پاکستانی ڈرامے میں گھنگریالے بالوں کو ’بدصورتی‘ سے تشبیہ دینے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

Express TV

،تصویر کا ذریعہExpress TV

    • مصنف, ترہب اصغر اور سارہ عتیق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • وقت اشاعت

’سیدھے بال کر کے رکھا کرو کیونکہ گھنگریالے بال تمھیں بدصورت بنا دیتے ہیں۔۔۔ اور میں کسی بدصورت لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور بد قسمتی یہ کہ میری بیٹی نے بھی تم سے یہ بال وراثت میں لے لیے ہیں۔‘

یہ جملے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل پر چلنے والے ایک ڈرامے کے ہیں جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کرتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد گھنگریالے بالوں والے کئی خواتین اور مرد اپنے سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں شیئر کر رہے ہیں۔

بیشتر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ خواتین کی خوبصورتی کے معیار میں گورا رنگ، لمبا قدر، پتلی لڑکی کے بعد کیا اب بالوں کی اقسام بھی خوبصورتی کا معیار طے کرتی ہیں۔

گھنگریالے بالوں والی لڑکیوں کو چڑیا کا گھونسلہ، نوڈلز، پھٹے بالوں والی وغیرہ نہ جانے کیا کیا کہا جاتا ہے، مگر جو سوال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ’تم ان بالوں کو کنگھی کیسے کرتی ہو؟‘

خیر یہ ساری باتیں تو ایک طرف لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان بالوں کو پسند کرنے والے لوگوں کی تعداد بھی کافی بڑی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان بالوں کو اصلی حالت میں زیادہ پسند کرتے ہیں اور کچھ ان کو سیدھا کرنے میں محنت لگاتے ہیں۔

اس تمام تر بحث کو اگر ہم دوسری نظر سے دیکھیں تو یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہمارا میڈیا خواتین کے لیے خوبصورتی کے معیار طے کرتا ہے؟ اور کیا واقعی خواتین ٹی وی پر نظر آنے والے مواد سے متاثر ہوتی ہیں؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہوگا نہ پرانا‘ جیسے گانے ہوں یا رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہار جس میں سانولی لڑکی کو اس وقت تک اچھی نوکری، سکالرشپ اور جیون ساتھی نہیں ملتا جب تک وہ رنگت گورا کرنے والی کریم استعمال کر کے گوری نہیں ہو جاتی۔

یہی تقریباً ہر شمپو کے اشتہار میں دیکھایا جاتا ہے کہ اس شیمو کے استعمال سے بال اور خوبصورت ہو جائیں گے۔

اشتہارات، ڈراموں اور فلموں میں بتائے جانے والے خوبصورتی کے معیار بے معنی نہیں ہوتے بلکہ ان کا انسانی نفسیات پر بھی بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں کی جانے والے تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ میڈیا میں بتائے جانے والے خوبصورتی کے معیار جیسا کہ گوری رنگت، لمبے سیدھے ریشمی بال، باریک ناک، گلابی ہونٹ وغیرہ کا دیکھنے والوں پر بہت اثر ہوتا ہے۔

اس کی وجہ سے انفرادی اور معاشرتی سطح پر یہ سوچ پروان چڑھتی ہے کہ ایک شخص میں اگر یہ خصوصیات ہیں تب ہی وہ خوبصورت ہے ورنہ نہیں۔

تو جن لوگوں میں یہ خصوصیات نہیں تو ان کا کیا؟

تحقیق کے مطابق ان خصوصیات کا نہ ہونا پھر لوگوں میں احساس کمتری کا باعث بنتا ہے اور وہ خود میں ان خصوصیات کو لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے تاکہ وہ بھی اس معیار پر اترتے ہوئے دنیا کی نظر میں خوبصورت لگ سکیں۔

بائیو مڈ سنٹر کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس میں پاکستانی نوجوانوں کی اپنے جسمانی خصوصیات سے متعلق رائے پر میڈیا کس قدر اثر انداز ہوتاہ ے کہ تعین کیا گیا۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جو نوجوان مرد اور خواتین میڈیا پر چلنے والے مواد کو زیادہ دیکھتے تھے ان میں اپنی جسمانی خصوصیات سے زیادہ غیر مطمئن تھے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میڈیا کے جانب سے خوبصورتی کے ایسے غیر یقینی معیار متعین کیے جانے کی وجہ سے جب لوگوں میں احساس کمتری پیدا ہوتی ہے تو اس کا فائدہ بیوٹی انڈسٹری کو ہوتا ہے اور لوگ رنگت گوری کرنے والے کریم استعمال کرتے ہیں، بالوں کو سیدھا چمکدار بنانے کے لیے طرح طرح کے شیمپو اور مختلف مصنوعات لگاتے ہیں۔

میڈیا کے اس کردار سے واقف اب بہت سے اداکار اور شوبز کی شخصیات نے خوبصورتی کے اس معیار کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا ہے اور وہ اپنے فینز کو بھی یہی بتاتے نظر آتے ہیں کہ جو شخص جیسا ہے وہ ویسا ہی خوبصورت ہے انھیں میڈیا اور معاشرے کے جانب سے طے کیے گئے خوبصورتی کے معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس میں مشہور فلم ٹائیٹینک کی اداکارہ کیٹ ونسیلٹ بھی شامل ہیں جنھوں نے جوان لگنے کے لیے کوئی سرجری کروانے سے انکار کر دیا۔

اسی طرح جنوبی کوریا میں جب ٹی وی اینکرز نے خوبصورتی کے ان معیاروں کو جھٹلانا شروع کیا تو وہاں کی خواتین بھی اس ملک گیر تحریک کا حصہ بنیں اور انھوں نے کاسمیٹکس کا استعمال رد کرنا شروع کر دیا۔

تاہم بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستانی ڈراموں فلموں اور گانوں میں آج بھی خوبصورتی کے انھی مصنوعی معیار کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آج بھی پاکستان کی بیوٹی انڈسٹری اس سے پیدا ہونے والی احساس کمتری سے منافع کما رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

Express TV

،تصویر کا ذریعہExpress TV

ماضی میں بھی کئی ایسے اشتہارات اور مصنوعات سامنے آتی رہی ہیں جو امتیازی رویے کا احساس دلاتی ہیں۔

جیسا کہ ایک رنگ گورا کرنے والی کریم کا نام حالیہ سالوں میں اس لیے تبدیل کیا گیا کیونکہ اس پر تنقید کی جاتی تھی کہ اسے گورے رنگ اورخوبصورتی سے جوڑا جاتا تھا۔

اسی طرح نجی ٹی وی پر چلنے والے اس ڈرامے کے کلپ پر بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

جیسا کہ ندا خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ گھنگریالے بالوں پر مضحکہ خیز ڈرامہ کلپ پر میرا رد عمل یہ ہے کہ مصنف کی تصویر کو عام کیا جائے۔

’میں اس کے بال دیکھنا چاہتی ہوں۔ مرد کسی نہ کسی طرح خواتین کو غیر محفوظ محسوس کروانے اور ان کی شکل کا دفاع کرنے کے کلچر کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔‘

نادیہ نقی نے لکھا کہ رائٹرز، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کو اپنے اندر جھانکنا چاہیے، وہ ریٹنگز کے لیے پدرسرانہ ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں، یا مجھے کہنا چاہیے کہ وہ اسی پر یقین رکھتے ہیں۔

NadiaNaqi

،تصویر کا ذریعہ@NadiaNaqi

اینکر اور صحافی ابصا کومل نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ گویا 'گوری رنگت' کا ہمارا قومی جنون کافی نہیں تھا، اب ہم ’گھنگریالے بالوں‘ پر خواتین کو شرمندہ کر رہے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں کہ یہ کیسا مواد ہے؟

صائمہ مرتضیٰ نے لکھا ’میرے خیال میں یہ یہ بدسلوکی کی ایک شکل ہے۔ یہ ہماری ثقافت میں بہت عام ہے اور لڑکیاں اپنے سسرال والوں، اپنے شوہر اور بعض اوقات اپنے گھر والوں کے ہاتھوں بھی ایسی باتیں اور رویے سہتی ہیں۔‘

تاہم افروز کا کہنا تھا کہ متعدد پاکستانی ڈراموں کی یہی حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے وہ پریشان کُن سماجی رویوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ افروز کے خیال میں یہ گھنگریالے بالوں کو ناپسند کرنے کے رویے پر تنقید تھی۔

afrozefz

،تصویر کا ذریعہ@afrozefz