آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے خلاف ’معاشی حملے‘ کا اعلان فوجی محاذ پر امریکی ناکامی کا اعتراف ہے: پاسدارانِ انقلاب

امریکہ نے پیر سے ایران کے خلاف بڑے ’معاشی حملے‘ کا اعلان کیا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران بھی متوقع ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی کے مطابق یہ اعلان دراصل واشنگٹن کی ’فوجی محاذ پر ناکامی‘ کا اعتراف ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے امریکہ کی جانب سے معاشی دباؤ بڑھانے کی بات دراصل فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے
  • امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا‘
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے: ایران
  • ہم مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں: ایرانی صدر
  • صدر پزشکیان کے 'نہ جنگ نہ امن' کے بیان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کے علاقائی ممالک سے رابطے
  • ایران کے پارلیمانی سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی خاطر اپنے اتحادیوں کی سلامتی داؤ پر لگا دی۔

لائیو کوریج

  1. ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    پیر کی صبح ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زیادہ گر کر 93.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی ایک فیصد سے زیادہ کمی کے بعد 86.14 ڈالر فی بیرل رہی۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ’آج ایران کے لیے ’فیصلہ کن اقتصادی دن‘ ہے۔ وہ پیر کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کریں گے۔‘

  2. سنیچر اور اتوار کو 20 سے بھی کم بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوئے: کیپلر شپ ٹریکنگ سسٹم

    بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے کیپلر شپ ٹریکنگ سسٹم کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنیچر اور اتوار کے روز 20 سے بھی کم بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سنیچر کو 13 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ اتوار کو یہ تعداد صرف چار رہی۔

    تاہم اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بعض جہاز اپنی پوزیشن ظاہر کرنے والے ٹرانسمیٹر، یا ٹرانسپونڈر، بند کر دیتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کے باعث توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت بدستور محدود ہے۔

  3. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں ایک گھر پر حملہ

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے نبطیہ الفوقا گاؤں کے رہائشی علاقے الدیر میں ایک گھر کو نشانہ بنایا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ حملے میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی فورسز نے نبطیہ کے علاقے میں علی طاہر کی پہاڑیوں اور دحا کفَر رمان سے ملحقہ پہاڑی علاقوں پر بھی گولہ باری کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے بنت جبیل کے علاقے میں واقع قصبے حداثہ میں متعدد عمارتوں کو بھی مسمار کر دیا ہے۔

  4. حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے صنعاء کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے: یمنی فوج

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدارتی قیادت کونسل کے رکن اور حکومتی فورسز کے کمانڈر طارق صالح نے کہا ہے کہ ’بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کا انحصار بندرگاہی شہر حدیدہ اور دارالحکومت صنعاء کو ایران نواز حوثیوں سے دوبارہ حاصل کرنے پر ہے۔‘

    ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں طارق صالح نے کہا کہ ’حوثیوں کے خلاف ’اصل جنگ‘ ابھی شروع ہی نہیں ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یمن بحیرہ احمر اور جزیرہ نما عرب میں ایران کے منصوبوں کے خلاف دفاع کی پہلی صف ہے۔‘

    دوسری جانب یمن کے نائب وزیرِ دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے اعلان کیا ہے کہ ’مسلح افواج بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور انھیں سیاسی قیادت کی جانب سے احکامات کا انتظار ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف ’فیصلہ کن جنگ‘ شروع کرنے کے لیے درکار تمام لاجسٹک انتظامات اور تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔‘

    سمیر الصبری نے یمن کے تعز نیوز نیٹ ورک کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ’یہی قانونی حکومت ہے جو جنگ کے وقت اور مقام کا تعین کرے گی۔‘

  5. گنی: کچرے کا ڈھیر قریبی مکانات پر گرنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک، 22 زخمی

    گنی کے دارالحکومت کوناکری میں کچرے کے ایک بڑے مرکز پر موجود ڈھیر قریبی مکانات پر گرنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکومت کے مطابق شہر کے دارالسلام علاقے میں پیش آنے والے اس حادثے میں مزید 22 افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ کی حالت تشویشناک ہے۔

    حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ’رات بھر ہونے والی شدید بارش کے بعد مقامی وقت کے مطابق تقریباً دو بجے کچرے کا ڈھیر قریبی مقانات پر گر گیا۔ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے فوج سمیت بڑی تعداد میں اہلکار اور دیگر وسائل جائے وقوعہ پر بھیجے گئے ہیں۔

    ایک خاتون نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’اس حادثے میں ان کے پانچ بچے ہلاک ہو گئے۔‘ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    امدادی کارکنوں کو بعد میں کھدائی کرنے والی مشینوں کے ذریعے جائے وقوعہ پر بکھرے کچرے کے بڑے ڈھیر میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کرتے دیکھا گیا، جبکہ مقامی رہائشی بھی موقع پر جمع تھے۔

    گنی کے وزیرِ اعظم مامادو اوری باہ نے صورتحال کا جائزہ لینے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔

    علاقے کے مقامی رہنما لانسن سیلا نے اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ انھیں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

  6. عراقی حکومت کی مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈ لائن

    عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے اعلان کیا ہے کہ 30 ستمبر کو بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کے بعد حکومت مسلح گروہوں کے پاس موجود ہتھیار مرحلہ وار اپنے کنٹرول میں لینے کا عمل شروع کرے گی۔

    انھوں نے اس اقدام کو عراق کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی۔‘

    قاسم الاعرجی نے اتوار کو عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومت سیاسی جماعتوں اور پاپولر موبلائزیشن فورسز (الحشد الشعبی) کے یونٹس کے درمیان تعلقات ختم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے، جبکہ اس حوالے سے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ان گروہوں کے ہتھیار حکومت کے زیرِ استعمال ہوں گے اور انھیں کسی غیر ملکی فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سیاسی دھارے اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ اور امن سے متعلق فیصلے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔‘

    ایران نواز بعض مسلح گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ بھی شامل ہے، نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ان گروہوں نے ہتھیار ڈالنے کو امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا سے مشروط کیا ہے۔ انھوں نے شمالی عراق سے ترک افواج کے انخلا اور پیشمرگہ فورسز کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی پیشگی شرط کے طور پر کیا ہے۔

    عراق کے قومی سلامتی کے مشیر نے زور دے کر کہا کہ ’حکومت کے لیے فوجی محاذ آرائی ایک ’ریڈ لائن‘ ہے، تاہم بغداد پاپولر موبلائزیشن فورسز کے جنگجوؤں کے حقوق کی ضمانت دے گا۔‘

  7. ’خلاف ورزی کرنے والے جہاز‘ آبنائے ہرمز سے آئندہ گزرنے پر جرمانے، حراست یا ضبطی کا سامنا کریں گے: ایران

    ایران کی جانب سے قائم کردہ ’پرشین گلف واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی‘ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بعض بحری جہازوں کو آئندہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران جرمانے، حراست یا ضبطی جیسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    ادارے نے ان ’کارگو مالکان‘ کو، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنا سامان منتقل کرنا چاہتے ہیں، مشورہ دیا ہے کہ ’جہاز کرائے پر لینے‘ سے قبل ’خلاف ورزی کرنے والے جہازوں‘ کی فہرست سے متعلق معلومات حاصل کر لیں۔

    ادارے نے ’خلاف ورزی کرنے والے جہازوں‘ کے ناموں کا پتہ لگانے کے لیے ایک ویب سائٹ بھی متعارف کرائی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ تعاون کرنے والے بحری جہازوں کو بھی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔‘

    رپورٹس کے مطابق اس ویب سائٹ پر اب تک تقریباً 46 بحری جہازوں کے نام خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے طور پر درج کیے گئے ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے یہ ادارہ قائم کیا تھا۔

    دوسرے جانب عمان نے 23 جون کو اعلان کیا تھا کہ اس نے اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے تعاون سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک عارضی بحری راہداری فراہم کی ہے۔

  8. امریکی معاشی حملے کا اعلان فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا اعتراف ہے: پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے معاشی حملے کی بات دراصل فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے۔‘

    شمالی صوبے البرز میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین محیبی نے کہا کہ ’اگر آپ فوجی محاذ پر کامیاب ہو گئے ہوتے تو اس تمام معاشی شور شرابے کی ضرورت نہ پڑتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دشمن قوتیں اپنے بحری جہاز خاصا پیچھے ہٹانے پر مجبور ہوئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو توڑنے کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق آئی آر جی سی کے ترجمان نے ایرانی میڈیا پر زور دیا کہ وہ جنگ کی نوعیت اور اس میں شامل فریقوں کی درست نشاندہی کرکے عوام کو اس سے آگاہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ میڈیا کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ’میدانِ جنگ میں شکست کھانے والا فریق عوام کے ذہنوں میں خود کو فاتح کے طور پر پیش کر سکے۔‘

  9. فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ایک وفد کے ہمراہ تہران ک دورہ کریں گے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے فیلڈ مارشل اپنے دورے کے درمیان ایران کے سینیئر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

    تاہم پاکستان نے تاحال سرکاری سطح پر اس دورے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق سنیچر کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور اس دوران خطے میں امن، سکیورٹی ور استحکام کی بحالی کی کوششوں پر بات چیت ہوئی تھی۔

  10. ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کے سے روز سے شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو ان کے بقول کسی دشمن کے خلاف کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کر دی ہیں اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کا مقصد ایران کے آمرانہ نظام کو برقرار رکھنے والی تمام اہم اقتصادی شریانوں اور راستوں کو کاٹ دینا ہے، تاکہ بالآخر تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید لکھا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں حکومت کے تمام اداروں کی مکمل صلاحیت، تمام قانونی اختیارات اور وہ اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا سہارا نہیں لے گا۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سکیورٹی ضمانتوں کے لیے دباؤ ڈال کر زندہ رہا ہے۔‘ ان کے بقول ’اس نظام نے اپنی طاقت اس سوچ سے حاصل کی کہ ایران کی جوابی کارروائی یقینی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے سخت اقدامات پر عمل درآمد قابلِ مذاکرات ہے۔ لیکن ٹرمپ کی صدارت میں یہ دور ختم ہو چکا ہے اور جو لوگ تہران کی جوابی کارروائی کے خطرے سے خوفزدہ ہیں، انھیں واشنگٹن کے عزم کو آزمانے کی قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ سنیچر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی۔‘ ان کے مطابق یہ پابندیاں ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گی۔

  11. گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی صدر پوتن جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنے حملوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس موسمِ سرما کا انتظار کر رہا ہے اور یوکرین کے شہری کاروبار، لاجسٹکس نیٹ ورک اور ترسیلی نظام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’یہ سلسلہ 2022 سے جاری ہے۔‘
    • عمان اور فلائی دبئی نے جنوبی ایران میں ایک نئے فضائی راستے کے قیام کی درخواست دی ہے، جس کا ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اس مجوزہ روٹ کا مقصد فضائی ٹریفک کے بہاؤ کو مزید بہتر بنانا، پروازوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور ایران کے جنوبی فضائی راستوں کی اہمیت اور کشش میں اضافہ کرنا ہے۔
    • عمان اور فلائی دبئی نے جنوبی ایران میں ایک نئے فضائی راستے کے قیام کی درخواست دی ہے، جس کا ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اس مجوزہ روٹ کا مقصد فضائی ٹریفک کے بہاؤ کو مزید بہتر بنانا، پروازوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور ایران کے جنوبی فضائی راستوں کی اہمیت اور کشش میں اضافہ کرنا ہے۔
  12. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    اس صفحے پر آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ خبریں اور اہم تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔

    گذشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کر سکتے ہیں۔