آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سورینج کان دھماکہ: 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، ’شانگلہ کے ایک ہی گاؤں کے 28 افراد بھی شامل‘
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سورینج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں جمعرات کو پیش آنے والے حادثے کے بعد کان میں پھنسے کان کنوں کی تلاش کی کارروائی جاری ہے اور پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اب تک 34 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں۔
بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق کان میں جب دھماکہ ہوا تو اس وقت اندر کم از کم 36 کان کن موجود تھے۔
مزدور رہنما پیر محمد کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا کہ کان میں میتھین گیس بھرجانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تاہم سرکاری طور پر تاحال دھماکے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی عہدیدار عمر حیات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا جس کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا۔
عمر حیات کے مطابق ’دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ابتدائی طور پر جو دو لاشیں ملی تھیں وہ کان کے ہالیج آپریٹر اور ان کے معاون کی لاشیں تھیں جو حادثے کے مقام سے خاصے فاصلے پر موجود تھے لیکن دھماکے کے نتیجے میں مارے گئے۔‘
بلوچستان کے وزیر مائنز میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان بیٹھنے کے واقعے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا اور صوبائی محکمہ برائے قدرتی آفات کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح تک 34 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے جمعے کی صبح بتایا کہ مزید دو کان کنوں کی لاشوں کو نکالنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جانی نقصان کے لحاظ سے یہ رواں سال بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ حادثے کی شفاف انکوائری کر کے اس حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے کان کنوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس تین لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
ایک ہی گاؤں میں 28 اموات
آل پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر عابد یار نے بی بی سی اردو کے بلال احمد کو بتایا کہ سورینج میں پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں وادی سوات کے علاقے شانگلہ کے ایک ہی گاؤں پیر آباد سے تعلق رکھنے والے 28 افراد بھی شامل ہیں جن میں سے آٹھ افراد کا تعلق دو گھروں سے ہے۔
ان کا کہنا تھا لاشوں کی آبائی علاقوں کی طرف روانگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور بلوچستان سے لاشیں پہنچنے میں 22 سے 24 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ ان کے مطابق ہلاک شدگان کی میتیں جمعے کی شام سے شانگلہ پہنچنا شروع ہو جائیں گی۔
پیر آباد سے تعلق رکھنے والے محمد عالم کے چار بھتیجے اس حادثے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بھتیجوں کی عمریں 19 سے 22 سال کے درمیان تھیں۔
ان کے مطابق مرنے والوں میں نجیب اللہ اور نعیم اللہ بھائی جبکہ ودوداللہ اور ذاکراللہ ان کے کزن تھے۔ محمد عالم کا کہنا تھا کہ یہ چاروں افراد شادی شدہ تھے۔
محمد عالم کے مطابق ان کا پورا خاندان کان کنی کے پیشے سے ہی منسلک ہے اور ان کے خاندان کے 25 افراد اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔
شانگلہ سے تعلق رکھنے والے محمد گل نے بھی اس حادثے میں چار رشتہ داروں کی موت کا صدمہ سہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سورینج میں جو لوگ کان کے حادثے میں مارے گئے ’ان میں میرا ایک بھتیجا اور تین کزن شامل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی کے خاندان میں ایک شخص کی ناگہانی موت ہوجائے تو اس کا صدمہ برداشت نہیں ہوتا ہے لیکن ہمارے خاندان کے تو چار نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں مرنے والے ان کے بھتیجے اور کزنز کی عمریں 30 سال سے کم تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہاں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع نہیں ہیں اس لیے وہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے پرخطر اور مشقت والے کام کا انتخاب کرتے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہمارے علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کانوں میں پیش آنے والے واقعات میں ہلاک ہوتی رہی ہے۔
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں اور محمد گل کا کہنا تھا کہ ان کا رومان نامی رشتہ دار جو سورینج میں جمعرات کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہوا اس کے والد بھی 2016 میں سورینج ہی میں ایک کان میں پیش آنے والے حادثے میں مارے گئے تھے ۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کام میں کان کنوں کی زندگیوں کو ہروقت خطرات لاحق رہتے ہیں لیکن جب لوگوں کے پاس روزگار کے دیگر ذرائع نہ ہوں تو مجبوراً یہ کام کرنا پڑتا ہے۔‘
’کان کن کان کے دو حصوں میں کام کررہے تھے‘
انسپیکٹریٹ آف مائنز بلوچستان کے ریسکیو کیپٹن ذاکر حسین ریسکیو کی سرگرمیوں کے حوالے سے سورینج میں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے کان کن کان کے دو حصوں میں کام کررہے تھے جن میں سے 22 ایک حصے میں جبکہ باقی دوسرے حصے میں موجود تھے۔
انھوں نے کہا کہ دھماکے کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے دونوں حصوں میں کام کرنے والے کان کن پھنس گئے جن میں سے زیادہ تر کی لاشوں کو اب نکال لیا گیا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ کان میں حادثات کی صورت میں ان کے اندر ریلوے لائن کی طرح ٹریک ریسکیو کی کاموں میں بہت زیادہ معاون اور مددگار ثابت ہوتے ہیں لیکن دھماکے کی شدت کی وجہ سے کان میں موجود ٹریک بھی تباہ ہو گیا۔
انھوں نے کہا کہ ٹریک کی تباہی کے بعد باقی کان کنوں کی تلاش کے لیے متبادل راستہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ ریسکیو آپریشن کب تک مکمل ہو سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میتھین گیس کا جب بھی دھماکہ ہوتا ہے وہ شدید ہوتا ہے اور یہاں بھی اس کی شدت کے اثرات زیادہ نظر آ رہے ہیں۔
بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات پیش کیوں آتے ہیں؟
بلوچستان میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والا یہ پہلا حادثہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی متعدد حادثات میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پر سوالات اُٹھائے جاتے رہے ہیں۔
بلوچستان میں دیگر صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔
کوئلے کی کانیں بلوچستان میں زیادہ تر کوئٹہ، ہرنائی ،دکی اور کچھی کے اضلاع میں ہیں۔
ان کانوں میں 60 ہزار افراد کام کرتے ہیں لیکن حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ان میں حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔
بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں کمیونیکیشن کا جدید انتظام تو نہیں لیکن ان میں گھنٹی کا پرانا نظام موجود ہے۔ یہ گھنٹی کان کے باہر لگی ہوتی ہے اور کان کے اندر ایک تار یا رسی سے جڑی ہوتی ہے۔ اس تار کو گہرائی سے ہلا کر اوپر پیغام بھیجا جاتا ہے۔
بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات کے خلاف وقتاً فوقتاً احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ مظاہرین کان کنوں کی ہلاکتوں اور کانوں میں مناسب حفاظتی انتظامات کے فقدان کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
بلوچستان میں کان کنوں کو بچانے کے لیے چلی جیسا معجزہ کیوں رونما نہیں ہوتا؟
اگست سنہ 2010 میں چلی کی ایک کان میں 33 کان کن پھنس گئے تھے چونکہ کان کے اندر مناسب انتظامات موجود تھے جس کے باعث نہ صرف وہ زندہ رہے بلکہ کان میں ڈرل کر کے ایک ٹیوب کے ذریعے تمام کان کنوں کو 69 روز بعد زندہ نکالا گیا۔
بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات ایک معمول ہیں مگر حادثے کا شکار ہونے والے کان کنوں میں سے بہت کم ہی زندہ بچ پاتے ہیں۔
آخر بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں چلی جیسا معجزہ کیوں رونما نہیں ہوتا؟ چند پرس قبل ماہر موحولیات اور کان کنوں اور محنت کشوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی پروفیسر ڈاکٹر رابعہ ظفر سے بی بی سی نے یہ سوال پوچھا تھا۔
ڈاکٹر رابعہ ظفر نے اس کی کئی وجوہات گنواتے ہوئے بتایا تھا کہ بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں وینٹیلیشن کا مناسب انتظام نہیں۔
'اگر وینٹیلیشن کا مناسب انتظام ہو تو گیسوں کے جمع ہونے کی وجہ سے جو حادثات ہوتے ہیں انھیں روکا جا سکتا ہے۔'
انھوں نے بتایا کہ کانوں میں میتھین گیس اور کاربن مونو آکسائیڈ گیسیں ہوتی ہیں لیکن ان کی مناسب مانیٹرنگ کا نظام نہیں۔
'اگر گیسوں کی مانیٹرنگ کا مناسب انتظام ہو تو ان کی موجودگی کا پتہ لگا کر ان کو کلیئر کرنے کے بعد کان کنوں کو بھیجا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ محفوظ رہ سکتے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ کانوں میں گیسوں کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹیکٹرز ہوتے ہیں لیکن بلوچستان کی کانوں میں ان کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے پرانے طریقوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر رابعہ ظفر کا کہنا تھا کہ اگر کان کے اندر 15 سے 20 فیصد گیس ہو تو اس سے ایک بہت بڑا دھماکہ ہو سکتا ہے۔
’یہ دھماکہ آپ کے تصور سے بھی بڑا ہو سکتا ہے یعنی اس سے پوری کان بھی بیٹھ سکتی ہے۔ کوئلے کی کانیں ہزاروں فٹ گہری ہیں۔ اگر ان میں کوئی دھماکہ ہو جائے تو ہزاروں فٹ نیچے کان کنوں کے بچنے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ مائنز میں کام کرنے والوں کے لیے صحت اور سلامتی کے لیے جو مجموعی پروٹوکول ہیں ان کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔