آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, حماس کا غزہ کی پٹی کا سیاسی کنٹرول چھوڑنے کا اعلان، خامنہ ای کی آخری رسومات میں ’امریکہ، اسرائیل سے انتقام‘ کے نعرے

حماس نے تقریباً 19 سال بعد غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی ہے۔ ادھر ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں جاری ہیں، سڑکوں پر سوگواروں کا ہجوم ہے جو امریکہ اور اسرائیل سے انتقام کے نعرے لگا رہے ہیں۔

خلاصہ

  • تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری
  • جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملہ، تین بچیاں ہلاک، چار افراد زخمی
  • صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا بھی ہے‘: بنیامین نیتن یاہو
  • امریکی شہر شکاگو میں لینڈنگ کے دوران طیارہ آتش بازی کی زد میں آ گیا
  • امریکہ نے بحیرۂ عرب میں لا پتہ نیوی اہلکار کی تلاش بند کر دی
  • ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر

لائیو کوریج

  1. گل پلازہ آتشزدگی کیس: ایسوسی ایشن کے صدر سمیت پانچ ملزمان کی ضمانت منظور, ریاض سہیل - بی بی سی اردو، کراچی

    کراچی کی ایک عدالت نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں نامزد گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا سمیت پانچ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں پانچ، پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کم عمر ملزم کی درخواست اسی عدالت میں کیوں دائر کی گئی ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام ملزمان کے خلاف ایک ہی مقدمے کا چالان جمع کرایا گیا ہے، اسی لیے درخواست بھی اسی عدالت میں دائر کی گئی۔

    عدالت نے سوال کیا کہ کم عمر ملزم کا اس مقدمے میں کیا کردار ہے، جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 72 افراد کی جانیں چلی گئیں لیکن پولیس نے آدھے صفحے میں پورا کیس نمٹا دیا اور کسی بھی سرکاری یا سول ادارے پر ذمہ داری عائد نہیں کی۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملزمان کو رعایت دیتے ہوئے گرفتار نہیں کیا، جبکہ چارج شیٹ دو مرتبہ مسترد ہونے کے باوجود انھی اعتراضات کے ساتھ دوبارہ چالان عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل سنیچر کو پولیس نے اپنے عبوری چالان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ مارکیٹ میں لگنے والی ہولناک آگ، جس میں 72 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ دکان کے مالک کی مجرمانہ غفلت اور ایک کم عمر بچے کی لاپرواہی کے باعث بھڑکی۔

    پولیس کے مطابق گراؤنڈ فلور پر واقع دکان نمبر 193 کے مالک اپنی دکان اکثر اپنے کم عمر بیٹے کے سپرد کر کے چلے جاتے تھے۔ واقعے کے روز وہ بچہ اپنے ایک دوست کے ساتھ دکان پر موجود تھا اور مبینہ طور پر کھیل کے دوران ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینک رہا تھا، جس سے دکان میں موجود مصنوعی پھولوں نے آگ پکڑ لی اور آگ تیزی سے پوری مارکیٹ میں پھیل گئی۔

    عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ دونوں بچوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین اور دیگر ملازمین کے بیانات بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

    چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 اور ایدھی کے اہلکاروں کے بیانات سے معلوم ہوا کہ مارکیٹ کے مختلف فلورز اور مسجد کے اطراف نصب شٹر نما گرل گیٹس پر تالے لگے ہوئے تھے، جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے اور ایمرجنسی لائٹنگ کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے۔

    پولیس نے اپنی تفتیش میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداران نے واقعے کے بعد کسی بھی ہنگامی امدادی سروس، جیسے 15 یا 16، پر مدد کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یونین نے کم عمر بچے کو دکان چلانے سے روکنے کے لیے بھی کوئی اقدام نہیں کیا۔

    تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس نے بتایا کہ مارکیٹ میں فائر ہائیڈرنٹ سسٹم، فائر ماسک، ٹارچ اور دیگر بنیادی حفاظتی سہولیات موجود نہیں تھیں، جبکہ مارکیٹ انتظامیہ کے پاس فائر سیفٹی سے متعلق کوئی تربیت بھی نہیں تھی اور دکانداروں کے لیے حفاظتی سیشن بھی منعقد نہیں کیے گئے تھے، حالانکہ اس سے قبل بھی اس پلازہ میں دو مرتبہ آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے تھے۔

    پولیس نے اپنے عبوری چالان میں گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عماد اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، جنرل سیکریٹری محمد امین، دکاندار نعمت اللہ اور ایک کم عمر بچے کو نامزد کیا ہے۔

    چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداران اور دکان مالک نعمت اللہ کی عدم گرفتاری کے باعث ان کے خلاف ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 512 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ کم عمر ہونے کے باعث بچے کا مقدمہ الگ سے جووینائل کورٹ کو بھیجا گیا ہے۔

  2. بریکنگ, حماس نے تقریباً 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی

    حماس نے تقریباً 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حماس نے اس ادارے کو تحلیل کر دیا ہے جو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال رہا تھا۔ اس فیصلے کو حماس کی سیاسی حکمتِ عملی میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ذریعے علاقے میں شہری اور انتظامی امور چلانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    حماس 2007 سے غزہ کی انتظامیہ چلا رہی تھی، جب اس کی فورسز نے فتح سے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس سے ایک سال قبل، 2006 میں، حماس فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی۔

    گذشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے یہ گروپ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ غزہ کے روزمرہ انتظام سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے غیر مسلح کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔

    حماس کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’محمد فرا، ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے تاکہ انتظامی اور حکومتی امور کی منتقلی کو غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے میں آسانی ہو۔‘

    غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی، جو اس وقت قاہرہ میں قائم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے امن فریم ورک کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ امریکی صدر نے یہ فریم ورک اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کے دوران متعارف کرایا تھا۔

    حماس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا: ’حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی پٹی کے انتظام کی ذمہ دار نہیں رہی، تاکہ قابض قوتوں کے لیے کسی بھی بہانے کو ختم کیا جا سکے جو اب بھی جارحیت اور تباہ کن جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

  3. برطانیہ کا روسی طیارے کو ناروے کے سمندر کے اوپر روکنے اور دور بھگانے کا دعویٰ

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ برطانوی جنگی طیاروں نے ناروے کے سمندر میں ایک روسی بحری گشت کرنے والے طیارے کو اس وقت روکا، جب وہ کیریئر سٹرائیک گروپ کے ’بار بار قریب آ رہا تھا‘۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق روسی بیئر-ایف (Bear-F) طیارہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہوا ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز طیارہ بردار جہاز کے ’غیر ضروری حد تک قریب‘ آ گیا تھا، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے جمعرات کو سمندر میں 10 سونوبوائز بھی گرائے۔

    وزارتِ دفاع نے کہا کہ ناروے کے سمندر میں ماسکو کی سرگرمی ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ تھی۔

    یہ واقعہ ان ہفتوں کے بعد پیش آیا ہے جب رائل میرینز نے انگلش چینل میں روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے ایک آئل ٹینکر پر کارروائی کی تھی، جبکہ برطانوی فوج کے سربراہ خبردار کر چکے ہیں کہ برطانیہ کو درپیش خطرات اور خدشات سرد جنگ کے بعد کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

    برطانیہ کا کیریئر سٹرائیک گروپ اس وقت نیٹو کی کمان کے تحت آئس لینڈ کے قریب تعینات ہے، جس پر 1,500 برطانوی اہلکار موجود ہیں۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ نیٹو نے کسی یورپی طیارہ بردار جہاز سے فضائی نگرانی کی کارروائیاں انجام دی ہیں۔

    جن نگرانی کے آلات کو بیئر-ایف طیارے کی جانب سے گرایا گیا، ان کے متعلق سمجھا جاتا ہے، وہ پانی کی سطح پر تیرتے ہیں اور آبدوزوں اور دیگر جہازوں کا پتا لگانے کے لیے سونار استعمال کرتے ہیں۔

    برطانوی افواج نے بین الاقوامی مواصلاتی فریکوئنسیوں پر روسی طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    اس کے بعد دو ایف-35 طیارے پرنس آف ویلز سے اڑے اور بیئر-ایف طیارے کو کیریئر سٹرائیک گروپ سے دور لے گئے۔

    چیف آف دی ڈیفنس سٹاف سر رچرڈ نائٹن نے جون میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ روس ’ہماری دفاعی صلاحیتوں کو جانچ رہا ہے، چیلنج کر رہا ہے اور آزمائش میں ڈال رہا ہے‘ اور ’خطرات بڑھا رہا ہے اور حدود عبور کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔‘

    نیٹو پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ روس 2030 تک فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

  4. تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کی آخری رسومات شام 5 بجے تک جاری رہیں گی

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انتظامات کرنے والے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ آج تہران میں آخری رسومات شام پانچ بجے تک جاری رہیں گی۔

    آج علی الصبح، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما اور ان کے بعض اہلِ خانہ کے تابوت، جو تقریباً چار ماہ قبل ان کے ہمراہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، تہران کے مصلیٰ سے ایک ٹرالر پر روانہ کیے گئے۔ یہ جلوس آزادی سکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کرے گا۔

    توقع ہے کہ اس تقریب، جس میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہے، کو 10 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگے گا۔

    تہران میں ہونے والی آخری رسومات کی تصاویر ملاحظہ کیجیے۔

  5. پزشکیان، قالیباف اور علی خامنہ ای کے بڑے بیٹے عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

    مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، علی خامنہ ای کے تابوت کو کل قم سے شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس مقام اور حضرت علی کے روزہ مبارک والے شہر نجف منتقل کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی کل نجف جائیں گے اور عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔

    علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تقریبات بدھ کے روز عراق کے شہروں کربلا اور نجف میں منعقد کی جائیں گی۔

    اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کو جمعرات کے روز مشہد میں حرمِ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  6. سوگواروں نے ’انتقام کی علامت‘ سرخ جھنڈے اٹھا رکھے ہیں, لیز ڈوسٹ، بی بی سی تہران

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے تابوت کے راستے میں تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) طویل سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کچھ سوگوار نعرے لگا رہے ہیں جبکہ کئی اشک بار ہیں۔

    جنازے کا جلوس مشہور انقلاب سکوائر سے گزرے گا۔ اس چوک پر ایک بہت بڑا مجسمہ نصب ہے، جو مضبوطی سے بندھی ہوئی مٹھی کی شکل میں ہے اور اسے ’مزاحمت کی مٹھی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ان تقریبات کی نمایاں علامت ہے، جس پر درج نعرہ ہے: ’ہمیں اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔‘

    ایک اور نعرہ بھی مسلسل سنائی دے رہا ہے، جو حکومت کے وفادار حامیوں میں گونج رہا ہے: امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں سپریم لیڈر کے قتل کا انتقام۔

    انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ جھنڈے اب ہجوم میں نمایاں نظر آ رہے ہیں، جبکہ کئی پوسٹروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اگرچہ اس کا ایک حصہ محض نعرے بازی ہے، لیکن آیت اللہ کے قتل پر غم و غصہ ایران کی نئی قیادت کے اندر بھی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔ سخت گیر حلقے خاص طور پر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

  7. امن مذاکرات خامنہ ای کی آخری رسومات تک معطل رہیں گے: صدر ٹرمپ

    آج کا جنازے کا جلوس ایسے وقت میں نکل رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے اور مستقل امن معاہدے کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جمعے کے روز جنازے کی تقریبات شروع ہونے کے بعد سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    اُنھوں نے سنیچر کے روز نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو بتایا کہ ایرانی فریق ’معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب‘ ہے، لیکن فریقین نے فیصلہ کیا ہے کہ خامنہ ای کے جنازے کی تقریبات کے اختتام تک مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ لیا جائے۔

    ایران نے اس بات پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ آیا مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

    جنازے میں ایرانی حکومت کی اعلیٰ شخصیات کی موجودگی کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ سب وہاں موجود ہیں۔ ایک نشانہ [اور ہم ان سب کا خاتمہ کر سکتے ہیں]، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پھر ہمارے پاس مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔‘

  8. خامنہ ای کے جنازے کے جلوس میں بعض سوگواروں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو مخالف پوسٹرز اور بینرز اُٹھا رکھے ہیں

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوس کی تصاویر میں کچھ سوگواروں کو ٹرمپ مخالف پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن پر تشدد پر مبنی پیغامات، بشمول جان سے مارنے کی دھمکیاں، درج ہیں۔

    ان بینرز میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خلاف نعرے بھی درج ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی ہے جس میں سوگواروں کو ایک پل پر امریکی صدر کے پوسٹر پوسٹر پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

  9. پہلگام حملہ کیس: انڈیا نے حافظ سعید پر ضمنی چارج شیٹ فائل کر دی، جنگ شروع کرنے اور سازش تیار کرنے کی دفعات شامل

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کہا ہے کہ اس نے پہلگام حملہ کیس میں پاکستان میں موجود کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس کی مبینہ ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ اور بانی حافظ سعید کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کر دی ہے۔

    تحقیقاتی ایجنسی کا حوالے دیتے ہوئے اے این آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ ضمنی چارج شیٹ جموں میں قائم این آئی اے کی خصوصی عدالت میں جمع کرائی گئی۔ اس میں حافظ سعید پر انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس کی فعال ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق چارج شیٹ میں حافظ سعید پر انڈیا کے خلاف جنگ شروع کرنے اور سرحد پار سے سازش تیار کرنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

    این آئی اے کا کہنا ہے کہ 1597 صفحات پر مشتمل اصل چارج شیٹ کے تسلسل میں جمع کرائی گئی اس ضمنی چارج شیٹ میں پاکستان کی مبینہ سازش، حافظ سعید کے مبینہ کردار اور کیس میں جمع کیے گئے شواہد کی تفصیلات شامل ہیں، جو ایجنسی کے مطابق سائنسی تحقیقات اور زمینی تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے۔

  10. ایرانی عوام ’عزت، ترقی اور عظمت‘ کے راستے پر گامزن رہیں گے: صدر پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ’ایران کی عزت، ترقی اور عظمت کے راستے‘ پر گامزن رہیں گے۔

    انھوں نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سب کو یہ سکھایا کہ ملک کا ’سب سے بڑا سرمایہ‘ اس کے عوام اور ان کا اتحاد ہے۔

  11. تجزیہ: ایران کی نئی قیادت اس عوامی اجتماع کے ذریعے ایک پیغام دینا چاہتی ہے, لیز ڈوسیٹ، تہران میں موجود مرکزی نامہ نگار برائے عالمی امور

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں رکھے ہیں اور گاڑی تہران کی سڑکوں پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر سوگواروں کا ایک ہجوم ہے جو غم زدہ ہیں اور غصے میں ہیں۔

    ایران کی نئی قیادت چاہتی ہے کہ سوگواروں کے اس بڑے اجتماع کے ذریعے ملک کے اندر اور باہر موجود اپنے مخالفین کو طاقت اور مزاحمت کا ایک پیغام دیا جائے۔

    تہران میں تین روزہ عوامی سوگ کا آج آخری دن ہے۔ اس کے بعد یہ رسومات ایران اور پڑوسی ملک عراق کے دیگر شہروں کی طرف منتقل کر دی جائیں گی۔

  12. علی خامنہ ای کا جنازہ، ایرانیوں کا خراجِ عقیدت

    ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر جاری ہے اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں ایک سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں روضۂ امام رضا میں کی جائے گی۔

  13. تہران کی سڑکوں پر سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں لے جائے جا رہے ہیں۔ یہ گاڑی چاروں طرف سے کھلی ہے اور سوگوار اس میں رکھے تابوتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

  14. تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں شروع ہو گئی ہیں۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    متعدد گاڑیاں سوگواروں کے ہجوم سے گزرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان گاڑیوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت موجود ہیں۔

    آخری رسومات سات دنوں پر محیط ہیں۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین
  15. امریکی شہر نیو یارک میں چھوٹے طیارے کی دریا میں ہنگامی لینڈنگ

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ایک چھوٹے آبی طیارے (وہ ہوائی جہاز جو پانی میں اتر سکتا ہے) نے دریا میں ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب مین ہیٹن میں ایک طیارے کے دریا میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔

    نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق حادثے کے بعد آبی طیارہ پانی میں عمودی حالت میں کھڑا تھا، جسے بعد ازاں کھینچ کر گھاٹ تک لے جایا گیا۔

    کوڈیاک 100 ماڈل کے طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو امدادی کارکنوں نے بحفاظت باہر نکال لیا۔ ان میں سے دو افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، تاہم انھوں نے طبی امداد لینے سے انکار کر دیا۔

    واقعے کی تحقیقات کرنے والی امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارے کے پروں کو سہارا دینے والا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔

  16. بلوچستان میں 130 پولیس اہلکاروں کے بین الاضلاعی تبادلے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران سے 130 پولیس اہلکاروں کا تبادلہ ضلع چاغی کر دیا گیا ہے۔

    ماضی میں بلوچستان میں کسی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت تبدیلی کی مثال نہیں ملتی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی تادیبی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ سکیورٹی اور پیشہ ورانہ امور کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق پولیس اہلکاروں کا بین الاضلاعی تبادلہ ان کے تحفظ اور دہشت گردی کے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہے۔

    بلوچستان میں پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تبادلوں کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

    رواں سال لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد بلوچستان میں اہلکاروں کے بڑے پیمانے پر بین الاضلاعی تبادلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

    ماضی میں صوبہ انتظامی طور پر اے اور بی ایریاز میں تقسیم تھا۔ اے ایریاز شہری علاقوں پر مشتمل ہوتے تھے جہاں پولیس اپنے فرائض انجام دیتی تھی جبکہ بی ایریاز کے نام سے 80 فیصد سے زیادہ علاقے لیویز فورس کی عملداری میں تھے۔

    ماضی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لیویز فورس کے علاقوں میں عام جرائم کی شرح کم ہونے کے باوجود بلوچستان کی موجودہ حکومت نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا۔

    صوبائی حکومت نے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کو درپیش امن و امان کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایک ہی چین آف کمانڈ کے تحت کام کرنا ضروری ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں بابر یوسفزئی نے بتایا کہ بعض اوقات جب کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد پولیس چوکیوں یا تھانوں پر حملے کرتے ہیں تو مقامی سطح پر رشتہ داری یا واقفیت کے باعث اہلکار ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے۔

    ان کے بقول حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اہلکار اپنے آبائی اضلاع سے باہر تعینات ہو کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع میں تعیناتی سے نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی بہتر ہو گی بلکہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں بھی کمی آئے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اہلکار اپنے آبائی ضلع کے بجائے کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہوں گے تو کالعدم تنظیموں کے کارکن ان کے اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کر پائیں گے۔

  17. فٹبال ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں انگلینڈ اور ناروے نے اہم فتوحات حاصل کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے، جبکہ میکسیکو اور پانچ بار کا عالمی چیمپیئن برازیل ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

    انگلینڈ نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں میکسیکو کو 3-2 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔

    اُدھر ناروے نے برازیل کو 2-1 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

    اس طرح کینیڈا، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ میزبان ممالک میں اب صرف امریکہ باقی رہ گیا ہے، جس کا مقابلہ سات جولائی کو بیلجیئم سے ہو گا۔

  18. سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستانی حکام اور عوام کا شکریہ: ایران

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت ان تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا جو علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہوئے اور ’ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔‘

    انھوں نے لکھا: ’اس قدر ممتاز، اعلیٰ سطح اور بڑی تعداد پر مشتمل پاکستانی وفد کی موجودگی دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار دوستی، باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کی گواہی ہے۔‘

  19. چھ تا 10 جولائی بارشوں کا امکان، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق چھ جولائی سے کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی ملحقہ علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے سات جولائی کو اسلام آباد، پوٹھوہار، کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب اور شمالی بلوچستان میں بارشوں کی شدت میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ متوقع بارشوں کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں، تاہم پہاڑی ندی نالوں اور چھوٹے برساتی نالوں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں مقامی سطح پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

    حساس بالائی علاقوں میں سیلاب جبکہ شدید بارش کے دوران شہری علاقوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    مزید برآں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بھی ہے۔

  20. ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران اور قم میں خصوصی انتظامات

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی ادائیگی سرکاری طور پر پیر کے روز شروع ہو گی۔ اس کے لیے تہران اور قم میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    علی خامنہ ای اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ان کے دیگر اہلِ خانہ کی نماز جنازہ اتوار کے روز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔

    آئندہ دنوں میں ایران اور عراق میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان رسومات میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

    یہ رسومات نہایت منظم انداز میں ترتیب دی گئی ہیں اور سات دنوں پر محیط ہیں۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آخری رسومات کا آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین