پہلگام حملہ: ’انڈیا یقینی بنا رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ نہ مل سکے‘، انڈین وزیر آبی وسائل

انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے کہا ہے کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔‘

خلاصہ

  • روسی صدر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف کے درمیان تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔
  • پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اشتعال انگیزی کا امکان ہے اور ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
  • یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے میئر کا کہنا ہے کہ ماسکو کے ساتھ امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ملک کو عارضی طور پر اپنا کچھ علاقہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
  • روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو میں کار بم دھماکے میں روسی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز جنرل یاروسلاو موسکالک ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • پہلگام حملے کے بعد انڈین اقدامات کے جواب میں اب پاکستان نے بھی انڈیا سے دو طرفہ معاہدے معطل کرنے، فضائی حدود اور سرحد بند کرنے کے علاوہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے حصے کا پانی روکا گیا تو اسے جنگ کی کارروائی سمجھا جائے گا۔

لائیو کوریج

  1. انڈین عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں: وزیراعلیٰ عمرعبداللہ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپہلگام حملے کے بعد انڈیا کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی ہراسانی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ جس کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں ملک کے عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں۔‘

    پہلگام حملے کے بعد انڈیا کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی ہراسانی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ جس کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں ملک کے عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جموں کشمیر لوگ امن کے دشمن نہیں، جو کچھ بھی ہوا وہ ہماری خواہش سے نہیں ہوا، ہمیں اس سے باہر آنا ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مقامی شہری نے ہمارے مہمانوں یا سیاحوں کی حفاظت کے لیے گولیاں کھائیں جو یہاں چھٹیاں گزارنے آئے تھے۔‘

    وادی سے باہر کشمیری طلبہ اور تاجروں پر حملوں کی خبروں کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو دوسری ریاستوں میں کشمیر کے لوگوں کو نشانہ بنانا بند کرنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں ہندوستان کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کے لوگوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں۔ اگر مرکز یہ کہہ رہا ہے کہ حملہ پاکستان نے کیا ہے، تو پھر جموں و کشمیر کے نوجوانوں اور طلبہ کو باہر کی ریاستوں میں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسے روکا جانا چاہیے۔‘

    سی این آئی کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں سے یہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ وہاں زیر تعلیم کشمیر ی طلبہ کو ہراساں کرنے کے علاوہ انھیں دھمکایا جا رہا ہے۔

    عمر عبد اللہ نے ایکس پر لکھا کہ ’جموں و کشمیر کی حکومت ان ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے جہاں سے ایسی رپورٹس آرہی رہی ہیں۔ میں ان ریاستوں میں اپنے ہم منصب وزرائے اعلیٰ سے بھی رابطے میں ہوں اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل حکمران نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے وزیراعلیٰ سے اس معاملے پر مداخلت کرنے اور انڈیا میں اپنے ہم منصبوں سے بات کرنے کی درخواست کی تھی۔ عمران نبی نے اپنی ایکس پر اپنی پوسٹ میں سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز کا حوالہ دیا جس میں یہ طلبہ اپنی خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں۔

  2. مشترکہ مفادات کونسل میں جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا مزید کوئی نہر نہیں بنائی جائے گی: وزیراعظم شہباز شریف

    Cholistan Canal

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    ،تصویر کا کیپشنجمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج کی ملاقات میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں باہمی رضامندی سے فیصلہ ہوا کہ ’سی سی آئی میں جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا مزید کوئی نہر نہیں بنائی جائے گی۔‘

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز نے اعلان کیا ہے کہ صوبوں کی باہمی رضامندی اور اتفاق رائے کے بغیر مجوزہ نئی نہروں کی تعمیر نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس دو مئی کو طلب کر لیا گیا ہے۔‘

    جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج کی ملاقات میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں باہمی رضامندی سے فیصلہ ہوا کہ ’سی سی آئی میں جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا مزید کوئی نہر نہیں بنائی جائے گی۔‘

    انھوں نے نہروں کے معاملے پر سنجیدگی سے بات چیت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ’میں نے اپنی ابتدائی معروضات میں بڑا وضاحت کے ساتھ بتایا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس کے تقاضے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے بلاول (بھٹو) سے یہ گزارش کی کہ کالا ڈیم معاشی اعتبار سے پاکستان کے مفاد میں ہے مگر وفاق سے اہم کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر صوبہ سندھ نے اعتراض کیا ہے تو ہمیں قبول کرنا چاہیے۔ اگر کالا باغ ڈیم وفاق کے مفادات سے متصادم ہے تو پھر یہ نہیں بننا چاہیے۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح ’نہروں کے معاملے کو بھی باہمی رضامندی اور بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نہروں پر مزید پیشرفت صوبوں کے درمیان اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے، سی سی آئی کا اجلاس دو مئی بروز جمعہ بلائی جا رہی ہے، جس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فیصلوں کی تائید کی جائے گی۔‘

    بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو مئی کو سی سی آئی کے اجلاس میں یہ فیصلوں کی توثیق کی جائے گی کہ کوئی نئی نہر نہیں بن رہی ہے۔‘

    انھوں نے انڈیا کی طرف سے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کے اعلان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم انڈیا کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ اقدامات نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ انسانیت کے خلاف بھی ہیں۔‘

  3. پاکستان نے بی ایس ایف کے اہلکار کو گرفتار کر لیا: انڈیا کا دعویٰ

    BSF

    ،تصویر کا ذریعہPress Trust of India

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: انڈین حکام کے مطابق پے کے سنگھ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے غلطی سے پنجاب میں سرحد عبور کر لی۔ انڈیا حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت اس اہلکار کی رہائی کے لیے انڈین اور پاکستانی فورسز میں مذاکرات جاری ہیں۔

    انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے یہ دعوی کیا ہے کہ پاکستانی رینجرز نے انڈیا کے بارڈر سکیورٹی کے ایک اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔ پاکستانی حکام کی طرف سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق اس اہلکار کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے غلطی سے پنجاب میں سرحد عبور کر لی۔ انڈیا حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت اس اہلکار کی رہائی کے لیے انڈین اور پاکستانی فورسز میں مذاکرات جاری ہیں۔

    انڈین حکام نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ کانسٹیبل پی کے سنگھ کا تعلق انڈین فوج کی 182ویں بٹالین سے ہے جنھیں بدھ کے روز فیروزپور بارڈر پر گرفتار کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق انڈین فوجی وردی میں تھا اور اس کے پاس سروس رائفل یعنی انڈین فوج کی بندوق بھی ہے۔ پاکستانی رینجرز نے اس وقت انھیں گرفتار کیا جب وہ کسانوں کے ہمراہ سائے میں آرام کی غرض سے اپنی جگہ سے آگے نکل آیا۔

  4. بریکنگ, اگر انڈیا نے پاکستان کے کسی شہر میں کوئی کارروائی کی تو اس کا ویسا ہی جواب دیا جائے گا: خواجہ آصف

    Press Conference

    ،تصویر کا ذریعہPTV Screen Grab

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر انڈیا نے پاکستان کی سرزمین پر کوئی ایڈونچر کرنے کا سوچا تو وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

    اسلام آباد میں قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی شہری محفوظ نہیں تو انڈیا کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اطلاعات ہیں کہ انڈیا پاکستان کے شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر انڈیا نے پاکستان میں کسی شہر میں کوئی کارروائی کی اور کسی پاکستانی شہری کو نقصان پہنچایا تو اس کا ویسا ہی جواب دیا جائے گا۔

    خواجہ آصف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا سمیت جہاں بھی دہشتگردی ہو اس کی مذمت کرتے ہیں، مگر ہم اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں۔

    انھوں نے انڈیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشتگرد موجود ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں، کلبھوشن جادھو انڈیا کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی زندہ گواہی ہے۔

    وزیردفاع نے کہا کہ کالعد بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے لیڈر انڈیا میں ہیں اور اپنا علاج وہاں کرواتے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی کسی شک میں نہ رہے،ہم پوری طرح تیار ہیں اور انڈیا کے کسی بھی ایڈونچر کا بھرپور جواب دیں گے۔

    ’ماضی میں پلوامہ پر جو جواب دیا تھا ویسا ہی بھرپور جواب اس بار دیا جائے گا اگر انڈیا نے کوئی اقدام کیا۔ ہم کسی بین الاقوامی دباؤ میں آنے والے نہیں۔‘

    اس موقع پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے اہم فیصلے کیے ہیں اور انڈین الزامات اور فیصلے غیرذمہ دارانہ ہیں۔ا اعلامیہ جاری کردیا تھا۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی جانب سے پاکستان کے اس اعلامیے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت قدم قرار دیا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ اقدام کسی بھی طور قبول نہیں، انڈیا ایسا کر بھی نہیں سکتا کیونکہ عالمی بینک اس معاہدے میں ثالث تھا اور معاہدے میں یکطرفہ طور پر معطل کیے جانے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ، پانی کو موڑنا یا پانی بند کرنے پر اعلامیے میں اس عمل کو اقدام جنگ قرار دیا گیا ہے۔ اگر انڈیا کچھ ایسا کرتا ہے جو بھی ضروری اقدام اٹھانا ہو گا پاکستان اٹھائے گا۔

    ایک سوال پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، انڈیا بنا شواہد کے الزام تراشی کی روش اپنا رہا ہے۔انڈیا کے پاس اگر کوئی شواہد ہیں تو وہ یہ پیش کرے۔ ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ انڈین کشمیر میں کچھ غیر ملکی بھاری ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں اور انڈین انٹیلیجنس ایجنسیاں ان کی معاونت کر رہی ہیں۔

    ہم پاکستان کے دوست ممالک کو اعتماد میں لے رہے ہیں اور پاکستان اپنے دوست ممالک کو اس ممالک ہر اعتماد میں لے رہا ہے مگر ہم کسی کے مرہون منت نہیں ہے اور پاکستان اپنے معاملات کو خود لے کر چلے گا۔

    وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اقدامات گیڈر بھبکیاں تھیں، ہم نے ان اقدامات کا دو گنا بڑھ کر جواب دیا، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

    ’ہم نے سود سمیت حساب برابر کردیا ہے اور بیانیے کی جنگ میں بھی انڈیا پر سبقت حاصل کی ہے۔‘

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستانی فضائی حدود بند کرنے سے انڈین ایئرلائنز کو کروڑوں کا نقصان ہوگا جس کا اثر انڈیا کی معیشت پر پڑے گا۔

  5. بریکنگ, مصدقہ تحقیقات اور ثبوتوں کے بغیر انڈیا کی الزام تراشی فضول اور منطقی شکست کی نشانی ہے: پاکستان

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ کسی مصدقہ تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد کی عدم موجودگی میں پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں فضول، عقلیت سے عاری اور منطقی شکست کی نشانی ہیں۔

    قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں جہاں انڈیا کے حوالے سے اقدامات کا اعلان کیا گیا وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف دنیا میں صف اول کی ریاست ہونے کے ناطے اسے بےپناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    کمیٹی کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے مظلومیت کا گھسا پٹا بیانیہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کو ہوا دینے میں اس کے اپنے قصور کو چھپا نہیں سکتا اور نہ ہی انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔

    پاکستان نے کہا ہے کہ انڈین دعوؤں کے برعکس، پاکستان کے پاس اپنے ملک میں انڈین سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت ہیں جن میں انڈین بحریہ کے ایک حاضر سروس افسر، کمانڈر کلبھوشن جادھو کا اعتراف بھی شامل ہے جو انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

  6. بریکنگ, انڈین اقدامات کا پاکستانی جواب:’تجارت معطل، فضائی حدود اور واہگہ سرحد بند، سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم‘

    قومی سلامتی کمیٹی

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    پہلگام حملے کے بعد انڈیا کی جانب سے پاکستان کے تناظر میں کیے گئے اقدامات کے جواب میں اب پاکستان نے بھی انڈیا سے دو طرفہ معاہدے معطل کرنے، فضائی حدود اور سرحد بند کرنے کے علاوہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان نے بھی انڈیا کی طرح دفاعی اتاشیوں اور ان کے معاونین کو ملک چھوڑنے اور سفارتی عملہ محدود کرنے کو کہا ہے۔

    ان اقدامات کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو انڈیا کی جانب سے بدھ کو اعلان کردہ اقدامات کا جواب دینے کے حوالے سے اسلام آباد میں جمعرات کو منعقد ہوا۔

    اس اجلاس کے اعلامیے میں انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا جس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی کنونشنز، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو اپنی مرضی سے نظر انداز کرنے والے انڈیا کے لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو دیکھتے ہوئے، پاکستان انڈیا کے ساتھ شملہ معاہدے سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کا حق استعمال کرے گا تاوقتیکہ انڈیا پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دینے کے اپنے واضح رویے، بیرونِ ملک قتل اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی عدم پاسداری سے باز نہیں آتا۔

    قومی سلامتی کمیٹی

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    پاکستان کی اپنی فضائی حدود انڈیا کی ملکیتی یا وہاں سے چلنے والی تمام فضائی کمپنیوں کے لیے فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ واہگہ کی سرحد فوری طور پر بند کرنے اور اس راستے سے انڈیا سے تمام سرحد پار آمدورفت معطل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں کسی کو استثناء حاصل نہیں ہو گا۔

    تاہم اعلامیے کے مطابق جو لوگ درست دستاویزات کے ساتھ سرحد عبور کر کے انڈیا گئے ہیں وہ اس راستے سے 30 اپریل تک واپس آ سکتے ہیں۔

    پاکستان نے سکھ یاتریوں کے علاوہ باقی تمام انڈین شہریوں کو سارک ویزہ استثنیٰ منصوبے کے تحت دیے گئے تمام ویزوں کو معطل کر دیا ہے اور کہا ہے انھیں منسوخ سمجھا جائے۔ ایسے ویزوں پر اس وقت پاکستان میں موجود انڈین شہریوں کو 48 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تمام تجارت بھی معطل کی جا رہی ہے اور اس کا اطلاق کسی تیسرے ملک کے راستے ہونے والی تجارت پر بھی ہو گا۔

    پاکستان نے اسلام آباد میں انڈین دفاعی اتاشیوں کو بھی ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر فوری طور پر ملک چھوڑنے کو کہا ہے جبکہ ان مشیران کے معاون عملے کو بھی واپس جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق 30 اپریل 2025 سے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد 30 تک محدود کر دی جائے گی۔

  7. ڈل جھیل کے شکارا کشتی والے بھی پہلگام حملوں کے خلاف احتجاج میں شامل, نیاز فاروقی، بی بی سی اردو، دلی

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہShafat Farooq/BBC

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کئی مقامات پر لوگوں نے پہلگام حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

    اب سری نگر کی مشہور ڈل جھیل کے شکارا کشتی والے بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں۔

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہShafat Farooq/BBC

    جھیل میں شکارا کی کشتی پر سوار ہونا اکثر وادی کا دورہ کرنے والے سیاحوں کے لیے ایک مخصوص لمحہ ہوتا ہے لیکن ان حملوں سے کشتی والوں کے روزگار پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ ہے۔

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہShafat Farooq/BBC

  8. پہلگام حملہ: پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا۔

    جمعرات کو بلوایا گیا یہ اجلاس انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کرنے کے لیے بلوایا گیا تھا۔

    اجلاس میں ملک کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، طارق فاطمی اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی شرکت کی۔

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس اجلاس میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے تاریخی معاہدے کی معطلی کے اعلان کے بعد جلد بازی میں اٹھائے گئے اور ناقابل عمل آبی اقدامات کے جواب کا جائزہ لیا جائے گا۔

  9. پہلگام حملہ: ’کشمیر بھر سے 1500 افراد کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا گیا ہے‘, عامر پیرزادہ، پہلگام

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد کشمیر بھر سے لگ بھگ 1500 افراد کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا گیا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ پہلگام حملہ کرنے میں چار عسکریت پسند ملوث تھے جن میں انڈین شہری اور غیرملکی بھی شامل ہیں۔

    کشمیر کی پولیس نے حملہ آوروں سے متعلق کوئی بھی کارآمد اطلاع دینے والے کے لیے 20 لاکھ انڈین روپوں کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

  10. بریکنگ, پہلگام: ’دو مبینہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے ہونے کا دعویٰ، اطلاع دینے پر 20 لاکھ انعام‘

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت ناگ کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کرنے والے چار افراد میں سے مبینہ طور پر دو کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    پولیس کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق پہلگام حملے میں چار افراد ملوث تھے جن میں سے تین مبینہ حملہ آوروں کے نام بھی دیے گئے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے ان میں سے دو کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ تیسرا شخص اننت ناگ کا مقامی شہری قرار دیا گیا ہے۔

    تاہم چوتھے شخص کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ تینوں افراد عسکریت پسند گروپ لشکرِ طیبہ کے رکن ہیں۔

    پولیس نے اس حملے میں مبینہ طور پر ملوث حملہ آوروں کے خاکے جاری کیے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو 20 لاکھ انڈین روپے انعام دینے اور ان کی شناخت خفیہ رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ٹویٹ کا عکس

    ،تصویر کا ذریعہX

  11. پہلگام حملے کے دوران ہلاک ہونے والے انڈین نیوی افسر کی اہلیہ کا شوہر کو جذباتی الوداع

    ہمانشی نروال نے 16 اپریل کو انڈین نیوی کے 26 سالہ افسر ونئے نروال سے شادی کی تھی۔

    ونئے نروال 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے میں گولی لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ حملے کے بعد ہمانشی کی اپنے شوہر کی لاش کے پاس بیٹھی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

    تاہم آج ونئے نروال کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران ہمانشی کو اپنے شوہر کے تابوت کے قریب کھڑے روتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

    اس موقع پر ہمانشی کا کہنا تھا کہ ’انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ہم سب کو اُن پر فخر ہونا چاہئے۔‘

  12. بریکنگ, حملہ آوروں اور حملے کی سازش کرنے والوں کو ان کے تصور سے بھی بڑی سزا ملے گی: نریندر مودی, نیاز فاروقی، بی بی سی اردو

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے پہلگام حملوں کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروں اور حملے کے منصوبہ سازوں کو ایسی سزا ملے گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

    جمعرات کو بہار میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’میں بہت صاف لفظوں میں کہنا چاہتا ہوں جنھوں نے یہ حملہ کیا ہے، ان دہشت گردوں کو اور اس حملے کی سازش کرنے والوں کو ان کی تصور سے بھی بڑی سزا ملے گی۔ سزا مل کر کے رہے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج بہار کی سرزمین پر، میں پوری دنیا سے کہتا ہوں، ہندوستان ہر دہشت گرد اور ان کے پشت پناہوں کی شناخت کرے گا، ان کا سراغ لگائے گا اور سزا دے گا، ہم زمین کے آخری کونے تک ان کا تعاقب کریں گے۔ دہشت گردی انڈیا کا عزم کبھی نہیں توڑ سکتی۔‘

    نریندر مودی نے اس موقع پر ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جو اس وقت ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ’مختلف ممالک کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کے قائدین جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

  13. پہلگام میں ہلاک ہونے والوں کی اپنے اپنے آبائی علاقوں میں آخری رسومات ادا

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں 26 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پہلگام میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو 23 اپریل کو اُن کے آبائی علاقوں میں پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد اب مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی آخری رسومات کی آدائیگی کا عمل جاری ہے۔

    اسی حوالے سے موصول ہونے والی چند تصاویر:

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. دہلی کی جانب سے ویزا منسوخ کیے جانے کے بعد انڈیا میں موجود پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندہلی اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آنے والے پاکستانی شہری منصور

    انڈیا کی جانب سے ویزا استثنیٰ سکیم منسوخ کیے جانے کے بعد انڈیا میں مقیم پاکستانی شہریوں نے دونوں ممالک کے درمیان اٹاری واہگہ سرحد پر پہنچنا شروع کر دیا ہے۔

    انڈین حکومت نے گزشتہ روز ایک اعلان میں انڈیا میں موجود پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

    اسی کے ساتھ انڈیا کی جانب سے اپنے اُن شہریوں کو بھی یکم مئی تک وطن واپس لوٹنے کا کہا گیا تھا کہ جو اس وقت پاکستان میں ہیں۔

    اپنے رشتہ داروں سے ملنے دہلی آنے والے پاکستانی شہری منصور نے کہا کہ ’دونوں مُمالک کے درمیان کشیدہ حالات اور انڈین حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں۔‘

    انھوں نے انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلگام میں جو کچھ بھی ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، انڈین حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا (ویزا سکیم کو معطل کرنا)۔

    india

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنمغربی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والے انڈین شہری شیطان سنگھ

    مغربی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والے انڈین شہری شیطان سنگھ کو آج اپنی شادی کے لیے اٹاری سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہونا تھا لیکن اب وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان حالات میں کیا کرسکتے ہیں۔

    اُن کا کہنا ہے کہ ’سرحد تو اب بند ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ اب کیا ہوتا ہے۔‘

    دونوں ممالک کے درمیان اٹاری واہگہ سرحد تجارت اور لوگوں کے آنے جانے کے لیے ایک اہم زمینی ٹرانزٹ روٹ ہے اور اس کی بندش سے کاروبار اور عام زندگی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  15. انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں دو دن تک مفلوج رہنے والی زندگی معمول پر آنے لگی

    India Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظیم کشمیر میں 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد گزشتہ روز خطے بھر میں معمولاتِ زندگی معطل رہنے کے بعد حالات معمول پر آرے ہیں۔

    واضح رہے کہ پہلگام میں حملے کے بعد 23 اپریل بدھ کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی اور اسی کے ساتھ ساتھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر بھر میں ہی حملے اور سیاحوں کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ تاہم اب جمعرات کے روم خطے میں دو دن تک مفلوج رہنے والی زندگی بحال ہونے لگی ہے، تاہم آج بھی کچھ مقامات پر علامتی دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

    اس دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور جموں خطوں میں مسلح تشدد کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جموں کے ادھمپور ضلع کے گھنے جنگلات پر مشتمل علاقے ’بِرلی گلی‘ میں عسکریت پسندوں کے خلاف بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔‘

    فوج کے مطابق ’جنگل میں چھپے عسکریت پسندوں نے فوج پر فائرنگ کی جس کے نتجہ میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا، جس کے بعد سے علاقے بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے۔‘

    واضح رہے ادھمپور میں انڈین آرمی کی شمالی کمان کا ہیڈکوارٹر ہے اور شمالی کمان ہی پاکستان کے ساتھ عبوری سرحد ایل او سی کی نگرانی کرتی ہے۔

    دوسری جانب گزشتہ روز ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کولگام ضلع میں بھی فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین مسلح جھڑپ ہوئی تھی۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ عسکریت پسند اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے لیکن وسیع علاقوں کا محاصرہ کیا گیا ہے اور عسکریت پسندوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

  16. ’فالس فلیگ آپریشن‘ کیا ہوتا ہے؟

    پاکستان نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں پر حملے کو انڈیا کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے۔

    فالس فلیگ آپریشن جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس سے مراد ایک ایسا دہشتگردانہ حملہ ہے جو کوئی ملک یا ایجنسی اپنے ہی عوام یا سرزمین کے خلاف کرتی ہے تاکہ دشمن ملک یا ایجنسی کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہرا سکے اور اس حملے کو بنیاد بناتے ہوئے دشمن ملک کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنا سکے۔

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اس بارے میں بدھ کو ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام کے واقعے میں فالس فلیگ آپریشن کی بات کو بالکل مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈین حکومت پہلگام واقعے کی تحقیقات کرے اور صرف الزام لگانے سے ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

    پاکستان ماضی میں بھی انڈیا پر فالس فلیگ آپریشنز کا الزام لگاتا رہا ہے۔ اس بارے میں ایک تنبیہ اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد دی گئی تھی۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا کے ایسا کرنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف وزیوں سے توجہ بٹانا چاہتا ہے۔

    اس کے بعد دسمبر 2019 میں انڈین شہریت سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف جب انڈیا میں ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کی وارننگ جاری کی گئی اور وجہ بتائی گئی کہ انڈیا مجوزہ قانون کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔

    مئی اور جون 2020 میں جب چین اور انڈیا کے درمیان گلوان کے مقام پر سخت کشیدگی جاری تھی تو اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے یہ وارننگ ایک بار بھر جاری کی اور اس بار ان کا کہنا تھا کہ چین اور نیپال کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے باعث انڈیا پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔

    پھر دسمبر 2021 میں وزیراعظم پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو انڈیا کی جانب سے ممکنہ فالس فلیگ آپریشن سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'جوں جوں انڈیا کے اندرونی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جیسا کہ معاشی بدحالی، کسانوں کا احتجاج ، کورونا کی بد انتظامی ، مودی سرکار ان سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔'

  17. پاکستانی سفارتکار کی انڈیا کے دفترِ خارجہ طلبی، ناپسندیدہ قرار دیے گئے افراد کی فہرست حوالے کی گئی, نیاز فاروقی، بی بی سی اردو

    انڈیا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پہلگام حملے کے ردعمل میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کے بعد بدھ کی شب پاکستان کے سفارتکار سعد وڑائچ کو دفترِ خارجہ طلب کر کے پاکستانی دفاعی مشیران کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دینے کا نوٹ دیا گیا ہے۔

    بدھ کو کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس میں جن اقدامات کا فیصلہ کیا گیا تھا ان میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار ددے کر ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی شامل تھی۔

    انڈیا کے خارجہ سیکرٹری وکرم مصری نے بتایا تھا کہ انڈیا نے اسلام آباد سے بھی اپنے دفاعی اتاشی واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اسلام آباد میں اپنے مشن کے عملے کی تعداد کو بھی 55 سے کم کر کے 30 کر رہا ہے۔

    جمعرات کو انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج بھی کیا ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی سکیورٹی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

  18. پہلگام حملے کے بعد وزیر اعظم مودی کے سعودی عرب کے دورے کو مختصر کرنے پر ماہرین کیا کہتے ہیں؟

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر منگل کی سہ پہر جدہ پہنچے ہی تھے کے کُچھ وقت گزرنے کے بعد شام میں انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے ایک اہم سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں کے سیاحوں پر حملے کی خبر سامنے آئی۔

    ابتدائی طور پر انڈین حکومت کی جانب سے اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تو سامنے نہیں آئی تھی لیکن رات گئے تک 26 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    سعودی عرب پہنچنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے حملے کی مذمت کی تھی اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس کے بعد وزیراعظم مودی سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچتے ہی دہلی کے ہوائی اڈے پر ہی انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے انھیں حملے سے متعلق بریفنگ دی۔

    سعودی عرب میں انڈیا کے سفیر سہیل اعجاز خان نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے پہلگام حملے کی مذمت کی اور انڈیا کو ہر ممکن مدد اور تعاون کی پیش کش کی۔

    وزیر اعظم مودی کا دورہ مختصر ہونے کے باوجود چار اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

    یہ معاہدے خلا اور صحت کے شعبے میں کیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کاریڈور (انڈیا مشرق وسطیٰ یورپ اقتصادی راہداری) پر بھی معاہدہ طے پا چکا ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی نے دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار ویسٹ ایشیا سٹڈیز کے سابق پروفیسر آفتاب کمال پاشا سے پوچھا کہ وہ وزیر اعظم مودی کے سعودی عرب کا دورہ مختصر کرنے کے فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

    پروفیسر پاشا نے کہا کہ ’میرے خیال میں وزیر اعظم کو وہاں رہ کر پاکستان کو بے نقاب کرنا چاہیے تھا۔ انھیں سعودی عرب سے پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ پاکستان کو معاشی امداد کیوں فراہم کر رہا ہے۔ میرے خیال میں وزیر اعظم کو خلیجی ممالک سے کہنا چاہیے تھا کہ وہ ایک طرف دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ پاکستان کو معاشی امداد فراہم کرتے ہیں۔ امیت شاہ یہاں تھے اور وہ پہلے ہی سری نگر جا چکے تھے۔‘

    منوہر لال پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینالسز کے سابق ایسوسی ایٹ فیلو اور اس وقت دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار ویسٹ ایشیا سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد مدثر قمر کا ماننا ہے کہ ’وزیر اعظم مودی نے وطن واپس آ کر صحیح فیصلہ کیا۔‘

    ڈاکٹر مدثر کہتے ہیں کہ ’اگر دنیا کے کسی ملک میں اس طرح کا دہشت گردانہ حملہ ہوتا اور اس ملک کا سربراہ دورے پر ہوتا تو یہی فیصلہ کیا جاتا۔ وزیر اعظم مودی کو اپنے سعودی دورے کو مختصر کرنا پڑا، لیکن اس دورے کے دوران جو کچھ بھی انھیں کرنا تھا وہ انھوں نے کیا۔‘

    ڈاکٹر مدثر کا کہنا ہے کہ ’حملے کے لیے جو وقت منتخب کیا گیا ہے وہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’حملے کا وقت محض اتفاق نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم مودی کا سعودی عرب میں ہونا امریکی نائب صدر کے انڈیا میں ہونے سے زیادہ اہم تھا۔ اس حملے کا زیادہ تعلق وزیر اعظم مودی کے سعودی عرب کے دورے سے ہے۔‘

  19. پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے بعد پاکستانی سٹاک ایکسیچنج میں مندی، انڈیکس میں 2500 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز کاروبار میں مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 2500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی انداز میں اُس وقت ہوا کہ جب اس کا آغاز 1000 پوائنٹس کمی کے ساتھ ہوا اور مارکیٹ میں کاروبار کے چند منٹوں میں انڈیکس میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی جو 2500 پوائٹس سے زائد ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 1204 پوائنٹس کمی کے ساتھ ہوا۔

    تجزیہ کار پاکستان اور انڈیا کے درمیان تازہ ترین کشیدگی کو پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر دہشت گردی کے واقعے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد انڈین حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی لانے کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کے انڈین حکومت کے اعلان کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے جسے سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار کاروبار کے لیے منفی قرار دیتے ہیں۔

    منیر خانانی سکیورٹیز میں تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناو اور کشیدگی گزشتہ روز شروع ہوئے جس کے بعد جب مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز ہوا تو اس کا نفسیاتی اثر سرمایہ کاروں پر پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ ’سٹاک مارکیٹ بہت حساس تجارتی فورم ہے جو ایسے واقعات پر فوری طور پر رد عمل دیتا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ممبئی سٹاک ایکسچینج میں بھی آج کاروبار منفی انداز میں شروع ہوا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی ایس ہی ہوا۔‘ انھوں نے سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں حصص کی فروخت کی گئی جس کی وجہ سے انڈیکس میں کمی واقع ہوئی۔

    جبران سرفراز نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں منفی رجحا ن تھا جس میں پہلگام واقعے کا تھوڑا بہت اثر تو تھا لیکن زیادہ منفی اثر آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی موجودہ مالی سال میں صرف 2.6 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی پیش گوئی تھی جو بہت کم ہے۔‘

    انھوں نے تاہم آج مارکیٹ میں مندی کی وجہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناو کی صورتحال کو قرار دیا ہے جو مارکیٹ میں کاروبار پر منفی صورت میں اثر انداز ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’کاروبار میں آغاز پر بہت زیادہ گھبراہٹ میں حصص کی فروخت ہوئی جس کی وجہ سے انڈیکس میں بہت زیادہ کمی ہوئی تاہم پھر مارکیٹ میں تھوڑی سی ریکوری ہوئی تاہم ابھی مارکیٹ میں منفی رجحان برقرار ہے۔‘

  20. پہلگام حملے کے بعد آج انڈیا اور پاکستان میں کیا ہونے کی توقع ہے؟

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    22 اپریل کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں آج کیا ہونے کی توقع ہے:

    • انڈین حکومت کل جماعتی اجلاس طلب کرنے جا رہی ہے جس میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو حملے کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی اور مزید کارروائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
    • انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی خطے میں کل جماعتی اجلاس طلب کر رکھا ہے۔
    • دوسری جانب آج یعنی جمعرات کے روز پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس انڈین حکومت کے اقدامات پر ردعمل کا تعین کرنے کے لیے ہوگا جن کا اعلان گزشتہ شب کیا گیا تھا۔
    • پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں آج بھی ان کے آبائی علاقوں میں پہنچائے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا جہاں اُن کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
    • مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کے لئے انڈین فوج جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ مل کر کشمیر کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔