اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو ایک مدت سے ایران کے جوہری کی صلاحیت کو تباہ کرنے کے خواہشنمند ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایران بھی طویل عرصے سے اس طرح کے حملوں کے لیے تیار تھا۔
آغاز سے ہی اسرائیل نے ایران کے ایئر ڈیفنس کو ہدف بنایا۔ اسرائیلی افواج نے ایسی متعدد ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں میزائل کی بیٹریاں تباہ کی جا رہی ہیں۔
آج سہ پہر کو اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کو تہران تک مکمل فضائی آزادی (برتری) حاصل ہے۔‘
تاہم یہ بات اہم ہے کہ صرف ایئر ڈیفنسز ہی ایران کے بڑے پیمانے پر جاری جوہری آپریشنز کا تحفظ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایران کی بہت اہم ’فیسلٹیز‘ زیر زمین ہیں جن پر مٹی کی کئی تہیں ہیں اور کنکریٹ کا ڈھانچہ ہے۔
مثلاً ’فوردو‘ میں جو ’فیول‘ افزودگی کا پلانٹ ہے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سطح زمین سے تقریباً 80 میٹر نیچے ہے جبکہ تجزیہ کاروں کی رائے میں ’ماؤنٹ کولانگ‘ میں نئی فیسلٹی اس سے بھی گہری یعنی زیادہ زیر زمین ہے۔
اس طرح کے مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے خصوصی بموں کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے GBU-57/B یا ایم او پی یعنی میسو آرڈننس پینیٹریٹر کی ضرورت ہوتی ہے جنھیں عام بول چال میں ’بنکر بسٹرز‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
یہ 30,000 پونڈ وزنی بم تقریباً 60 میٹر مضبوط کنکریٹ کے نیچے دبے اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن امریکہ فی الحال حملوں میں حصہ نہیں لے رہا ہے، اور اسرائیل کے پاس یہ ایم او پی بم ہیں نہیں۔
جہاں تک ان کے پاس موجود سب سے موثر ہتھیار ہیں وہ راکس (آر او سی کے ایس) یا ایئر لورا (ایل او آر اے) ہیں۔ ہوا سے لانچ کیے جانے یہ والے بیلسٹک میزائل جو چھ میٹر تک مضبوط کنکریٹ کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) کے جسٹن برونک کے مطابق ان کے ساتھ کسی بہت زیادہ زیر زمین فیسلٹی پر حملہ کرنے کے لیے ایک ہی مقام پر بہت درست نشانے والے متعدد حملوں کی ضرورت ہوگی۔
ہر سٹرائیک کے ساتھ تقریباً چھ میٹر کنکریٹ تباہ ہو جاتی ہے۔ فردو یا ماؤنٹ کولانگ جیسی اہداف کو نشانہ بنانا ناممکن لگتا ہے۔
ایلون پنکاس، جو دو اسرائیلی وزرائے اعظم کے مشیر رہے نے کہا ہے کہ سادہ سی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس اس ہدف تک کامیابی سے پہنچنے کے لیے مطلوبہ اسلحہ نہیں ہے۔
زیادہ حقیقت پسندانہ آپشن یہ ہوگا کہ داخلے اور خارجی سرنگوں کو نشانہ بنایا جائے، جس سے یہ ’فسیلٹیز‘ ناقابل استعمال رہیں۔
آر یو ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی سہولیات کو کھودنے اور رسائی کو دوبارہ قائم کرنے کی کوششیں ’ممکنہ طور پر تقریباً فوری طور پر شروع ہو جائیں گی‘۔
یہ سب اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں برونک اور دیگر تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کو فوجی ذرائع سے تباہ کرنا ’ممکن نہیں‘۔
بلاشبہ ایران کو اس پروگرام سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے خاص طور پر نمایاں سائنس دانوں کے بڑے پیمانے پر قتل کے ذریعے لیکن جب تک حکومت رہے گی وہ دوبارہ اس پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتی رہے گی۔