گوا کی پِنٹو بغاوت: جس میں ٹیپو سلطان سے مدد مانگی گئی اور ایک مفرور ہپناٹزم کا بانی بنا

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

سنہ 1787 کی اس گرم مرطوب رات بحیرۂ عرب کے کنارے ایشیا میں پرتگالی سلطنت کی پہلی اور سب سے اہم نوآبادی، گوا میں بظاہر ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔

لیکن اسی شہر کے ایک پادری کائیتا نو دے فاریا کے گھر کے دروازے بند اور کھڑکیوں پر پردے گرے تھے اور اندر دھیمے لہجے میں گفتگو جاری تھی۔

یہ کوئی مذہبی اجتماع نہیں تھا، نہ ہی عبادت یا وعظ کی مجلس۔ یہ پرتگالی سلطنت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی تھی۔

’انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا‘ کے مطابق گوا کی دو ہزار سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس پر کدمبا خاندان، دکن کے مسلم حکمرانوں وِجے نگر سلطنت اور بَہمنی سلطنت نے حکومت کی۔

سنہ 1482 کے بعد سے یہ بیجا پور کے سلطان یوسف عادل شاہ کے زیرنگیں تھا جب سنہ 1510 میں پرتگالی سپہ سالار افونسو دی البوکرق نے اسے فتح کیا۔

یوں گوا ایشیا میں پرتگالی سلطنت کی پہلی باقاعدہ علاقائی نو آبادی بن گیا جسے اگلی ساڑھے چار صدیوں تک بحرِ ہند میں پرتگالی اقتدار کا مرکز رہنا تھا۔

نسلی امتیاز

اٹھارہویں صدی کے اختتام تک پرتگالی سلطنتِ گوا اپنی سابقہ شان و شوکت کھو رہی تھی۔

کرن ورما نے اپنی کتاب ’اے ہسٹری آف گوا‘ میں لکھا ہے کہ ایک زمانے کا خوشحال اور پر رونق دارالحکومت اب زوال، معاشی کمزوری اور سیاسی بے یقینی کی علامت بن چکا تھا۔

’اگرچہ (مغلوں کی وجہ سے) مراٹھوں کا فوری خطرہ ٹل گیا تھا، لیکن ان کے حملوں کی یادیں ابھی تازہ تھیں۔ دوسری طرف بمبئی میں برطانوی طاقت کے تیزی سے ابھرنے نے تجارت اور علاقائی اہمیت کا مرکز گوا سے چھین لیا تھا جس کے نتیجے میں پرتگالی اقتدار ثانوی حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا۔‘

اسی دوران میں ایک ایسا بحران جنم لے رہا تھا جو بیرونی دشمنوں نے نہیں بلکہ خود پرتگالی انتظامیہ نے پیدا کیا تھا۔

کرن کے مطابق دو صدیوں سے پرتگالی حکمران مقامی کیتھولک اشرافیہ، پادریوں اور فوجی افسران کی ایک تعلیم یافتہ جماعت تیار کر رہے تھے۔

انھیں لاطینی زبان، الٰہیات اور فلسفے کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی جبکہ متعدد مقامی باشندوں کو نو آبادیاتی فوج میں بھی شامل کیا گیا۔

اس حکمتِ عملی کا مقصد ایک وفادار مقامی طبقہ پیدا کرنا تھا، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔

پرتیما کامت اپنی کتاب ’فرارفار: لوکل رزسٹنس ٹو کولونیئل ہیجیمنی ان گوا‘ میں لکھتی ہیں کہ نو آبادیاتی چرچ کی نسل پرستانہ پالیسی کے تحت گوا کے مقامی پادریوں کو اعلیٰ مذہبی مناصب پر ترقی دینے سے انکار کیا جاتا تھا۔

کرن نے لکھا ہے کہ گوا کے تعلیم یافتہ پادری اور فوجی قابلیت میں اپنے پرتگالی ہم منصبوں کے برابر بلکہ بعض اوقات ان سے بہتر تھے، مگر انھیں محض نسلی امتیاز کی بنیاد پر اعلیٰ عہدوں سے محروم رکھا جاتا تھا۔

’بشپ آرچ ڈیکن اور مذہبی اداروں کی قیادت جیسے تمام با اختیار مناصب صرف پرتگال سے آنے والے افراد کے لیے مخصوص تھے۔ یوں مقامی پادری ہمیشہ ایک یورپی افسر کے ماتحت رہنے پر مجبور تھے، خواہ وہ عمر اور قابلیت میں ان سے کم ہی کیوں نہ ہو۔‘

پرتگال کے شاہی مرکز لِزبن سے آنے والے حکام خود کو ’ریئنوئیس‘ یعنی سلطنتِ پرتگال کے اصل باشندے سمجھتے تھے، جب کہ گوا میں پیدا ہونے والے مسیحیوں کو ’نیچرلز‘ یا مقامی تصور کیا جاتا تھا۔

یہی احساسِ محرومی آہستہ آہستہ سیاسی شعور میں بدلنے لگا۔

والمیکی فالیرو نے اپنی کتاب ’گوا1961: دی کمپلیٹ سٹوری آف نیشنلزم اینڈ انٹیگریشن ‘ میں لکھا ہے کہ ایسے ہی حالات میں ایک منظم بغاوت نے جنم لیا جس کا مقصد پرتگالی اقتدار کو فوجی طاقت سے ختم کر کے گوا میں ایک خود مختار جمہوریہ قائم کرنا تھا۔

'اس کی قیادت گوا سے تعلق رکھنے والے دو کیتھولک پادریوں، فادر کیتانو فرانسسکو دا کوتو اور فادر ژوزے انتونیو گونسالویس نے کی۔

دونوں پادری کلیسائی پالیسی میں مقامی پادریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی شکایت لے کر پرتگال گئے مگر وہاں ان کی بات سننے والا کوئی ہمدرد نہ ملا۔

’اس کے بعد انھوں نے گوا میں پیدا ہونے والے فادر کیتانو ویتورینو دے فاریا کے گھر متعدد ملاقاتیں کیں۔ یہیں پرتگالی اقتدار کو گوا سے بے دخل کرنے کے لیے بغاوت کے خیال نے جنم لیا۔‘

کرن کے مطابق دونوں نے یورپ میں روشن خیالی کی تحریک اور والٹیئر اور روسو جیسے مفکرین کے نظریات سے متاثر ہو کر آزادی، مساوات اور عوامی حاکمیت کے تصورات کو قریب سے دیکھا۔

'گوا واپس آ کر اُنھوں نے یہ سوچ عام کی کہ صرف چرچ میں مساوی مواقع کافی نہیں، بلکہ گوا کو پرتگالی اقتدار سے مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ اس نظریے نے جلد ہی ایسے مقامی فوجی افسروں کی حمایت بھی حاصل کر لی جو خود بھی نسلی امتیاز کا شکار تھے۔ یوں پادریوں نے نظریاتی قیادت سنبھالی جبکہ فوجی عناصر عملی کارروائی کے لیے تیار ہوئے۔‘

پنٹو بغاوت یا پنٹو سازش

اس خفیہ تحریک کا مرکز بارڈیز کے گاؤں کینڈولم کا بااثر پنٹو خاندان بنا۔

ڈیوڈ ابرام نے اپنی کتاب ’گوا‘ میں لکھا ہے کہ کینڈولم گوا کے خوشحال ترین اور نسبتاً صحت بخش دیہات میں شمار ہوتا تھا جہاں سترھویں اور اٹھارہویں صدی میں دارالحکومت میں ملیریا اور ہیضے کے باعث خوشحال خاندان نقل مکانی کرگئے تھے۔ ان ہی خاندانوں میں پنٹو خاندان بھی شامل تھا۔‘

والمیکی کے مطابق گوا واپس آ کر دونوں پادری کینڈولم میں واقع پنٹو خاندان کی حویلی میں ملتے رہے۔ اسی حویلی کی نسبت سے اس منصوبہ بند بغاوت کو ’پنٹو بغاوت‘ یا ’پنٹو سازش‘ کا نام ملا۔

فادر کوتو نامی ایک پادری کی قیادت میں 47 ناراض پادری، فوجی اور مقامی معززین (جن میں کئی پنٹو بھی شامل تھے) پرتگالی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کے لیے پنٹو خاندان کے گھر میں جمع ہوئے۔

یہ لوگ اس زمانے میں نو آبادیاتی انتظامیہ میں رائج نسلی امتیاز سے سخت نالاں تھے۔

کرن کے مطابق پنٹو خاندان نے تنظیم، وسائل، سماجی اثرورسوخ اور رابطے فراہم کیے جنھوں نے مختلف شکایات کو ایک منظم سیاسی منصوبے میں تبدیل کر دیا۔

منصوبہ کیا تھا؟

کرن نے لکھا ہے کہ ان رہنماؤں نے مختلف مقامات پر خفیہ ملاقاتیں کیں جن میں ایک اہم اجلاس کائیتانو دے فاریا کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔

منصوبہ یہ تھا کہ موزوں وقت پر گوا میں پرتگالی حکام کو گرفتار کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے، فوج کے مقامی اہلکاروں کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور بیرونی مدد بھی حاصل کی جائے۔

’منصوبہ یہ تھا کہ مقررہ دن مقامی فوجی بغاوت کر دیں، پرتگالی افسروں کو گرفتار کر کے قلعوں اور اسلحہ خانوں پر قبضہ کر لیں جبکہ پادری عوام کو اس تحریک کی حمایت پر آمادہ کریں۔ کامیابی کی صورت میں ایک آزاد گوا جمہوریہ قائم کی جانی تھی جس کی حکومت منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک کونسل کے ذریعے چلائی جاتی۔‘

ٹیپو سلطان سے مدد

کرن کے مطابق سازش کرنے والوں کو اندازہ تھا کہ صرف گوا کے محدود وسائل کے بل بوتے پر پرتگالی سلطنت کو شکست دینا آسان نہیں ہو گا۔

اسی لیے ان کی نگاہیں برِ صغیر کی اس طاقت پر جا ٹکیں جس نے اس زمانے میں یورپی قوتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں یعنی میسور کے سلطان فتح علی ٹیپو۔

انیسویں صدی کے مؤرخ جے ایچ دا کونہا ریوارا کے مطابق سازش کے اہم رہنما فادر جوزے انتونیو گونسالویس خفیہ طور پر سرنگا پٹنم پہنچے اور ٹیپو سلطان سے ملاقات کی۔

کرن نے لکھا ہے کہ ’چند نمایاں پادری خفیہ طور پر سرنگا پٹنم پہنچے اور تجویز دی کہ اگر ٹیپو فوجی مدد فراہم کریں تو کامیابی کے بعد گوا کے بعض علاقے میسور کے حوالے کر دیے جائیں گے۔‘

’ٹیپو سلطان نے اس پیشکش میں پرتگالی اقتدار کو ختم کرنے اور گوا کی بندرگاہ تک رسائی کا موقع دیکھا، اس لیے تعاون پر آمادگی ظاہر کی اور اپنی فوج کو سرحد کے قریب تیار رہنے کا حکم دیا۔‘

لیکن بغاوت عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ناکام ہو گئی۔

جیری پنٹو کی ادارت میں چھپی کتاب ’ریفلیکٹڈ ان واٹر: رائٹنگزآن گوا‘ میں لکھا ہے کہ پانچ اگست 1787 کو علی الصبح انتونیو یوجینیو توسکانو جو بارڈیز کے علاقے کے گاؤں الڈونا کی کمیونیداد کے ایک کلرک تھے۔ گورنر کے پاس حاضر ہوئے اور اطلاع دی کہ بعض پادری مقامی باشندوں کو بغاوت پر آمادہ کر رہے ہیں تاکہ یہاں سے پرتگالیوں کو نکال باہر کیا جائے۔

ایک اور روایت ہے کہ یہ سازش سالسیٹ کے ایک نانبائی نے حکام کو اطلاع دے کر بے نقاب کر دی جسے اس کے مطابق سازشیوں نے فوج کے لیے تیار ہونے والی روٹی میں زہر ملانے کو کہا تھا۔

اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ ایک پادری انتونیو فلیسیانو دی سانتا ریتا نے پوری سازش حکام کے سامنے بیان کی جبکہ ایک دوسرے شریکِ سازش نیکولاؤ دا کوسٹا نے بھی منصوبے کی اطلاع دی۔

تیوتونیو آر۔ دے سوزا نے اپنی کتاب ’گواٹو می‘ میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ گوا کے مقامی پادریوں اور عام مسیحی باشندوں کی اس مایوسی کا ایک اظہار تھا جو پرتگالی نوآبادیاتی نظام میں مقامی لوگوں کے لیے قابلیت کی بنیاد پر ترقی کی کوئی امید نہیں دیکھتے تھے۔

اگرچہ دو اپریل 1761 کو لزبن کے گورنر مارکیز آف پومبال کے فرمان میں حکم دیا گیا تھا کہ پرتگالی سلطنت کے ایشیائی باشندوں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو پرتگال کے باشندوں کو حاصل ہیں، لیکن ہندوستان میں صورتِحال میں کوئی حقیقی بہتری نہ آ سکی۔

دے سوزا کے مطابق گوا میں پرتگالی اقتدار کا تختہ الٹنے کی یہ سازش بے نقاب ہو گئی اور پرتگالی حکومت نے اسے انتہائی بے رحمی سے کچل دیا۔ مختصر عدالتی کارروائی کے دوران میں ملزمان سے تشدد کے ذریعے اعترافات اور شواہد حاصل کیے گئے۔

’اس مقدمے کی کارروائی اور فیصلے خفیہ رکھے گئے، لیکن یہ بغاوت بنیادی طور پر سماجی، سیاسی اور نسلی امتیاز کے خلاف ردِعمل تھی۔ مقدمے کے لیے ضبط کیے گئے خطوط اور دستاویزات سے بار بار پتا چلتا ہے کہ گوا کے باشندے سماجی اور نسلی امتیاز کا شکار تھے جس کا سب سے زیادہ اثر پادریوں اور فوجی اہلکاروں پر پڑا۔‘

پرتگالی حکام نے فوری اور انتہائی سخت کارروائی کی۔

سزائیں

دے سوزا کے مطابق 14 پادری بغیر کسی باقاعدہ مقدمے کے پرتگال کی خانقاہوں میں 18 برس تک نظر بند رہے، یہاں تک کہ انھیں عام معافی ملی۔ 15 مقامی فوجیوں کو پھانسی دے دی گئی جبکہ 10 دیگر شہریوں کو یا تو جلاوطن کردیا گیا یا انھیں گیلیوں (چپو سے چلنے والے جنگی جہازوں) میں جبری مشقت کی سزا سنائی گئی۔

کرن نے لکھا ہے کہ درجنوں افراد گرفتار ہوئے جن میں پادری اور فوجی افسر بھی شامل تھے۔ خصوصی عدالت قائم کی گئی اور مقدمات چلائے گئے جن کا نتیجہ پہلے ہی طے تھا۔

دسمبر 1788 میں مرکزی رہنماؤں کو نہایت سفاکانہ انداز میں سزائیں دی گئیں۔

ڈیوڈ ابرام کے مطابق نچلے درجے کے فوجیوں کو پھانسی دے کر ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔

کرن نے لکھا ہے کہ ’بعض کو گھوڑوں سے باندھ کر گھسیٹا گیا، ان کے ہاتھ کاٹے گئے، پھانسی دی گئی، بعد ازاں سروں کو نیزوں پر آویزاں کر کے عوامی مقامات پر نصب کیا گیا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنیں۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور پنٹو خاندان کے گھر کو نمک ڈال کر ویران کر دیا گیا تاکہ وہاں دوبارہ آباد کاری نہ ہو سکے۔‘

’کئی رہنما جیلوں میں مارے گئے، بعض کو افریقہ اور برازیل کی نوآبادیوں میں جلاوطن کر دیا گیا جبکہ چند افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔‘

ابے فاریا: گوا کے انقلابی سے پیرس کے عظیم ہپناٹسٹ تک

سنہ 1787 کی سازش کے نمایاں کردارکائیتانو ویتورینو دے فاریا کے بیٹے جوزے کسٹوڈیو دے فاریا جو بعد میں ایبے فاریا کے نام سے مشہور ہوئے، گوا چھوڑ کر پہلے پرتگال اور پھر فرانس پہنچ گئے۔

پرتگالی اعصابی جراح ڈاکٹر ایگاس مونیز کے مطابق ایبے فاریا 1787 میں گوا میں رونما ہونے والی پنٹو بغاوت میں شریک تھے۔

اگر پنٹو سازش کامیاب ہو جاتی تو شاید وہ ایک انقلابی رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے مگر تاریخ نے ان کے لیے ایک مختلف راستہ منتخب کیا تھا۔

اٹھارہویں صدی کے اواخر میں آسٹریا کے معالج فرانز میسمرنے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انسانوں اور دیگر جانداروں میں ایک غیر مرئی سیال یا حیوانی مقناطیسیت موجود ہوتی ہے جسے متاثر کر کے بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ایبے فاریا کا استد لال تھا کہ ہپناٹک کیفیت کسی پراسرار مقناطیسی قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ مریض کے اپنے ذہن کی آمادگی سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک اصل طاقت معالج کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ مریض کے ذہن میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

یہ خیال اس زمانے کے لیے انقلابی تھا کیونکہ اس نے ہپناٹزم کو جادوئی یا مافوق الفطرت مظاہر سے نکال کر انسانی نفسیات کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔

اسی لیے انھیں آج بھی ’فادر آف سائنٹیفک ہپناٹزم‘ یا جدید سائنسی ہپناٹزم کے اولین معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

پنٹو بغاوت کے اثرات

تاریخ سے علم ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں تک پنٹو سازش کو برطانوی ہند میں گوا کے مشنریوں اور پادریوں کو بدنام کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔

اگرچہ پنٹو بغاوت اپنے فوری مقصد میں ناکام رہی، لیکن اس کے بعد گوا کے باشندوں کو بتدریج زیادہ مضبوط نمائندہ حکومتی ادارے میسر آئے۔

جب 1822 کا پرتگالی آئین نافذ ہوا تو گوا کے دو مقامی رہنما برنارڈو پیریس دا سلوا اور کونسٹانسیو روک دا کوستا، پرتگال کی پہلی پارلیمان کے لیے منتخب ہوئے۔

گوا کے پرتگال کی پارلیمان میں نمائندگی کا یہ سلسلہ گوا کے انڈیا سے الحاق (1961) تک جاری رہا۔

کامت کے نزدیک اس مزاحمت کی جڑیں اقربا پروری، ترقی کے مواقع سے محرومی اور طبقاتی رقابت میں تھیں، نہ کہ کسی منظم قوم پرستانہ یا آزادی کی جدوجہد میں۔

البتہ کرن کے مطابق ’یہ پہلی مرتبہ تھا کہ گوا کے مقامی کیتھولک معاشرے کے اندر سے پرتگالی اقتدار کے خلاف ایک منظم اور سیاسی طور پر واضح چیلنج سامنے آیا۔ اس تحریک نے خود ارادیت، مساوات اور مقامی حکمرانی کے تصورات کو جنم دیا۔‘

اگرچہ 1787 کے ’سازشی‘ اپنی آزاد ریاست قائم نہ کر سکے، لیکن انھوں نے ایک ایسا نظریہ بو دیا جو بعد کی صدی میں گوا کی قوم پرست تحریکوں کی فکری بنیاد بن گیا۔‘