’حکومت اور ایجنسیاں پتا لگائیں یہ لوگ کون ہیں‘: کوئٹہ کے قریب شدت پسندوں کا حملہ اور مقامی لوگوں کے ’اغوا‘ پر جنم لیتے سوال

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’تقریبا تین سو افراد نے بھاری اسلحے کے ساتھ حملہ کیا جن کے پاس دو سے تین ڈرون کیمرے بھی تھے اور وہ حملے کے دوران استعمال کیے گئے۔ یہ حملہ آور رات کو دس بجے تک علاقے میں رہے۔‘

مفتی محمد اعظم کاکڑ کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی ببری میں ہونے والے ایک حملے کے بارے میں بی بی سی سے بات کر رہے تھے جو مشہور تفریحی مقام ہنہ اوڑک سے کچھ زیادہ دور نہیں۔

وہ کوئٹہ میں اس علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے تھے جہاں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسلح افراد نے دو سے تین ماہ قبل مقامی لوگوں کو خوفزدہ کرنا شروع کیا جب وہ اس علاقے میں آئے۔

مفتی محمد اعظم کا کہنا تھا کہ ’مسلح افراد مقامی لوگوں سے کھانے پینے کی اشیا اور مدد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے رہے۔ نہ صرف متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جاتا رہا بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔‘

اور پھر گذشتہ اتوار کو ان کے مطابق بڑی تعداد میں مسلح افراد نے علاقے پر حملہ کیا جس کے جواب میں مقامی لوگوں نے مزاحمت کی اور جھڑپوں میں چار مقامی افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ کچھ مقامی افراد کو مسلح شدت پسندوں کی جانب سے اغوا کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

لیکن یہ مسلح شدت پسند کون تھے اور یہ کہاں سے آئے؟

جب حملہ آوروں کے بارے میں مفتی محمد اعظم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کون لوگ ہیں؟ اس بات کا پتا لگانا حکومت اور اس کی ایجنسیوں کا کام ہے۔ ہمارا تو مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی ہو۔‘

حملہ کس نے کیا؟

حکام کے مطابق یہ حملہ اتوار کو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک کے قریب کیا گیا جس دوران حملہ آوروں اور مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے چار افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے بقول ان حملوں میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی ملوث ہے جس کے لوگ ’اس علاقے کی مشرق میں واقع زرغون غر کے علاقے سے یہاں کارروائی کے لیے آتے ہیں۔‘

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک اور بابری میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں انسداد دہشتگردی فورس (اے ٹی ایف) کے چار اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ’سکیورٹی سخت کی جا چکی ہے۔‘

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شاہد رند نے عوام سے اپیل کی کہ ’افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف مصدقہ ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔‘

محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کی جانب سے کیا گیا ہے جن کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

تاہم کالعدم تحریکِ طالبان کی جانب سے تاحال اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔

اگرچہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دو دہائیوں سے خراب ہے لیکن کوئٹہ شہر کے شمال مشرق میں ہنہ اوڑک کے قریب کسی پشتون آبادی والے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حملہ تھا۔

ماہرین کے مطابق مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی تنظیم کی بلوچستان میں موجودگی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

’مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا‘

29 جون کو بھی کوئٹہ شہر اور ہنہ اوڑک کے درمیان شاہراہ کو بند کرکے احتجاج کیا گیا تھا، تاہم سرکاری حکام کی جانب سے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر لوگوں نے احتجاج ختم کیا۔ اس احتجاج کے چھ روز بعد ببری پر حملہ کیا گیا۔

بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے حملے کے دوران مزاحمت کی اور جھڑپ ہوئی جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز علاقے میں موجود ہیں اور مسلح افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں تین شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ مسلح افراد نے علاقے سے 13 افراد کو اغوا کر لیا، تاہم وزیرِ داخلہ نے پریس کانفرنس میں ان کی تعداد سات بتائی ہے۔

اس واقعے کے خلاف علاقہ مکینوں اور دیگر افراد نے کوئٹہ کینٹ کے قریب ایئرپورٹ روڈ پر اتوار کی شب احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جو پیر کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔

مفتی محمد اعظم کاکڑ ان لوگوں میں شامل ہیں جو کہ کلی ببری پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کلی ببری اور اس کے نواحی علاقوں میں مسلح افراد کی نہ صرف موجودگی تھی بلکہ وہ طویل عرصے سے وہاں مقامی لوگوں کو خوفزدہ بھی کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام نے ان مسلح افراد کے خلاف ’آپریشن کی یقین دہانی کرائی تھی۔‘

لیکن ان کے بقول عملی طور پر کچھ نہیں ہوا جس کے نتیجے میں گذشتہ دنوں ’300 کے لگ بھگ لوگوں نے بھاری اسلحے سے حملہ کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے پاس دو سے تین ڈرون کیمرے بھی تھے جن کو اس حملے کے دوران استعمال کیا گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور رات 10 بجے تک اس علاقے میں رہے لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔

مفتی محمد اعظم کاکڑ نے بتایا کہ جب تک ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ ان کا بڑا مطالبہ یہی ہے کہ مسلح افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ادھر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے بقول ان حملوں میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی ملوث ہے جس کے لوگ اس علاقے کی مشرق میں واقع زرغون غر کے علاقے سے یہاں کارروائی کے لیے آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کوئٹہ کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘

’جس طرح شدت پسند بلوچستان یا پاکستان کے دیگر علاقوں کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں اسی طرح وہ یہاں کے امن کو بھی برباد کرنا چاہتے ہیں جن کے خلاف روزانہ ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں۔‘

کوئٹہ کے قریب ٹی ٹی پی کا حملہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

یہ حملہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 15 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں ببری نامی علاقے میں کیا گیا جو معروف تفریحی مقام ہنہ اوڑک سے تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس علاقے کی آبادی پشتونوں کے معروف قبیلے کاکڑ کی مختلف شاخوں پر مشتمل ہے۔

اگرچہ اس علاقے کے قرب و جوار کے علاقوں مارواڑ اور دیگر علاقوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے طویل عرصے سے کارروائیاں ہو رہی ہیں لیکن ہنہ اوڑک اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں بدامنی کے واقعات کی تعداد کم رہی ہے۔

تاہم گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے ہنہ اوڑک کے گرد و نواح کے علاقوں میں بھی حملے ہوئے ہیں۔

مئی 2025 میں منگل نامی گاؤں میں ایک بم حملے میں ایک قبائلی رہنما اور ان کے بھائی مارے گئے تھے جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

گذشتہ دو تین ماہ سے اس علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہنہ اوڑک کے گرد و نواح میں مسلح افراد کی موجودگی کی شکایت کی بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔

تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹیڈیز (پپس) کے ڈائریکٹر عامر رانا کہتے ہیں کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ اس علاقے میں ٹی ٹی پی کا وجود ہے یا نہیں۔ تاہم ان کے بقول اس علاقے میں کچھ لوگوں کی شناخت ’مشکوک‘ ہے اور ’اسی وجہ سے یہاں امن و امان کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔‘

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ٹی ٹی پی کا تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے، خاص طور پر ژوب سے لورالائی کی وہ پٹی جہاں پشتون آباد ہیں، یہاں وہ بھتہ خوری جیسے جرائم سے منسلک ہیں۔‘

اُن کے بقول کوئٹہ کے اس نواحی علاقے میں کچھ لوگ آنا شروع ہوئے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کے شکوک و شبہات ہیں۔

ماضی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹی ٹی پی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں طویل عرصے سے جاری ہیں تاہم ان کی تعداد خیبرپختونخوا کے مقابلے میں بہت کم رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال ستمبر میں کوئٹہ میں فرنٹیئر کور نارتھ کے ہیڈ کوارٹر پر جو حملہ ہوا تھا اس کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے شمالی اضلاع ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ عبداللہ اور بعض دیگر علاقوں میں ٹی ٹی پی سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے علاوہ متعدد دیگر سنگین بدامنی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی ان علاقوں میں ٹی ٹی پی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ بھی دی جاتی رہی ہے۔