا، نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ’اسرائیل نے اکیلے کارروائی کی۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صدر ٹرمپ نے ہم سے آئندہ حملوں میں رُکنے کی درخواست کی تھی اور ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔‘

    ایرانی حکومت کے ’ٹوٹنے‘ کے کیا آثار نظر آتے ہیں، اس سوال پر نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ایسے بہت سے آثار موجود ہیں‘۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے وہ (ایرانی حکومت) گر جائے، لیکن ہو سکتا ہے وہ قائم رہے، ہو سکتا ہے نہ رہے۔‘

    ’اگر وہ قائم رہی تو اپنی کمزور ترین حالت میں ہو گی۔‘

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکی جنگی طیارہ ایف 35 نے ایران کے خلاف مشن میں اڑان بھرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے ایک امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔
    • قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ راس لفان میں حملہ کر کے ایران نے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔
    • ایران کے وزیرِِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس پر حملے کے لیے ایران نے اپنی طاقت کا صرف ایک حصہ استعمال کیا۔
    • ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے کہا ہے کہ قانون ساز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔