آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے اخبارات میں مختصر بالوں والی لڑکی کے رشتے کا اشتہار وائرل
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
اخبارات میں ازدواجی اشتہارات ایسی چیز نہیں کہ جہاں انڈین فیمینسٹ رشتے تلاش کرتے ہوں۔ ان میں سے اکثر کو مذہب اور ذات کے حساب سے پرکھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اس پر بھی فخر کیا جاتا ہے کہ کس کی وضع قطع کیسی ہے، اس کا رنگ کیسا ہے اور قد کتنا لمبا ہے، چہرے کے خدوخال کیسے ہیں اور پھر اکثر اس پر بھی خوب شیخی بھگاری جاتی ہے کہ کمائی لاکھوں میں ہو اور خاندانی جائیداد اور اثاثے بھی ہوں۔
گذشتہ ہفتے انڈیا کے بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والے اخبارات میں کانوں میں چھید اور مختصر بالوں والی ایک صاحب رائے لڑکی کے نام سے ایک اشتہار شائع ہوا، جسے ایک بڑے نفیس اور امیر فیمینسٹ شخص کی تلاش تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ اشتہار انڈیا بھر میں وائرل ہو گیا۔
کامیڈین اداکارہ ادتی متل نے اس اشتہار کو ٹوئٹر پر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی طرف سے اگر کوئی اس پیشکش کو آگے بڑھائے۔
بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح اس اشتہار پر بالی وڈ کی اداکارہ رچا چڈھا نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا تاہم اس اشتہار کے پیچھے کون لوگ ہیں اس متعلق انڈیا میں خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ اشتہار درست بھی تھا۔
اس اشتہار پر جو ای میل درج تھی اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ بظاہر یہ اشتہار ایک بھائی، بہن اور ان کے ایک قریبی دوست کی طرف سے ایک مذاق کیا گیا تھا۔
بی بی سی نے اس اشتہار کے مرکزی کرداروں جن میں ’صاحب رائے‘ فیمینسٹ لڑکی ساکشی، اس کے بھائی سری جان اور ساکشی کے بہترین دوست دمیانتی کا پتا چلا ہی لیا۔
یہ تمام نام فرضی ہیں۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ساکشی کہتی ہیں کہ ہم سب پیشہ ور ہیں جو اپنا کیریئر آگے بڑھا رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آگے ہماری زندگی میں ہمارے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی اور وہ اپنے لیے سوشل میڈیا پر ’خون کے پیاسے‘ متحرک ٹرولز سے اپنے بخیے کرانا پسند نہیں کریں گے۔
سری جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ ایک چھوٹا سا ڈرامہ ساکشی کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا۔
ان کے مطابق 30 برس کا ہونا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے خاص طور پر جب ہمارے معاشرے میں بات شادی سے متعلق ہی کی جاتی ہو۔ ان کے مطابق آپ جیسے ہی 30 کے ہوتے ہیں تو ایسے میں معاشرہ آپ پر یہ دباؤ ڈالنا شروع کر دیتا ہے کہ شادی کرو اور سکون سے معمول کی زندگی گزارنا شروع کرو۔
ساکشی کہتی ہیں کہ وہ سوشل سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ صاحب رائے ہونے کے علاوہ چھوٹے بال پسند کرتی ہیں اور کانوں میں چھید بھی ہیں جبکہ برپر۔فارٹر کے الفاظ ایک فیملی مذاق کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
یہ اشتہار شمالی انڈیا کے شہروں میں فروخت ہونے والے درجن بھر اخبارات کی زینت بنا اور اس پر 13 ہزار کے قریب خرچہ آیا۔ سری جان کے مطابق اتنی رقم ہم لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دنوں کے علاوہ ہونے والی معمول کی تقریبات پر خرچ کرتے۔
ساکشی کہتی ہیں کہ ان کی سالگرہ کے دن سے ایک رات قبل ان کے بھائی نے انھیں اخبار تھمائی۔ جب میں نے اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا تو اس پر ایک ای میل ایڈریس curbyourpatriarchy@gmail.com درج تھا۔ اور ساتھ پاسورڈ بھی تھا۔ ساکشی نے اپنے گھر سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں۔
صبح سری جان نے صبح مجھے اخبار کی ایک کاپی دی، جس کا ازدواجی رشتوں والا صفحہ کھلا ہوا تھا اور اسے پڑھ کر پھر ہم خوب ہنسے۔ یہ سب مذاق میں کیا گیا تھا۔
مگر دوستوں کے درمیان کیے جانے والا مذاق کی دھوم کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا پر سنائی دی۔ ایک سیلیبریٹی نے اس اشتہار کو شئیر کیا اور سینکڑوں نے پھر اس پر تبصرے کرنے شروع کر دیے اور نئے بنائے گئے ای میلز پر درجنوں ای میل موصول ہونا شروع ہو گئیں۔
ان کے مطابق انھیں اس وقت تک 60 سے زائد ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔ ساکشی کے مطابق بہت سی ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے بھی اس اشتہار کو مذاق اور ایک لطیفے کے طور پر ہی لیا ہے۔
ایک شخص نے لکھا کہ وہ اس کا شریک حیات ہو سکتا ہے چونکہ وہ ایک باذوق اور صاحب رائے بالکل بھی نہیں۔ ایک خاتون نے اشتہار کے لیے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا اور کہا میں بھی مطلوبہ شخص جیسی ہی ہوں۔
لیکن انڈیا جیسے ملک میں جہاں مردانگی کا رعب جمایا جاتا ہے اور جہاں اکثر فیمنزم کو ایک غلیظ لفظ سمجھا جاتا ہے اور فیمنسٹس کو غلط پیرائے میں لیا جاتا ہے کہ جیسے وہ بس ایک خاص کام کے لیے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فیمنٹس کو عجیب و غریب اور گالم گلوچ والے میسیجز موصول ہوتے رہتے ہیں۔
ساکشی کو ’سونے کی متمنی‘ اور ’منافق‘ تک کہا گیا کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں مگر پھر بھی ایک امیر خاوند کی تلاش میں ہیں۔ ساکشی کو کہا گیا کہ وہ خود تو 30 برس کی ہیں مگر انھیں جو رشتہ درکار ہے وہ 25 سے 28 برس کے امیر آدمی کا ہے۔ بہت سارے لوگوں نے تو انھیں خود اپنا پیسہ کمانے کے بارے میں مشورہ دیا ہے۔
کچھ لوگوں نے اس کے اشتہار کو ’زہریلا‘ قرار دیا اور یہ کہ وہ خود تو فربہ لگتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ تمام فیمنسٹس بے وقوف ہوتے ہیں۔ ایک خاتون تو اس قدر ناراض ہوئیں کہ انھوں نے دھمکی دی کہ میرا بھائی انھیں یعنی ساکشی کو 78 ویں منزل سے نیچے پھینک دے گا۔
دامیانتی کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جہاں اب بھی 90 فیصد شادیاں ارینجڈ یعنی بغیر پسند کے ہوتی ہیں تو ایسے میں ہر کوئی ایک امیر دولہا چاہتا ہے۔ اس اشتہار میں یہ دیکھنے کے لیے بہت سے لوگوں کو مشتعل کیا گیا اور وہ مشتعل ہو بھی گئے۔
ساکشی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اشتہار نے بہت سے لوگوں کی انا کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کے مطابق آپ ایسی باتیں اونچی آواز میں نہیں کہہ سکتے۔ مرد ہر وقت ایک دراز، سمارٹ اور خوبصورت دلہنیں مانگتے ہیں۔ وہ اپنی دولت کے بارے میں شیخیاں بھگارتے ہیں۔ مگر جب صورتحال بدلتی ہے تو پھر وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک عورت اس طرح کا معیار کیسے طے کر سکتی ہے۔
ساکشی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار اس صورتحال پر ایک طنز تھا اور میرے خیال میں اس اشتہار پر وہی لوگ خفا ہوئے ہیں جنھیں ایسے اشتہارات میں ایسی سمارٹ، خوبصورت بیگمات کی تلاش ہوتی ہے۔
اور جو اس طنز پر بھی مشتعل ہوئے ہیں ان سے ساکشی کا ایک سوال ہے۔ کیا آپ روزانہ اخبارات میں ایسے اشتہارات پڑھنے کے بعد ایسی ای میلز تمام ایسی مطلوبہ دلہنوں کو بھی بھیجتے ہیں جو انتہائی پرکشش اور امیر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ کو یہ پدرشاہی ختم کرنی ہو گی۔