شوبز ڈائری: ’صنفی تعصب مردوں میں ہی نہیں عورتوں میں بھی ہوتا ہے‘

ودیا بالن

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنودیا بالن فلموں سے پہلے ایک مشہور ٹی وی سیریل کا حصہ رہی ہیں
    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت

’صنفی تعصب عورتوں کے ساتھ مردوں کے مخصوص رویے کا نام نہیں بلکہ ایسی کچھ عورتوں کی ذہنیت بھی ہے جو انھیں وراثت یا پرورش سے ملتی ہے۔ انڈسٹری میں مجھے مردوں ہی نہیں بلکہ عورتوں کی جانب سے بھی صنفی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب میں لڑکی ہونے کی وجہ سے احساسِ کمتر کا شکار تھی۔‘

یہ الفاظ اداکارہ ودیا بالن کے ہیں جنھیں آجکل بالی وڈ کی شیرنی کہا جا رہا ہے اور جن کی فلم 'شیرنی' ابھی ابھی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہوئی ہے۔

ایک آن لائن پورٹل کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں ودیا بالن نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ صنف کی بنیاد پر تعصب صرف مردوں میں نہیں بلکہ خواتین میں بھی ہوتا ہے اس حوالے سے انھوں نے اپنی خود کی مثال دی کہ کس طرح ان میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔

ودیا کا کہنا تھا انھوں نے آہستہ آہستہ اس سے باہر نکلنے کی کوشش کی اور یہ طے کیا کہ وہ خود کو صرف اس لیے خاموش نہیں رکھیں گی کیونکہ وہ ایک عورت ہیں۔

فلم شیرنی میں ودیا بالن محکمہ جنگلات کی ایک بڑی افسر کا کردار نبھا رہی ہیں جسے ہر قدم پر جنسی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کس طرح وہ خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ودیا بالن نے عورتوں کے مرکزی کردار والی کئی کامیاب فلمیں کی ہیں۔ جن میں ڈرٹی پکچر، کہانی، نو ون کل جیسیکا اور بیگم جان جیسی فلمیں شامل ہیں۔

ودیا بالن

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنفلم ڈرٹی پکچر میں ودیا کی اداکاری کی کافی تعریف ہوئی تھی

’آئی ایم نو مسیحا‘

اداکاری کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق میں مصروف سونو سود کوو کے دوران بہت سے لوگوں کے لیے ریئل لائف ہیرو بن گئے ہیں اصل زندگی میں انھوں بقول کچھ لوگوں کے ایک مسیحا کا کردار ادا کیا اب لوگوں کو اینٹرٹین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حال ہی میں سونو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ سائیکل پر سوار ہو کر عام لوگو ں کے لیے بریڈ اور انڈے فروخت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سونو سود

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنسونو سود فلموں کے لیے کم اور لوگوں کی مدد کے لیے زیادہ مشہور ہو رہے ہیں

سونو کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کی چلتی پھرتی سپر مارکیٹ ہے اور ساتھ ہی سمال بزنس یعنی چھوٹے کاروبار کی سپورٹ پر بھی زور دیا۔ سونو نے انڈیا کے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران سینکڑوں مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچنے میں مدد کی اور دوسری لہر میں ہسپتالوں کو آکسیجن، طبی آلات اور لوگوں کے لیے ہسپتالوں میں بیڈ مہیا کرائے۔

کچھ لوگو ں نے انھیں مسیحا کہا۔ سونو نے اپنے ان تجربات پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے'آئی ایم نو مسیحا۔‘

’اب ہندی فلم کا فارمولا تبدیل ہو رہا ہے‘

پرینکا چوپڑہ کا کہنا ہے کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم نے انڈسٹری میں نہ صرف مختلف نظریہ اور کہانیوں کو موقع دیا ہے بلکہ چند لوگوں کی اجاراداری کو ختم کرنے میں مدد کی ہے۔

پرینکا کہتی ہیں کہ اب ہندی فلم کا وہ فارمولہ تبدیل ہو رہا ہے جس کے تحت فلم میں پانچ گانے، فائٹنگ کے کچھ مناظر اور ہیرو ہیروئن ہوا کرتے تھے۔

پرینکا چوپڑہ

،تصویر کا ذریعہRich Fury

،تصویر کا کیپشنپرینکا چوپڑہ نے فلم'وائٹ ٹائگر کے ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ڈبیو کیا ہ

پرینکا نے کچھ عرصے قبل ہی فلم 'وائٹ ٹائیگر کے ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ڈبیو کیا ہے۔ امریکہ میں ذی فائیو کے لانچ کے موقع پر ورچوئل پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے پرینکا کا کہنا تھا ان پلیٹ فارمز کی وجہ سے چند لوگوں کی اجارہ داری ختم ہوئی ہے اور نئی کہانیوں، نئے ٹیلنٹ اور نئے خیالات و نظریات اور نئے فلمسازوں کو آگے آنے کا موقع مل رہا ہے اور لوگ ایک مختلف انداز کے سنیما کا تجربہ کر رہے ہیں۔

او ٹی ٹی کی بڑھتی مقبولیت کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کووڈ کے سبب اس میڈیا کا پھیلاؤ عارضی ہے اور سنیما حال میں لوگوں کے فلم دیکھنے کے تجربے کا متبادل نہیں ہو سکتا جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے تفریحی دنیا کا مستقبل اب او ٹی ٹی ٹی پلیٹ فارم ہی ہیں۔