مشرقِ وسطیٰ میں جاری
جنگ، اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران
کی جانب سے قطر، کویت اور بحرین میں تیل و گیس کی تنصیابات کو نشانہ بنانے کے بعد بین
الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 110 سے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اس جنگ کے پاکستانی
معیشت پر اثرات کے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں آضافے سے
پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم سے کم چھ فیصد اور زیادہ سے زیادہ 12 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
پاکستان کے اقتصادی
تھینک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈوپلمنٹ اکنامکس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ
آبنائے ہزمز کی بندش نے پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مہنگائی اور بیرونی
مالیاتی چیلنجز کو بھِ بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم
شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ ایندھن کی ترسیل میں تاخیر کے اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان
کو کفایت شعاری کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل
عاصم منیر کی موجودگی میں ہوے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے اپیل
کی کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کو کفایت شعاری سے استعمال کریں تاکہ آئندہ دنوں میں پیٹرولیم
مصنوعات کی قلت سے بچا جا سکے۔
تجزیاتی رپورٹ میں کہا
گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے یومیہ 20 ملین بیرل خام تیل گزرتا تھا لیکن اس کی بندش نے
عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور جیو پولیٹکل حالات، لوجسیٹک
میں مسائل سے قیمتں بڑھ گئی ہیں۔
پاکستان کی 22 فیصد
درآمدات خام تیل اور پیٹرولیم منصوعات پر مشتمل ہے اور اس وقت عالمی سطح پر صرف خام تیل
کی قیمتیں نہیں بڑھیں بلکہ ٹرانسپورٹیشن کی لاگت، کرنسی کی قدر میں تبدیلی اور اس پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کے سبب عوام کو مہنگا پیٹرول خریدنا پڑھ رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق
صرف خام تیل کی قیمتیں ہی مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کا تعین نہیں کرتی ہیں بلکہ
ترسیل کے پیچیدہ نظام میں بحران کے دوران فریٹ اور شپنگ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا
ہے۔
اس کے علاوہ جنگ کے
دوارن انشورنس پریمیم بھی بڑھ جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو تین ممکنہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا
ہے جس ،ہ٘ ملکی معشت پر ہلکا اثر، درمیانہ دباؤ اور شدید جھٹکا پڑ سکتا ہے۔
سٹڈی کے مطابق قلیل
میں مدت میں خام تیل کے بحران کی وجہ سے کسی ہلکے جھٹکے کے سبب ملک میں آئندہ چھ ماہ
کے دوران مہنگائی کی شرح 8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے اور دباؤ یا درمیانے درجے کے جھٹکے
کی صورت میں پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 10.4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی جبکہ شدید
بحران کی صورت میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف
ڈوپلمنٹ اکنامکس کی سٹڈی کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیوں میں اضافے کے اثرات
پاکستان کے لیے زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہیں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کی
بندش محض ایک بیرونی واقعہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک جھٹکا ثابت ہو
سکتا ہے۔
ایندھن کی قیمتیں، مہنگائی،
اور بیرونی استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
تجزیاتی رپورٹ کے مطابق
جنگ کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند ہونے سے پاکستان کا مالیاتی خسارہ بڑھنے
کا امکان ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستان کو صرف ایک ماہ کے دوران خام تیل اور
پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر اضافی 38 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہوں گے جس سے پاکستان کا بیرونی مالیاتی اکاؤنٹ جو اس وقت سرپلس
میں ہے خسارے میں چلا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور موجودہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو ایسی صورتحال
میں ایک سال کے دوران پاکستان کا بیرونی خسارہ چار ارب 60 کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس
عمل سے پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کم ہو گی اور مہنگی درآمدات کے سبب پاکستان میں
مہنگائی کی شرح میں آضافہ ہو گا۔
رپورٹ میں واضح کیا
گیا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھتی ہے اور اس کا
اثر روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ اور خوارک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درپیش خطرات اور چیلنجز
کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیوں کے تعین کو
شفاف بنائے، پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے اور خاص کر ڈیزل کی ترسیل کی ترجیحی بنیاد پر
مانیٹرنگ کو یقینی بنائے۔