قطر ایئرپورٹ پر فلائٹ انفارمیشن بورڈ سے پتا چلتا ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ اس کے پڑوسی ملک عراق کے لیے بھی پروازیں یکے بعد دیگرے منسوخ کی جا رہی ہیں۔
ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی ایئرلائنز سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عراق جانے سے بھی گریز کر رہی ہیں۔
تہران کے اتحادی ایرانی اور عراقی پیرا ملٹری گروپس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی بھی حملہ، چاہے وہ اسرائیل یا امریکہ کی طرف سے ہو، خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو خاص طور پر عراق میں ’جائز‘ اہداف بنا دے گا۔
گذشتہ روز میں نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کے ایک مشیر سے بات کی، جنھوں نے مجھے بتایا کہ حکومت، ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے تاکہ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو انھیں جوابی کارروائی سے روکا جا سکے کیونکہ بغداد کسی نئے تنازع سے بچنا چاہتا ہے۔
محمد شیاع السودانی کے ایک اور خارجہ پالیسی مشیر نے مجھے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ’یہ ویسا نہیں ہو گا جو ہم نے پہلے دیکھا۔‘
اور وہ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے۔۔۔
اگرچہ ہم نے ماضی میں ایران اور اسرائیل کو آمنے سامنے آتے دیکھا ہے لیکن ایران عراق جنگ کے بعد سے ایران نے اپنی سرزمین پر اس پیمانے کی فوجی کارروائی کا تجربہ نہیں کیا۔
یہ تازہ ترین حملہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور سے صرف دو دن پہلے ہوا۔ یہ مذاکرات اتوار کے روز مسقط میں ہونے ہیں لیکن اب غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یہ واضح نہیں کہ آیا اب بات چیت آگے بڑھے گی یا نہیں اور اس بارے میں پیشگوئی کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ اس خطے میں آگے کیا ہونا ہے۔