شمالی اسرائیل میں انتباہی سائرن کی آوازیں
لبنان کے ساتھ اسرائیلی سرحدی علاقوں میں فضائی حملوں سے متعلق انتباہی سائرن بجائے گئے ہیں۔ یہ سائرن عموماً ممکنہ فضائی حملے بشمول راکٹ حملوں سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے بجائے جاتے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کی پاسدران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران کے حملوں میں بھی شدت آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’مستقبل قریب میں آپ اسرائیلی طیارے، اسرائیلی ایئر فورس، ہمارے پائلٹوں کو تہران کی فضا میں دیکھیں گے۔‘
لبنان کے ساتھ اسرائیلی سرحدی علاقوں میں فضائی حملوں سے متعلق انتباہی سائرن بجائے گئے ہیں۔ یہ سائرن عموماً ممکنہ فضائی حملے بشمول راکٹ حملوں سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے بجائے جاتے ہیں۔
صدر ٹرمپ گذشتہ طویل عرصے سے ’نو وارز‘ (یعنی جنگوں سے انکار) کے وعدوں پر اپنی مہم چلاتے آئے ہیں۔
جب انھوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو اعلان کیا کہ وہ یوکرین، روس اور اسرائیل، غزہ جنگوں کا خاتمہ کریں گے، یہ اور بات ہے کہ وہ اب تک ایسا کر نہیں پائے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایران پر حملے کی اجازت نہیں دی، تاہم اگر صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر اُن کی جانب کردہ پوسٹس دیکھی جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں اس حملے سے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کو (جوہری) معاہدہ کرنا ہو گا، اس سے قبل کہ کچھ بھی باقی نہ رہے، اور ایران کو (اس چیز کو) بچانا چاہیے جسے کبھی ایرانی سلطنت کہا جاتا تھا۔‘
یہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ واضح انداز میں اسرائیل، ایران تنازع کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں کہ وہ نیوکلیئر بم بنانے کی اپنی خواہش کو ختم کر دے، مگر اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ ایران ایسا کرے گا۔
مگر ٹرمپ کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل اُن کے اُس حلقے میں واضح تقسیم کا باعث بن سکتا ہے، جو روز اول سے یہ چاہتا ہے کہ ٹرمپ جنگیں ختم کرنے سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں اور دوسرے ملکوں کے معامات میں غیرضروری مداخلت نہ کریں۔
انھیں خدشہ ہے کہ اتحادی اسرائیل کے لیے امریکہ کی غیر متزلزل حمایت ٹرمپ کو جنگوں سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے روک رہی ہے۔
تو وہ اس توازن کو کیسے برقرار رکھیں گے، اور سوال یہ بھی کہ آیا ہو اسے برقرار رکھ بھی سکتے ہیں، اور یہی چیز ٹرمپ کے حامیوں کے لیے اُن کی مدت صدارت کی وضاحت بن سکتی ہے۔
بی بی سی ویریفائی کی ٹیم ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لینے میں مصروف ہے۔ اب تک ہم ایران کے پانچ مختلف مقامات سے سامنے آنے والی فوٹیج کی تصدیق کر سکے ہیں۔
حملوں کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں سے زیادہ تر دارالحکومت تہران سے ہیں۔ تہران کے مختلف علاقوں سے آنے والی ویڈیوز میں رہائشی عمارتوں کو ہونے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔
ایک اور اہم سائٹ نطنز میں ہے، جو دارالحکومت تہران سے تقریبا 220 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، ج یورینیم کی افزودگی کا مرکز موجود ہے۔ نطنز سے آنے والے تین ویڈیوز میں آسمان کی جانب دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تین دیگر علاقے ہیں جہاں سے ملنے والی فوٹیج کی ہم تصدیق کر پائے ہیں، ان میں پیران شہر، کرمانشاہ اور تبریز شامل ہیں، یہ تمام علاقے ایران کے مغرب میں واقع ہے اور مبینہ طور پر ایرانی فوجی تنصیبات کے مقامات ہیں۔
ایران میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ’نور نیوز‘ کا کہنا ہے کہ جمعہ کی علی الصبح تہران میں کیے گئے اسرائیلی حملوں میں 78 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوئے ہیں۔
نور نیوز نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر یہ خبر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اعدادوشمار غیرسرکاری ہیں۔
بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ کرے۔
انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر بیان دیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران کے پاس جوہری معاہدے تک پہنچنے کا شاید ’دوسرا موقع‘ ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’دو ماہ قبل میں نے ایران کو 'معاہدہ کرنے' کے لیے 60 دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔ انھیں یہ کرنا چاہیے تھا۔ آج 61واں دن ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ کیا کرنا ہے لیکن اب ان کے پاس دوسرا موقع ہے!‘
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت اتوار کو عمان میں اپنے چھٹے دور میں داخل ہونے والی تھی۔
اس سے قبل ایران نے امریکہ پر اسرائیل کے حملوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا جس کی واشنگٹن نے تردید کی تھی۔
گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران سوشل میڈیا پر شمال مغربی ایران کے شہر تبریز سے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔ نئی ویڈیوز میں شہر کے ہوائی اڈے کے احاطے کے اندر سے سیاہ دھوئیں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے شہر سے آنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کا جائزہ لیا اور بتایا کہ یہ مقام مرکزی ہوائی اڈے کے رن وے کے قریب واقع ہے جہاں فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔
تبریز آج صبح آئی ڈی ایف کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ مشرقی آذربائیجان صوبے کے بحران کے انتظام کے سربراہ نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ شہر میں تین افراد ہلاک ہوئے، صوبے میں 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکے کی وجہ کیا ہے اور شہر بھر سے دھوئیں کے بادل نظر آ رہے ہیں۔
آئی ڈی ایف نے اپنے سرکاری چینلز کے ذریعے جاری آپریشن پر کسی نئے حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
نطنز میں جوہری تنصیبات پر حملہ
اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان نے اسرائیلی حملوں کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ نطنز میں جوہری مقام کو ’بُری طرح نقصان پہنچا ہے‘۔ یہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی کا مرکزی مقام ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے بھی یہاں اسرائیلی حملوں کی تصدیق کی ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب عسکری ایٹمی پروگرام میں پیشرفت کے لیے استعمال کرتے تھے۔‘
’کئی برسوں سے ایرانی حکومت نے کوششیں کیں کہ اس مقام پر جوہری ہتھیار لائے جائیں۔‘
اس نے دعویٰ کیا کہ ہتھیار کے گریڈ کا یورینیئم حاصل کرنے کے لیے اس مقام پر تمام ضروری انفراسٹرکچر موجود تھا۔
ایرانی حکام نے آج انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنس کو بتایا تھا کہ تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
گذشتہ رات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بظاہر ایران پر اسرائیلی حملے سے امریکہ کنارہ کشی اختیار کی۔ انھوں نے کہا کہ ان حملوں میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔
مگر آج صبح صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بظاہر حملے کا جواز دیا اور کہا کہ ایران کو انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ میز پر آ کر بات کرے۔
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ’موقع پہ موقع دیا گیا لیکن وہ کوششوں کے باوجود، قریب آنے کے باوجود، اسے مکمل نہ کر سکے۔‘
پوسٹ میں ایران کو جوابی کارروائی نہ کرنے کا کہا گیا جس سے ان کے بقول امریکی فوج کراس فائرنگ کا نشانہ بن سکتی ہے۔ دریں اثنا روبیو نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی ترجیح امریکی مفادات ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ’معاہدہ کرنا ہوگا‘۔ گذشتہ رات امریکی میڈیا کے بقول حکام کو امید تھی کہ عمان میں سنیچر کو مذاکرات ہوں گے۔
امریکی حکام نے تاحال ان مذاکرات کے مستقبل پر تبصرہ نہیں کیا۔ ٹرمپ آج قومی سلامتی کونسل کے بند کمرے اجلاس کا حصہ ہوں گے۔
شاید آج امریکہ بار بار یہ دہرائے گا کہ اس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ایران کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج پر حملہ کیا گیا تو کڑا جواب دیا جائے گا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق وہ آج صبح اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے تھے تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا دعوی ہے کہ ایرو سپیس فورس کے کمانڈرز اسرائیل پر حملے کی تیاری کے لیے ایک زیر زمین ہیڈکوارٹر میں جمع ہو رہے تھے، جب اسرائیلی فوج نے اس ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔
امیر علی حاجی زادہ سنہ 1962 میں تہران میں پیدا ہوئے اور 1980 میں پاسدران انقلاب میں شامل ہوئے۔ انھیں سنہ 2006 میں ایرو سپیس فورس کا کمانڈر تعینات کیا گیا تھا۔
جنوری 2020 میں تہران کے قریب یوکرین کا ایک جہاز پاسدران انقلاب کے میزائل سے تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حاجی زادہ نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا تھا تاہم اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایرانی حکام کی طرف سے مقرر کردہ کسی بھی سزا کو قبول کریں گے۔
ایران کے سرکاری میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ کچھ گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے ایک بار پھر نطنز میں اہم ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس کمانڈ کے ایک بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے یہ حملے جاری رہیں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اسرائیلی حملوں کو ’اعلان جنگ‘ قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات اقوام متحدہ کو خط میں کہی۔
خط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ’فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے‘ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سب کچھ ختم ہونے سے قبل ایران کو معاہدہ کر لینا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ میں نے ایران کو معاہدے کرنے کے کئی مواقع دیے۔ ’میں نے ایران کو کہا کہ معاہدہ کر لیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اب اس صورتحال کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، آگے ہونے والے حملے زیادہ ہلاکت خیز ہوں گے۔‘
اسرائیل کا کہنا ہے کہ آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔
اب تک کے حملوں میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ اس کے فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے دنوں میں مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 200 طیارے شامل تھے لیکن کچھ رپورٹس ایک ایسے خفیہ عنصر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو یوکرین کے روسی ایئر بیس پر حالیہ ڈرون حملے سے ملتا جلتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اسرائیلی حملے سے قبل‘ دھماکہ خیز ڈرون ایران سمگل کیے گئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان ڈرونز کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل لانچرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی صورت میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
لیکن ایران نے آج ابھی تک جو ڈرون لانچ کیے ہیں وہ زیادہ تر علامتی لگتے ہیں: یہ تہران کے اسرائیل پر گذشتہ برس اکتوبر میں کیے گئے بڑے بیلسٹک میزائل حملے سے بہت کم ردعمل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اسی مہینے کے آخر میں اسرائیل کی جوابی کارروائی نے ایران کے فضائی دفاع، میزائل اور ڈرونز کو نشانہ بنایا، جس سے تقریباً یقینی طور پر ایران کے مستقبل میں ہونے والے حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت میں کمی آئی۔
لیکن اپنے تمام تر سخت بیانات کے باوجود ایران کی براہ راست فوجی جواب دینے کی صلاحیت اب وہ نہیں رہی، جو پہلے تھی۔
اسرائیل نے بہت بڑا جوا کھیلا ہے جسے وہ آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کا نام دے رہا ہے۔ اس کا اصرار ہے کہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ایران پہلے ہی ایٹم بم بنانے کے لیے کام کو تیز کر رہا تھا اور ایران کو ایسا کرنے سے روکنے کا یہ بہترین اور ممکنہ طور پر آخری موقع ہے۔
لیکن ماضی کی نسبت یہ جوابی دلیل آج بہت زیادہ اہم ہو گئی ہے کہ جب اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ختم ہو گی تو کیا ایران کی قیادت میں اتنے لوگ بچ پائیں گے جو ایٹم بم تیار کر سکیں۔
ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ طویل عرصے سے یہ استدلال کرتی رہی ہے کہ یہ ہتھیار حاصل کرنا نہ صرف ان کا قومی حق ہے بلکہ یہ مستقبل میں ہونے والے حملوں کے خلاف بہترین رکاوٹ ثابت ہو گا۔
یقیناً انھوں نے لیبیا اور شمالی کوریا کی طرف سے اختیار کیے جانے والے مختلف راستوں کا احتیاط سے جائزہ لیا ہو گا۔ لیبیا کے کرنل قذافی نے سنہ 2003 میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کر دیا تھا اور پھر مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ عرب سپرنگ کے مظاہروں نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور وہ مارے گئے۔
اس کے برعکس شمالی کوریا میں کم جونگ اُن کی حکومت نے مغربی پابندیوں کی پروا نہیں کی اور بیلسٹک میزائل بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ کسی کو بھی شمالی کوریا پر حملہ کرنے کی جلدی نہیں۔
اطلاعات کے مطابق اردن نے اسرائیل کی جانب داغے گئے متعدد ایرانی ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا۔
اے ایف پی کے مطابق اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’رائل ایئر فورس کے طیاروں اور فضائی دفاعی نظام نے جمعے کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔‘
مسلم ملک اُردن کے دارالحکومت میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سائرن بجنے لگے جبکہ پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ اردن نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گا اور کسی بھی علاقائی تنازع میں ’میدان جنگ‘ نہ بننے کا عزم رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2024 میں اردن نے ایران کی طرف سے اسرائیل پر فائر کیے گئے متعدد ڈرونز اور میزائلوں کو روک دیا تھا۔ اُردن کی جانب سے ایرانی ڈرونز اور میزائل فضا میں مار گرانے کے واقعے کے بعد دنیا کے مختلف مسلم ممالک نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔
تو اردن اسرائیل کی جانب بھیجے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو کیوں مار گراتا ہے؟ بی بی سی نے اس حوالے سے گذشتہ برس ایک تحریر شائع کی تھی، جسے قارئین کے لیے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کا وقت انتہائی حیران کن ہے۔ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اتوار کو ایک ملاقات ہونے والی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آج صبح ہمیں ایران کی طرف سے ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ وہ ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا اور اسرائیلی فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایرانی جوابی کارروائی شروع ہو چکی ہے اور اسرائیل کی جانب 100 سے زیادہ ڈرون بھیجے گئے ہیں۔
تشویش یہ ہے کہ ایران کی طرف سے یہ کسی بڑے ردعمل کا حصہ ہو سکتا ہے: ڈرونز کے بعد میزائل بھی داغے جا سکتے ہیں۔
اسرائیلی حکام کہہ رہے ہیں کہ انھیں حملہ کرنے کے لیے یہ ایک مناسب موقع لگا۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا تھا اور خطے میں ایرانی پراکسیز بالخصوص لبنان میں حزب اللہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اور اب یہ حالیہ حملہ بہت بڑا ہے: جس میں جوہری تنصیبات، فوجی مقامات، فضائی دفاعی نظام، اعلیٰ فوجی حکام اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں اس کے متعدد جوہری سائنسدان ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا میں اب تک جن سائنسدانوں کے نام سامنے آئے ہیں وہ کچھ یوں ہیں: عبدالحمید منوچہر، احمد رضا زلفگاری، سید امیر حسین فقہی، موطبلی زادہ، محمد مہدی تہرانچی اورفریدون عباسی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں نقصانات پر ایرانی عوام سےاظہار ہمدردی کرتا ہوں، خطرہ ہے کہ پہلے سے غیر مستحکم خطہ اس سے مزید غیرمستحکم ہو جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کےلیے اقدامات کرے، کشیدگی مزید بڑھی تو خطے اور عالمی امن کو نقصان پہنچ سکتاہے۔
ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بارے میں قیاس آرائیاں برسوں سے گردش کرتی رہی ہیں لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران ان میں نمایاں طور پر شدت آئی۔ جمعرات کو امریکی میڈیا نے بھی اس بارے میں اطلاع دی تھی۔
اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئے جوہری معاہدے پر بات چیت (جو اپریل سے جاری ہے) کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام جاری رہ سکتا ہے، ایک ایسی چیز جسے اسرائیل کسی بھی صورت قبول نہیں کر سکتا۔
اسرائیل برسوں سے خبردار کرتا آیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے 1990 کی دہائی کے وسط سے اسے ایک مستقل موضوع بنا رکھا ہے۔
دوسری جانب ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی طاقتیں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) اس سے مطمئن نہیں۔ جمعرات کو آئی اے ای اے نے ایران کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی۔
ایران پر حملے کے فوری بعد ہی نیتن یاہو نے کہا کہ ایران نے نظریاتی طور پر نو ایٹمی بم کے لیے مواد تیار کر لیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان آئی اے ای اے کے حالیہ جائزے کے مطابق ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کی ’بقا‘ کو خطرہ ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اب فائدہ اٹھا رہا ہے: ایران نے ابھی تک اپنے فضائی دفاع کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جو اکتوبر میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تباہ ہو گیا تھا اور اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور بھی ہونے والا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا یہ گھناؤنا اقدام بین الاقوامی قانون کی بنیادیں ہلا دینے کے مترادف ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی حملے ناقابل جواز اور قابلِ مذمت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے، یہ اقدام خطے کے امن اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ گھناؤنا اقدام بین الاقوامی قانون کی بنیادیں ہلا دینے کے مترادف ہے، پاکستان ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ’اسرائیل کی غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت کی‘ شدید مذمت کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی فوج کے حملے نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت بلکہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلا ف ورزی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان ایران کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ ان اشتعال انگیزیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے جو نہ صر ف پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے شدید خطرے کا باعث ہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ ’عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائیں۔ اس جارحیت کو فوری طور پر رکوائیں اور جارحیت کرنے والے ملک کا اس کے اقدامات پر محاسبہ کریں۔‘