خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ایکو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔
خلاصہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی 'پولیسنگ' کے لیے 'تقریباً سات' ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
'ڈرون سے متعلقہ واقعے' کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلات کو 'حساس معلومات' فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے
پاسداران انقلاب کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی دھمکی
عراق میں فوجی طیارہ گرنے سے ہلاک چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت
لائیو کوریج
امریکی بحریہ جلد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گی: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی فارسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جلد ہی امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز
کو حفاظت فراہم کرنا شروع کر دے گی۔
تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم
نہیں کی کہ یہ کام کب سے شروع کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ
اور اسرائیل کے اہداف کسی حد تک مختلف ہو سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں میزائل روکے جانے کے مناظر کی ویڈیوز بنانے والے افراد گرفتار
،تصویر کا ذریعہAFP
متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا کے مطابق، حکام نے ملک کے فضائی دفاعی نظام
کے ذریعے میزائلوں کو مار گرائے جانے کی ویڈیوز بنانے، اور دھماکوں اور حملوں کی
جعلی ویڈیوز شائع کرنے کے الزام میں 10 افراد کو گرفتار کا حکم دیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، ان افراد نے متحدہ عرب امارات میں حملوں کی حقیقی فوٹیج
کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے
کہ ان افراد کا ’تیز ٹرائل‘ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، ابوظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ملک پر حملوں کے دوران فلم
بنانے اور ’غلط معلومات پھیلانے‘
کے الزام میں ’مختلف قومیتوں‘ سے تعلق رکھنے والے 45 افراد
کو گرفتار کیا ہے۔
گذشتہ ہفتے ایک 60 سالہ برطانوی شخص پر دبئی کے سائبر کرائم قوانین کے تحت مبینہ
طور پر شہر پر ایرانی میزائلوں کی فلم بندی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی
تھی۔
دبئی میں زیر حراست افراد کے لیے کام کرنے والی
تنظیم ’ڈیٹینڈ ان دبئی‘ کی چیف
ایگزیکٹیو رادھا سٹرلنگ کا کہنا
ہے کہ ’حالیہ میزائل حملوں سے متعلق ویڈیوز اور سوشل میڈیا
پوسٹس‘ کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت اب تک 21 افراد پر فرد
جرم عائد کی جا چکی ہے۔
ایران کی امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والی تیل کمپنیوں کی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی
بین الاقوامی خبر رساں ادار روئٹرز نے ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا
ہے کہ ایران نے کہا ہے کہ اس کے تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر کوئی بھی حملہ
خطے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والی تیل کمپنیوں کی تنصیبات پر حملے کا باعث
بنے گا۔
ایران کی مسلح افواج کی جانب سے انتباہی بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان
کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے جزیرہ خارگ پر تمام
فوجی اہداف کو ’مکمل طور پر تباہ‘
کر دیا گیا ہے۔
خارگ ایک ایرانی جزیرہ جو اس کی تیل کی برآمدات کے لیے اہم ہے۔ ایران سے برآمد کیے جانے والے خام تیل کا 90 فیصد حصہ یہاں سے گزرتا ہے۔
ایران کی ’تیل کی لائف لائن‘جزیرہ خارگ کہاں واقع ہے اور اس کیا اہمیت ہے؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے جزیرہ خارگ
پر ’تمام فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
لیکن یہ جزیرہ کہاں واقع ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
جزیرہ خارگ ایران کے ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا،
پانچ میل لمبا جزیرہ ہے۔
اسے ایران کی ’تیل کی لائف لائن‘
سمجھا جاتا ہے۔
اس جزیرے پر باشندے بہت کم ہیں تاہم ایران کی خام تیل کی برآمدات
کا 90 فیصد حصہ یہاں سے گزر کر جاتا ہے۔ بڑے ٹینکرز خام تیل جزیرے تک لے کر آتے ہیں،
پھر یہاں سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے راستے اکثر چین تک جاتے ہیں جو کہ ایرانی
تیل کا سب سے بڑا صارف ہے۔
اگر جزیرے تک رسائی منقطع ہو جاتی ہے تو اس سے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچے
گا۔
اس مہینے کے شروع میں امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوز نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کے لیے خصوصی دستے بھیجنے پر غور
کر رہے ہیں۔
امریکہ کا ایران کے جزیرہ خارگ پر فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ: ہتھیار ڈال کر جو رہ گیا ہے اسے بچا لیں، ٹرمپ کا تہران کو مشورہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا
کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی سینٹرل
کمانڈ (یو ایس سینٹکام) نے مشرق وسطیٰ کی
تاریخ کے سب سے طاقتور بم حملوں میں سے ایک کو سر انجام دیا ہے اور ایران کے جزیرہ
خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔‘
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے جزیرے پر
تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، اگر ایران، یا کسی اور
نے، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے آزاد اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کروں گا۔‘
انھوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور ’ان کے ملک میں جو بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ کچھ زیادہ نہیں
ہے۔‘
اس بیان سے کچھ ہی دیر قبل صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں
سے بات کی تھی۔ اس دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں یہ جنگ کب تک جاری
رہے گی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو میں بھی آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘
’میرا مطلب
ہے، میرا اپنا ایک اندازہ ہے، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘ انھوں نے کہا. ’جب تک ضرورت
ہو گی تب تک چلے گی، وہ ختم ہو چکے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سے ان کی کیا مراد ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی بحریہ، فضائی اور فوج کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز ہی انھوں نے امریکہ کی جانب سے جزیرہ خارگ پر قبضے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کا اس جزیرے پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔
امریکی فوج مشرق وسطیٰ کی طرف میرین یونٹ، اضافی جنگی جہاز بھیجے گی: رپورٹ
امریکہ میں بی بی سی کے
شراکت دار سی بی ایس نیوز کو دو امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ امکان ہے کہ پینٹاگون
مشرق وسطیٰ کی طرف ایک میرین یونٹ اور اضافی جنگی جہاز بھیجے گا۔
اس حوالے سے اخبار والسٹریٹ
جنرل نے بھی رپورٹ شائع کی ہے۔
اس منصوبے کے مطابق امریکی
بحری جہاز اور ایک میرین یونٹ جاپان سے مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔
اس میں پانچ ہزار میرینز
اہلکار اور جنگی جہازوں کے ہمراہ ملاح شامل ہوں گے۔
بی بی سی نے امریکی فوج اور
پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کی طرف سے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
اسرائیل کے خلاف طویل جنگ کے لیے تیار ہیں: حزب اللہ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبیروت میں اسرائیلی بمباری کے بعد کے مناظر
حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے خود کو اسرائیل کے خلاف ایک ’طویل جنگ‘ کے لیے تیار کر لیا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹی وی پر خطاب میں انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو جنگ کے میدان میں ’حیرت‘ ہو گی۔
لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کا 2 مارچ سے اسرائیل کے ساتھ حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ حزب اللہ نے ایرانی رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد اسرائیل پر فضائی حملے کیے تھے۔
اسرائیل لبنان پر بھاری بمباری کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بحرین اور سعودی عرب میں ایف ون ریسیں منسوخ ہونے کا امکان
،تصویر کا ذریعہReuters
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث بحرین اور سعودی عرب میں اگلے ماہ ہونے والی فارمولا ون گرینڈ پری ریسیں منسوخ ہونے کا امکان ہے۔
ابھی ان ریسوں کی منسوخی کا باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا لیکن توقع ہے کہ ہفتے کے اختتام سے پہلے اس کا اعلان کیا جائے گا۔
ایونٹس کے لیے درکار سامان کی ترسیل کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔ تاہم امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔
اسی لیے عملے کی حفاظت کے پیشِ نظر خطرہ بہت زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
ان ریسوں کی جگہ کوئی متبادل ایونٹ شامل نہیں کیا جائے گا جس کے باعث اس سیزن کی مجموعی گرینڈ پری کی تعداد 22 ریسوں تک محدود ہو جائے گی۔
بحرین اور سعودی عرب دونوں اپنی سرزمین پر ایرانی جوابی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
ایرانی قیادت کے بارے میں معلومات دینے پر امریکہ کا ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان
،تصویر کا ذریعہUS State Department
امریکہ نے ایرانی پاسدارانِ انقلابِ کے ’اہم رہنماؤں‘ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک کے انعامات کی پیشکش کی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس میں خاص طور پر 10 افراد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان میں سے صرف چھ کے نام ظاہر کیے گئے ہیں جن میں نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی شامل ہیں۔
لاریجانی کو آج تہران کے وسطی علاقے میں ایک ریلی میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مختلف فوجی شعبوں کی کمان اور رہنمائی کرتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ہلاکتوں میں اضافہ
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جاری تصادم کے آغاز سے اب تک 773 افراد ہلاک اور 1,933 زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق 12 مارچ کے اختتام تک ایران میں کم از کم 1,858 افراد ہلاک ہوئے جن میں 1,286 عام شہری اور 199 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے 10 مارچ تک ایرانی میزائل حملوں میں 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان میں جھڑپوں کے دوران دو اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے۔ امریکہ کا ایک فوجی ریفیولنگ طیارہ مغربی عراق میں گِر کر تباہ ہوا اور اس کے عملے کے چھ ارکان ہلاک ہوئے۔
بی بی سی مانیٹرنگ اور عراقی میڈیا کے مطابق عراق کی نیم فوجی فورس الحشد الشعبی نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک عراق میں فضائی حملوں میں 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
عراق کے شہر اربیل میں ایک فرانسیسی فوجی ڈرون حملے میں ہلاک اور چھ دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے حملوں کے آغاز سے اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انڈین حکام کے مطابق عمان کے شہر صحار میں ایک حملے کے نتیجے میں دو انڈین شہری ہلاک ہوئے۔
تل ابیب کے قریب آگ بجھانے کی کوششیں
تل ابیب کے نواح میں ایمرجنسی سروسز آگ بجھانے میں مصروف رہیں۔ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تل ابیب، وسطی اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجے تھے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ نے رات گئے کئی ڈرون مار گرائے: وزارت دفاع
برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ
عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر حالیہ حملوں کے دوران برطانیہ کے انسداد ڈرون
یونٹ نے ’رات گئے کئی ڈرون مار گرائے‘ ہیں۔
گذشتہ شب عراق کے اربیل علاقے میں ایک
فرانسیسی فوجی کی ڈرون حملے میں ہلاکت ہوئی تھی۔ بدھ کو علاقے میں امریکی اور برطانوی
افواج کے اڈوں پر حملہ کیا گیا تھا۔
وزارت کا کہنا تھا کہ پہلی بار بحرین
میں برطانوی ٹائیفون طیاروں نے فضائی دفاعی آپریشنز میں حصہ لیا ہے۔
برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ
قطر، قبرص، متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین میں برطانوی اور اتحادیوں کے مفادات کے
دفاع کے لیے اب برطانوی ٹائیفون اور ایف 35 جنگی طیارے پرواز کر رہے ہیں۔
ایران کا حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف حملے کا اعلان
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے
تسنیم کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے
ساتھ مل کر اسرائیل پر میزائل داغے ہیں۔
بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی
بحریہ اور ڈرون یونٹ نے لبنان کے عسکری گروہ کے ساتھ مل یہ کارروائی شروع کی ہے۔
تل ابیب، مرکزی اسرائیل اور مقبوضہ
مغربی کنارے کے کچھ حصوں میں سائرن سنے گئے ہیں۔
حملوں کی اس نئی لہر میں
تاحال کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
ایران جنگ تب ختم ہو گی جب مجھے ٹھیک لگے گا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
فاکس نیوز کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں انھوں نے ایران جنگ کے حوالے سے امریکی حکمت
عملی بیان کی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انھیں کب یہ احساس ہو گا کہ ایران جنگ ختم ہو چکی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’جب مجھے ٹھیک لگے گا۔ صحیح ہے؟‘ جب مجھے
یہ اپنے اندر محسوس ہو گا۔‘
ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ
خامنہ ای کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ زخمی ہیں۔ لیکن وہ شاید
کسی حالت میں زندہ رہیں گے۔‘
آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کا کہنا
تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ تیل کے ٹینکروں کو سکیورٹی فراہم کرے گا۔ ’امید ہے
چیزیں ٹھیک چلیں گی۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
ایران میں ہونے والے نقصان کے بارے
میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں شدت سے نشانہ بنائیں گے۔ ہم نے انھیں اتنا نقصان
پہنچایا ہے کہ انھیں تعمیر نو میں کئی سال لگیں گے۔‘
خلیجی اتحادیوں سے متعلق سوال پر
ٹرمپ نے کہا کہ ’اتحاد عظیم ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی آج اکثر خلیجی رہنماؤں سے بات
چیت ہوئی ہے۔ ’وہ اپنا اچھا دفاع کر رہے ہیں۔‘
امریکی وزیرِ دفاع کی جھنجلاہٹ اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دباؤ میں ہے, بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹ مین کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
میں ابھی پینٹاگون سے نکلا ہوں جہاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
یہ محسوس ہوا کہ پیٹ ہیگستھ بڑھتی ہوئی امریکی میڈیا کے تندوتیز سوالات سے بچنے کے لیے جنگ کو اپنے دفاع کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
یہ سکروٹنی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایرانی حکومت کی بظاہر مزاحمت اور امریکی فوجی ہلاکتوں کی خبروں سے جنم لے رہی ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے ابتدا ہی سے میڈیا کو للکارا اور کہا کہ میڈیا کو یہ ’ماننا‘ ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی فوج کو ’تباہ‘ کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اب آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور وہاں ’سٹارز اینڈ سٹرائپس اور سٹار آف ڈیوڈ‘ دیکھتی ہے، جسے انھوں نے حکومت کا بدترین خواب قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران کے روایتی ہتھیار، اسلحہ خانے اور پیداوار تباہ کی جا رہی ہے اور حکومت زمین کے نیچے ’چوہوں‘ کی طرح دبکی ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو زیادہ ’محبِ وطن‘ ہونا چاہیے۔
لیکن دو اہم حکمتِ عملی کے سوالات پر، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارا پانے کے حوالے سے، ان کے جوابات زیادہ تر گول مول تھے۔
ان کی جھنجلاہٹ اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دباؤ میں ہے۔
رہبر اعلی مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں اور چھپتے پھر رہے ہیں: پینٹاگون کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہPentagon
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’زخمی‘ ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کل مجتبیٰ خامنہ ای کا پڑھا گیا تحریری بیان یاد دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس میں کوئی ویڈیو یا آڈیو کیوں نہیں تھی۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے آپ جانتے ہیں کیوں۔‘
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ مجتبیٰ ’خوفزدہ‘ اور ’زخمی‘ ہیں، اور دعویٰ کیا کہ وہ ’چھپتے پھر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ایران کے میزائل حملوں
کی تعداد 90 فیصد کم ہو چکی جبکہ اس کے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز 95 فیصد تک کم
ہو گئے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، جو دنیا کا سب سے مصروف تیل برداری کا راستہ ہے، میں ’انتہائی
مایوسی‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن یہ ’کچھ ایسا ہے جس سے ہم نمٹ رہے
ہیں۔‘
پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے
ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ ’ایرانی حکومت کی فوج کو اس انداز میں تباہ
کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کی فوج کو
’جنگ کے قابل نہ رہنے والی‘ بنا دیا گیا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل
کی فضائی افواج کا امتزاج ’ناقابلِ شکست‘ ہے اور ان کی انٹیلیجنس
’مزید بہتر اور باریک بینی سے تیار‘ ہو رہی ہے۔
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے پاس فضائی دفاع ہے نہ ہی بحریہ، اور اس کے میزائل لانچرز تباہ کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آج ’ایران کی فضاؤں پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کی تعداد اب تک کی سب سے زیادہ ہو گی۔‘
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کی قیادت چھپ
رہی ہے جبکہ امریکہ کا عزم ’ناقابلِ شکست‘ ہے، اس کے اختیارات زیادہ سے
زیادہ ہیں اور صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس
تمام اختیارات ہیں۔ وہ اس تنازع کی رفتار، انداز اور وقت کا تعین کریں گے۔‘
ایرانی حکومت کے لڑکھڑانے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں, بی بی سی نیوز کے جیرمی بوون کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای
امریکیوں کی توقع تھی کہ جنگ کے پہلے دن جب رہبر اعلیٰ کو قتل کیا گیا تو ایران میں نسبتاً تیزی سے تتر بتر ہونے کا آغاز ہو جائے گا۔ لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ایرانی حکومت لڑکھڑا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے شخص ہیں جو مضبوط قیادت پر یقین رکھتے ہیں۔ شاید ان کا خیال تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد وینزویلا جیسا کوئی واقعہ رونما ہوگا۔
اگر ایسا ہے تو یہ اس بات کی خطرناک کمی کو ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی حکومت کس طرح تشکیل دی گئی ہے۔
ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور نفرت کی ایک طویل تاریخ ہے۔
اسرائیلی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ اس حملے میں زخمی ہوئے تھے، جس میں ان کے والد، والدہ، بیوی، ایک بہن اور شاید ان کا بیٹا مارا گیا۔
یہ حیران کن ہے کہ چونکہ تہران ان کی شخصیت کا ایک جادوئی حلقہ اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، انھوں نے یہ موقع نہیں دیا کہ ان کے بارے میں کوئی نیا مواد سامنے لایا جا سکے۔
یہ اور بات ہے کہ خلیجی ممالک میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکیوں نے انھیں ایک خوفناک خراب حالات کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب آئل رِگ میں آگ بھڑک اٹھی, باربرا پلیٹ اشر، بی بی سی نیوز
میری ٹائم سکیورٹی کی ایک کمپنی امبری کے مطابق ایک تجارتی بحری بیڑے نے متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک آئل رِگ پر آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔
امبری کا کہنا ہے کہ دبئی کی جبل علی بندرگاہ کے شمال مغرب میں لگنے والی اس آگ کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کسی جہاز کو نقصان یا عملہ زخمی نہیں ہوا ہے۔
اس خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کے حوالے سے جہازوں اور بندرگاہوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
گذشتہ روز عراق کے علاقائی پانیوں میں بصرہ بندرگاہ کے قریب دو آئل ٹینکرز کو آگ لگا دی گئی تھی۔
ایران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک زیرِ آب ڈرون استعمال کیا۔ دیگر رپورٹس میں اس ہتھیار کو ڈرون بوٹ قرار دیا گیا ہے، یعنی ایک بغیر پائلٹ تیز رفتار کشتی جو دھماکہ خیز مواد لے کر چلتی ہے۔
کسی بھی صورت میں ایران جہاز رانی میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا باقاعدہ بحری بیڑا بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔
روس اور ایران ’عالمی معیشت کو ہائی جیک‘ کرنا چاہتے ہیں: برطانوی وزیرِ خارجہ
برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ روس اور ایران عالمی معیشت کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث بحری ٹریفک محدود ہو گئی ہے۔
ایران کے نئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اس راستے میں جہاز رانی کو روکیں گے۔ رات گئے امریکہ نے تاحال روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر دیا۔
یویٹ کوپر نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات ’طویل عرصے سے ہیں اور دونوں ممالک کی اپنے ’طرزِ عمل‘ اور ’حربوں‘ میں مماثلت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ریاستیں کس طرح ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مل کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ عالمی معیشت کو ہائی جیک کیا جا سکے۔‘
برطانوی وزیرِ خارجہ کا سعودی عرب میں برطانوی فوجیوں کا دورہ
یویٹ کوپر نے سعودی صحرا میں برطانوی فوج کے ایئر ڈیفنس یونٹ کا دورہ کیا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رائل آرٹلری کے فوجیوں کا یہ دستہ سعودی عرب اور اس کے خلیجی عرب اتحادیوں کے لیے برطانیہ کے جاری دفاعی عزم کا حصہ ہے۔
یہ تعیناتی، جسے ’آپریشن کراس ویز‘ کا نام دیا گیا ہے، 2022 میں شروع ہوئی تھی لیکن ایران کی جانب سے روزانہ ڈرون، کروز اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ریاض میں برطانیہ کے دفاعی اتاشی بریگیڈیئر بین وائلڈ کے مطابق ایران بنیادی طور پر خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنا رہا ہے، برطانوی فوجیوں کو نہیں، اور ساتھ ہی اقتصادی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تہران میں حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی کے قریب دھماکے
،تصویر کا ذریعہTelegram
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی تہران میں زوردار دھماکوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
ہزاروں ایرانی یومِ القدس کے موقع پر فلسطینیوں کی حمایت میں مارچ میں شریک ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کچھ دھماکوں کی آوازیں اس مقام کے قریب سنائی دیں جہاں یہ مظاہرہ جاری ہے۔
بی بی سی فارسی نے ان دھماکوں کے بعد کے مناظر کی متعدد ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک دھماکہ دکھایا گیا ہے، جو حکومت نواز ریلی کے قریب ہوا جو یومِ القدس کے موقع پر نکالی گئی تھی۔
ایران میں یومِ القدس رمضان کے مقدس مہینے کے آخری جمعے کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی نے فلسطینی مقصد کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کے اظہار کے طور پر قائم کیا تھا۔
تہران کے مرکزی انقلاب سکوائر کے قریب بنائی گئی ایک ویڈیو میں لوگوں کو ’اللہ اکبر‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں دھوئیں کا بادل دکھائی دیتا ہے۔
فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ مارچ کرنے والے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے اس سے قبل اس علاقے کے قریب انخلا کی وارننگ جاری کی تھی جہاں یہ ریلی منعقد ہو رہی تھی۔