بچوں کو سبزیاں کھلانا مشکل کیوں ہوتا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟

    • مصنف, میلیسا ہوگن بوم
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

بچوں کو مناسب مقدار میں سبزیاں کھلانا والدین کے لیے اکثر ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ والدین کے فورمز اور چیٹ گروپس میں اس نوعیت کے سوالات عام دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ’کیا یہ معمول کی بات ہے کہ میرا بچہ صرف ہلکے رنگ یا ایک ہی قسم کی غذاؤں کا استعمال کرتا ہے؟‘

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بچوں میں میٹھی چیزوں کی پسند بہت ابتدائی عمر ہی سے پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ماں کے دودھ میں بھی قدرتی شکر موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ نسبتاً میٹھا محسوس ہوتا ہے۔

جب بچے ٹھوس غذا کھانا شروع کرتے ہیں تو انھیں بروکلی کا ایک ٹکڑا یا معمولی سی پالک کھلانا بھی اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ ان کی غذا متوازن ہو اور اس میں پھلوں اور سبزیوں کی مناسب مقدار شامل ہو۔ ناقص غذا بچوں کی ذہنی صلاحیت، توجہ، رویے اور یہاں تک کہ تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب بچوں میں موٹاپے کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف طویل مدتی صحت کے مسائل سے جڑا ہوا ہے بلکہ تعلیمی نتائج پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ محققین بچوں کی غذائی عادات بہتر بنانے کے لیے نئے طریقوں پر کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کئی مؤثر اور منفرد حل بھی سامنے آئے ہیں۔

سائنس کے مطابق یہ چھ سادہ طریقے ہیں جنھیں آپ گھر میں آزما سکتے ہیں۔

1۔ بار بار کھانے کے بارے میں بچوں کو بتائیں

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں بایو سائیکالوجی کی پروفیسر ماریون ہیتھرنگٹن کے مطابق ’اگر بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے مختلف اقسام کی سبزیاں بار بار کھانے کے لیے دی جائیں تو اس سے ان میں سبزیاں پسند کرنے کی عادت پیدا کی جا سکتی ہے۔‘ ان کے مطابق ’بچوں میں سبزیوں کی پسند بڑھانے کے لیے پری سکول کا دور سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔‘

ماریون ہیتھرنگٹن کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ پانچ سال کی عمر تک بچوں کو مختلف سبزیوں سے متعارف کرانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو پھر آگے چل کر یہ کام بہت مُشکل ہو جاتا ہے۔‘

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کسی نئی غذا کو کھانے کے لیے قبول کرنے سے پہلے بچوں کو عموماً وہی غذا کئی مرتبہ پیش کرنا پڑتی ہے۔

تاہم اس بات پر تحقیق کے نتائج ایک جیسے نہیں کہ کسی غذا کے استعمال پر بچوں کو آمادہ کرنے کے لیے اسے کتنی بار پیش کرنا ضروری ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق یہ تعداد پانچ سے 15 مرتبہ تک ہو سکتی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق ایک سال سے کم عمر بچوں کو نئی غذا کے استعمال کرنے کے لیے نسبتاً کم بار متعارف کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ تین سے چار سال کے پری سکول بچوں میں نئی غذائیں آزمانے سے گریز کا رجحان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’یہ عمل بچے کی پیدائش سے پہلے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ ماں کی غذا کے ذائقے امینیوٹک فلوئڈ کے ذریعے رحم میں موجود بچے تک منتقل ہو سکتے ہیں، جو بعد ازاں اس کی غذائی پسند کو تشکیل دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔‘

2۔ پہلے سبزیاں پیش کریں

ماہرین کے مطابق بچوں کو صرف یہ بتانا کہ کوئی غذا ان کی صحت کے لیے مفید ہے، بعض اوقات الٹا اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ بچے عموماً ایسی غذا کو ترجیح دیتے ہیں جسے ’لذیذ‘ قرار دیا جائے، نہ کہ صرف ’صحت بخش۔‘ اس لیے یہ بھی اہم ہے کہ کھانے کے دوران سبزیاں کب پیش کی جائیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کھانے کے آغاز میں، جب بچے کو سب سے زیادہ بھوک لگی ہو، سبزیاں پیش کی جائیں تو ان کے کھائے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں بایو سائیکالوجی کی پروفیسر ماریون ہیتھرنگٹن کا کہنا ہے کہ ’بچے عموماً پہلے وہ چیز کھاتے ہیں جو انھیں سب سے زیادہ پسند ہو اور جب تک ان کی باری مٹر جیسی سبزیوں تک پہنچتی ہے تو ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ انھیں کھائیں۔‘

ان کے مطابق اس لیے بہتر ہے کہ زیادہ کیلوریز والی دوسری غذاؤں سے مقابلہ ختم کرتے ہوئے سبزیاں پہلے پیش کی جائیں۔

امریکہ کی پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی میں غذائی علوم کی پروفیسر باربرا رولز کا کہنا ہے کہ ’کھانے کی ابتدا سبزیوں سے کرانے سے بچوں میں ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت بھی کم ہو سکتی ہے۔‘

اگرچہ مغربی غذائی عادات میں ناشتے کے ساتھ سبزیاں کھانا عام نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ایسی کوئی وجہ نہیں کہ انھیں صبح کے وقت نہ کھایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے آملیٹ میں مشروم اور پالک شامل کی جا سکتی ہے۔

سنہ 2023 میں برطانیہ کے آٹھ بچوں کے نگہداشت مراکز میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب بچوں کو ناشتے میں سبزیاں پیش کی گئیں تو انھوں نے 60 فیصد سے زیادہ مواقع پر انھیں کھایا۔

3۔ صحت بخش غذاؤں کی مقدار بڑھائیں

اگر ناشتے میں یا کھانے سے پہلے سبزیاں پیش کرنا ممکن نہ ہو تو ایک اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ کھانے میں موجود مختلف اجزا کی مقدار کا تناسب تبدیل کر دیا جائے۔ یعنی زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی مقدار کم کر کے سبزیوں کا حصہ بڑھا دیا جائے۔

یہ کام سبزیوں کو بطور سائیڈ ڈش زیادہ مقدار میں پیش کر کے بھی کیا جا سکتا ہے یا پھر گاجر اور کدو جیسی سبزیوں کو کدوکش کرکے مختلف ساسز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لوگ عموماً کھانے کی مجموعی مقدار تقریباً یکساں رکھتے ہیں تاہم اگر گوشت اور سبزیوں کے تناسب میں سبزیوں کا حصہ بڑھا دیا جائے تو وہ زیادہ سبزیاں کھا لیتے ہیں۔

اسی طرح ایک تحقیق کے مطابق اگر بچے کی پلیٹ میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار 50 فیصد بڑھا دی جائے تو وہ بھی ان غذاؤں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کھاتا ہے۔

مزید تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب پری سکول عمر کے بچوں کو کھانے کے وقت مختلف اقسام کی سبزیوں میں سے انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے تو وہ زیادہ سبزیاں کھاتے ہیں اور غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال نسبتاً کم کر دیتے ہیں۔

4۔ سبزیوں کو مختلف انداز میں پیش کریں

ماہرین کے مطابق بچوں کے سامنے سبزیوں کو مختلف انداز میں پیش کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کیا کھانا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ اکثر ہماری نظر سے ہی شروع ہوتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق جب بچوں کے سامنے کئی غذائیں رکھی جائیں تو وہ عموماً اسی غذا کا انتخاب کرتے ہیں جو انھیں زیادہ مانوس اور دیکھنے میں زیادہ دلکش محسوس ہو۔

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سبزیوں کو پیش کرنے کا انداز تبدیل کر دیا جائے تو بچوں میں انھیں کھانے کا رجحان بڑھایا جا سکتا ہے۔

ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جب نئی غذاؤں کو پلیٹ میں خوبصورت اور تخلیقی انداز میں سجا کر پیش کیا گیا تو بچوں نے انھیں کھانے میں زیادہ دلچسپی دکھائی۔ اسی طرح دیگر تحقیقات سے پتا چلا کہ اگر پھلوں اور سبزیوں کو تتلی، پھول یا ٹیڈی بیئر جیسی دلچسپ اشکال میں کاٹ کر پیش کیا جائے تو بچے انھیں زیادہ شوق سے کھاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت بخش غذاؤں کو دلکش اور تفریحی انداز میں پیش کرنا ان کی کشش بڑھا دیتا ہے۔

تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ اگر صحت بخش غذاؤں کو بچوں کی آسان رسائی میں بطور سنیک رکھا جائے تو ان کے کھائے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق 10 سے 13 سال کی عمر کے بچوں نے اس وقت زیادہ سبزیاں منتخب کیں اور کھائیں جب مختلف اقسام کی سبزیاں الگ الگ پلیٹوں کے بجائے ایک ہی برتن میں مناسب مقدار کے حصوں کی صورت میں پیش کی گئیں۔

اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب پری سکول عمر کے بچوں کو مختلف خانوں والی پلیٹ میں الگ الگ حصوں کی صورت میں کھانا پیش کیا گیا تو انھوں نے معمول کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ سبزیاں کھائیں۔

5۔ بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں

ماہرین کے مطابق والدین کی غذائی عادات بچوں کے کھانے پینے کے رویے پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور یہی عمل بچوں میں کھانے کے معمولات کو ’نارمل‘ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر والدین غیر صحت بخش سنیکس کھاتے ہیں تو بچوں میں بھی اسی طرح کی عادات اپنانے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جو والدین فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں یا ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں ان کے بچوں میں بھی یہی رویہ زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں سکول جانے والے بچوں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جن والدین کی خوراک نسبتاً صحت مند تھی، ان کے بچے کیک، چاکلیٹ اور دیگر نمکین سنیکس کم مقدار میں کھاتے تھے۔

اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے والدین خود صحت مند غذا کے استعمال کی باقاعدہ مثال پیش کرتے ہیں، ان بچوں میں پھلوں اور سبزیوں کو پسند کرنے اور کھانے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ خاندان کے ساتھ مل کر کھانا کھانا صحت مند جسمانی وزن، بہتر غذائی عادات اور صحت بخش غذا کے زیادہ استعمال کے امکانات سے منسلک ہے خاص طور پر اس صورت میں جب والدین بھی خود صحت مند غذائیں کھا رہے ہوں۔

ایک طویل المدتی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو افراد باقاعدگی سے خاندانی کھانوں میں شریک ہوتے تھے ان میں جسمانی فٹنس کی سطح بہتر تھی اور وہ سافٹ ڈرنکس کم مقدار میں استعمال کرتے تھے۔

6۔ کھانے کو دلچسپ بنائیں

ماہرین کے مطابق بچوں کی غذائی عادات کا انحصار بڑی حد تک ان کے کھانے کے ساتھ تعلق پر ہوتا ہے اس لیے صحت بخش غذا کو دلچسپ انداز میں پیش کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں پر کسی خاص غذا کو کھانے کے لیے دباؤ ڈالنے سے وہ کھانے سے مزید بددل ہو سکتے ہیں اور ان کی غذائی عادات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر غیر صحت بخش غذا کو بطور انعام دیا جائے تو بچوں میں اس کی پسند مزید بڑھ سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق بچوں کو کھانے کے اجزا کے ساتھ کھیلنے، انھیں چھونے، سونگھنے اور قریب سے دیکھنے کی اجازت دینا نئی غذاؤں سے ہچکچاہٹ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، چاہے ان سے انھیں چکھنے کی توقع نہ رکھی جائے۔

تحقیق میں بچوں کو چقندر اور چنے سمیت مختلف اجزا سے متعارف کرایا گیا جس کے بعد وہ ان سے زیادہ مانوس ہوئے اور بعد میں انھیں آزمانے پر بھی زیادہ آمادہ نظر آئے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچوں کو کھانا پکانے کے عمل میں شامل کرنے سے بھی ان میں نئی اور غیر مانوس غذائیں چکھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔

اس تحقیق میں شریک تجرباتی شیف جوزف یوسف کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ’بچوں کے لیے کھانے کے تجربے کو نئے انداز میں پیش کیا جائے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’جب کھانے کو کھیل اور سرگرمی کا حصہ بنایا جائے اور بچوں پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو تو وہ مختلف غذاؤں کو ہاتھ لگانے، چکھنے اور ان کے ساتھ تجربہ کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ان طریقوں پر عمل کیا جائے تو اس بات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کہ بچے صرف محدود اقسام کی غذاؤں پر اکتفا کرنے کے بجائے مختلف اور صحت بخش غذائیں بھی خوشی سے کھانا شروع کر دیں۔‘