ایران کی دیمونا میں اسرائیلی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش، معاملے کی تحقیقات جاری ہیں: اسرائیل
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایرانی میزائل کس طرح فضائی دفاعی نظام سے گزرتا ہوا جنوبی شہر دیمونا میں آ گرا، جس سے کم از کم 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم یہ بات واضح ہے کہ تہران کی جانب سے اس علاقے کو کیوں نشانہ بنا گیا۔
دیمونا سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اہم جوہری تنصیب موجود ہے جسے طویل عرصے سے اسرائیل کے غیر اعلان شدہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے طور پر استعمال کرتا چلا آیا ہے اور اس بات سے وہ انکار بھی نہیں کرتا۔ باضابطہ طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ سائٹ صرف تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، لیکن چھ دہائیوں سے یہ باتی کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں کہ اسرائیل نے وہاں جوہری بم تیار کیا، اگرچہ ہر آنے والی حکومت نے اس معاملے میں ابہام برقرار رکھا ہے اور وضاحت سے کُچھ نہیں کہا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے۔ لہٰذا، کسی بھی اشارے کو کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
ایران نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دیمونا پر یہ حملہ اس کے جوہری مرکز نطنز پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا دونوں نے جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی ممکنہ جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا ہے۔