’حقیقی میزائلوں اور بموں کی برسات‘ کے دوران بننے والی صدام حسین کی فلم کہاں غائب ہو گئی؟

،تصویر کا ذریعہIraqi Film Corporation
- مصنف, فیونا میکڈونلڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
جولائی 1983 میں فلم ’کلیش آف لوئیلٹیز‘ پہلی بار، اور تقریباً آخری بار، نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ سنہ 2020 میں اس کے پروڈیوسر نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جبری بھرتیوں، تفتیشی دباؤ، نیز مرکزی اداکار اولیور ریڈ کے غیر معمولی رویے سے جڑی کئی چونکا دینے والی تفصیلات بیان کی تھیں۔
صدام حسین کی سرپرستی میں بننے والی اس ہالی وڈ طرز کی فلم کے لیے سب سے بڑا خطرہ 1980 میں شروع ہونے والی ایران عراق جنگ بھی نہیں تھا حالانکہ فلم کی شوٹنگ بغداد کے نواحی صحرا میں اسی کے چند ہفتوں بعد شروع ہوئی تھی۔
ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ فلم میں کام کرنے والے اداکاروں اور عملے کے افراد کو بار بار جنگ میں خدمات دینے کے لیے طلب کیا جا رہا تھا اور وہ اچانک بغیر اطلاع سیٹ سے غائب ہو جاتے تھے۔ اسی طرح پہلی عالمی جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی نقل کو ترکی کی سرحد سے لانے میں پیش آنے والی رکاوٹ بھی فلم کو روک نہ سکی، جب کسٹمز حکام نے ان ٹرکوں کو اس شبہے میں روک لیا کہ یہ اصلی اسلحہ عراقی فوج کے لیے لایا جا رہا ہے۔
تاہم فلم ایک غیر متوقع حیران کن واقعے کے بعد تقریباً دم توڑنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایک ہوٹل کے ریستوران میں مرکزی اداکار اولیور ریڈ نے نشے کی حالت میں ایک خالی شراب کی بوتل میں پیشاب کر دیا تھا۔
عراقی نژاد برطانوی پروڈیوسر لطیف جورفانی نے 2020 میں بی بی سی کے پروگرام ’وٹنس ہسٹری‘ میں یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے ویٹر سے کہا کہ یہ بوتل اگلی میز پر لے جاؤ اور کہو یہ میری طرف سے ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ اس واقعے پر حکام سخت برہم ہو گئے: ’مجھے عراقی وزرا کی جانب سے ٹیلیکس موصول ہوئے جن میں صاف لکھا تھا، اس آدمی کو فوراً نکالو، ہم اسے اب یہاں نہیں چاہتے۔‘
جورفانی کے مطابق اس صورتحال نے انھیں ایک مشکل دوراہے پر کھڑا کر دیا: ’میں ایک ملٹی ملین پاؤنڈ فلم کا پروڈیوسر تھا۔ میں شوٹنگ کے درمیان مرکزی اداکار کو کیسے نکال سکتا تھا؟‘
بالآخر وہ حکام کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اولیور ریڈ کو فارغ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں پوری فلم دوبارہ بنانی پڑتی۔ تاہم یہ مرحلہ انتہائی نازک تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لطیف جورفانی نے اعتراف کیا: ’مجھے اسے بچانے کے لیے پوری طاقت سے لڑنا پڑا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ واقعہ اس فلم کی پروڈکشن کے دوران نظر آنے والے کئی تناؤ بھرے لمحات میں سے ایک تھا۔ اس فلم کی تیاری میں تین برس لگے، اس پر 30 ملین ڈالر، یعنی آج کے حساب سے تقریباً 100 ملین ڈالر، خرچ ہوئے۔ یہ بجٹ تقریباً اسی دور کی فلم ’ریٹرن آف دی جیڈی‘ کے برابر تھا۔
جب یہ فلم بالآخر مکمل ہوئی تو ’کلیش آف لوئیلٹیز‘ کو صرف چند مواقع پر ہی دکھایا گیا۔ جولائی 1983 میں ماسکو فلم فیسٹیول میں اس کا پریمیئر ہوا، جہاں اسے ایک ایوارڈ بھی ملا، مگر اس کے بعد اسے انگلینڈ کے شہر سرے میں لطیف جورفانی کے گیراج میں ڈبوں میں بند کر کے رکھ دیا گیا۔
فلم کا یہ انجام صدام حسین کے عزائم کے بالکل برعکس تھا۔
جولائی 1979 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد صدام حسین نے ایک ایسی فلمی صنعت کا تصور پیش کیا تھا جو مغربی ناظرین کے لیے وطن پرستانہ بلاک بسٹر فلمیں تیار کرے۔
لطیف جورفانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صدام حسین عراق کو بین الاقوامی فلمی پروڈکشن کا مرکز بنانے کے لیے بہت پُرجوش تھے۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ ایک دن بغداد دریائے دجلہ کے کنارے ایک طرح کا ہالی ووڈ بن جائے گا۔‘
صدام حسین نے ایسے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا، جن کا مقصد عالمی سطح پر عراق کی شبیہ کو بہتر بنانا تھا۔ آغاز کے طور پر وہ ایک ہالی ووڈ معیار کی فلم بنانا چاہتے تھے، جو ان کی بعث پارٹی کو 1920 میں برطانوی اقتدار کے خلاف اٹھنے والی عراقی انقلابی تحریک سے جوڑ کر پیش کرے۔

،تصویر کا ذریعہIraqi Film Corporation
’کلیش آف لوئیلٹیز‘ یا ’المسئلہ الکبریٰ‘ میں میسوپوٹیمیا سے جدید عراق کے قیام کی داستان بیان کی گئی اور ایک اداکار نے اسے ’صدام کی لارنس آف عریبیا‘ قرار دیا تھا۔
لطیف جورفانی کے مطابق، ’یہ 1920 کے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔‘
اس قوم پرستانہ تحریک کے دوران برطانوی لیفٹیننٹ کرنل جیرالڈ لیچ مین کو فلوجہ کے قریب ایک باغی نے قتل کر دیا تھا۔
’کلیش آف لوئیلٹیز‘ دراصل صدام کے تصورِ قوم کی ایک شاندار اور علامتی پیشکش تھی، جس میں ایک نئی قومی شناخت کے جنم کو ڈرامائی انداز میں دکھایا گیا۔
لطیف جورفانی، 1950 کی دہائی سے فلمی صنعت سے وابستہ تھے اور مشرق وسطیٰ میں کئی کم بجٹ فلمیں بنا چکے تھے، کو صدام حکومت کے روابط کے ذریعے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پیشکش کی گئی۔
سنہ 1970 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عراق کو حاصل ہونے والی غیر معمولی آمدنی کی وجہ سے مالی وسائل کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
لطیف جورفانی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’بغداد میں ہمارے دوست ایک بڑے عہدیدار کے پاس گئے اور کہا اگر ہمیں بین الاقوامی فلمی صنعت میں قدم رکھنا ہے تو سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ جواب آیا، جو بھی درکار ہو۔‘
بھاری بجٹ والی ’کلیش آف لوئیلٹیز‘ میں ہالی ووڈ طرز کے سیٹ، جدید خصوصی افیکٹس اور سینکڑوں اداکار و تکنیکی عملہ شامل تھا، جنھیں بغداد لایا گیا۔
تاہم اسی دوران صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا، جس نے اس بڑے منصوبے کو ایک غیر متوقع اور خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا۔
لطیف جورفانی نے 2016 کی دستاویزی فلم ’صدام گوز ٹو ہالی ووڈ‘ میں بتایا تھا کہ ’میرے پاس جنگ کے دوران عراق میں 140 لوگ موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو شیپرٹن، پائن ووڈ یا ہالی ووڈ میں کام کرنے کے عادی تھے، نہ کہ ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف حقیقی میزائل اور بم چل رہے ہوں۔‘
جنگی علاقے میں فلم بندی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگ کے آغاز نے پروڈکشن کو کئی عملی مشکلات سے دوچار کر دیا۔
لطیف جورفانی نے 2016 میں بی بی سی کے پروگرام ’آؤٹ لک‘ میں بتایا ’ہمیں فلم کی شوٹنگ روکنی پڑی، مگر اوپر سے ہدایت آئی کہ ایسا تاثر دیا جائے جیسے زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہو۔‘
ان کے بقول عراقی قیادت کا مؤقف تھا، ’سب ٹھیک ہے، یہ صورتحال چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، کام جاری رکھیں، سب کچھ معمول پر آ جائے گا۔‘
دو ہفتوں کے وقفے کے بعد فلم بندی دوبارہ شروع کر دی گئی۔
اگرچہ حکام معمول کا تاثر قائم رکھنا چاہتے تھے، مگر اداکاروں کے مطابق زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ ایک اداکار نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اولیور ریڈ اور دیگر فنکاروں کے ساتھ عراق پہنچ رہے تھے تو عراقی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایک جنگی طیارہ ان کے جہاز کے ساتھ ہو لیا۔ میزائل حملوں سے بچنے کے لیے جہاز کو بغیر روشنی کے لینڈ کروایا گیا۔
مقامی اداکاروں کو اچانک فوجی خدمات کے لیے طلب کیے جانے کے باعث کئی مناظر دوبارہ فلمانا پڑے، جبکہ برطانیہ سے نقلی ہتھیار ترکی کے راستے لانے میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں۔
لطیف جورفانی کے مطابق ’ترک حکام نے کہا، ذرا ٹھہریے، ہم جنگ میں غیر جانب دار ہیں، آپ یہ سامان یہاں سے نہیں لے جا سکتے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی، ’یہ پہلی عالمی جنگ پر بننے والی فلم کے لیے ہے، اس سے کوئی گولی نہیں چل سکتی، یہ صرف فلم سازی کا سامان ہے۔‘
مگر اس وضاحت کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بالآخر انھیں یہ سامان ایک طویل اور پیچیدہ راستے سے بھیجنا پڑا۔ ’یونان، پھر بحری جہاز کے ذریعے لبنان، وہاں سے شام، جو اس وقت ایران کے مقابلے میں عراق کا زیادہ قریبی اتحادی تھا، اور پھر صحرا کے راستے بغداد۔‘
وہ کہتے ہیں، ’اس مرحلے پر میں شدید مایوسی کا شکار ہو چکا تھا۔‘
پروڈکشن کا سب سے نمایاں واقعہ ایک ٹرین میں دھماکے کے منظر کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا۔ اس منظر میں ایک فوجی ٹرین کو دکھایا جانا تھا جو گولہ بارود سے بھری ہوئی تھی، جس پر عراقی باغیوں نے حملہ کیا۔
چونکہ زیادہ تر شوٹنگ جنگی علاقوں سے دور ہو رہی تھی، اس لیے واحد پرانی ریلوے لائن ایرانی سرحد کے قریب ملی۔ اس کے بعد ایک حیران کن صورتحال سامنے آئی۔
لطیف جورفانی نے بتایا کہ ’اگلے دن ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انقلابی گارڈ نے عراق کے اندر ایک فوجی ٹرین پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا ہے، جس میں کئی عراقی فوجی ہلاک ہوئے۔‘
فلم کے سیٹ پر بھی حالات کم ڈرامائی نہ تھے۔
شراب کی بوتل والے واقعے کے علاوہ اولیور ریڈ کے طرزِ عمل میں پنجہ لڑانا، دروازے توڑ ڈالنا اور جھگڑے شروع کرنا شامل تھا۔
اداکار مارک سندن، جو معروف اداکار ڈونلڈ سندن کے بیٹے ہیں، نے 2014 میں ’اسکوائر‘ کو بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار ریڈ کو دیکھا تو وہ بغداد کے المنصور میلیا ہوٹل کی پانچویں منزل کی کھڑکی سے ٹخنوں کے بل لٹکے ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے محافظ کو ناراض کر دیا تھا، جو ایک فرانسیسی سابق سپیشل فورسز اہلکار تھا، جبکہ ریڈ اس صورتحال پر ہنس رہے تھے۔
سندن نے کہا ’ہم کبھی یہ نہ جان سکے کہ اولی نے ایسا کیا کہا تھا۔‘

ایک اور اداکارہ ورجینیا ڈینہم کے الفاظ کچھ یوں ’اولیور ریڈ ایک تباہی مچانے والا ہتھیارِ تھے۔‘
مارک سندن کو شوٹنگ کے دوران ایک مختلف نوعیت کے تجربے سے بھی گزرنا پڑا۔ انھوں نے بتایا کہ ’عراق روانہ ہونے سے قبل دو افراد ان سے ملنے آئے، وہ سوٹ پہنے ہوئے تھے اور خود کو فارن آفس کا نمائندہ بتا رہے تھے۔‘
انھوں نے پوچھا کیا ’میں عراق جا رہا ہوں۔ میں نے ہاں کہا، حالانکہ میں نے انھیں اپنی روانگی کی تاریخ نہیں بتائی تھی، مگر انھیں پہلے ہی معلوم تھی۔‘
سندن کے مطابق انھیں کہا گیا کہ سکیورٹی ادارے ان سے تصاویر حاصل کرنا چاہیں گے، خاص طور پر ایسی جگہوں کی جو عسکری اہمیت رکھتی ہوں، جیسے مواصلاتی اینٹینا، سرکاری عمارتیں یا محلات۔
تاہم یہی تصاویر بعد میں ان کے لیے مشکلات کا باعث بن گئیں، جب صدام کی خفیہ پولیس نے ان کا تعاقب کیا اور انھیں ایک تفتیشی مرکز لے جایا گیا۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ آمد کے فوراً بعد ان سے پوچھ گچھ کی گئی، مگر وہ یہ کہہ کر بچ نکلے کہ ’میں نے کہا کہ میں یہاں آپ کے عظیم لیڈر صدام حسین کے حکم پر آیا ہوں۔ وہ اس فلم کی مالی معاونت کر رہے ہیں جس میں میں کام کر رہا ہوں۔ دیکھیے، ایک ہفتہ قبل میں ان کے ساتھ کھانا کھا چکا ہوں۔‘
انھیں جلد ہی رہا کر دیا گیا اور اگلے ہی دن وہ 1920 کے دور کی فوجی وردی پہنے، ہیلمٹ اور پستول سمیت عراق سے روانہ ہو گئے۔
نمائش کے بعد فلم ہٹا دی گئی
لطیف جورفانی نے ’کلیش آف لوئیلٹیز‘ کی ایڈیٹنگ لندن میں مکمل کی، مگر چند فلمی میلوں میں نمائش کے بعد اسے محفوظ کر دیا گیا۔
سنہ 1990 میں صدام حسین کے کویت پر قبضے کے بعد عراق پر اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہو گئیں، جو 2003 میں ان کے اقتدار کے خاتمے تک برقرار رہیں۔ اس دوران یہ فلم دوبارہ کبھی منظرِ عام پر نہ آ سکی۔
عراق میں بین الاقوامی معیار کی فلموں کی ایک پوری سیریز بنانے کا صدام کا منصوبہ بالآخر ایک ہی فلم تک محدود ہو کر رہ گیا، جسے محض چند سو افراد ہی دیکھ سکے۔
لطیف جورفانی نے 2016 میں بی بی سی کے نک ایرکسن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر حالات عراقیوں کی توقعات کے مطابق ہوتے تو ہم اس نوعیت کی اپنی چھٹی یا ساتویں بڑی فلم بنا رہے ہوتے۔‘
اگرچہ وہ اس بات پر مایوس تھے کہ انھیں عراقیوں کے ساتھ مزید فلمیں بنانے کا موقع نہ مل سکا، مگر 2020 میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کی: ’30 برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ، بمباری، تباہی، قتل اور فرقہ واریت کے بعد، فلم سازی کیا معنی رکھتی ہے؟ اس کے مقابلے میں تو یہ کچھ بھی نہیں۔‘

























