امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران
کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو ان کے بقول
کسی دشمن کے خلاف کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم
اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک
پوسٹ میں لکھا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران
کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ
کر دی ہیں اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کا مقصد ایران کے آمرانہ نظام
کو برقرار رکھنے والی تمام اہم اقتصادی شریانوں اور راستوں کو کاٹ دینا ہے، تاکہ
بالآخر تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے۔‘
امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید لکھا کہ ’صدر ٹرمپ نے
ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں حکومت کے تمام اداروں کی مکمل صلاحیت، تمام
قانونی اختیارات اور وہ اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت سے
لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا سہارا نہیں لے گا۔‘
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ
کئی برسوں سے سکیورٹی
ضمانتوں کے لیے دباؤ ڈال کر زندہ
رہا ہے۔‘ ان کے بقول ’اس
نظام نے اپنی طاقت اس سوچ سے حاصل کی کہ ایران کی جوابی کارروائی یقینی ہے، جبکہ
امریکہ کی جانب سے سخت اقدامات پر عمل درآمد قابلِ مذاکرات ہے۔ لیکن ٹرمپ کی صدارت
میں یہ دور ختم ہو چکا ہے اور جو لوگ تہران کی جوابی کارروائی کے خطرے سے خوفزدہ
ہیں، انھیں واشنگٹن کے عزم کو آزمانے کی قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘
سکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ سنیچر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا
کہ ’امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی۔‘ ان کے مطابق یہ پابندیاں ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گی۔