آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاسدران انقلاب کا اسرائیل کے تین کروز میزائل، 10 ڈرونز اور درجنوں یو اے ویز تباہ کرنے کا دعویٰ، تہران کا آئل ڈپو اور اسرائیل میں حیفا ریفائنری حملوں کا نشانہ بنے

ایران کی پاسدران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران کے حملوں میں بھی شدت آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’مستقبل قریب میں آپ اسرائیلی طیارے، اسرائیلی ایئر فورس، ہمارے پائلٹوں کو تہران کی فضا میں دیکھیں گے۔‘

خلاصہ

  • اسرائیل ایران میں ہر 'سائٹ' اور 'ہدف' کو نشانہ بنائے گا: نتن یاہو
  • 'پاکستان ایران اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے': شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو
  • اسرائیل کا دفاع کیا تو پھر خطے میں فوجی اڈوں کا نشانہ بنائیں گے: ایران کی برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو تنبیہ
  • ایران اور اسرائیل کے درمیان سنیچر کی صبح فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا جس دوران تل ابیب اور یروشلم میں ایئر ریڈ سائرن بجنے اور تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
  • ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیلی حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے
  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز کے اسرائیلی حملوں کے جواب میں دشمن کو ’کاری ضربیں‘ لگانے کا اعلان کیا ہے
  • ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کو آپریشن ’وعدہِ صادق 3‘ کا نام دیا ہے
  • ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک اور چالیس افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے
  • ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی شہری ہلاک ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسرائیل کو ’سخت ترین سزا کا انتظار‘ کرنا چاہیے: ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور متعدد فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کو ’سخت ترین سزا کا انتظار‘ کرنا چاہیے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے ’آج ہمارے پیارے ملک میں ایک جرم کا ارتکاب کیا اور اس کی مسلح افواج کو اس کی سزا دی جائے گی۔‘

  2. ’اسرائیل نے ایران کی سینیئر قیادت کو بے مثال نقصان پہنچایا‘, سیبسچیئن اشر، تجزیہ کار برائے مشرق وسطیٰ

    اسرائیل کا ایران پر حالیہ حملہ نہ صرف گزشتہ برس کی دو سابقہ ​​فوجی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور شدید رہا بلکہ اسرائیل نے کچھ ایسی حکمت عملی بھی اختیار کی جو گذشتہ برس نومبر میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی میں استعمال کی گئی تھی۔

    یہ حکمت عملی صرف ایران کے میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کی نہیں بلکہ ایرانی قیادت کے اہم ارکان کو نشانہ بنانے سے متعلق ہے۔

    حزب اللہ کی سینیئر شخصیات کی ہلاکت کے اس گروپ کی جوابی کارروائی کی صلاحیت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

    تہران سے موصول ہونے والی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مخصوص عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ مناظر بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں سے مماثلت رکھتے ہیں، جن میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    تاہم ایران میں حسن نصر اللہ جیسی کوئی بڑی شخصیت نہیں ماری گئی۔

    سپریم لیڈر خامنہ ای کو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف، مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری سمیت ملک کے سینیئر سائنسدانوں کو ایک ایسے آپریشن کے پہلے چند گھنٹوں میں ہی ہلاک کر دیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ کئی دن تک جاری رہے گا۔

    ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران کی طرف سے اس سے زیادہ سخت ردعمل کی ضرورت ہو گی جتنا ہم نے گذشتہ برس دیکھا تھا، جب ایران نے اسرائیل کی جانب بیلیسٹک میزائل داغے تھے مگر ایسے سخت ردعمل کے جواب میں ایران کو بھی شدید جواب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  3. ایران پر اسرائیلی حملوں میں کون کون مارا گیا؟

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ناکام بنانا تھا اور اس میں ایران کی کئی اعلیٰ فوجی شخصیات اور جوہری سائنسدان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے اب تک جن شخصیات کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، ان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

    • حسین سلامی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی نے ایران عراق جنگ کے آغاز پر پاسدارانِ انقلاب میں سنہ 1980 میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جیسے جیسے انھیں فوج میں ترقی ملی ان کے بارے میں یہ مشہور ہونے لگا کہ وہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ انھیں ایران کی جوہری اور عسکری پروگرامز میں شمولیت کے باعث اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا رہا۔
    • محمد باقری: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ میجر جنرل محمد باقری ایران کی اعلیٰ ترین فوجی شخصیت تھے۔
    • فردون عباسی اور مہدی تہرانچی: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایرانی جوہری تنظیم کے سابق سربراہ اور سائنسدان فردون عباسی جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک آزاد یونیورسٹی کے صدر مہدی تہرانچی بھی شامل ہیں۔
    • اس کے علاوہ ایران کے سرکاری میڈیا نے اسرائیلی حملے میں خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر غلام علی راشد کی ہلاکت کی تصدیق بھی ہے۔
  4. ’نطنز کے مقام پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا‘

    اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح اسرائیلی حملوں میں نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

    آئی اے ای اے نے مزید کہا تھا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ نطنز کی سائٹ پر تابکاری کی سطح کے ساتھ ساتھ ایران میں اپنے معائنہ کاروں سے رابطے میں ہیں۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے دوبارہ اس حوالے سے ایکس پر اپ ڈیٹ دی ہے کہ انھیں ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ نطنز کے مقام پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا جبکہ دوسری جانب بوشہر جوہری پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    یاد رہے کہ نطنز ایران میں یورینیئم افزودگی کا اہم مقام ہے، جو تہران سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ پلانٹ فروری 2007 سے کام کر رہا ہے۔

    نومبر 2014 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جانب سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سہولت کم افزودہ یورینیم بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی، جس سے ایران کے جوہری ارادوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے۔

    نطنز سائبر حملوں اور تخریب کاری کا بھی نشانہ بن چکا ہے، جس میں سٹکسنیٹ کمپیوٹر وائرس بھی شامل ہے، جو سنہ 2010 میں دریافت ہوا تھا اور اس کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی تھی۔

    سنہ 2020 میں اس مقام پر آگ لگ گئی تھی اور ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پس پشت ’سائبر‘ تخریب کاری کی کارروائی تھی۔ سنہ 2021 میں ایران نے اعلان کیا کہ اس سہولت کو ’جوہری دہشت گردی کی کارروائی‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

  5. اسرائیل کا ایران پر حملہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    اگر آپ نے بی بی سی اُردو کی لائیو کوریج کو ابھی جوائن کیا ہے تو اس اہم پیش رفت سے متعلق ان خبروں کا خلاصہ آج کے لیے جاننا ضروری ہے۔

    • اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران کے مختلف مقامات پر ’جوہری اور فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ’ایران کے جوہری پروگرام کے مرکز‘ کو نشانہ بنایا ہے
    • ایران نے ان اسرائیلی حملوں میں اب تک ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اور چند جوہری سائنسدانوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر تقریباً 100 ڈرون داغے گئے جنھیں ہدف پر پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا گیا ہے
    • اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ ان ٹارگٹڈ حملوں کا مقصد ایران سے درپیش ’اسرائیل کی بقا کے خطرہ‘ کو ختم کرنا ہے۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’اگر ایران کو روکا نہ جاتا‘ تو یہ انتہائی کم وقت میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جاتا
    • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے اسرائیل کی ’قبیح فطرت‘ کا پتا چلتا ہے اور یہ کہ ’یہ حملے کر کے اسرائیل نے اپنے لیے تلخ قسمت کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا۔‘
    • ان حملوں کے جوابی ردعمل کے خطرے کے پیش نظر اسرائیل میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے
    • امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اس حملے میں امریکہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کی معاونت فراہم کی گئی
    • ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی ’بھاری قیمت‘ چکانی پڑے گی
  6. بریکنگ, ایران نے اسرائیل کی جانب تقریباً 100 ڈرون داغے ہیں: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا ہے کہ ایران نے ’تقریباً 100 یو اے ویز اسرائیلی سرزمین کی طرف روانہ کیے جنھیں ناکارہ بنا دیا گیا۔‘

    بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے مزید کہا کہ گزشتہ رات کے حملوں میں ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف، پاسدارن انقلاب کے کمانڈر اور ایران کی ایمرجنسی کمانڈ کے سربراہ مارے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے پیش نظر اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

  7. ’عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سے ایران نے اپنی سرزمین پر اس پیمانے کی فوجی کارروائی نہیں دیکھی‘, نفیسہ خونورد، مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار، بیروت

    قطر ایئرپورٹ پر فلائٹ انفارمیشن بورڈ سے پتا چلتا ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ اس کے پڑوسی ملک عراق کے لیے بھی پروازیں یکے بعد دیگرے منسوخ کی جا رہی ہیں۔

    ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی ایئرلائنز سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عراق جانے سے بھی گریز کر رہی ہیں۔

    تہران کے اتحادی ایرانی اور عراقی پیرا ملٹری گروپس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی بھی حملہ، چاہے وہ اسرائیل یا امریکہ کی طرف سے ہو، خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو خاص طور پر عراق میں ’جائز‘ اہداف بنا دے گا۔

    گذشتہ روز میں نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کے ایک مشیر سے بات کی، جنھوں نے مجھے بتایا کہ حکومت، ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے تاکہ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو انھیں جوابی کارروائی سے روکا جا سکے کیونکہ بغداد کسی نئے تنازع سے بچنا چاہتا ہے۔

    محمد شیاع السودانی کے ایک اور خارجہ پالیسی مشیر نے مجھے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ’یہ ویسا نہیں ہو گا جو ہم نے پہلے دیکھا۔‘

    اور وہ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے۔۔۔

    اگرچہ ہم نے ماضی میں ایران اور اسرائیل کو آمنے سامنے آتے دیکھا ہے لیکن ایران عراق جنگ کے بعد سے ایران نے اپنی سرزمین پر اس پیمانے کی فوجی کارروائی کا تجربہ نہیں کیا۔

    یہ تازہ ترین حملہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور سے صرف دو دن پہلے ہوا۔ یہ مذاکرات اتوار کے روز مسقط میں ہونے ہیں لیکن اب غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا اب بات چیت آگے بڑھے گی یا نہیں اور اس بارے میں پیشگوئی کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ اس خطے میں آگے کیا ہونا ہے۔

  8. بریکنگ, نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی تصدیق

    جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح اسرائیلی حملوں میں نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اٹامک انرجی ایجنسی نے لکھا کہ ’ایران میں تشویشناک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    آئی اے ای اے نے مزید کہا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ نطنز کی سائٹ پر تابکاری کی سطح کے ساتھ ساتھ ایران میں اپنے معائنہ کاروں سے رابطے میں بھی ہیں۔

  9. بریکنگ, ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے: ایرانی سرکاری میڈیا

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    میجر جنرل محمد باقری ایران کی اعلیٰ ترین فوجی شخصیت تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی، ایرانی جوہری تنظیم کے سابق سربراہ فردون عباسی اور آزاد یونیورسٹی کے صدر مہدی تہرانچی بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

  10. ڈونلڈ ٹرمپ: ’اسرائیلی منصوبوں کا علم تھا لیکن امریکی فوج نے اس آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ابھی امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں اسرائیل کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا تاہم انھوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج نے اس آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

    امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔

    ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ایران کے پاس ایٹم بم نہیں ہو سکتا اور ہم مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی امید کر رہے ہیں۔‘

  11. شہری فوج کی ہدایات پر عمل کریں: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیلی شہریوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فوج کی ہدایات پر عمل کریں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ شہریوں کو طویل عرصے تک پناہ گاہوں میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کو ’بہت کامیاب‘ قرار دیا لیکن اسرائیل میں اب ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ ہے۔

    رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’محفوظ علاقوں میں رہیں‘ اور حکام کی ’ہدایات پر عمل کریں۔‘

  12. ایران کی جوابی کارروائی کی صورت میں امریکہ اسرائیل کے دفاع کے لیے کیا کرے گا؟, ٹام بیٹمین، بی بی سی نامہ نگار

    امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو فضا میں ایندھن بھرنے کی سہولت کی پیشکش نہیں کریں گے۔ وہ یہ واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل کی اس فوجی کارروائی سے امریکہ الگ ہے۔

    اور ایسا ہی اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کے معاملے میں بھی ہو سکتا ہے، جسے تقریباً یقینی طور پر ایران کی طرف سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اسرائیل میں آج صبح سائرن بج رہے تھے تاکہ شہریوں کو بیدار کیا جا سکے کیونکہ ان کے ملک نے ایران پر حملہ کیا تھا۔

    اس لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے لیے کیا کرے گا؟

    اس بات کا خطرہ ہے کہ چیزیں بہت جلد قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔ آئندہ کچھ گھنٹے اور دن بہت اہم ہیں۔

  13. بریکنگ, اسرائیل نے اپنے لیے ’تلخ قسمت کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا‘: ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے اسرائیل کی ’قبیح فطرت‘ کا پتا چلتا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ اس حملے سے اسرائیل نے اپنے لیے ’تلخ قسمت‘ کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا۔

  14. ایران میں ان حملوں کا کیا ردِ عمل رہا ہے؟

    میں لندن میں رات کو دیر تک بیدار تھا جب مجھے متعدد پیغامات موصول ہوئے جن میں تہران میں میرے جاننے والوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’ہم نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ کیا آپ نے کوئی ایسی رپورٹس دیکھی ہیں؟ کیا یہ ایک بار پھر اسرائیل تھا؟‘

    جن لوگوں کو میں جانتا ہوں وہ دوبارہ سو نہیں پائے اور وہ ایک دوسرے کو ویڈیوز بھیج رہے تھے یا ایک دوسرے سے یہ پوچھ رہے تھے کہ کہ تہران میں ان کے ضلع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس مرتبہ اکتوبر اور اپریل 2024 میں ہونے والے ماضی کے حملوں کے برعکس تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ حملے تہران میں رہائشی عمارتوں پر کیے گئے تھے۔

    انسٹاگرام، فیس بک، ایکس اور دیگر بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایران میں پابندی ہے لیکن لوگ ان تک وی پی اینز کے ذریعے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ایران میں لوگوں نے اس کے سرکاری میڈیا سے زیادہ جلدی ویڈیوز شیئر کیں۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے ان حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صورتحال ’پرامن‘ ہے اور رہائشی علاقوں میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے تاحال ہلاکتوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن سرکاری میڈیا نے امریکہ پر الزام عائد کرنے میں جلدی کی اور دعویٰ کیا کہ وہ بھی اس حملے میں ملوث ہیں جس میں بچے ہلاک ہوئے۔

  15. بریکنگ, اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی ’بھاری قیمت‘ چکانا ہو گی: ایران

    ایران کی مسلح افواج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی ’بھاری قیمت‘ چکانا ہو گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترجمان ابوافضل شیخرچی نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج یقینی طور پر اس صہیونی حملے کا جواب دیں گی۔‘

  16. اسرائیلی حملے کے بعد تہران کے مختلف علاقوں کے مناظر

  17. ہم ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے ’ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا‘ لیکن یہ پروگرام ہے کیا؟

    ایران طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہیں اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کی ایران کے آس پاس متعدد تنصیبات ہیں، جن میں سے کم از کم کچھ کو اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

    لیکن بہت سے ممالک سمیت جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ بھی اس بات پر قائل نہیں کہ ایران کا پروگرام صرف سویلین مقاصد کے لیے ہے۔

    ابھی کل ہی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف پیش کی گئی ایک قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا۔

    گذشتہ ہفتے آئی اے ای اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک خالص یورینیم افزودہ ہے، جو ممکنہ طور پر نو جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

    ایران نے کہا ہے کہ یہ قرارداد ’سیاسی‘ ہے۔

  18. ایرانی پاسدارنِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی ان اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے سب سے سینیئر ایران رہنما ہیں۔

    سلامی نے ایران عراق جنگ کے آغاز پر پاسدارانِ انقلاب میں سنہ 1980 میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    جیسے جیسے انھیں فوج میں ترقی ملی ان کے بارے میں یہ مشہور ہونے لگا کہ وہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں۔

    21ویں صدی کے آغاز کے بعد سے انھیں ایران کی جوہری اور عسکری پروگرامز میں شمولیت کے باعث اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

    وہ اس وقت ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ تھے جب سنہ 2024 میں ایران نے اسرائیل پر پہلا فوجی حملہ کیا تھا جس میں 300 ڈرونز اور میزائل داغے گئے تھے۔

    جب اسرائیل کے ساتھ حالیہ دنوں میں تناؤ میں اضافہ ہوا تو سلامی نے جمعرات کو کہا کہ ایران ’کسی بھی قسم کی صورتحال، واقعات اور حالات کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’دشمن سمجھتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اسی طرح لڑ سکتا ہے جس طرح وہ کسی دفاعی صلاحیت سے محروم فلسطینیوں سے لڑ رہا ہے جو اسرائیلی محاصرے میں ہیں۔ ہم نے جنگیں لڑی ہیں اور ہم تجربہ کار ہیں۔‘

  19. ’ایران فی الحال امریکہ کو اس تنازعے میں نہیں گھسیٹنا چاہتا‘

    ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرنے والے جاوید علی کہتے ہیں کہ فی الحال یہ معلوم نہیں کہ ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات کا کیا ہوگا۔

    واضح رہے کہ ان مذاکرات کا چھٹا دور رواں ہفتے کے آخر میں ہونا تھا۔

    جاوید علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران یہ کہہ چکا ہے کہ اگر اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو وہ امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک ایسا نہیں ہوا لیکن ایسا ہونے کی صورت میں امریکہ کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آئے گا۔‘

    جاوید علی نے مزید کہا کہ ’ایران فی الحال امریکہ کو اس لڑائی میں نہیں گھسیٹنا چاہتا۔‘

  20. اسرائیل کے ایران پر حملے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    اسرائیل نے ایران پر حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ ’یہ حملہ ایران کی جوہری افزودگی کے پروگرام کے دل کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا‘ اور وہ ایسے ’حملے تب تک جاری رکھیں گے جب تک اسرائیل کی بقا کے لیے موجود خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔‘

    اس وقت ایران کے دارالحکومت تہران میں صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہیں اور اسرائیل میں اس وقت صبح کے پانچ بج رہے ہیں۔

    اب تک کی صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • ایران میں صبح کے چار بجے کے قریب دارالحکومت تہران کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
    • اس کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی وزیرِ دفاع نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے ایران پر حملے کر دیے ہیں اور اسرائیل نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، انھوں نے کہا کہ انھیں ’مستقبل قریب میں جوابی حملوں کی توقع ہے۔‘
    • اسرائیل میں لوگوں کی صبح فضائی حملے کے لیے بجائے گئے سائرنز سے ہوئی۔
    • ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے ’ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنانے کا تصدیق کی ہے اور بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران کے پاس اتنا جوہری مواد موجود تھا کہ وہ ’چند دنوں‘ میں ایک جوہری بم بنا سکتا تھا۔
    • تہران کے مرکزی بین الاقوامی فضائی اڈے پر تمام فلائٹس معطل کر دی گئی ہیں جبکہ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق تل ابیب جانے والی پروازوں کو دوسرے ایئرپورٹس پر اتارا جا رہا ہے۔
    • امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے اور اس کی اولین ترجیح خطے میں امریکی فوجیوں کی حفاظت کرنا ہے۔
    • ایرانی سرکاری ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔
    • اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ ایک سینیئر ایرانی جوہری سائنسدان اس حملے میں مارے گئے ہیں۔
    • ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
    • ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایرانی جوہری تنظیم کے سابق سربراہ فردون عباسی اور آزاد یونیورسٹی کے صدر مہدی تہرانچی بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔