پہلگام حملہ: ’انڈیا یقینی بنا رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ نہ مل سکے‘، انڈین وزیر آبی وسائل
انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے کہا ہے کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔‘
خلاصہ
روسی صدر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف کے درمیان تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اشتعال انگیزی کا امکان ہے اور ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے میئر کا کہنا ہے کہ ماسکو کے ساتھ امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ملک کو عارضی طور پر اپنا کچھ علاقہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو میں کار بم دھماکے میں روسی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز جنرل یاروسلاو موسکالک ہلاک ہو گئے ہیں۔
پہلگام حملے کے بعد انڈین اقدامات کے جواب میں اب پاکستان نے بھی انڈیا سے دو طرفہ معاہدے معطل کرنے، فضائی حدود اور سرحد بند کرنے کے علاوہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے حصے کا پانی روکا گیا تو اسے جنگ کی کارروائی سمجھا جائے گا۔
لائیو کوریج
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کیا پانی کی کمی کا شکار پاکستان کی مشکلات بڑھا سکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
سابق ایڈیشنل انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا قلیل مدتی لحاظ سے پاکستان پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ انڈیا پاکستان کے حصے کا پانی روک تو سکتا ہے لیکن اس کے پاس فی الوقت کوئی ایسا ذخیرہ یا وسائل نہیں جہاں وہ اس پانی کو جمع کر سکے اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا۔
تاہم شیراز میمن نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ تعطل جاری رہتا ہے تو طویل مدت میں اس کا نقصان پاکستان کو اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ انڈیا ان دریاؤں پر جو ڈیمز، بیراج یا پانی ذخیرہ کرنے کے انفراسٹرکچر بنا رہا ہے وہ ان کا ڈیزائن پاکستان کو مطلع کیے بغیر تبدیل کر سکتا ہے۔
کیا انڈیا پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
پہلگام میں منگل کی دوپہر مارے جانے والے افراد فوجی یا سکیورٹی
اہلکار نہیں بلکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سب سے خوبصورت وادی، پہلگام، میں
چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے عام شہری تھے اور یہی بات اس حملے کو سفاکیت کا
رنگ دینے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا نپا تُلا اقدام بھی بناتی ہے جس کا مقصد بظاہر اِس
متنازع خطے میں زندگی کو معمول پر لانے کی غرض سے انڈین حکومت کی برسوں پر محیط
کوششوں کو تار تار کرنا ہے۔
ماہرین کا
کہنا ہے کہ انھی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈیا کا اس حملے پر ردعمل ناصرف ماضی
کی مثالوں بلکہ ملک کے اندر سے سامنے آنے والے دباؤ کی بنیاد پر طے پائے جانے کا
امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی
الوقت سوال یہ نہیں ہے کہ کیا آیا انڈیا کی جانب سے کوئی فوجی ردعمل دیا جائے گا
یا نہیں۔ بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ کب ہو گا، کتنا کیلکیولیٹڈ ہو گا اور کس قیمت
پر۔
پہلگام حملہ: کل دن بھر پاکستان اور انڈیا میں کیا ہوتا رہا؟ اہم خبروں کا خلاصہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد گزشتہ روز پاکستان اور انڈیا سے جڑی اہم خبروں کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:
پہلگام حملے کے بعد انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے ملک واپس پہنچے اور دہلی کے اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر ہی ایک سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔
بعد میں وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا کی جانب سے پہلگام میں حملے کے تناظر میں پاکستان کے حوالے سے سخت اقدامات کے اعلان کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے جمعرات کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انڈیا نے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے کوئی شواہد نہیں دیے اور اس طرح بغیر شواہد غصہ نکالنا غیر مناسب ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے کل صبح نیشنل سکیورٹی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں عسکری اور سول قیادت شامل گی اور ہم انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے، یہ جواب کم نہیں ہو گا۔‘
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پہلگام حملے میں سیاحوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حملے کو انڈیا کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انڈیا کے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پہلگام میں ہونے والے حملے پر اپنے ردعمل میں وزیراعظم مودی پر کڑی تنقید کی ہے۔ انھوں نے کہا کشمیر میں امن کی بحالی کے بلند و بانگ دعوے کرنے کے بجائے حکومت کو ہر صورت اس واقعے کی ذمہ داری لینی چاہیے۔
انڈیا کے اپوزیشن رہنماؤں نے ملک کی خفیہ ایجنسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پہلگام حملہ انڈین انٹیلیجنس ایجنسیوں کی واضح ناکامی ہے‘۔
پہلگام میں منگل کو ہونے والےحملے کا ذمہ دار کون ہے اس بارے میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم انڈین حکام نے پہلگام حملے کے تین مشتبہ حملہ آوروں کے خاکے جاری کر دیے ہیں۔
انڈیا کے وفاقی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قائم عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والی خفیہ تنظیم دی رزیسٹینس فرنٹ (ٹی آر ایف) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گرد حملے پر عالمی رہنماؤں نے شدید مذمت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا سے یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل، روس، اقوام متحدہ، جرمنی، یورپی یونین، سری لنکا اور نیوزی لینڈ نے دہشت گردی کے خلاف انڈیا کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
پہلگام میں ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں سرینگر پہنچا دی گئی ہیں۔ بدھ کے روز انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے حملے میں مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انڈین وزیر داخلہ نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد ایئر انڈیا، انڈیگو اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے سرینگر سے دہلی، ممبئی اور دیگر شہروں کے لیے اضافی پروازوں کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کی سہ پہر کو آل پارٹیز اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلگام میں حملے کے بعد وادی سے ’ہمارے مہمانوں کی واپسی‘ کو دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے لیکن ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ ’لوگ کیوں واپس جا رہے ہیں۔‘
پہلگام حملے نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی بحال ہوتی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، ہوٹل بکنگز منسوخ اور سیاح واپس لوٹنے لگے ہیں۔ یہ حملہ جس مقام پر ہوا ہے وہ پہلگام کی پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ غار کی طرف جانے والے راستے پر ہے اور اس واقعے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے یاتریوں کی تعداد بھی کم ہو سکتی ہے۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کو احتجاجی مارچ کی قیادت کی اور مکمل ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ انھوں نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سکیورٹی خامیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پہلگام حملے کے بعد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سمیت نئی دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، خاص طور پر سیاحتی علاقوں میں چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔ وادی کشمیر میں متعدد چیک پوائنٹس قائم کر کے داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے معروف اخبارات کی جانب سے صفحات کو سیاہ رنگ میں شائع کیا گیا اور مختلف قصبوں میں مظاہرین پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ سرینگر میں مقامی تاجروں نے شہر کے لال چوک میں احتجاج کیا اور آج کشمیر میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔
’پہلگام حملہ انڈین انٹیلیجنس ایجنسیوں کی واضح ناکامی ہے‘ انڈیا کے اپوزیشن رہنماؤں کی خفیہ ایجنسیوں پر تنقید
انڈین ریاست کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ پہلگام میں ’دہشت گردانہ حملے‘ میں 26 لوگوں کی ہلاکت مرکزی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔
بی بی سی ہندی کے ایسوسی ایٹ صحافی عمران قریشی کے مطابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ اس دہشت گردانہ حملے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور پلوامہ حملے کی طرح یہاں بھی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی واضح ناکامی تھی۔‘
سدارامیا نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو ملک کے لوگوں کی حفاظت اور ’دہشت گردوں‘ کو ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہییں۔
عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی پہلگام میں ہوئے حملے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرکے خفیہ ایجنسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔
سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ ’یہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنا بڑا دہشت گردانہ واقعہ ہوا تو ہماری انٹیلیجنس ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں؟ یہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔‘
انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے، یہ جواب کم نہیں ہو گا: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انڈیا نے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے کوئی شواہد نہیں دیے اور اس طرح بغیر شواہد غصہ نکالنا غیر مناسب ہے۔
نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انڈیا نے آج جو اعلانات کیے ہیں ان میں ناپختگی اور غیر سنجیدگی نظر آتی ہے۔ ’بدقسمتی سے انڈیا ہر واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیتا ہے اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی بلیم گیم پاکستان کی طرف ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے کل صبح نیشنل سکیورٹی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں عسکری اور سول قیادت شامل گی اور ہم انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے، یہ جواب کم نہیں ہو گا۔‘
،تصویر کا کیپشنسندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈیا بہت دیر سے نکلنا چاہ رہا ہے ان کا خیال ہے کہ اس معاہدے میں رہنا ان کے مفاد میں نہیں ہے تاہم وہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان انڈیا کی جانب سے اعلان کردہ اقدمات کا فوری ردعمل نہیں دینا چاہتا اور جمعرات کو قومی سلامتی کمیٹی میں اس سلسلے میں ایک جامع جواب دینے پر بات ہو گی۔
جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جو واقعہ پیش آیا وہ قابلِ مذمت ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی طرح سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈیا بہت دیر سے نکلنا چاہ رہا ہے، ان کا خیال ہے کہ اس معاہدے میں رہنا ان کے مفاد میں نہیں ہے تاہم وہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈیا کےکسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی سو فیصد پوزیشن میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ابھینندن کی شکل میں دیا گیا جواب انڈیا کو یاد ہو گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن جیسا ’ایک اور بندہ‘ پاکستان نے ایران افغان سرحد پر پکڑا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ ’بلوچستان میں دہشت گردی کے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’انڈیا کی سرپرستی میں بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے، جو کچھ جعفر ایکسپریس واقعے میں ہوا سب کو پتا ہے، علیحدگی پسندوں کو انڈیا نے پناہ دی ہے، بلوچستان کے علیحدگی پسند انڈیا میں جا کر علاج کراتے ہیں، ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کے تانے بانے بھی انڈیا کے ساتھ ملتے ہیں، اس کے کئی ثبوت ہیں۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈیا پہلگام واقعے پر دوسروں پر الزام دھرنے کے بجائے خود احتسابی کرے۔ انھوں نے کہا کہ ’تفتیش کر کے ذمہ داروں کو تلاش کرے، پاکستان پر الزام لگانا نامناسب بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ امکان بھی ہے کہ پہلگام حملہ خود انڈیا کا ’فالس فلیگ آپریشن‘ ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی انڈیا سے بھی تو پوچھے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں تو وہاں کئی عشروں سے موجود سات لاکھ فوج کر کیا رہی ہے؟‘
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہے، پاکستان دہائی سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔‘ انھوں نے سوال اٹھایا کہ جو دہشت گردی کا شکار ہیں وہ کیسے دہشت گردی کو فروغ دیں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر جگہ دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔‘
انڈیا کے پاکستان کے خلاف اقدامات کے بارے میں ابھی تک ہم کیا جانتے ہیں؟, شکیل اختر، بی بی سی اردو، دلی
،تصویر کا ذریعہMEA India
انڈیا نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان سے تقریباً ستر برس پرانے سندھ طاس معاہدے کو فوری طور پرمعطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سلامتی سے متعلق کابینہ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اس میں کیے گے۔ فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے کہا کہ اٹاری واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو سارک معاہدے کے تحت جو ویزا دیا جاتا تھا اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے اور جو پاکستانی شہری اس وقت انڈیا میں ہیں انھیں 48 گھنٹے کے اندر ملک سے چلے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
وکرم مسری نے کہا کہ دلی میں واقع کئی پاکستانی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک سے چلے جانے کے لیے کہا گیا ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن سے اپنے سفارتی عملے کی تعد اد 55 سے کم کر کے 30 کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
انڈیا نے اسلام اباد میں واقع ڈیفنس، نیوی اور ایئر ایڈوئزر اور پانچ سپورٹ عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
خارجہ سیکریٹری کی یہ نیوز کانفرنس کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد رکھی تھی اور اس میں صحافیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ خارجہ سیکریٹری کے بیان کے بعد سوال نہیں کر سکیں گے۔
سلامتی سے متعلق کابینہ کی ہائی پاورڈ کمیٹی کی میٹنگ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر شام چھ بجے شروع ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔
،تصویر کا ذریعہPTI
اس اجلاس کی صدارت انڈیا کے وزیر اعظم مودی نے کی۔
اس میں پہلگام حملے اور ممکنہ جوابی کارروائی کے تمام پہلوؤں پر غور کیا۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اے کے ڈوبال، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار اور دیگر اعلیٰ اہلکار شریک ہوئے۔
قومی سلامتی کے کسی بڑے مسلے پر یہی کمیٹی کوئی فیصلہ کرتی ہے۔ اس سے پہلے انڈیا کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے انڈین فضائیہ کی ایک تفریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت پہلگام حملے کے صرف مرتکبین کو ہی نہیں انھیں بھی نہیں بخشے گی جو اس سازش کے پیچھے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں بہت جلد بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا جمعرات کی شام ایک اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات اور اس سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال کے بارے میں انھیں آگاہ کیا جائے گا۔
انڈیا کے زیر انتطام کشمیر میں پہلے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں لیکن ان واقعات میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں۔
منگل کو پہلگام میں جو حملہ ہوا ہے اس میں بڑی تعداد میں سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں 25 انڈین اور ایک نیپالی شہری ہلاک ہوا۔
سیاحوں کی ہلاکت پر کشمیر سمیت پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ انڈین میڈیا میں پہلگام کے حملے کے لیے پاکستان کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین مختلف ٹی وی چینلز پر بحث ومباحثے میں پاکستان کے خلاف کارروائی کی باتیں کر رہے ہیں۔
ایک موثر اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کے لیے حکومت پر دباؤ بہت زیادہ ہے۔ میڈیا کی طرح طرح کی قیاس آرائیوں کے درمیان ملک کی فضا میں کشیدگی اور بے چینی کے آثار محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انڈین اقدامات کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
انڈیا کی جانب سے پہلگام میں حملے کے تناظر میں پاکستان کے حوالے سے سخت اقدامات کے اعلان کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف کی سربراہی میں آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔
گزشتہ روز نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس 24 اپریل کی صبح ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا کہ جس میں انڈیا کے اقدامت پر ردعمل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
انڈیا کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان، سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنانڈیا اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان برسوں کے مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عمل میں آیا تھا۔
پہلگام حملے کے تناظر میں انڈیا نے جہاں پاکستان سے اپنے تعلقات سے متعلق متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے وہیں سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اب انڈیا اس معاہدے پر عملدرآمد کا پابند نہیں رہا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
انڈیا اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان برسوں کے مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عمل میں آیا تھا۔
اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا۔ اس کے تحت ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔
دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 62 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔ انڈیا کے آبی وسائل کے سابق وزیر سیف الدین سوز کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سبھی معاہدوں میں یہ سب سے کامیاب اور با اثر معاہدہ ہے۔‘
سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا۔ اس کے تحت ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔
انڈیا کو ان دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن اسے پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کا حق نہیں ہے۔ مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول انڈیا کے ہاتھ میں دیا گیا۔ انڈیا کو ان دریاؤں پر پراجیکٹ وغیرہ بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔
انڈیا کا سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے کا اعلان
وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کابینہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اب کسی پاکستانی شہری کو انڈیا کا ویزا نہیں دیا جائے گا۔
انڈیا نے پاکستان میں اپنے ہائی کمیشن سے ڈیفنس، نیوی اور ایئر ایڈوائزرز کو ان کے اہل خانہ سمیت واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عہدے ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں پاکستان کے تین ملٹری اتاشی ناپسندیدہ قرار دیے گئے اور انھیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سلامتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اب سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد کا پابند نہیں رہا ہے۔
سلامتی کمیٹی کے مطابق پاکستانیوں کے سارک ویزے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ انڈیا نے اپنے عملے کے پانچ سپورٹ سٹاف کو بھی اسلام آباد سے بلا لیا ہے۔
انڈیا نے دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو 55 سے کم کر کے 30 کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دلی نے اسلام آباد میں اپنے ہائی کمیشن کا عملہ 55 سے کم کر کے 30 تک کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔