’بے بی شارک‘ سات ارب سے زیادہ ویوز کے ساتھ یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو بن گئی

بے بی شارک

،تصویر کا ذریعہPinkFong/Youtube

وقت اشاعت

بچوں کے لیے بنایا گیا گانا ’بے بی شارک‘، جو کہ اپنی ذہن میں سما جانے والی دُھن کی وجہ سے مشہور ہے، یوٹیوب پر آج تک کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو بن چکا ہے۔

جنوبی کوریا کی کمپنی پنک فونگ کا ریکارڈ کیا گیا یہ گانا اب تک سات ارب سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

اس سے پہلے یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی گئی ویڈیو کا ریکارڈ ’دیسپاسیتو‘ نامی گانے کے پاس تھا جسے لاطینی گلوکار لوئی فونسی نے گایا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بے بی شارک نامی بچوں کے گیت کو 7.04 ارب مرتبہ لگاتار چلایا جائے تو یہ مسلسل 30 ہزار 187 برسوں تک چلتا رہے گا۔

پنک فونگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صرف یوٹیوب سٹریمنگ سے ہی 52 لاکھ ڈالر (40 لاکھ برطانوی پاؤنڈ) کما چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بے بی شارک کو یوٹیوب کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز میں سرِفہرست بننے میں چار سال لگے لیکن درحقیقت یہ گانا اس سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گانا امریکی سمر کیمپس میں 1970 کی دہائی میں وجود میں آیا۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ سنہ 1975 میں تب بنا جب سٹیون سپیلبرگ کی شارکس کے موضوع پر بنائی گئی فلم ’جاز‘ پوری دنیا کے باکس آفسز پر چھا گئی تھی۔

بنیادی تصور میں کئی تبدیلیاں بھی ہیں، جن میں سے ایک ورژن میں سرفر کا بازو شارک کھا لیتی ہے جبکہ ایک ورژن میں مرکزی کردار ہلاک ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی بین الاقوامی ورژنز بھی ہیں جن میں فرنچ اور جرمن زبان میں بنائے گئے گانے بھی ہیں۔

مگر ان میں سے کوئی بھی پنک فونگ کے تصور کی بے مثال کامیابی کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ یہ گانا پنک فونگ کے لیے 10 سالہ کوریائی امریکی گلوکار ہوپ سیگوائین نے گایا اور اسے یوٹیوب پر سنہ 2015 میں اپ لوڈ کیا گیا۔

کسی نشے کی طرح اپنے قابو میں کر لینے والی ’ڈو ڈو ڈو ڈو ڈو ڈو‘ اور مچھلی جیسا رقص جنوبی کوریا میں ایک جنون بن گیا جہاں مشہور بینڈز بشمول ریڈ ویلویٹ، گرلز جنریشن اور بلیک پنک نے اسے اپنے کنسرٹس میں گانا شروع کر دیا۔

رواں برس جون میں پنک فونگ نے ایک اور ویڈیو اپ لوڈ کی جس کا عنوان تھا ’بے بی شارک ڈانس‘، اور اس میں دو پیارے سے بچے یہ ڈانس کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

بچوں کی جانب سے بار بار یہ گانا چلائے جانے کی فرمائش نے بلاشبہ اسے یوٹیوب کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو بنا دیا ہے۔

پنک فونگ کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر جیمی اوہ نے سنہ 2018 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’نرسری رائمز ہمیشہ دھیمی اور پیاری سی ہوتی ہیں، ایسی جو آپ کے بچوں کو سُلا دیں، بے بی شارک کے بالکل الٹ۔‘

بے بی شارک

جیل میں ذہنی اذیت کا دعویٰ

گذشتہ سال پنک فونگ کی سرپرست کمپنی سمارٹ سٹڈی پر بچوں کے نغمہ نگار جوناتھن رائٹ نے مقدمہ کر دیا تھا جنھوں نے سنہ 2011 میں ایسا ہی ایک گانا ریکارڈ کیا تھا اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس تصور کے حقوقِ دانش کے مالک ہیں۔

سمارٹ سٹڈی نے جواب دیا کہ ان کا ورژن ’مل جل کر گانے والی ایک روایتی دھن ہے جو عوامی ہو گئی ہے۔‘

یہ مقدمہ اب بھی کوریائی کاپی رائٹ کمیشن کے زیرِ سماعت ہے۔

گذشتہ ماہ یہ گانا ایک اور تنازع کا شکار ہوا جب امریکی ریاست اوکلاہوما میں تین جیل اہلکاروں پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے اس گانے کے ذریعے قیدیوں کو اذیت دی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق پانچ قیدیوں کو ہتھکڑیاں لگا کر دیوار کی طرف رُخ کر کے دو گھنٹے تک کھڑا رکھا گیا اور انھیں مسلسل بے بی شارک سنوایا گیا۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی ڈیوڈ پریٹر نے کہا کہ اس گانے کو سننے سے ’قیدیوں پر غیر ضروری نفسیاتی دباؤ پڑا جو پہلے ہی ممکنہ طور پر اذیت کے شکار تھے۔‘

مگر اس گانے کا مثبت استعمال بھی ہوا ہے۔

جب ایلیان جبار گذشتہ سال اکتوبر میں غیر متوقع طور پر لبنان میں ایک حکومت مخالف مظاہرے میں پھنس گئیں تو انھیں فکر تھی کہ شور شرابے سے ان کا 15 ماہ کا بیٹا ڈر جائے گا جو کہ گاڑی میں نیند میں سے اٹھ گیا تھا۔

لیکن مظاہرین نے ان کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا اور بچے کو پرسکون کرنے کے لیے بے بی شارک گانا شروع کر دیا۔

بیروت میں ہونے والے اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی اور مظاہروں کے دوران امید کی علامت بن گئی تھی۔