آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
6,400 میٹر بلندی پر ڈاکٹر اسما کی میت اور سوالات: بلند چوٹیوں پر ریسکیو مشن کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
حکومت پاکستان نے آگاہ کیا ہے کہ موسمی حالات بہتر ہونے کے بعد منگل (25 اگست) کی صبح ایک ریسکیو ٹیم پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں 7027 میٹر بلند سپنتک چوٹی پر ہلاک ہونے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کو واپس لانے کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ریسکیو ٹیم ایک بار پھر بیس کیمپ سے روانہ ہو چکی ہے اور اب کیمپ ٹو کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور موسمی حالات سازگار رہنے تک تلاش کا آپریشن جاری رکھے گی۔‘
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق کی موت 20 اگست کو سپنتک پہاڑ سے واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر ’ہائی ایلٹیٹیوڈ میڈیکل ایمرجنسی‘ کے باعث ہوئی تھی۔
حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث ڈاکٹر اسما کی میت واپس لانے کا آپریشن متعدد بار تعطل کا شکار ہوا ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے ہمدردی کی بنیاد پر ریسکیو آپریشن کی منظوری دے رکھی ہے، تاہم اِس کا مکمل دارومدار موسم کی صورتحال پر ہے۔
اگرچہ پاکستان اور اِس کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں واقع چوٹیوں پر اکثر کوہ پیماؤں کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور بہت سے کوہ پیما مہمات کے دوران جان کی بازی سے بھی جاتے ہیں، تاہم ڈاکٹر اسما کے کیس نے میڈیا کی توجہ اس لیے بھی حاصل کی کیونکہ اُن کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ اُن کی میت پہاڑ کی چوٹی سے واپس لانے کے لیے اُن سے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما کے اہلخانہ نے اُن کی موت سے قبل بازیابی کے آپریشن اور اُس کے بعد اُن کی میت کی واپسی میں تاخیر جیسے معاملات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسے میں یہ سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں کہ بلند و بالا چوٹیاں سر کرنے کی مہمات پر جانے والے کوہ پیماؤں کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور خآص طور پر کسی حادثے کی صورت میں کیے جانے والے ریسکیو آپریشنز اور اُس کے اٹھنے والے اخراجات ادا کرنے کی ذمہ داری کس پر ہوتی ہے؟
ڈاکٹر اسما کی میت کتنی بلندی پر موجود ہے؟
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق کی موت 7,027 میٹر بلند سپنتک پہاڑ سے واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر ’ہائی ایلٹیٹیوڈ میڈیکل ایمرجنسی‘ کے باعث ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی صحت عامہ کے ادارے ’این ایچ ایس‘ کے مطابق ’ہائی ایلٹیٹیوڈ سِیکنیس‘ کی ظاہری علامات عموماً بلند مقام پر پہنچنے کے چھ سے 10 گھنٹے بعد ظاہر ہوتی ہیں اور علاج نہ ہونے کی صورت میں اس سے جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاج میں سٹیرائڈز، بلڈ پریشر کم کرنے کی دوا اور مصنوعی آکسیجن فراہم کرنا شامل ہوتا ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر اسما نے سپنتک کی چوٹی کامیابی سے سر کی تھی تاہم واپسی کے دوران انھیں اچانک طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن کے گائیڈ اکبر علی نے فوری طور پر انھیں طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ بچ نہ پائیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد کے مطابق ڈاکٹر اسما کی میت تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر موجود ہے جسے نیچے لانے کے لیے ایک امدادی ٹیم بیس کیمپ پر موجود ہے۔
ان کے مطابق ریسکیو ٹیم نے حادثے کے دوسرے روز لاش کو بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی تھی، تاہم شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث ایسا مُمکن نہیں ہو سکا تھا اور ریسکیو ٹیم کو واپس بیس کیمپ آنا پڑا تھا۔
عرفان ارشد کا کہنا تھا کہ ٹیم اب بھی بیس کیمپ پر ہی ہے۔ اُن کے مطابق پاکستانی فوج نے درخواست پر ہمدردانہ بنیادوں پر ریسکیو آپریشن کی منظوری دے دی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر اسما کی موت کن حالات میں ہوئی، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ اگر گائیڈ، ہائی ایلٹیٹیوڈ سٹاف یا ٹور کمپنی نے محسوس کیا تھا کہ ڈاکٹر اسما کی طبیعت خراب ہو رہی ہے تو انھیں بروقت واپس لانے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی۔ اور اگر وہ خود واپسی سے انکار کر رہی تھیں تو بھی اُن کے اصرار کو نظرانداز کرتے ہوئے اُن کی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے تھی۔‘
ریسکیو سروس کی انشورنس اور اخراجات پر سوال
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق کی مہم کے آغاز سے قبل اُن کی ریسکیو سروس انشورنس نہیں کروائی گئی تھی، جو مقررہ اصولوں کے خلاف ہے۔ تاہم ڈاکٹر اسما کو لے جانے والی ٹور کمپنی اس کی تردید کرتی ہے۔
ریسکیو سروس انشورنس کوہ پیما کو پیش آنے والی کسی ہنگامی صورتحال یا حادثے کی صورت میں فوری طور پر ہیلی کاپٹر سروس اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے افراد کے معاوضوں کی ادائیگی کے بندوبست پر مشتمل ہوتی ہے۔
تاہم ڈاکٹر اسما مشتاق کو اس مہم کے لیے خدمات فراہم کرنے والی ٹور آپریٹر کمپنی ’قراقرم کالنگ‘ کے ترجمان یوسف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر اسما کی انشورنس کروائی گئی تھی۔
لیکن جب بی بی سی نے انشورنس کے کاغذات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ پورے گروپ کی لائف انشورنس (نہ کہ ریسکیو سروس انشورنس) تھی اور اُس کی رقم بھی طے شدہ کم از کم حد تک محدود رکھی گئی تھی، اور جس کے تحت ہنگامی صورتحال میں ریسکیو آپریشن نہیں کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی نے جب ٹور آپریٹر کمپنی کے ترجمان یوسف سے پوچھا کہ حادثہ پیش آنے کے بعد اب ریسکیو آپریشن کون کرے گا اور اس کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کے جس وارث کے نام پر لائف انشورنس ہوئی ہے، وہ چاہیں تو اس انشورنس سے حاصل ہونے والی رقم ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
تاہم اُن کے اپنے مطابق انشورنس کی یہ رقم حاصل کرنے میں کم از کم دو ماہ لگ سکتے ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق پہاڑوں پر مہم جوئی کے دوران ہنگامی صورتحال میں ریسکیو آپریشن سے متعلق انشورنس دنیا میں صرف چند بین الاقوامی کمپنیاں ہی فراہم کرتی ہیں۔
تاہم ریسکیو انشورنس نہ ہونے کی مشکل صرف ڈاکٹر اسما مشتاق اور ان کے اہلخانہ تک محدود نہیں۔
کچھ عرصہ قبل سوات میں ’منی کے ٹو‘ کہلانے والی ’فلک سر‘ چوٹی پر جان گنوانے والے سید علی میاں شاہ کے پاس بھی ریسکیو سروس انشورنس موجود نہیں تھی۔ سید علی میاں شاہ کے اہلخانہ کے مطابق حادثے کے بعد تقریباً 10 لاکھ روپے خرچ کر کے اُن کی میت واپس لانے کی کوشش کی گئی، تاہم اس کوشش میں بھی کامیابی نہیں مل سکی تھی۔
ریسکیو سروس انشورنس کیا ہوتی ہے؟
الپائن کلب کے صدر عرفان ارشد کے مطابق بلند و بالا چوٹیوں پر کوہ پیماؤں کو کوئی بھی حادثہ پیش آنے کی صورت میں انشورنس کمپنی فضائی سروس کی ادائیگی کرتی ہے اور اگر ضرورت ہو تو گراؤنڈ ریسکیو ٹیم کے اخراجات بھی ادا کرتی ہے۔
اُن کے مطابق ٹور آپریٹر کمپنی فوری طور پر انشورنس کمپنی سے رابطہ کرتی ہے اور ادائیگی کا ثبوت حاصل کرنے کے بعد متعلقہ فضائی سروس اور ریسکیو ٹیم سے رابطہ کیا جاتا ہے۔
عرفان ارشد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اب تک یہ کام عسکری ایوی ایشن ہی کرتی آ رہی ہے اور کئی مرتبہ اس نے یہ سروس مفت بھی فراہم کی ہے، تاہم دنیا میں مفت ریسکیو کا تصور نہیں ہے۔‘
اُن کے مطابق پاکستان میں بھی نیپال کی طرح نجی شعبے میں ریسکیو سروس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس کے لیے سول ایوی ایشن سے متعلق ادارہ سرگرم عمل ہے۔
عرفان ارشد کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان میں بھی ایڈونچر ٹورازم کے لیے نجی ریسکیو سروس فراہم کرنے والی کمپنی فعال ہو گی۔‘
ان کے مطابق اس وقت عسکری ایوی ایشن پانچ ہزار میٹر سے اوپر ریسکیو سروس فراہم نہیں کر سکتی، تاہم نجی کمپنی کے آنے کی صورت میں توقع ہے کہ یہ سروس چھ ہزار یا ساڑھے چھ ہزار میٹر تک فراہم کی جا سکے گی۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’یہ سروس صرف ریسکیو تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اگر کوئی شخص فضائی سیاحت کے لیے اسے استعمال کرنا چاہے تو یہ سہولت بھی دستیاب ہو سکتی ہے۔‘
عرفان ارشد نے بتایا کہ اس کے علاوہ گراؤنڈ ریسکیو سروس کی تربیت اور بین الاقوامی لائسنس یافتہ گائیڈز کی تربیت کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔
ثمینہ بیگ ٹورازم سے منسلک محبوب علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ’ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایڈونچر ٹورازم سے متعلق قوانین تقریباً یکساں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کو ویزا حاصل کرکے پاکستان آنا پڑتا ہے اور اُن کے پرمٹ کی فیس مقامی سیاحوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’اگر کوئی شخص ٹریکنگ یا کوہ پیمائی کے لیے جانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے گلگت بلتستان یا متعلقہ علاقے میں حکومت کے پاس اپنا اندراج کروانا ہوتا ہے۔ اس میں یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ ٹریکنگ کے لیے جا رہا ہے یا کوہ پیمائی کے لیے۔‘
محبوب علی نے مزید بتایا کہ ’اس کے بعد انشورنس کا مرحلہ آتا ہے۔ انشورنس کی بنیادی طور پر دو اقسام ہوتی ہیں ایک ’لائف انشورنس‘ اور دوسری ’ریسکیو سروس آپریشن انشورنس‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لائف انشورنس پاکستان میں مقامی انشورنس کمپنیوں سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ ریسکیو سروس آپریشن کے لیے الگ سے انشورنس درکار ہوتی ہے۔‘
محبوب علی نے بتایا کہ ’دنیا میں صرف تین یا چار کمپنیاں ایسی ہیں جو بلند پہاڑوں پر ریسکیو سروس آپریشن کے لیے کی انشورنس فراہم کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں فی الحال ایسی کوئی کمپنی موجود نہیں ہے، تاہم مہم جوئی پر لے جانے والی ٹور آپریٹر کمپنیاں اِن بین الاقوامی کمپنیوں سے رابطہ کر کے ریسکیو سروس انشورنس کا بندوبست کرتی ہیں۔‘
محبوب علی کا کہنا تھا کہ ’بلند و بالا پہاڑوں پر ریسکیو کرنا آسان کام نہیں اور اس پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں۔ اس میں ہیلی کاپٹر سروس سمیت مختلف اخراجات شامل ہوتے ہیں اور کسی بھی جگہ یہ کام اخراجات کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔‘
ان کے مطابق ’بعض اوقات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی فضائی ریسکیو آپریشن کیا جاتا ہے، خصوصاً جب کسی زخمی شخص کی جان بچانے کا معاملہ ہو، تاہم بعد میں اس آپریشن پر آنے والے اخراجات وصول کیے جاتے ہیں۔‘
محبوب علی نے کہا کہ ’پاکستان میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ پاکستانی فوج کے تعاون سے کئی ریسکیو آپریشن کیے گئے ہیں جن کے اخراجات بعد میں وصول نہیں کیے گئے، تاہم جب کوئی شخص جان سے چلا جائے تو اس کی لاش واپس لانے کے لیے ریسکیو آپریشن عموماً بغیر اخراجات کے نہیں کیا جاتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پرمٹ حاصل کرنے کے لیے گروپ کے ہر فرد، خواہ وہ پورٹر ہو یا باورچی، کے لیے انشورنس حاصل کرنا لازمی ہوتی ہے۔ عموماً یہ کام ٹور آپریٹر انجام دیتے ہیں اور اسی انشورنس کی بنیاد پر پرمٹ حاصل کیا جاتا ہے۔‘
’میت واپس لانے کے لیے 30 لاکھ کا مطالبہ کیا گیا تھا‘
لاہور سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ ڈاکٹر اسما مشتاق برطانیہ میں زچہ و بچہ کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں کوہ پیمائی، سفر اور وی لاگنگ کا بھی شوق تھا اور وہ اپنی سفری اور مہماتی سرگرمیاں سوشل میڈیا پر شیئر کرتی تھیں۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کی ایک نو ماہ کا بیٹا بھی ہے۔ اُن کے اہلخانہ کے مطابق وہ چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھیں اور اس مہم جوئی کے لیے خصوصی طور پر برطانیہ سے پاکستان آئی تھیں۔
ڈاکٹر اسما نے 4,076 میٹر بلند ’موسیٰ کا مصلیٰ‘ موسم سرما میں سر کیا تھا، جبکہ وہ رُپل اور ارندو کے علاقوں میں بھی کوہ پیمائی مہمات کا حصہ رہ چکی تھیں۔ اُن کی خواہش پاکستان کی بلند چوٹیوں کو سر کرنا تھی اور سنہ 2024 میں انھوں نے کے ٹو مہم کے لیے سپانسرشپ کی تلاش بھی کی تھی۔
اُن کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ’ڈراسما ڈاٹ ایکپلور‘ کے نام سے موجود ہے، جہاں وہ اپنی سفری اور مہماتی سرگرمیاں شیئر کرتی تھیں۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کے بھائی ابوبکر کا کہنا ہے کہ ’اُن کی بہن ایک انتہائی حساس طبیعت کی مالک تھیں اور انھیں پہاڑوں سے عشق تھا۔‘
ابوبکر کے مطابق ڈاکٹر اسما نے اپنے شوہر سے مشاورت کے بعد اس مہم جوئی کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لیے بھرپور تیاری کر رہی تھیں۔
ابو بکر نے تصدیق کی کہ اُن کی بہن کو حادثہ پیش آنے کے بعد بیس کیمپ پر موجود کچھ ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹرز نے سکردو میں موجود اُن کے بھائی سے رابطہ کر کے لاش واپس لانے کے لیے 30 لاکھ روپے کا معاوضہ مانگا تھا۔ الپائن کلب آف پاکستان نے بھی ڈاکٹر اسما کے اہلخانہ سے رقم کا تقاضہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم انھیں لے جانے والی ٹور آپریٹر کپمنی کا کہنا تھا کہ پیسوں کا مطالبہ انھوں نے نہیں کیا بلکہ بلکہ کچھ پرائیویٹ ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹرز نے کیا تھا۔
تاہم ڈاکٹر اسما مشتاق کے بھائی نے موجودہ صورتحال اور اُن کی موت کے حالات پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’اس پورے معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حادثے سے پہلے اور اس کے بعد کیا ہوا۔‘
الپائن کلب آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ’اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ متعلقہ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کے لیے ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں مہم جوئی سے پہلے ممکنہ خطرات، انشورنس اور کسی حادثے کی صورت میں فوری ریسکیو کے انتظامات واضح اور مؤثر ہوں۔‘
پاکستان میں کوہ پیمائی کی صنعت اور اخراجات
پاکستان میں کوہ پیمائی ایڈونچر ٹورازم کے تحت آتی ہے اور اس سے مراد ایسی سیاحتی سرگرمیاں ہیں جن میں سفر کے ساتھ جسمانی چیلنج، خطرہ یا مہم جوئی کا عنصر بھی شامل ہو۔
پاکستان میں کوہ پیمائی اور ٹریکنگ سمیت ایڈونچر ٹورازم ملک کی سیاحتی معیشت میں بھی نمایاں حصہ رکھتا ہے، خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا اپنے بلند پہاڑوں، گلیشیئرز اور دشوار گزار وادیوں کی وجہ سے ایڈونچر ٹورازم کے لیے نمایاں مقامات ہیں۔
اس صنعت سے صرف ٹور آپریٹرز ہی نہیں بلکہ مقامی گائیڈز، ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹرز، کیمپنگ سروسز اور دیگر چھوٹے کاروباروں کو بھی روزگار اور آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد کے مطابق دنیا بھر میں ایڈونچر سپورٹس اور کوہ پیمائی میں کسی بھی مہم سے پہلے تمام ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن سے نمٹنے اور ممکنہ ریسکیو پر آنے والے اخراجات کا انتظام پہلے سے کیا جاتا ہے۔
تاہم وہ زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں اس شعبے میں اہم اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ حادثات کی صورت میں ریسکیو اور دیگر انتظامات میں مشکلات پیدا نہ ہوں۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جون 2026 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاحت کا تقریباً 45 فیصد حصہ ایڈونچر ٹورازم پر مشتمل ہے، جبکہ مجموعی ٹریول اینڈ ٹورازم شعبہ ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً 5.9 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 47 لاکھ افراد کے روزگار کو سپورٹ کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 میں پاکستان نے غیر ملکی سیاحوں سے 1.15 ارب ڈالر کی ٹورازم ایکسپورٹ ارننگ حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق ایک غیر ملکی سیاح اپنے عموماً چار سے پانچ روزہ سفر کے دوران اوسطاً 1,500 سے 1,750 ڈالر خرچ کرتا ہے، جس سے ہوٹلز، ٹرانسپورٹ، ٹور آپریٹرز، گائیڈز اور دیگر مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
عرفان ارشد کے مطابق بہت سے لوگ ابتدا میں شوق کی بنیاد پر کوہ پیمائی شروع کرتے ہیں اور اپنے ابتدائی اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، لیکن چند مہمات کے بعد جب وہ تجربہ حاصل کر لیتے ہیں اور پہچان بن جاتی ہے تو انھیں مختلف سپانسرز ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔