ایران کے ساتھ معاہدے کرنے کے قریب ہیں، دستخط کرنے شاید اسلام آباد چلا جاؤں: صدر ٹرمپ

گفتگو کے دوران ایک صحافی نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے پر مہر ثبت کرنے پاکستان جائیں گے، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر معاہدے پر دستخط اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو شاید میں چلا جاؤں۔‘ ’پاکستان میں فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم بہترین لوگ ہیں، شاید میں وہاں چلا جاؤں۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے امریکی مطالبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اسلام آباد میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو 'میں شاید خود چلا جاؤں۔'
  • وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ فی الوقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا امریکہ کا دورہ طے نہیں ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے اور یہ دونوں ممالک 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔
  • امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور انھیں ’امن کوششوں میں پیشرفت سے آگاہ کیا‘ ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے
  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے دوبارہ مذاکرات ہوئے تو ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہوں گے‘

لائیو کوریج

  1. تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: وزارتِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اگرچہ حالیہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے رابطے برقرار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف ’واضح طور پر پیش کیا جا چکا ہے اور بعد کے رابطوں میں بھی دہرایا گیا ہے۔‘

    بقائی نے مزید بتایا کہ امکان ہے کہ پاکستان کا ایک وفد آج ایران کا دورہ کرے گا، جو اسلام آباد میں ہونے والی سابقہ بات چیت کا تسلسل ہوگا، اور اس میں ایران اور امریکہ کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

    انھوں نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنی ضروریات کے مطابق یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا حق ہونا چاہیے، تاہم افزودگی کی نوعیت اور سطح پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 26 فروری کو ہوا تھا، جو جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن قبل منعقد ہوا تھا۔

  2. آبنائے ہرمز کھل رہی ہے، جہاز واپس آ رہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی ہے اور بحری جہاز اس راستے سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔

    فوکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’آبنائے ہرمز کھل رہی ہے‘ اور ’جہاز واپس آ رہے ہیں‘، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو خلیج، بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع ہوئی تھی، اور منگل کو امریکی فوج نے بتایا کہ ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

    ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مزید کہا: ’ہم نے ابھی کام ختم نہیں کیا‘، لیکن انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکہ ایران کے ساتھ ایک ’بہترین معاہدہ‘ کر سکتا ہے۔

  3. بریکنگ, امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو اہم سمندری راستوں میں تجارت روک دی جائے گی: ایران کی دھمکی, غنچہ حبیبی‌ زادہ، بی بی سی فارسی

    bbc

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے تو خطے میں جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے عدم تحفظ پیدا کرتا رہا تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں ایرانی مسلح افواج خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور بحیرۂ احمر میں ’کسی بھی درآمد یا برآمد کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گی۔‘

    تاہم عبداللہی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ ان کے بیان کردہ سمندری علاقے نہایت وسیع ہیں اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع کی گئی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکا، جبکہ خلیج عمان میں چھ تجارتی جہازوں کو واپس لوٹنا پڑا۔

    یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئندہ دو دنوں میں بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس کی ایران کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔

  4. بریکنگ, ’چین ایران کو ہتھیار نہیں بھیجے گا، وہ بہت خوش ہیں کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں‘: ٹرمپ کا دعویٰ

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھ کر اس معاملے پر درخواست کی تھی۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا: ’چین اس بات پر بہت خوش ہے کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں۔ میں یہ ان کے لیے بھی کر رہا ہوں اور پوری دنیا کے لیے بھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیش نہیں آئے گی۔ انھوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار نہیں بھیجیں گے۔‘

    اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور چین اس معاملے پر ’دانشمندی اور بہترین طریقے سے‘ مل کر کام کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ لڑنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    دوسری جانب، چین نے منگل کے روز ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ چین ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور انھیں ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا۔

    یاد رہے امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد ابتدائی 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرا، حالانکہ اس سے قبل چینی جہاز ان چند بحری جہازوں میں شامل تھے جو اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے تھے۔

  5. فضائی مال برداری کے بڑھتے اخراجات صارفین کو ادا کرنا ہوں گے

    ایئر فارورڈرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برینڈن فرائیڈ، جو کہ امریکہ کی سینکڑوں فریٹ فارورڈنگ کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والا ایک تجارتی ادارہ ہے، کا کہنا ہے کہ کارگو میں خلل ’وسیع اور بڑے پیمانے پر‘ ہے۔

    وہ بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتاتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز جیسے ایمریٹس، اتحاد اور قطر ایئرویز عام طور پر دنیا کے کل کارگو کا تقریباً پانچواں حصہ لے جاتی ہیں، لیکن اس وقت وہ اپنی مکمل گنجائش سے کم پر کام کر رہی ہیں، جس سے بھیڑ اور تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔

    ان کے مطابق یہ صورتحال اب عالمی سطح پر اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہے، اور جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمت، کارگو کے راستوں میں تبدیلی، رسک انشورنس اور اضافی سیکیورٹی اقدامات اس مسئلے میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ شرح مختلف ہوتی ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں کچھ فضائی مال برداری کے کرائے میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا: ’بطور صنعت ہم یہ بوجھ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے، جلد یا بدیر اس کی قیمت اصل صارف کو ادا کرنا پڑے گی۔‘

  6. خیرپور میں خاتون کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کی وائرل ویڈیو: ’حقائق سامنے لانے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی‘, ریاض سہیل، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ضلع خیرپور میں 22 سالہ خاتون کے مبینہ غیرت کے نام پر قتل میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد اس واقعے کی تحقیقات اور حقائق کو سامنے لانے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    پولیس کے مطابق خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خالدہ کو مبینہ طور پر ’کاری‘ قرار دے کر قتل کیے جانے کے واقعے میں ملوث ملزمان، خاتون کے ماموں اور دادا، کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

    اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی پاکستان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سُرخ کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون کو دو مردوں نے بازوں سے پکڑا ہوا ہے جبکہ ویڈیو میں موجود تیسرے شخص کے ہاتھ میں پستول ہے۔ خاتون کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں مگر اسی اثنا میں پستول لوڈ کر کے اُن پر فائرنگ کر دی جاتی ہے۔

    ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیاہے کہ یہ واقعہ چار روز پرانا ہے۔

    پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لڑکی کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی۔

    ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ایف آئی آر کے مطابق جب پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی تھی تو پھر زخمی لڑکی کو ہسپتال کیوں منتقل نہیں کیا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو تمام حقائق سامنے لائے گی۔

    اس واقعے کی ایف آئی آر سرکاری مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ 10 اپریل کی شب پولیس اہلکار رات کو ایک بجے گشت کے لیے روانہ ہوئے اور جب وہ فیض کینال سٹاپ پر پہنچے تو انھیں اطلاع ملی کہ گاؤں بٹو چانڈیو میں ملزمان خالدہ نامی خاتون کو کاری کا الزام لگا کر قتل کرنا چاہتے ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق جب پولیس اہلکار مذکورہ گاؤں پہنچے تو انھوں نے پولیس موبائل کی روشنی میں دیکھا کہ چار مسلح ملزمان اور ایک عورت کھڑے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اس لڑکی کو کاری کرکے ماریں گے۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’ہم نے گاڑی روکی اور آواز لگائی کہ پولیس آگئی ہے فائر نہ کریں، لیکن اسی اثنا میں ملزم قیصر جاور غلام عباس نے فائر کیے جس کے بعد لڑکی زمین پر گر گئی اور پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ملزمان گلیوں میں فرار ہو گئے۔‘

    ایف آئی ار کے مطابقفائرنگ کی آواز پر گاؤں کی خواتین آئیں جنھوں نے بتایا کہ لڑکی کا نام خالدہ ہے جو پولیس کے سامنے فوت ہو گئی اور جب پولیس اہلکاروں نے چیک کیا تو اس کو سینے پر دو فائر لگے ہوئے تھے جو آر پار ہو چکے تھے۔

    لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی چھ سال قبل شادی ہوئی تھی اور وہ جمعرات کو گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی جس کے بعد انھوں نے اپنے بھائیوں کو بتایا، فون کالز کی گئیں۔

  7. جنوبی لبنان میں ’بھاری طاقت‘ کے ساتھ کارروائی کر رہے ہیں: اسرائیلی فوج

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ان علاقوں کے لیے ایک نیا انخلا کا حکم جاری کیا ہے جہاں اس کے مطابق فضائی حملے جاری ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع علاقے میں نمایاں طاقت کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے، اور لوگوں کو چاہیے کہ فوراً علاقہ خالی کر کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’جو کوئی بھی حزب اللہ کے عناصر، ان کی تنصیبات یا ان کی جنگی گاڑیوں کے قریب موجود ہوگا، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘

  8. ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی، مسعود پزشکیان

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی اور ایرانی قوم کبھی بھی ایسے رویے کو قبول نہیں کرے گی۔

    بدھ کے روز تہران کے ایمرجنسی سروسز کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ تہران جنگ یا عدم استحکام کا خواہاں نہیں ہے۔

    اس کے بجائے صدر نے کہا کہ ’[ایران] نے ہمیشہ مختلف ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اگلے دو دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  9. حزب اللہ کے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے

    لبنان کے ایران نواز مسلح گروہ حزب اللہ نے بدھ کے روز شمالی اسرائیل میں کئی راکٹ داغے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے ’اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ہمارے ملک اور ہمارے لوگوں پر اسرائیلی امریکی جارحیت بند نہیں ہوتی۔‘

    ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا حملوں نے کوئی نقصان پہنچایا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کی تعداد 30 کے قریب تھی۔ جبکہ حزب اللہ نے اسرائیل پر اور لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر 24 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل کے لبنان پر حملوں سے ہونے والی تباہی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    دوسری جانب لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق جنوبی لبنان میں صبح کے وقت دو اسرائیلی حملوں میں ایک خاندان کے چار افراد سمیت نو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بیروت سے جنوبی شہروں کو جانے والی شاہراہ پر ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان تین دہائیوں بعد پہلی سفارتی بات چیت کا آغاز ہوا ہے، تاہم حزب اللہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں اور ایک عہدے دار نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حزب اللہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گی۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق، دو مارچ سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  10. نئے مذاکرات کے حوالے سے ’کوئی معلومات نہیں‘: ایران

    ایران اور امریکہ کے جھنڈے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ مزید مذاکرات کے حوالے سے ’کوئی معلومات نہیں۔‘

    اس کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو دنوں میں اسلام آباد میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔

    ارنا کے مطابق، تہران اور اسلام آباد کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ضرور ہوا ہے، تاہم کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔

    سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے، اس کے باوجود ’پاکستان ثالثی کی کوششوں کے لیے پُرعزم ہے۔‘

    ایران نے بظاہر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کا اعلان 8 اپریل کو کیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ یہ مدت 22 اپریل کو بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔

  11. ’مایوس اور ناراض‘ ہوں کہ امریکہ نے جنگ شروع کی لیکن اس سے نکلنے کی حکمت عملی نہیں سوچی: برطانوی وزیر خزانہ

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز

    ،تصویر کا ذریعہEuropa Press via Getty Images

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز آج واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کریں گی۔

    امریکہ روانگی سے قبل ریچل ریوز نے اخبار ڈیلی مرر کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس بات پر ’بہت مایوس اور ناراض‘ ہیں کہ امریکہ نے جنگ شروع تو کر دی لیکن اس سے نکلنے کی کوئی حکمت عملی نہیں سوچی۔

    بی بی سی کے پروگرام میں حکومتی وزیر جیمز مرے سے ریچل ریوز کے سخت ریمارکس کے بارے میں سوال کیا گیا۔

    جیمز مرے کا جواب تھا: ’میرے خیال میں وزیر خزانہ اُن خیالات کی عکاسی کر رہی ہیں جو شاید برطانیہ میں بہت سے لوگ رکھتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، ہم نے جس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے باوجود ہماری معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

    وزیرِ خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں برطانیہ معاشی طور پر اس تنازع سے زیادہ متاثر ہو گا۔

    دوسری جانب، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ طویل المدت عالمی سلامتی کے لیے ’تھوڑی بہت معاشی تکلیف‘ قابل قبول ہے۔

  12. آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے بحری جہاز واپس جا رہے ہیں: ٹریکنگ ڈیٹا

    اؓبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کا ٹریکنگ ڈیٹا

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    اتوار کے روز امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پیر کو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر ناکہ بندی کا نفاذ ہو گا۔

    بی بی سی ویری فائی نے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے وقت ایران سے منسلک کم از کم چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    بعد ازاں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا۔ بتایا گیا کہ چھ تجارتی جہاز ’امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ میں‘ واپس چلے گئے۔

    امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ منگل کے روز دو تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، جو انھی چھ جہازوں میں شامل تھے جنہیں امریکی افواج نے واپس جانے کی ہدایت دی تھی۔

    ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، ایران سے منسلک ایک جہاز رچ سٹاری مشرق کی جانب سفر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم جب وہ خلیجِ عمان پہنچا تو بظاہر واپس مڑ گیا، ممکنہ طور پر امریکی افواج کی ہدایت پر۔

    بی بی سی ویری فائی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی بندرگارہ سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور جہاز، کرسٹیانا نے بھی بعد میں اپنا رخ تبدیل کیا۔

  13. لبنان کے ساتھ مذاکرات کے بعد بھی اسرائیل کے حملے جاری

    لبنان پر اسرائیلی حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تین دہائیوں کے بعد واشنگٹن میں لبنان سے پہلی سفارتی بات چیت کے اگلے ہی روز اسرائیل نے لبنان میں مزید حملے کیے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تمام غیر ریاستی دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ اشارہ حزب اللہ کی جانب ہے، جو ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھی۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران ’حزب اللہ کے جنگجوؤں اور عسکری انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ’حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔‘

    گذشتہ روز واشنگٹن میں اسرائیل لبنان مذاکرات کے حوالے سے امریکی بیان میں کہا گیا کہ امریکہ ’دونوں ممالک میں مزید مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔‘

    ساتھ ہی لبنان کی حکومت کے اس منصوبے کی بھی حمایت کی گئی جس کے تحت ایران کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری بحال کی جائے۔

  14. وزیر اعظم شہباز شریف آج سعودی عرب جائیں گے

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

    ،تصویر کا ذریعہRoyal Court of Saudi Arabia/Anadolu Agency via Getty Images

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف آج سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے۔

    بیان کے مطابق اعلیٰ سطح وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ اسلام آباد سے جدہ جائے گا۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے بعد قطر اور ترکی کا دورہ بھی کریں گے۔ تینوں ممالک کے یہ دورے 15 اپریل سے لے کر 18 اپریل تک جاری رہیں گے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے دوروں میں وزیر اعظم شہباز شریف دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقات کریں گے اور دو طرفہ تعاون کے علاوہ علاقائی امن و سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں وزیر اعظم شہباز شریف انتالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کر کے پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

    جبکہ وزیر اعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوغان اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر اعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی سمیت دیگر سینئر حکام بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ ہوں گے۔

  15. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، دو کاروباری دنوں میں 10 ہزار پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آج بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 5005 پوائنٹس تک کے اضافے سے ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی سطح سے اوپر چلا گیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی مارکیٹ انڈیکس میں پانچ ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس طرح مجموعی طور پر دو دنوں میں انڈیکس میں دس ہزار پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اس کہ وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ پاکستان میں دوبارہ مذکرات اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ دینے کے اعلانات ہیں۔

    تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی صدر کے اعلان کے بعد پاکستان دوبارہ عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے جس پر مارکیٹ نے مثبت رد عمل دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی صدر کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمت بھی کم ہوئی ہے جو مارکیٹ کے لیے مثبت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ دینے کے یقین دہانی نے مارکیٹ میں کاروبار پر بہت زیادہ مثبت اثر مرتب کیا۔

  16. امن مذاکرات کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتیں مستحکم

    امریکہ اور ایران میں نئے امن مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں جس کے باعث ایشیا میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات ’آئندہ دو روز میں‘ دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے کسی اجلاس کے بارے میں اسے تاحال ’کوئی معلومات نہیں‘ ہیں۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 0.3 فیصد اضافے سے 95 ڈالر فی بیرل سے کچھ اوپر رہی۔

    توانائی کی قیمتوں میں کمی منگل کے روز اس وقت آئی جب ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کسی معاہدے کی امید میں وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

    آج بدھ کے روز ایشیا کی بڑی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جاپان کا نکئی 225 انڈیکس تقریباً ایک فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایکسچینج تین فیصد بڑھا۔

  17. ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین‘ کرنا چاہتے ہیں، مذاکرات جاری رکھیں گے: نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین کرنا چاہتے ہیں۔‘

    امریکہ میں قائم ادارے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے زیر اہتمام ایک گفتگو میں جے ڈی وینس نے ایران امریکہ امن مذاکرات کی تفصیلات بتائیں۔

    امریکی نائب صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز سمجھوتہ اس لیے نہ ہو سکا کیوں کہ ’ٹرمپ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو اور وہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی نہ کر رہا ہو۔‘

    امریکی نائب صدر کا کہنا تھا: ’اگر ایران وعدہ کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تو ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران معاشی طور پر خوشحال ہو۔‘

    ’یہ ہے وہ پیشکش جو امریکی صدر (ایران کو) کر رہے ہیں، اور اسے ممکن بنانے کے لیے ہم مذاکرات جاری رکھیں گے۔‘

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ پاکستان جا کر اچھی نیت سے ایران کے ساتھ مذاکرات کریں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ’امریکہ اور ایران میں بہت بد اعتمادی موجود ہے جو ایک رات میں ختم نہیں ہو سکتی۔‘

    اس کے باوجود امریکی نائب صدر دونوں ممالک کے درمیان ہوئی پیشرفت سے مطمئن نظر ائے۔ ان کا کہنا تھا: ’اچھی بات یہ ہے کہ جنگ بندی جاری ہے‘ اور ’جس جگہ ہم ہیں (یعنی جو پیشرفت ہوئی) اس کے بارے میں ہم اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘

  18. 10 ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے: سینٹ کام

    امریکی طیارہ بردار جہاز پر موجود جنگی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. CENTCOM

    امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ’مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بحری برتری برقرار ہے۔‘

    سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ایران کی اندازاً 90 فیصد معیشت کا انحصار سمندر کے راستے بین الاقوامی تجارت پر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی فوج نے سمندر کے ذریعے ایران میں آنے اور ایران سے جانے والی تمام معاشی تجارت مکمل روک دی ہے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق 10 ہزار سے زائد امریکی اہلکار درجنوں جنگی جہازوں اور طیاروں کی مدد سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل کرا رہے ہیں۔ پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہ کر سکا، جبکہ چھ تجارتی جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں واقع کسی ایرانی بندرگاہ میں واپس چلے گئے۔

    سینٹ کام کی جاری کردہ مزید تفصیلات کے مطابق امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز اُن اثاثوں میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرا رہے ہیں۔ ایک عام ڈیسٹرائر پر 300 سے زائد بحری اہلکار تعینات ہوتے ہیں، جو جارحانہ اور دفاعی سمندری کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ درجے کی تربیت رکھتے ہیں۔

    ایکس پر جاری سینٹ کام کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے ہر ملک کے جہاز پر ناکہ بندی کا نفاذ بلا امتیاز ہو گا۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے، انھیں نہیں روکا جائے گا۔

    امریکی سینٹ کام کی طرف سے جاری تفصیل، جس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے تعینات کیے گئے وسائل کا بتایا گیا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہU.S. CENTCOM

  19. میرے خیال میں ایران جنگ ختم ہونے کے قریب ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔

    یہ بات انھوں نے صحافی ماریا بارٹیرومو کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہی ہے، جو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز پر نشر کیا جائے گا۔

    فاکس نیوز کی جانب سے اس انٹرویو کے کچھ حصے ابھی جاری کیے گئے ہیں جبکہ مکمل انٹرویو امریکی وقت کے مطابق شام چھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح نو بجے) نشر کیا جائے گا۔

    انٹرویو کا جو حصہ فاکس نیوز کے ایکس ہینڈل سے جاری کیا گیا ہے اس میں ماریا بارٹیرومو امریکی صدر سے سوال کرتی ہیں کہ کیا یہ جنگ ختم ہو چکی ہے؟ جواب میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں یہ جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر میں نے ابھی اپنا داؤ کھیل دیا‘ تو ایران کو اپنے ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے، اور ’ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔‘

    انٹرویو کے ابھی تک دستیاب حصے میں تو ٹرمپ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ ’ابھی اپنا داؤ کھیلنے‘ سے ان کی کیا مراد ہے، تاہم اس سے پہلے وہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے اور ایران کو ’پتھر کے دور میں‘ واپس دھکیلنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا: ’دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے وہ (ایران) بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ مزید کہتے ہیں کہ اگر وہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران جوہری ہتھیار بنا چکا ہوتا۔

  20. امریکی ناکہ بندی کے باوجود دو ایرانی جہاز بندرگاہ سے روانہ, الیكس مرے، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تجزیہ کیے گئے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے جہاز روانہ ہو رہے ہیں۔

    بظاہر 13 اپریل کو کارگو جہاز اشکان 3 ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا تھا۔ چابہار کی بندرگاہ آبنائے ہرمز سے سینکڑوں کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ جہاز اس وقت پاکستان کے قریب مشرق کی جانب سفر کر رہا ہے۔

    ایک اور کنٹینر شپ شابدیث بھی 13 اپریل کو چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا۔ امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد اس نے بھی مشرق کی سمت سفر شروع کیا اور اب انڈیا کے قریب ہے۔ یہ جہاز اپنی منزل چین کے شہر ژوہائی کو ظاہر کر رہا ہے۔

    ناکہ بندی کے آغاز کے بعد ان دونوں جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور نہیں کی۔ دونوں جہاز ایرانی پرچم تلے سفر کر رہے ہیں۔