آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔

خلاصہ

  • ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
  • صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
  • صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
  • اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. ایران کی دیمونا میں اسرائیلی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش، معاملے کی تحقیقات جاری ہیں: اسرائیل

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایرانی میزائل کس طرح فضائی دفاعی نظام سے گزرتا ہوا جنوبی شہر دیمونا میں آ گرا، جس سے کم از کم 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    تاہم یہ بات واضح ہے کہ تہران کی جانب سے اس علاقے کو کیوں نشانہ بنا گیا۔

    دیمونا سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اہم جوہری تنصیب موجود ہے جسے طویل عرصے سے اسرائیل کے غیر اعلان شدہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے طور پر استعمال کرتا چلا آیا ہے اور اس بات سے وہ انکار بھی نہیں کرتا۔ باضابطہ طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ سائٹ صرف تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، لیکن چھ دہائیوں سے یہ باتی کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں کہ اسرائیل نے وہاں جوہری بم تیار کیا، اگرچہ ہر آنے والی حکومت نے اس معاملے میں ابہام برقرار رکھا ہے اور وضاحت سے کُچھ نہیں کہا۔

    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے۔ لہٰذا، کسی بھی اشارے کو کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

    ایران نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دیمونا پر یہ حملہ اس کے جوہری مرکز نطنز پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا دونوں نے جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی ممکنہ جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا ہے۔

  2. بریکنگ, ایران کے اسرائیل پر تازہ حملوں میں 30 افراد زخمی

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس، میگن ڈیوڈ آدوم کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیلی علاقے اراڈ اُن کا عملہ تقریباً 30 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہے کہ جو ایرانی میزائل حملے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس، میگن ڈیوڈ آدوم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لوگوں کا علاج ’مختلف نوعیت کے زخموں کے حوالے سے کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید معلومات جلد جاری کی جائیں گی۔‘

    ایران کی جانب سے یہ حملہ اس سے قبل دیمونا میں ہونے والے حملے کے بعد ہوا ہے جس میں 47 افراد زخمی ہوئے تھے۔

  3. ہم عالمی توانائی کی فراہمی کو سہارا دینے کے لیے تیار ہیں: جی سیون مُمالک کے رہنماؤں کا اعلان

    جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ’عالمی توانائی کی فراہمی کو سہارا دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

    ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک، توانائی کے انفراسٹرکچر اور آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ کو نشانہ بنایا جو تیل کی رسد کے حوالے سے ایک اہم آبی گُزر گاہ تصور کی جاتی ہے۔

    یہ اعلان بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اس اقدام کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انھوں نے جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اور تیل کی کمی پر قابو پانے کے لیے 400 ملین بیرل تیل کے ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بیان میں، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا کے وزرائے خارجہ، اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے کہا کہ وہ ’ایرانی حکومت کے تمام حملوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

  4. ایران کی ’نئی حکمتِ عملی‘ امریکا اور اسرائیل کو حیران کر دے گی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی سپیس فورس کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ملک رات کے دوران اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے گا۔

    سید مجید موسوی نے ایکس پر کہا کہ ’میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایرانی فوج کو مقبوضہ علاقوں کے فضاؤں پر برتری حاصل ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نئی حکمتِ عملی اور لانچ سسٹمز امریکا اور اسرائیل کو حیران کر دیں گے۔‘

  5. امریکا کے برعکس، اسرائیل پیچھے ہٹنے کے اشارے نہیں دے رہا, جیمز واٹر ہاؤس، بی بی سی کے یروشلم میں نامہ نگار کا تجزیہ

    اسرائیل ایرانی اہداف پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اسرائیلی بنیامن نیتن یاہو اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کر رہے ہیں۔

    امریکہ کی مسلسل سیاسی اور عسکری حمایت برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی وزیرِاعظم محتاط رہنے کے علاوہ کسی اور قدم کے اُٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس بات کی مثال اُس وقت سے لی جا سکتی ہے کہ جب انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح درخواست پر ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔

    جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے عبرانی میں کہا کہ جنگ ’جتنی دیر ضروری ہوئی جاری رہے گی‘، اس سے پہلے کہ انھوں نے انگریزی میں دعویٰ کیا کہ وہ اس جنگ کو ’لوگوں کی سوچ سے بھی کہیں پہلے ختم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘

    اگر واقعی وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو ’کم‘ کرتا ہے تو اسرائیل تقریباً بلکہ یقینی طور پر وہی کرے گا کہ اُسے امریکہ کی جانب سے کہا جائے گا۔

    لیکن اگر رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مزید وسائل اس جنگ میں جھونکنے پڑتے ہیں تو اس سے اسرائیل کو ایرانی فوجی اہداف پر حملے جاری رکھنے کا مزید وقت ملے گا۔

    درحقیقت، وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے سنیچر کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ فضائی حملوں میں مزید شدت آئے گی۔‘

  6. اسرائیلی فوج کے حملوں سے تہران میں ہونے والی تباہی کے مناظر

    ہمیں تہران میں اسرائیل فوج کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد نقصان کی نئی تصاویر موصول ہو رہی ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے ایران پر جاری ہیں۔

    ان تصاویر میں دارالحکومت تہران کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور سڑکوں پر بکھرا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔

  7. اگر امریکہ نے خارگ جزیرے پر حملہ کیا تو ایران بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کو بھی ’غیر مستحکم‘ کر سکتا ہے: ایرانی فوجی ذرائع

    فوجی ذرائع نے ایرانی میڈیا کو بتایا ہے کہ اگر امریکا خارگ جزیرے کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی پر عمل کرتا ہے تو اسے ’ناقابلِ یقین‘ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کو ’غیر مستحکم‘ کر دے۔

    آبنائے باب المندب، جسے ’گیٹ آف ٹئیرز‘ بھی کہا جاتا ہے، تقریباً 20 میل چوڑا سمندری راستہ ہے جو جزیرہ نما عرب میں یمن اور افریقی ساحل پر جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ راستہ نہرِ سویز تک جاتا ہے۔

    فوجی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز اور ایران کی تیل کی تنصیبات کے حوالے سے امریکہ ایک بڑے مخمصے کا شکار ہے۔‘

    ان کے مطابق اگر امریکی خارگ جزیرے پر حملہ کرتے ہیں تو تیل کی پیداوار عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

    ذرائع نے مزید کہا کہ ’ایران خطے کی تمام تنصیبات کو آگ لگا دے گا اور امریکا کو ایسے نقصانات اٹھانے پڑیں گے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد نہیں دیکھے گئے۔‘

  8. اسرائیل کے شہر دیمونا پر ایرانی میزائل حملے میں متعدد افراد زخمی

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں میزائل گرنے کے نتیجے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    میگن ڈیوڈ آدوم نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ اُن کا طبی نے ایک 10 سالہ لڑکے اور 40 سالہ خاتون کی طبی امداد فراہم کی جو کہ میزائل کے ٹکڑے لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے۔

    ادارے کے مطابق دیگر زخمی افراد کو بھی موقع پر ہی طبی امداد دی جا رہی ہے۔

  9. برطانوی فوجی اڈہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں شامل نہیں ہوگا: برطانوی وزیراعظم

    برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز کو بھیجے جانے والے ایک پیغام میں کہا ہے کہ قبرص میں برطانیہ کا فوجی اڈہ آر اے ایف اکروتیری امریکا کی ایران کے خلاف کارروائیوں میں ’شامل نہیں ہوگا۔‘

    جنگ کے آغاز پر سٹارمر نے امریکی افواج کو کچھ برطانوی اڈے یعنی آر اے ایف فیئر فورڈ اور ڈیگو گارشیا دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ ایران کی جانب سے ایسے میزائل حملوں کو روکا جا سکے جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

    بعد ازاں انھوں نے امریکا کو برطانوی اڈوں سے آبنائے ہرمز کو ہدف بنانے والی ایرانی تنصیبات پر حملے کرنے کی بھی اجازت دے دی۔

    اس سے قبل کرسٹوڈولائڈز کے ساتھ گفتگو کے دوران برطانوی وزیرِاعظم نے ’دوبارہ واضح کیا کہ آر اے ایف اکروتیری، خطے کے اجتماعی دفاع کے لیے امریکا کے ساتھ برطانیہ کے معاہدے کے تسلسل میں، بشمول ایرانی میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے اقدامات میں، شامل نہیں ہوگا۔‘

    ’جاری تنازع کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے، رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔‘

    ’رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔‘

  10. ماسکو ہمیشہ ایران کا وفادار دوست رہے گا: پوتن کا نئے رہبرِاعلیٰ کو پیغام

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے نئے رہبرِاعلیٰ اور صدر کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ’ماسکو اس مشکل وقت میں تہران کا ’وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار‘ رہے گا۔

    کریملن کے بیان کے مطابق ایرانی نئے سال کے پہلے دن کے موقع پر دیے گئے پیغام میں پوتن نے مجتبیٰ خامنہ ای اور مسعود پزشکیان کو کہا کہ انھیں اُمید ہے کہ ایرانی عوام ’ان آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گی۔‘

  11. جمعہ کے روز ایران میں کم از کم 640 حملے کیے گئے: انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ

    امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (ہرانا) نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک ایران کے 17 صوبوں میں کم از کم 640 حملے کیے گئے۔

    تنظیم کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 68 ہلاکتیں ہوئیں اور اس میں سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کتنے حملے شہری علاقوں پر ہوئے۔

    ہرانا کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے تین ہفتوں کے دوران اب تک کم از کم 1398 افراد، جن میں 210 بچے شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 1165 فوجی ہلاکتیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 657 افراد ایسے ہیں جنھیں نہ شہری اور نہ ہی فوجی کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔

  12. اسرائیلی فوج کی ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کی تصدیق

    اسرائیلی فوج ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کی خبروں کی تصدیق کی ہے تاہم حملے کے مقام کی تفصیل نہیں بتائی۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ متعلقہ علاقوں میں لوگوں کو احتیاطی الرٹ بھیج دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل حزب اللہ کی جانب سے بیان میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اڈوں پر بمباری کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق لبنانی حزب اللہ گروپ نے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ وسطی اسرائیل کے شہر رِشون لِتسیون میں ایک کلسٹر میزائل کے باعث ایک کنڈرگارڈن کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے تاہم بی بی سی آذادانہ طور پر اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    اسرائیل کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق میزائل کے بلیڈز نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا تاہم میزائل براہِ راست عمارت پر نہیں گرا۔

  13. کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج: ’بیٹے کے لیے نئے کپڑے اس امید پر سلواتی ہوں کہ اگر وہ بازیاب ہو جائے تو عید پر نئے کپڑے پہنے‘

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے عید الفطر کے روز بھی اپنے رشتہ داروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کیا۔

    لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام احتجاج کوئٹہ پریس کلب کے باہر کیا گیا۔

    احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے جن کے ہاتھوں میں ان کے لاپتہ رشتہ داروں کی تصاویر تھیں جبکہ بعض خواتین کے ہاتھوں میں نئے کپڑے بھی تھےG

    ان میں شامل لاپتہ شخص محمود علی بلوچ کی والدہ نے کہا کہ وہ ہر عید پر اپنے بیٹے کے لیے نئے کپڑے اس امید کے ساتھ سلواتی ہیں کہ اگر وہ عید پر بازیاب ہو کر آجائے تو نئے کپڑوں کے بغیر نہ رہے۔

    وی بی ایم پی کی خاتون عہدیدار حوران بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی ہر عید احتجاج کرتے ہوئے گزرتی ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ جن لاپتہ افراد مبینہ ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے ان کی لاشیں بھی اب ان کے رشتہ داروں کے حوالے نہیں کی جارہی ہیں۔

    وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم ایک غیر سیاسی غیر سیاسی تنظیم جو بلوچستان اور پاکستان کو لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی پامالی سے پاک دیکھنا چاہتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم گزشتہ 16سالہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہے ہیں اور اس حوالے سے پریس کلب کے باہر دنیا کی طویل ترین احتجاجی کیمپ قائم ہے۔

    انھوں نے کہا ہم ہر عید پر اس لیے احتجاج کرتے ہیں کہ حکمران لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے کرب اور اذیت کو محسوس کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان کو بازیاب کیا جائے۔

    دوسری جانب سرکاری حکام ریاستی اداروں پر لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے اور ان کے ماورائے قتل الزامات کو سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔

  14. اسرائیل کے تہران پر متعدد فضائی حملے، درجنوں اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق رات بھر جاری رہنے والی کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ نے وہ مقامات تباہ کیے جو بیلسٹک میزائلوں کے اہم پرزے تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ان میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا ایک کمپلیکس بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائل بنانے میں استعمال ہونے والے پرزوں کا ایک ذخیرہ اور وزارتِ دفاع کا وہ مرکز بھی نشانہ بنایا گیا جو راکٹ ایندھن تیار کرنے کا ذمہ دار ہے۔

    اسرائیلی فوج کےمطابق بیلسٹک میزائل کے پرزے بنانے والی ایک اور جگہ کو بھی حملے میں تباہ کیا گیا جبکہ تہران بھر میں ایران کے متعدد دفاعی نظاموں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  15. امریکی حملے کے بعد ایران کی آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کمزور ہو گئی: سینٹکام

    امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس ہفتے ایران کے ایک زیرِ زمین ہتھیاروں کے مرکز پر بمباری کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کو خطرہ پہنچانے کی اس کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔

    سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے نہ صرف اس تنصیب کو تباہ کیا بلکہ وہ مقامات بھی نشانہ بنائے جو جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ان کے مطابق اس کارروائی کے بعد ایران کی خطے میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور امریکہ ایسے اہداف کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔

    سینٹکام کے مطابق امریکہ اب تک ایران کے آٹھ ہزار سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جن میں 130 ایرانی بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

  16. روس نے نطنز کی جوہری تنصیب پر فضائی حملے کو ’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دے دیا

    روس نے وسطی ایران میں واقع نطنز کی جوہری تنصیب پر فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے سنیچر کے روز نطنز کی یورینیم افزودگی کی تنصیب پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان ماریہ زاخارووا نے ایک سرکاری بیان میں حملے کی ذمہ داری سے متعلق تفصیلات میں جائے بغیر کہا کہ ’یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘

    اسی تناظر میں ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو نطنز جوہری سائٹ پر حملے سے آگاہ کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے کہا ہے کہ تابکار آلودگی سے متعلق ’تکنیکی اور ماہرین کی جانچ‘ مکمل کر لی گئی ہے اور نتائج کے مطابق ’اس تنصیب سے تابکار مواد کے کسی بھی اخراج کی اطلاع نہیں ملی، اور آس پاس کے رہائشی علاقوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

    یہ بھی یاد رہے کہ اے ای او آئی اس سے قبل بھی نطنز پر حملے کی تصدیق کر چکی ہے اور اس کی جانب سے تین مارچ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دو روز قبل (یکم مارچ) تنصیب پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی تابکار مواد کے اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا تھا۔

  17. ’فضا اداس ہے، نئے سال جیسا کچھ محسوس نہیں ہو رہا‘ ایران میں نوروز پر شہریوں کا رد عمل, غنچے حبیبی آذاد، بی بی سی فارسی

    جنگ زدہ ایران میں آج نوروز کا تہوار ہے یعنی وہ دن جس سے نئے ہجری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ ایرانیوں نے آخری بار جنگ کے دوران نیا سال 1980 کی دہائی میں منایا تھا جب عراق کے ساتھ اس کی آٹھ سالہ جنگ جاری تھی۔

    اس موقع پر تہران میں ایک 40 برس کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ’نئے سال جیسا محسوس نہیں ہو رہا، پچھلے برسوں سے بہت مختلف ہے۔ فضا اداس ہے۔‘

    لیکن اس سال کا نوروز بہت سے لوگوں کے لیے پہلی بار جنگ کے دوران آیا ہے۔

    تہران میں 20 برس کی ایک خاتون نے بتایا کہ ’آج ایک دوست کا گھر دھماکے کی لہروں سے تباہ ہو گیا۔ میں ذاتی طور پر نئے سال کا کوئی جوش محسوس نہیں کر پا رہی۔‘

    ایران اس وقت حکومتی سطح پر نافذ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہا ہے تاہم کچھ لوگ کسی نہ کسی طرح آن لائن ہونے میں کامیاب ہیں۔ کچھ افراد نیا سال مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔

    کرج کے ایک 30 برس کے شخص کا کہنا ہے کہ ان کے اندر امید اور توانائی بھری ہوئی ہے۔

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ پہلا سال ہے جب ظالم بادشاہ موجود نہیں۔‘

    یہاں ان کا اشارہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی جانب ہے جو جنگ کے پہلے دن ہوئی تھی۔

    تہران میں 30 برس کے ایک اور مرد نے بتایا کہ ’پڑوسی نے آج خوشی کا کوئی گانا چلایا ہوا تھا۔ شاید یہ پہلی بار تھا کہ میں نے اتنے عرصے بعد کوئی موسیقی سنی۔ مجھے لگتا ہے لوگ یقین کرنے لگے ہیں کہ واقعی نیا سال شروع ہو گیا ہے۔‘

  18. برطانوی وزیرِ اعظم کی ایرانی حملوں کے خلاف بحرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے بحرین کے ولی عہد سے گفتگو کے دوران انھیں برطانیہ کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کے ایک ترجمان کے مطابق ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران سٹامر نے ’بحرین کے لیے برطانوی حمایت کا اظہار کیا، جس میں ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے ماہرین کی تعیناتی بھی شامل ہے۔‘

    ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق بحرین کے ولی عہد اور برطانوی وزیرِ اعظم نے ’قومی انفراسٹرکچر اور آبنائے ہرمز میں جاری حملوں‘ کی مذمت کی۔

    وزیرِ اعظم سٹامر نے ’ایرانی حملوں کی مذمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے برطانیہ کی قیادت میں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے‘ پر دستخط کرنے پر ولی عہد سلمان بن حماد الخلیفہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  19. ایران کی جانب سے ڈیاگو گارشیا پر میزائل داغنے کی اطلاعات، ’میزائل ہدف تک نہیں پہنچے‘

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایران نے برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کی جانب درحقیقت میزائل فائر کیے ہیں تاہم اس حملے میں تاحال کسی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    کہا جا رہا ہے کہ یہ ناکام حملہ اس وقت ہوا جب برطانیہ نے گزشتہ رات امریکی افواج کو برطانوی اڈوں کے اضافی استعمال کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

    یاد رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے جمعہ کو کئی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا اڈے پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں لیکن یہ میزائل بحر ہند میں امریکی اور برطانوی مشترکہ فوجی اڈے کو نہیں مارے۔

    دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ایران کی طرف سے ڈیاگو گارسیا پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی طرف میزائل داغے گئے۔

    وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے آج صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ایران کے حملے پورے خطے میں پھیل چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنا چکے ہیں، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔‘

    دونوں میں سے کوئی بھی میزائل ہدف تک نہیں پہنچا: جوناتھن بیلے کا تجزیہ

    بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے برطانوی خودمختار فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا کی جانب دو میزائل فائر کیے تھے تاہم دونوں میں سے کوئی بھی میزائل ہدف تک نہیں پہنچا۔

    امریکی حکام کے حوالے سے سب سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے اس واقعے کی خبر دی تھی۔ بی بی سی نے علیحدہ ذرائع سے بات کر کے اس کی تصدیق کی ہے۔

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے خود اس بات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کہ دو ایرانی میزائل اس اڈے کی جانب داغے گئے تھے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے خطے میں اندھا دھند حملے برطانوی مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔

    یاد رہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو ڈیاگو گارسیا سے دفاعی نوعیت کی فضائی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

    تاحال اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ امریکہ نے بحرِ ہند میں واقع اس برطانوی اڈے سے کوئی فضائی کارروائی کی ہو۔

    البتہ امریکہ نے گلوسٹرشائر میں آر اے ایف فئیر فورڈ سے فضائی حملے کیے ہیں۔

    ڈیاگو گارشیا کہاں واقع ہے

    یاد رہے کہ ڈیاگو گارشیا جزیرہ ایران کے سب سے جنوبی جغرافیائی مقام، پاسبندر کی بندرگاہ سے 3,800 کلومیٹر دور ہے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی رینج 2000 سے 2500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔

  20. پوتن کی ایرانی رہنماؤں کو نئے سال کی مبارکباد، ’ماسکو تہران کا وفادار اور قابل اعتماد دوست ہے‘

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی رہنماؤں کو ’نوروز‘ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو تہران کے لیے ہمیشہ ایک وفادار دوست اور قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے۔

    کریملن کے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’ صدر ولادیمیر پوتن نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ایرانی نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ایرانی عوام وقار کے ساتھ مشکل آزمائشوں پر قابو پالیں گے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور توانائی کا ایک بڑا عالمی بحران پیدا کر دیا ہے۔

    روسی صدر نے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی بھی شدید مذمت کی تھی۔

    تاہم اس جنگ میں روس کی جانب سے ایران کی حمایت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

    کچھ میڈیا اداروں نے پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ روس ایران کو انٹیلیجنس مدد فراہم کر رہا ہے، تاہمن کریملن نے وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی تھی کہ روس ایران کے ساتھ سیٹلائٹ کی تصاویر اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا اشتراک کر رہا ہے۔