آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
19 ماہ کا بچہ جس کے اعضا نے تین زندگیاں بچائیں، کیا کم عمر بچوں کے اعضا بڑوں میں بھی ٹرانسپلانٹ کیے جا سکتے ہیں؟
- مصنف, شردھا
- عہدہ, بی بی سی تمل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
اعضا عطیہ کرنے کی رضامندی دینے کے بعد ماں نے آخری بار اپنے 19 ماہ کے بچے کو دیکھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر اسے آپریشن تھیٹر لے گئے۔ آپریشن تھیٹر کے دروازے بند ہونے کے بعد ماں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اپنے بیٹے کو لے جاتے ہوئے دیکھنا ان کے لیے بہت مشکل تھا، اس لیے وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہسپتال سے چلی گئیں۔
اس جوڑے کے بچے کو چنئی کے راجیو گاندھی گورنمنٹ جنرل ہسپتال میں برین ڈیڈ قرار دیا گیا تھا۔ ماں باپ کی رضامندی سے بچے کے اعضا تین مختلف افراد میں ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔
تمل ناڈو میں یہ بچہ اب تک کا کم عمر ترین اعضا عطیہ کرنے والا فرد بن گیا ہے۔
ابتدا میں والدین کو لگا کہ ان کا بچہ صرف تھکا ہوا ہے اور اس نے کھانا کم کر دیا ہے۔ لیکن بچہ صرف 19 ماہ کا تھا، اس لیے وہ اپنی تکلیف اور علامات کے بارے میں واضح طور پر بتا نہیں پا رہا تھا۔
بچے کے والدین ایک معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے پہلے اسے ایک مقامی ہسپتال میں دکھایا، جہاں سے بہتر علاج کے لیے اسے چنئی کے راجیو گاندھی گورنمنٹ جنرل ہسپتال بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹروں نے بچے میں ہائیڈروسیفلس کی تشخیص کی جو بہت نایاب ہے لیکن انتہائی سنگین سمجھی جاتی ہے۔
ہائیڈروسیفلس کیا ہے؟
ہائیڈروسیفلس ایک ایسی کیفیت ہے جس میں عموماً دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو محفوظ رکھنے والا سیریبروسپائنل سیال دماغ کے وینٹریکلز میں ضرورت سے زیادہ جمع ہو جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے باعث دماغ پر کافی دباؤ پڑ سکتا ہے اور اس کے معمول کے افعال متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس وقت والدین کو اس بیماری کی سنگینی کا علم نہیں تھا۔
راجیو گاندھی جنرل ہسپتال کے شعبۂ نیوروسرجری کے سربراہ ڈاکٹر آر راگھویندرن نے بتایا کہ بچے کے دماغ میں بہت کم وقت میں تیزی سے سیال جمع ہو گیا تھا۔
’اسی وجہ سے جب بچہ ہسپتال پہنچا تو اس کی حالت انتہائی نازک تھی۔ سرجری کے بعد بھی اس کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔‘
ان کے مطابق ’ہائیڈروسیفلس پیدائشی غیر معمولی عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ بعض معاملات میں اس کی علامات پیدائش کے فوراً بعد ظاہر نہیں ہوتیں اور بعد میں سامنے آ سکتی ہیں۔‘
برین ڈیڈ قرار دیے جانے کے بعد بھی علاج جاری رہا
بچہ چھ دن تک آئی سی یو میں مختلف ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں رہا۔ اس کی سرجری کی گئی، لیکن تمام کوششوں کے باوجود اس کی حالت مسلسل بگڑتی گئی۔
بالآخر ڈاکٹروں نے بچے کو برین ڈیڈ قرار دے دیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ طبی معاونت کی مدد سے جسم کو کچھ وقت تک کام کرتا ہوا رکھا جا سکتا ہے، لیکن دماغ کی تمام سرگرمیاں مستقل طور پر بند ہو چکی ہوتی ہیں۔
کچھ روز پہلے تک بچہ دوسرے بچوں کی طرح دوڑ رہا تھا اور کھیل رہا تھا۔ اب اس کے والدین کے سامنے یہ دردناک حقیقت تھی کہ وہ آئی سی یو کے بستر سے کبھی صحت یاب ہو کر واپس نہیں آئے گا۔
اس کے بعد طبی ٹیم نے خاندان سے اعضا عطیہ کرنے کے بارے میں بات کی اور اس کی اہمیت سمجھائی۔
غم کے باوجود والدین نے اپنے بچے کے اعضا عطیہ کرنے کا مشکل فیصلہ کیا۔
اس طرح 19 ماہ کا یہ بچہ تمل ناڈو کی تاریخ میں سب سے کم عمر اعضا عطیہ کرنے والا فرد بن گیا۔
تدفین
اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ ہونے کے بعد بچے کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔ لیکن ماں باپ اس کے بعد وہاں نہیں رکے۔
ہسپتال کے احاطے میں موجود بچے کے والد نے صرف اتنا کہا: ’میرا بچہ بچ نہیں سکا۔ ہم نے یہ کام دوسرے بچوں کے لیے کیا۔‘
ڈاکٹر راگھویندرن نے فون پر بی بی سی تمل کو اس واقعے کے بارے میں بتایا۔
انھوں نے کہا: ’سرجری کے بعد ایک سماجی تنظیم کی مدد سے بچے کی تدفین کر دی گئی۔‘
دو سال قبل اسی ہسپتال میں 20 ماہ کے ایک بچے کے اعضا عطیہ کیے گئے تھے۔
راجیو گاندھی گورنمنٹ جنرل ہسپتال کے ڈین ڈاکٹر شانتارامن نے کہا: ’میں اعضا کے عطیے کو سب سے بڑا عطیہ سمجھتا ہوں۔ والدین نے اپنی زندگی کے سب سے تکلیف دہ لمحوں میں ایک نیک فیصلہ کیا۔ ایک ڈاکٹر کے طور پر مجھے اس سے بہت اطمینان ملا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’بہت سے معاملات میں بالآخر اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ ماں ہی کرتی ہے۔ بچہ کتنی ہی عمر کا کیوں نہ ہو، ماں کے لیے وہ ہمیشہ بہت خاص ہوتا ہے۔‘
’یہ جاننا کہ اس کے بچے کے اعضا کسی دوسرے شخص کے جسم میں کام کر رہے ہیں، اسے کچھ تسلی دے سکتا ہے۔ ایسا فیصلہ کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بہت ہمت درکار ہوتی ہے۔‘
کیا بچوں کے اعضا بڑوں کے لیے موزوں ہوتے ہیں؟
برین ڈیڈ قرار دیے گئے بچے کے دونوں گردے چنئی کی 20 سالہ ایک خاتون میں ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔
اس کا جگر چنئی کے ایک بچے کو عطیہ کیا گیا، جبکہ اس کا دل کوئمبتور کے ایک بچے میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔
ڈاکٹر شانتارامن کے مطابق، بہت سے معاملات میں چھوٹے بچوں کے اعضا کامیابی کے ساتھ بڑوں میں بھی ٹرانسپلانٹ کیے جا سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا: ’کئی اعضا پیدائش سے ہی اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے وہ بڑوں میں کام کرتے ہیں۔ ڈیڑھ سال کی عمر تک کئی اعضا تقریباً بالغ افراد کے سائز تک پہنچ جاتے ہیں۔‘
ڈاکٹر راگھویندرن نے بتایا کہ گردے کے ٹرانسپلانٹ میں سب سے اہم عوامل میں سے ایک گلومیرولر فلٹریشن ریٹ یا جی ایف آر ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ گردے خون کو کتنی مؤثر طریقے سے فلٹر کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’جی ایف آر عطیہ کرنے والے اور عضو حاصل کرنے والے، دونوں کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔ جب کسی بالغ شخص کا گردہ عطیہ کیا جاتا ہے تو ٹرانسپلانٹ کے لیے عموماً ایک گردہ کافی ہوتا ہے۔ لیکن جب عطیہ کرنے والا بہت کم عمر بچہ ہو تو عام طور پر دونوں گردے ایک ساتھ ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ دل اور پھیپھڑوں جیسے اعضا کی پیوندکاری کے وقت جسمانی وزن اور دیگر عوامل اہم ہوتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی بہت سے بچے اعضا کی پیوندکاری کے لیے انتظار کی فہرست میں موجود ہیں، اس لیے اس نوعیت کا عطیہ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔