خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ایکو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔
خلاصہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی 'پولیسنگ' کے لیے 'تقریباً سات' ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
'ڈرون سے متعلقہ واقعے' کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلات کو 'حساس معلومات' فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے
پاسداران انقلاب کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی دھمکی
عراق میں فوجی طیارہ گرنے سے ہلاک چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت
لائیو کوریج
لبنان میں اقوام متحدہ کے اڈے کو ’مشین گن‘ سے نشانہ بنایا گیا: ترجمان
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ممکنہ طور پر ایک بھاری مشین گن سے ان کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت سے تقریباً 70 میل (114 کلومیٹر) دور واقع میس الجبل کے قریب ان کے اڈے پر حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس حملے میں ’پناہ گاہ کی طرف جاتا ایک فوجی معمولی زخمی ہوا۔ ہم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم تمام فریقین کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہیں کہ وہ ہر وقت امن دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘
خارگ جزیرے پر حملے میں ’90 سے زیادہ ایرانی فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا: امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے گذشتہ رات ایران کے خارگ جزیرے پر حملے کی مزید تفصیلات شیئر کی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے جزیرے پر ’90 سے زیادہ ایرانی فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا، جبکہ ’تیل کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھا گیا۔‘
بیان کے مطابق اس حملے میں بحریہ کی بارودی سرنگیں ذخیرہ کرنے کی سہولیات، میزائلوں کو ذخیرہ کرنے والے بنکرز اور متعدد دیگر فوجی مقامات کو تباہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا یہ دعویٰ ایران کے اس بیان سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملے کے باوجود تیل کے ڈپو ’برقرار رہے اور برآمدات ’مکمل طور پر جاری‘ ہیں۔
ایران کے ساتھ تنازع ’فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو رہا ہے: اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ’فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو رہا ہے۔
کاٹز نے گزشتہ رات ایران کے اہم جزیرے خارگ کو ’شدید دھچکا‘ پہنچانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور اسے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا مناسب جواب قرار دیا۔
یاد رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یہاں دھماکہ خیز مواد نصب کر رہا ہے۔
آج صبح کاٹز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی فضائیہ ’تہران اور پورے ایران پر حملوں کی طاقتور لہر جاری رکھے ہوئے ہے‘ لیکن ان کا کہنا تھا کہ صرف ایرانی عوام ہی حکومت کا تختہ الٹ کر تنازعے کو ختم کر سکتے ہیں۔
تصاویر میں مشرق وسطیٰ میں دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے
ایک ڈرون حملے کے بعد متحدہ عرب امارات میں فجیرہ بندرگاہ کے اوپر سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے، جو خطے میں تیل ذخیرہ کرنے کی سب سے بڑی سہولیات میں سے ایک ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی حملے کے بعد جنوبی لبنان کے علاقے صیدا میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیل میں بھی حالیہ حملوں میں رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل کے مرکزی علاقے شوہام میں ایک عمارت کی چھت ایک حملے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) نے کہا ہے کہ اس نے رات گئے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائلوں کا پتہ لگایا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہShutterStock
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
میزائلوں کی نئی لہر اسرائیل کی جانب فائر کی گئی ہے: آئی ڈی ایف
اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے کہا ہے کہ آج مقامی وقت کے مطابق دن 12:41 بجے ایران نے اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک نئی لہر بھیجی ہے۔
گذشتہ دس گھنٹے کے دوران ایران کی جانب سے یہ پہلا حملہ ہے۔
خارگ جزیرے پر امریکی حملے نے خطرات کو مزید بڑھا دیا, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
امریکہ کا شمالی خلیج کے اس چھوٹے لیکن اہم جزیرے پر حملہ کرنا ایران کی معاشی شہ رگ پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔
خارگ ایران کی تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات کا ٹرمینل ہے کیونکہ اس کا پانی اتنا گہرا ہے کہ اس تیل کو ٹینکروں پر لوڈ کیا جا سکتا ہے جنھیں ویری لارج کروڈ کیریئرز (VLCCs) کہا جاتا ہے۔
اگر صدر ٹرمپ ایک قدم آگے بڑھ کر تیل کی اصل تنصیبات کو تباہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ایران کا جوابی حملہ کتنا شدید ہو گا۔ جنگ کے دو ہفتے بعد بھی ایران کے پاس اپنے خلیجی عرب پڑوسیوں کی جانب دھماکہ خیز ڈرون لانچ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایران ممکنہ طور پر ان اہداف کو وسعت دے سکتا ہے جس میں اہم انفراسٹرکچر جیسے ’ڈی سیلینیشن پلانٹس‘ شامل ہیں جو لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں تیل ذخیرہ کرنے والے سب سے بڑے ڈپو پر ڈرون حملہ, نک بیک، بی بی سی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فجیرہ کی بندرگاہ، جسے ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے، متحدہ عرب امارات کے لیے بہت اہم مقام اور مشرق وسطیٰ میں تیل ذخیرہ کرنے کے بڑے ڈپوز میں سے ایک ہے۔
یہ بحری جہازوں میں ایندھن بھرنے کے لیے بھی ایک اہم مقام ہے۔
فجیرہ خلیج فارس کے بجائے خلیج عمان کی حدود میں آتا ہے اور اس لیے جہازوں کو آبنائے ہرمز میں جانے کی ضرورت نہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز بند ہے۔
آج آن لائن شیئر کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر کمپلیکس سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے ہی روز ایرانی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے قریب رہنے والے افراد کو ان سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔
مرکزی اسرائیل میں رہائشی علاقے پر ایرانی میزائل حملہ: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہEPA
ہمیں وسطی اسرائیل کے شہر شوهام سے کچھ نئی تصاویر موصول ہوئی ہیں جہاں رات کے وقت ہونے والے میزائل حملے میں ایک رہائشی عمارت کی چھت اُڑ گئی۔
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے مطابق رات کے وقت ایران کی جانب سے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی نشاندہی ہوئی۔
موقع پر ہوم فرنٹ کمانڈ کے اہلکار اور ہنگامی امدادی سروسز کے کارکن نقصان کا جائزہ لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اب سے تھوڑی دیر قبل ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت سے دھواں اٹھتا نظر آیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ امریکی سفارتخانے کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے سے نقصان ہوا ہے۔
اے ایف پی نے بھی متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملہ عراق کے دارالحکومت پر حملوں میں دو ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے مارے جانے کے فوراً بعد ہوا۔
بغداد میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی مشن کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے انھوں نے جنوبی لبنان میں ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جمعہ کے روز ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کے ارکان کو المجادل کے علاقے میں واقع اس عمارت میں راکٹ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اسلحے کے گودام کو نشانہ بنایا اور حزب اللہ کے ان ارکان کو ’ختم‘ کر دیا۔
ایران کا اسرائیل پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف حملوں کی 48ویں لہر شروع کر دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا یا اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ حملے لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ بیک وقت کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا لوگوں کو ایرانی شہر تبریز کے صنعتی علاقے سے انخلا کا مشورہ
اسرائیلی فوج نے مغربی ایران کے شہر تبریز کے ایک صنعتی علاقے کے لوگوں کو وہاں
سے انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس انتباہی پیغام کے ساتھ انخلا کے علاقے کا نقشہ بھی جاری
کیا ہے۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ’اگلے چند گھنٹوں میں اس علاقے میں سرگرم ہو گی‘۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ تہران میں ایرانی حکومت کے فوجی انفراسٹرکچر
کو نشانہ بنائے جانے والی کارروائیوں جیسا ہو گا۔
اسرائیلی فوج نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی حفاظت
کی خاطر اس علاقے سے فوری طور پر نکال جائیں۔ پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ وہاں رہ
جانے والے لوگوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی حملے میں ڈاکٹرز اور نرسوں سمیت طبی عملے کے 12 ارکان ہلاک
جنوبی لبنان سے موصول ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں
میں مزید ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کا براہ راست حزب اللہ سے تعلق نہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ برج قلعویہ قصبے میں ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت
طبی عملے کے کم از کم 12 ارکان
اس وقت مارے گئے جب قصبے کے بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل نے سڑکوں اور پلوں سمیت دیگر شہری انفراسٹرکچر پر بھی بمباری کی ہے۔
اسرائیل نے جنوب میں انخلا زون کا حجم تقریباً دوگنا کر دیا ہے اور مزید لاکھوں افراد
کو شمال کی طرف نقل مکانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
لبنان میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور بظاہر اسرائیل اور حزب اللہ دونوں میں سے
کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہی٘ں جس کے باعث یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ تنازع طول
پکڑ جائے گا۔
جزیرہ خارگ پر امریکی حملے میں تیل کی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا: ایرانی سرکاری میڈیا
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرے
خارگ پر بمباری کی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں جزیرے پر موجود ایرانی تیل کی تنصیبات
کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔
اس جزیرے کو ایران کی ’تیل کی لائف لائن‘ سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی خام
تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ یہاں سے گزر کر جاتا ہے۔
اب ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ
امریکی حملوں کے دوران جزیرے پر 15 دھماکے سنے گئے۔
ٹیلی گرام پر جاری ایک خبر میں ایجنسی کا کہنا ہے کہ حملے میں فضائی دفاعی
نظام، ایک بحری اڈے، ایئر پورٹ کنٹرول ٹاور اور ہیلی کاپٹر ہینگر کو نشانہ بنایا
گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جزیرہ خارگ پر موجود
تیل کی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافے اور معاشی استحکام میں بگاڑ کا خطرہ: رپورٹ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور ٓبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی
منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے پاکستان کی معیشت
پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ملک میں وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے تحت کام کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان
انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا
میں سمندر کے راستے تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر
جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارچ 2026 کے آغاز
میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، جسے ماہرین خالصتاً
طلب و رسد کے بجائے ’جیوپولیٹیکل وار
پریمیم‘ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان توانائی
کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے
ملکی معیشت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات
کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے
سے پاکستان کے سالانہ تیل درآمدی بل میں تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہو
سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی پر بھی فوری اثر ڈالتا ہے۔ اس کا اثر
بالخصوص ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک کی قیمتوں اور توانائی کے نرخوں میں اضافے کی
صورت میں سامنے آتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز تین ماہ تک بند رہی تو عالمی سطح پر خام
تیل کی قیمت 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کا
ماہانہ تیل درآمد کرنے کا خرچہ تقریباً 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی طرح ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ مہنگائی
کی شرح جو کہ فروری 2026 میں تقریباً 7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی بڑھ کر 15 سے 17 فیصد
تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی بڑھتی
لاگت پاکستان کی معاشی بحالی کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک سے
درآمد کیے جانے والے خام تیل پر انحصار کرتا ہے، جس کی ترسیل زیادہ تر آبنائے ہرمز
سے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی
پاکستان کی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بحیرہ احمر کے ذریعے سپلائی
کے لیے بات چیت ہوئی ہے تاہم اس متبادل راستے کی اپنی حدود ہیں۔ اس میں محدود ترسیلی
گنجائش، زیادہ ٹرانسپورٹ لاگت اور طویل ترسیلی وقت شامل ہیں، جس کے باعث اسے قلیل مدت
کے لیے تو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مہنگا حل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے
کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان میں تیل کے سٹریٹجک ذخائر میں بہتری، سپلائی کے
متبادل راستے تلاش کرنا، قیمتوں کے خطرات سے بچاؤ کے لیے ہدفی ہیجنگ پالیسی اپنانا
اور قلیل مدتی مالیاتی اقدامات شامل ہیں۔
مزید امریکی فوجی اور جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیجے جانے کا امکان
دو امریکی حکام نے بی بی سی
کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ مزید امریکی فوجی اور جنگی جہاز
مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ بھجوائی جانے والی نئی کمک کی قیادت جاپان
میں تعینات جنگی جہاز یو ایس ایس ٹریپولی کرے گا۔
یو ایس ایس ٹریپولی کی سربراہی میں کام کرنے والی یونٹ میں عام طور پر تقریباً
5,000 فوجی شامل ہیں جو کئی جہازوں پر تعینات ہوتے ہیں۔
امریکی فوجیوں کی ممکنہ کی نقل و حرکت کی خبر سب سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے دی تھی۔
بی بی سی نے اس بارے میں تبصرے کے لیے امریکی فوج اور پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم فوجیوں
کی مستقبل میں نقل و حرکت کی عام طور پر تصدیق نہیں کی جاتی ہے۔
بغداد میں امریکی سفارتخانے پر میزائل حملے کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
تاہم روئٹرز نے اس حملے میں ہونے والے کسی نقصان کے متعلق اطلاع نہیں دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کا کہنا ہے کہ میزائل حملے میں سفاتخانے کے کمپاؤنڈ میں بنے ہوئے ہیلی پیڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر عراقی سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف کو بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون سے
حملے کیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے سفارتخانے
کے احاطے سے سیاہ دھواں بھی اٹھتے دیکھا ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا
کہ ’ایک ڈرون حملے میں سفارت خانے کو نشانہ بنایا
گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی
ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون سے حملہ
کیا گیا ہے۔
حزب اللہ کا شمالی اسرائیل پر راکٹ اور توپ خانے سے حملے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح اس کے ارکان نے شمالی
اسرائیل میں راکٹ اور توپ خانے سے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے ان حملوں میں اسرائیلی شہر صفد کے قریب واقع عین زیطیم اڈے
کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سرحدی قصبے بلیدہ کے قریب اسرائیلی فوجیوں پر بمباری
کی گئی ہے۔
عسکری تنظیم کے مطابق یہ حملے لبنان کے علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں
گئے ہیں۔
یورپی رہنماؤں کی روسی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کے امریکی فیصلے کی مخالفت
یورپی رہنماؤں نے روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی
کے امریکی فیصلے پر تنقید کی ہے۔
امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں دیگر ممالک کو وہ روسی تیل
خریدنے کی اجازت ہو گی جو پہلے ہی سمندر میں جہازوں پر لدا ہوا ہے لیکن پابندیوں کی
وجہ سے فروخت نہیں کیا جا سکا ہے۔
یوروپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے جمعہ کے روز امریکی فیصلے کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے سے ’یورپ کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔‘
ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی سے یوکرین کے
خلاف جنگ لڑنے کے لیے روسی وسائل میں اضافہ ہو گا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس اقدام سے
روس کو 10 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا: ’یقینی طور پر اس سے امن میں مدد نہیں ملے گی۔‘
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش
کا اعلان ’کسی بھی صورت‘ پابندیاں
ہٹانے کا جواز نہیں بنتا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس سے قبل ایک نیوز کانفرنس کے دوران بات
کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا کا موقف ہے کہ ’روس پر پابندیاں برقرار رہنی چاہیئیں۔‘
ایرانی فوج کا خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی رہنماؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی
رہنماؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
بی بی سی عربی کے مطابق سنیچر کی صبح ایران کی مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا
کے ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے 10 ایسے مقامات کو نشانہ
بنایا جو ان کے بقول اسرائیلی رہنماؤں کے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ بیس اور
عراق میں اربیل کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانا گیا
ہے۔
تاہم ایرانی فوج کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان
کے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔