آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مِلند سُمن کا آر ایس ایس کنکشن اور سوشل میڈیا پر ردعمل
انڈیا میں منگل کے روز جہاں ہندوؤں کا تہوار ہولی ٹرینڈ کر رہا تھا وہیں میڈیا میں وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے سیاسی بحران پر بحث و مباحثہ جاری تھا۔
ایسے میں انڈیا کے معروف ماڈل مِلند سُمن کا ٹرینڈ کرنا تجسس سے خالی نہ تھا۔
حال ہی میں ان کی ایک کتاب 'میڈ اِن انڈیا۔ ایک میموائر' شائع ہوئی ہے۔ مصنف روپا پائی کے ساتھ مل کر لکھی جانے والی اس کتاب میں مِلند سُمن نے اپنی زندگی کے تجربات شیئر کیے ہیں۔
سینئیر صحافی برکھا دت کے ساتھ اس کتاب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو وہ راشٹریہ سویم سیوک یعنی آر ایس ایس کی شاکھاؤں (کیمپ) میں شرکت کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا: 'میں ممبئی کے شیواجی پارک میں پلا بڑھا، جہاں بہت سے بچے آر ایس ایس کی شاکھا میں شامل تھے۔ میرے والد بھی شاکھا میں جاتے تھے لیکن میں اور نہ ہی میرے والد سیاست میں شامل تھے۔'
'اس وقت میں تقریبا نو سال کا تھا اور ہم کھیلوں میں حصہ لیتے تھے اور نظم و ضبط میں رہنا سیکھتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں دو تین کیمپوں میں بھی گیا جہاں مجھ جیسے ہزاروں بچے آتے تھے۔ وہاں ہمیں بتایا گیا کہ ہم اچھے شہری اور کس طرح خود کفیل بن سکتے ہیں۔ ان باتوں سے میں اب بھی متفق ہوں۔'
انھوں نے مزید کہا: ہو سکتا ہے کہ اس وقت آر ایس ایس سیاسی نہ رہی ہو اور جب میں شاکھا میں گیا اور لوگوں سے ملا تو مجھے وہ سیاسی نظر نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ وہ سیاسی ہو گئی ہو۔
اپنی کتاب میں آر ایس ایس کے بارے میں لکھنے کی وجہ سے مِلند سُمن منگل کے روز سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتے رہے۔
دیپ ہلدر نامی ایک صارف نے لکھا: 'جیوتیرادتیہ سندھیا اور مِلند سُمن نے بہت سوں کی ہولی خراب کردی۔'
خیال رہے کہ ہولی کے دن کانگرس کے نوجوان رہنما جیوتیرادتیہ سندھیا نے پارٹی سے استعفی دے دیا۔
شیو کرشن ندوواجے نے لکھا: 'اب جب انھوں نے آر ایس ایس کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کہی ہے تو لبرل اب انھیں سنگھی کہیں گے۔'
دھرویش تیواری نے لکھا: 'اس بات سے نکل پانا مشکل ہے۔ اب لبرلز کو حسد ہوگی۔' جبکہ انکیتا سود نے لکھا کہ 'کون کہتا ہے کہ سنگھی کُول نہیں ہوتے، مِلند کو دیکھ لیں۔'
موموگیمبو نامی ایک ٹویٹر ہینڈل نے لکھا: 'مجھے خوشی ہے کہ انھوں نے دنیا سے چھپانے کے بجائے یہ بتانا بہتر سمجھا۔'
سنجنی چوپڑا نے ٹویٹ کیا: 'صرف ملند ہی نہیں، میں کم از کم ایک ہزار کامیاب لوگوں کو جانتی ہوں جو آر ایس ایس کی شاکھا میں گئے تھے یا سرسوتی شیشو مندر میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ کچھ لوگ انھیں نظریاتی طور پر نہیں دیکھتے ہیں اور گفتگو نہیں کرتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں برا بھلا کہتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔'
روچیکا تلوار لکھتی ہیں: 'مجھے مِلند سُمن کے آر ایس ایس کی شاکھا میں جانے کے بارے میں جان کر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میرے والد، چچا اور دادا سکول کے دنوں میں شاکھا کے بارے میں ایسا ہی کہتے تھے۔ ان کی توجہ کھیلوں، ورزش، وطن پرست نغموں اور سماج کی خدمت پر ہوتی تھی۔'
وہ مزید لکھتی ہیں: 'میری دادی کہتی تھیں کہ اس وقت شاکھا میں ایک دوسرے کی مدد اور مسکینوں کی خدمت کرنے کا درس دیتے تھے۔ آج کی آر ایس ایس وہ نہیں جو پہلے ہوتی تھی۔'
مِلند سُمن کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر میں آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں انھوں نے جو ڈسپلن سیکھی اس سے انھیں آج بھی فائدہ ہو رہا ہے۔'
سوشل میڈیا پر مِلند سُمن پر ہونے والے مباحثے پر ندوواجے نے کہا ہے کہ 54 سال کی عمر میں آپ کا اپنے دس سال کی عمر میں ہونے والے تجربے سے متعلق ٹرینڈ کرنا بہت اچھی بات ہے۔
مِلند سُمن نے ٹویٹ کیا: 'کاش میں تیراکی کی وجہ سے زیر بحث آتا، اس وقت میں تیراکی بھی کیا کرتا تھا۔'