گلِ رعنا کا ڈراموں کی سخت مزاج ساس سے حقیقی ساس تک کا سفر: ’بہو بس اچھی انسان ہو، بدتمیز نہ ہو ‘

گل رعنا
وقت اشاعت

پاکستانی ڈراموں میں ماں یا ساس کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے یا تو ناظرین کے یہ دل جیت لیتا ہے یا ذہنوں پر گہری چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں حالیہ برسوں میں شامل ہونے والی نئی ساس اور ماں اداکارہ گل رعنا بھی ہیں۔

ان کا انداز بیان اور کرداروں کے انتخاب نے انھیں بہت جلد ہر نئے پراجیکٹ کے لیے ضروری بنا دیا ہے۔ آج وہ نہ صرف خود ایک جانی پہچانی اداکارہ بن چکی ہیں بلکہ ان کے بیٹے عاصم اظہر بھی پاکستان کے ایک مقبول گلوکار اور اداکار ہیں۔

’منفی کرداروں کو برا کہیں اداکار کے پیچھے نہ پڑیں‘

اداکارہ گل رعنا کو کئی ڈراموں میں منفی کرداروں میں بھی دیکھا گیا ہے جن میں وہ ظالم ساس کے طور پر بھی دکھائی دیں۔

بی بی سی کے لیے براق شبیر سے بات کرتے ہوئے کا کہنا تھا کہ ناظرین کو منفی کرداروں کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے مداحوں سے بھی ایک شکوہ ہے کہ کردار کو پسند نہیں کرتے تو کردار کی بات کیا کریں اداکار کے پیچھے نہ پڑ جایا کریں۔‘

انھوں نے ماضی کے مشہور ولن مصطفیٰ قریشی اور ایکشن ہیرو سلطان راہی کی مثال دی۔ چیختے چنگھاڑتے کرداروں کی وجہ سے ’مصطفیٰ قریشی سے خواتین ڈرا کرتی تھیں لیکن وہ درحقیقت انتہائی شریف انسان ہیں۔‘

اداکارہ گل رعنا نے بتایا کہ اپنے نئے ڈرامے کے لیے ہدایت کار کے کہنے پر انھوں نے اپنا رنگ سانولا کیا کیونکہ یہ ان کے کردار کی ڈیمانڈ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرداروں کے لیے حلیہ بدلنے پر انھیں اعتراض نہیں لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ کردار کے ساتھ انصاف بہت ضروری ہے۔

عاصم

،تصویر کا ذریعہ@asimazhar

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں عاصم اظہر کی میرب علی سے منگنی ہوئی ہے

حقیقی زندگی میں ساس اور بیٹے کی پہچان سے محبت

اداکارہ گل رعنا نے کے اکلوتے بیٹے عاصم اظہر کی حال ہی میں ایک نو آموز اداکارہ اور مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر میرب علی کے ساتھ منگنی ہوئی ہے۔ عاصم اظہار کی اس سے پہلے اداکارہ ہنیا عامر کے ساتھ خاصی دوستی تھی اور انھیں منگیتر قرار دیا جاتا رہا۔

تاہم اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ان دونوں کے بریک اپ کی خبریں سوشل میڈیا پر بہت دنوں تک گرم رہیں اور دونوں ایک دوسرے کو اشاروں اشاروں میں برا بھلا بھی کہتے دکھائی دیے تھے۔

چونکہ اداکارہ گل رعنا اب باقاعدہ طور پر حقیقی زندگی میں بھی ساس بن گئی ہیں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی زندگی میں ساس بن کر انجوائے کر رہی ہیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ بہو کیسی ہونی چاہیے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’بہو کو ایک اچھی انسان ہونی چاہیے۔‘

اداکارہ گل رعنا کا مزید کہنا تھا کہ کچھ گھروں میں ’بہوئیں صرف کام کرنے کے لیے لائی جاتی ہیں‘ لیکن وہ ایسا نہیں سمجھتیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ایک چیز جو میں برداشت نہیں کر سکتی، وہ ہے بدتمیزی۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’گالی دینا ہی بد تمیزی نہیں ہوتا، آپ کی کوئی ایک چھوٹی سی حرکت بھی بدتمیزی بن جاتی ہے۔‘

’میں نے عاصم کو بھی کہا ہے کہ کسی قسم کی بد تمیزی برداشت نہیں کروں گی۔‘

اداکارہ گل رعنا کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے نئے ملنے والوں میں یہ خوبی نہیں دیکھنا چاہتی، جی ہاں، آج اسے بہت سے لوگ خوبی سمجھتے ہیں کہ ’وہ‘ تو کسی کو بات ہی نہیں کرنے دیتی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ ان کے بیٹے کو لوگ گل رعنا کا بیٹا کہتے تھے تھے۔

لیکن ’اب میں ایک سیٹ پر گئی تو کسی نے کہا عاصم اظہار کی امی آئی ہیں، ڈائریکٹر نے اسے کہا کہ نہیں گل رعنا ہیں ان کی اپنی پہچان ہے، تو میں ان کے پاس گئی اور انھیں بتایا کہ مجھے اپنی نئی پہچان سے محبت ہے۔‘

اداکارہ گل رعنا نے بتایا کہ ان کا ان کے اکلوتے بیٹے عاصم اظہر سے بہت اچھا رشتہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کام کی مصروفیت کی وجہ سے اکثر وہ کام پر جاتی ہیں تو عاصم سو رہے ہوتے ہیں اور جب وہ واپس آتی ہیں تو عاصم اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے ان کے پاس اس مل بیٹھنے کا وقت نہیں ہوتا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’عاصم جتنا بھی مصروف ہوں وہ روزانہ کام سے واپس آ کر میرے کمرے سے ضرور ہو کر جاتا ہے۔‘

گل رعنا

،تصویر کا ذریعہ@asimazhar

،تصویر کا کیپشنعاصم اظہر گل رعنا کے اکلوتے بیٹے ہیں

جو پہلے آیا وہ میرا سینیئر ہے

اداکارہ گل رعنا کو پاکستانی ڈراموں میں آئے بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے اس لیے ان کے خیال میں ان سے پہلے ڈرامہ انڈسٹری میں آنے والے سب اداکار ان کے سینیئر ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’جو پہلے آیا ہے وہ میرا سینیئر ہے بیشک وہ عمر میں مجھ سے کم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ انصاری اور بہروز سبزواری جیسے سینیئر اداکاروں نے ٹیلی ویژن بنایا ہے اور وہ ان کی بہت عزت کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود کو ان کی لائن میں لگنا تو دور کی بات انھیں دور سے ہی دیکھتی ہوں۔ ان کے ساتھ کام کرنا ہو تو بھی مجھے یہ احساس رہتا ہے کہ وہ کون ہے اور میں کون ہوں۔‘

’اگر ایک جیسا کام کرنے کو ملے تو بھی میں یہ محبت کے ساتھ کرتی ہوں۔‘

گل رعنا کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ عظمی گیلانی کی جگہ انھیں ایک کردار کی پیشکش ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کو ایک نیچرل اداکارہ کہا جاتا ہے تو اس سوال پر ہنستے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سچ بتاؤں تو جب پہلی بار میں نے سیٹ پر کام کیا تو مجھے یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ کیمرہ کہاں ہے اس لیے میں کیمرہ کانشیئس ہی نہیں ہوئی میرے لیے لاعلمی رحمت بن گئی۔ لوگوں کو لگا یہ تو نیچرل اداکارہ ہے۔‘

تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’اپنا کام ایمانداری سے کرنا چاہیے وہ ایک میک اپ آرٹسٹ ہو، اداکار ہو یا کھانا بنانا ہی کیوں نہ ہو۔‘

گل رعنا

،تصویر کا ذریعہ@asimazhar

،تصویر کا کیپشنگل رعنا کہتی ہیں کہ مجھے عاصم اظہر کی ماں کہلائے جانے سے محبت ہے

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا اور سیاست

اداکارہ گل رعنا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قصہ سناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایک پرانا فون تھا جسے وہ استعمال کرتی تھیں۔ پھر ایک دن ان کے بیٹے عاصم اظہر نے انھیں فون لے کر دیا جس پر وہ سوشل میڈیا استعمال کر سکتی تھیں۔

انھوں نے کہا ’میں ایک ماں ہوں اور اپنے بیٹے کے خلاف کوئی چیز برداشت نہیں کر سکتی ، ایک کمنٹ پر میں نے کہا تم نے اپنی شکل دیکھی ہے، اس کے علاوہ بھی میں نے کچھ لوگوں کو سوشل میڈیا پر جواب دیا، تھوڑی دیر میں عاصم کی کی آواز آئی کہ امی کیا کر رہی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے بھولا بننے کی ایکٹنگ کی تو عاصم نے ڈانٹا کہ کس کو جواب دے رہی ہیں؟ اور منع کیا۔ اس کے بعد میں نے پھر کمنٹس نہ کبھی پڑھے اور نہ کبھی ان کا جواب دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سوشل میڈیا کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان کی نجی زندگی پر بات نہ کرںی تو وہ خود ہی تو ہر بات سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں۔

گل رعنا اپنی بہو میرب علی کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہ@Meruub

،تصویر کا کیپشنگل رعنا اپنی بہو میرب علی کے ساتھ

اداکارہ گلِ رعنا صرف اداکارہ ہی نہیں ہیں بلکہ وہ سیاست کے میدان میں بھی اتر چکی ہیں۔ انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد چونکہ سیاست سے تعلق رکھتے تھے اس لیے گھر پر ان کے آنے والے دوستوں سے مل کر انہیں ہمیشہ اچھا لگتا تھا اور اسی کا ان کی شخصیت پر اثر پڑا۔

انھوں نے نہ صرف انتخاب لڑا بلکہ سینیٹر کی سیٹ کے لیے بھی اپلائی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاست جاری رکھیں گی تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ضروری نہیں کہ آپ کو عہدہ ملے تو ہی آپ کریں۔‘