کیوِن لی: چین کی حب الوطنی پر مبنی فلموں میں ولن کا کردار ادا کرنے والا برطانوی اداکار

،تصویر کا ذریعہKevin Lee
- مصنف, گریس ٹوسی اور یِٹزِنگ وانگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
گولی چلنے کی آواز آتی ہے۔ خون میں لت پت کیون لی زمین پر گر پڑتے ہیں۔
فلم ایک چینی بلاک بسٹر میں کیون کے لیے ایک اور سنگ میل۔
ادھر اپنے ملک میں یہ برطانوی اداکار غیر معروف ہے۔ لیکن چین میں وہ ایک مانوس چہرہ بن گئے ہیں اور ہمیشہ ولن کا کردار ادا کرتے ہیں، جو یا تو مارا جاتا ہے یا مارا پیٹا جاتا ہے، اس کی ہر بار چینی ہیرو کے ہاتھوں شکست ہوتی ہے۔
انھیں چین میں کائیوین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے جیکی چین کی ’کنگ فو یوگا‘ میں ایک کرائے کے قاتل اور فکشن فلم 'سپر می' میں نیلے رنگ کی بلا 'بلیو مونسٹر' کا کردار ادا کیا تھا۔
لیکن انھیں چین میں پچھلے سال کی بلاک بسٹر 'دی بیٹل آف لیک چانگجن' میں امریکی کرنل ایلن ڈی میکلین کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے شہرت ملی ہے جس نے چین کے پسندیدہ ایک 'برے مغربی آدمی' کے تصور کو پہلے سے زیادہ ذہنوں میں مضبوط کر دیا ہے۔
لی نے ایک حالیہ انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ میں چین میں سب سے زیادہ مطلوب غیر ملکی اداکار بن گیا ہوں۔'
وہ ملاقات جس نے زندگی بدل دی
برطانیہ میں کیمبرج شائر کے ایک قصبے ہنٹنگڈن میں پلے بڑھے کیون لی چینی مارشل آرٹ فلمیں دیکھنا پسند کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جیکی چین ان کا 'سب سے بڑا ہیرو' تھا۔
دو دہائیوں پہلے آئی ٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے فوراً بعد انھوں نے شمال مشرقی چین کے ایک چھوٹے سے قصبے موڈان جیانگ میں پورے ایک سال مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کا چین کا پہلا سفر تھا، اور وہ بمشکل چینی زبان 'مینڈارن' بول سکتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ واپسی پر انھیں سیلز مین کی نوکری مل گئی لیکن انھیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ وہ واقعی ایک اداکار بننا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ایکٹنگ سکول سے ڈرامہ کی تعلیم حاصل کی، پھر سنہ 2010 میں چین واپس چلے گئے۔
لیکن چین کی فلم انڈسٹری میں قسمت زیادہ چمکی نہیں۔ پھر سنہ 2013 میں ایکشن سپر سٹار وو جِنگ کے ساتھ انھیں موقع ملا تب سے وہ چین میں قوم پرست فلموں میں ایک ولن کی حیثیت سے ایک معروف اداکار بن گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKevin Lee
لی کہتے ہیں کہ وہ بیجنگ میں پبلک سکیورٹی بیورو میں اپنے ویزے کی تجدید کرانے گئے تھے جب وہاں لفٹ میں انھیں مسٹر وو نظر آئے اور وہ ان کے پاس بھاگے ہوئے گئے۔ ان کے مطابق وہ فلمی ستاروں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صرف ایک رات پہلے ہی لی نے مسٹر وو کی ایک فلم دیکھی تھی۔
لی نے کہا کہ 'میں ان کے پاس چلا گیا۔ میں نے کہا ’ارے، آپ وو جینگ ہیں، ٹھیک ہے؟‘
وہ بتاتے ہیں ’میں نے یہ سب کچھ چینی زبان میں کہا۔'
لی کے مطابق مسٹر وو حیران ہوئے اور کہا کہ انہیں آنے والی ایکشن فلم میں اداکاری کے لیے ایک 'بڑے' آدمی کی ضرورت ہے۔
دو ہفتے بعد، وہ آڈیشن کے لیے گئے۔ وہ چینی زبان میں اپنی مکالموں کی ادائیگی میں ہچکچائے لیکن مسٹر وو نے انھیں فلم میں ایک کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔
یہ پیشکش ان کے کیریئر کا بہت بڑا موڑ ثابت ہوئی کیوں کہ وہ فلم ایکشن فرنچائز سیریز 'وولف واریر' (Wolf Warrior) کی پہلی فلم تھی۔
'حب الوطنی‘ میں مبنی فلمیں
سنہ 2014 میں چینی رہنما شی جن پنگ نے فنکاروں پر زور دیا تھا کہ وہ 'حب الوطنی کو ادبی اور فنکارانہ تخلیق کا بنیادی موضوع بنائیں'۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے بعد 'وولف واریئر' اور اس سے بھی بڑا اس کا سیکوئل 'ولف واریئر 2' سامنے آیا۔ غیر ملکی سرزمین پر چینی فوجیوں کی بہادری کو فروغ دینے والی کہانیوں کے ساتھ لڑائی کے سنسنی خیز مناظر، ان فلموں نے حب الوطنی پر مبنی چینی فلموں کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
پراپیگنڈہ فلموں میں جو کمیونسٹ چین کی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہیں، عام طور پر تاریخی انقلابی لڑائیوں کی کہانیاں دکھائی جاتی ہیں۔
لیکن جیسے جیسے چین بین الاقوامی سٹیج پر زیادہ زور آور ہوتا جا رہا ہے، اس کے فلم سٹوڈیوز نے مضبوط چین کے خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید اعلیٰ پروڈکشنز تیار کی ہیں۔ اعلیٰ معیار کی تیار کردہ ایکشن سے بھرپور فلموں کو 'مین میلوڈی' کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ایسی اصطلاح جو سرکاری حکومتی نظریے کی پیروی کرتی ہے۔
فلموں میں اکثر چین کو ایک عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے جو کچھ بھی کرسکتی ہے کرتی ہے، یا یہ فلمیں مغربی 'سامراجوں' کے خلاف مزاحمت کرنے والے انقلابی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔
ان فلموں میں سے بہت سے ولن والے کردار لی کو دیے جاتے ہیں جس سے انہیں چینی معاشرے میں منفرد مقام حاصل ہوگیا ہے۔
لی نے کہا کہ وہ اپنی نئی کامیابی پر بہت پرجوش ہیں، لیکن اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ انہیں اپنے مداحوں کے ساتھ احتیاط سے چلنا ہے۔ مثال کے طور پر، چنگجن کی جنگ میں، انھوں نے ایک امریکی کرنل کا کردار ادا کیا جس کے فوجیوں نے کوریا کی جنگ کے دوران چینی افواج سے جنگ کی تھی۔
'میرے لیے اس فلم میں اداکاری چینی لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک فلم نہیں ہے، کیونکہ میں اس فلم میں ایک غیر ملکی ہوں جو بنیادی طور پر چینی فوجیوں کو مار رہا تھا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر برطانوی اداکار کو چین کی پروپیگنڈا فلموں میں حصہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
لی کہتے ہیں 'سچ تو یہ ہے کہ مجھے پرواہ نہیں ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں کیونکہ اداکاری میرا پیشہ ہے، میں صرف ایک اداکار ہوں، میں (چینی) حکومت کے لیے کام نہیں کرتا ہوں۔ میں ایسی تنقید کا صرف ایک مسکراتی ہوئی ایموجی کے ساتھ جواب دیتا ہوں۔'
انہوں نے کہا کہ 'غیر ملکیوں کو (چین میں) مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ چینی مارکیٹ ہے۔'
مغرب میں بھی ایسا ہی ہے۔ اگر آپ ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھیں تو آپ کو کتنے چینی یا ایشیائی اداکار نظر آتے ہیں جو مرکزی کردار ادا کرتے ہیں؟ چینی یا روسی ہمیشہ برے آدمی کا کردار ادا کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہKevin Lee
لیکن ایک چیز جو مسٹر لی کو مایوس کرتی ہے وہ ہے سنسرشپ۔
انہوں نے کہا کہ مغرب میں بننے والی فلموں میں 'ہم اپنے صدر، اپنے وزیر اعظم کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، ہم منشیات کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، ہم گینگز کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ چین میں ان موضوعات پر ایک حد مقرر ہے اس سے زیادہ آپ نہیں لکھ سکتے ہیں۔
'یہاں تک کہ جب فلم کی شوٹنگ مکمل ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ریلیز کیا جائے گا۔ اسے (سینسر کے ذریعہ) جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔'
وہ کہتے ہیں 'اگر چین میں سکرپٹ کے بارے میں تھوڑی بہت لچک کا مظاہرہ کیا جائے اور کہانی میں تنوع ہو سکے تو میرے خیال میں مغربی مارکیٹ میں (اِن فلموں کے) آنے کے زیادہ امکانات ہوں گے۔'

،تصویر کا ذریعہKevin Lee
اگرچے لی چین میں اپنی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ دوسری قسم کے کرداروں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ 'ایک اچھے آدمی کا کردار ادا کرنا اچھا ہوگا، لیکن مجھے یہ قبول کرنا پڑے گا کہ اگر میں یہاں ایک اداکار بننے جا رہا ہوں، تو میں برے آدمی کا کردار ادا کرنے والا ہوں۔'
'(لیکن) اگر میں نے ہمیشہ ایک ہی کردار ادا کیا تو میری اداکاری کی ویڈیوز ایک جیسی نظر آئیں گی۔ ہدایت کار مجھے ایک باصلاحیت اداکار کے طور پر نہیں دیکھیں گے۔
'میرا سب سے بڑا خواب ہے کہ جب میں سڑک پر چل رہا ہوں تو کوئی مجھے روکے اور کہے، کیوِن، تم بہت اچھے اداکار ہو۔'























