لائیو, ایران کے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر ’اچانک حملے‘: تمام ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا، سینٹکام

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ’اچانک حملے کی کوشش‘ کرتے ہوئے متعدد میزائل داغے، تاہم تمام میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔ جبکہ ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی تصدیق کی ہے۔

خلاصہ

  • جاپان میں 6.8 شدت کا زلزلہ، 13 افراد ہلاک، متعدد لا پتہ
  • ایران کی جانب سے ’اچانک حملے کی کوشش‘ ناکام بنا دی گئی: امریکہ
  • ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی باضابطہ تصدیق کر دی
  • بلوچستان: بارکھان میں پولیس کے ڈی ایس پی ہلاک، کیچ اور خضدار سے 11 افراد اغوا
  • بلوچستان: نوشکی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 31 جولائی تک کرفیو نافذ کر دیا گیا
  • بے بی پاؤڈر سے کینسر کے دعوے: جانسن اینڈ جانسن کی مقدمات کے تصفیے کے لیے 5.5 ارب ڈالر تک کی پیشکش

لائیو کوریج

  1. عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں کے بعد پاپولر موبلائزیشن فورسز کی آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    پاپولر موبلائزیشن فورسز کے اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاپولر موبلائزیشن فورسز کے اہلکار (فائل فوٹو)

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کا اعلان کیے جانے کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے صوبوں کربلا اور نینوا میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

    عراقی حکومت نے بدھ کی صبح ہونے والے ان حملوں پر تاحال باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ایک روز قبل بغداد نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے اس الزام کی تحقیقات کرے گا کہ عراق کی سر زمین سے سعودی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے تھے، اور ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے امریکہ اور سعودی عرب کی کارروائی کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی عراق میں اس کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز نے اپنے بیان میں کہا: ’ہم ان حملوں کو انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی، عراق کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور ملک کے سرکاری سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔‘

  2. ایران نے قطر حملے میں ہلاک ہونے والے چار پائلٹوں میں سے ایک کی شناخت ظاہر کر دی

    بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ،تصویر کا کیپشنایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کی گئی ہے

    ایرانی فوج نے ان چار پائلٹوں میں سے ایک کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ مارچ میں قطر میں واقع امریکی العدید اڈے پر حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

    بدھ کی صبح ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا: ’بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی، جو ایرانی فضائیہ کے ایک ایس یو 24 طیارے کے پائلٹ تھے اور جنھوں نے قطر کے العدید اڈے پر حملے میں حصہ لیا تھا، ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہو گئی ہے اور ان کی باقیات آئندہ چند گھنٹوں میں وطن واپس لائی جائیں گی۔‘

    اس ایرانی جنگی طیارے کے پائلٹ کی ہلاکت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے خبر رساں ادارے فارس نے لکھا: ’یکم مارچ کو ایرانی فضائیہ کے دو ایس یو 24 بمبار طیاروں نے ایک کارروائی کے دوران دشمن کے جدید نگرانی کے نظاموں اور متعدد ریڈار تنصیبات کو عبور کرتے ہوئے قطر میں واقع العدید اڈے پر بمباری کی۔ تاہم واپسی کے سفر کے دوران خلیج فارس کی فضائی حدود میں ایران کے یہ عقاب دشمن کے حملے کی زد میں آ گئے۔‘

    اس رپورٹ کے مطابق دیگر تین ایرانی پائلٹس کی باقیات کی شناخت اور انھیں وطن واپس لانے کا عمل بھی جاری ہے۔

  3. جاپان میں 6.8 شدت کا زلزلہ، 13 افراد ہلاک، متعدد لا پتہ

    جاپان زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    جاپان کے جنوب مغربی جزیرے کیوشو میں منگل کو آنے والے 6.8 شدت کے زلزلے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک 9872 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 36 ہزار 700 گھروں کی بجلی منقطع ہے۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 27 منٹ (پاکستانی وقت: رات 12 بج کر 27 منٹ) پر کیوشو جزیرے کے اندرونی علاقے میں آیا۔

    زلزلے کے بعد کوماموتو کے علاقے میں ایک شاپنگ مال میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک عینی شاہد کے مطابق عمارت کی دوسری منزل زمین بوس ہو گئی ہے۔

    جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ شاپنگ مال میں پھنسے متعدد افراد کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک فیکٹری میں چمنی گرنے کے بعد وہاں بھی متعدد افراد کی تلاش جاری ہے۔

  4. ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ’بہترین‘ رہی: اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو

    امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہMaâayan Toaf (GPO)/Handout/Anadolu via Getty Images

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات ’بہترین‘ رہی۔

    ایران کے خلاف مشترکہ جنگ شروع کرنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔

    بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق ’مثبت اور نتیجہ خیز‘ رہی۔

    ٹرمپ نے بھی ملاقات کے کئی گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر اسے ’بہت اچھی ملاقات‘ قرار دیا اور کہا کہ اس دوران ’بہت سے اہم موضوعات پر بات ہوئی‘، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں رہنما اپنے اپنے ملک میں سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کو دوبارہ انتخاب کا سامنا ہے اور ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں خرابی ان کے لیے ایک سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ وہ اس غیر مقبول جنگ کا خاتمہ کریں جس نے معیشت کو متاثر کیا، قیمتوں میں اضافہ کیا اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی مشکلات پیدا کی ہیں۔

    اے پی کے مطابق ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے انسٹاگرام پر انتہائی گرمجوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اجلاس میں ٹرمپ کی ’پوری سینئر ٹیم شریک تھی۔

    نیتن یاہو، ٹرمپ، جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہMaâayan Toaf (GPO)/Handout/Anadolu via Getty Images

    اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے، جو ماضی میں اسرائیل پر تنقید کر چکے ہیں اور جون میں اسرائیلی حکام کو خبردار کر چکے تھے کہ عالمی رہنماؤں میں ٹرمپ ہی ان کے حقیقی دوست ہیں۔

    نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں کہا: ’جب میں بہترین کہتا ہوں تو میرا مطلب رسمی تعریف نہیں ہوتا۔ یہ مکمل شراکت داری، باہمی حمایت اور اس مشترکہ مقصد کے تحت ہونے والی گفتگو تھی کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ ہوں، اور دیگر مقاصد بھی حاصل کیے جائیں۔‘

    بعد میں نیتن یاہو نے جے ڈی وینس اور ٹرمپ کے ساتھ امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی، جہاں ان کی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی گفتگو ہوئی۔

  5. ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی باضابطہ تصدیق کر دی

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر داغے گئے ایرانی میزائل تباہ کیے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کر کے ان حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔

    بیان میں کہا گیا: ’امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے بہادر جوانوں نے چند گھنٹے قبل اردن میں واقع امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔‘

    گذشتہ چار روز سے ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست حملے رکے ہوئے تھے۔

    تاہم بدھ کی صبح سینٹکام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’اچانک حملے کی کوشش‘ کی لیکن امریکی افواج ’چوکنا‘ تھیں اور داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

  6. ایران کی جانب سے ’اچانک حملے کی کوشش‘ ناکام بنا دی گئی: امریکہ

    بحری جہاز

    ،تصویر کا ذریعہHandout photo by US. Navy via Getty Images

    ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ’اچانک حملے کی کوشش‘ میں متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان لڑائی میں آنے والا مختصر وقفہ ختم ہو گیا ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق یہ حملہ منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 45 منٹ پر کیا گیا (پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات دو بج کر 45 منٹ)، تاہم تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ہدف کون سی جگہیں تھیں۔

    دوسری جانب سینٹکام کے مطابق امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ’ایران نواز شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی ہدایت پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    تہران نے تا حال ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    یہ تازہ جھڑپیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسے مختصر وقفے کے بعد سامنے آئی ہیں جس کا مقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بتایا جا رہا تھا۔

    سینٹکام کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب نے مشرقی عراق میں ’شدت پسندوں کے متعدد لاجسٹک اور اسلحہ مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔

    امریکی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایت پر کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    سینٹکام نے خبردار کیا کہ ایرانی فوج اور اس کے پراکسی گروہوں کو ایسے حملے بند کرنا ہوں گے، ورنہ امریکہ مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

    منگل کے روز سعودی عرب نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس کی فوج نے ملک کے مشرقی حصے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الزام عائد کیا کہ یہ ڈرون عراق میں موجود ایران سے منسلک ملیشیاؤں نے داغے تھے۔

    تازہ کشیدگی سے ایک روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ’انتہائی دوستانہ مذاکرات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اس وقت دونوں فریق مسلسل تیسرے روز ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کر رہے تھے۔

    آبنائے ہرمز تک رسائی اور اس پر کنٹرول اب بھی کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایک اہم اور متنازع مسئلہ ہے، اگرچہ تہران ایسے مذاکرات کے وجود سے ہی انکار کرتا رہا ہے۔

    تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کے دورے پر تھے، جہاں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور ایران کے سخت ناقد امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی۔

    پینٹاگون کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے کم از کم 624 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

    پینٹاگون کے مطابق ان میں سے 417 اہلکار آپریشن ایپک فیوری کے دوران زخمی ہوئے، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم ہے۔

  7. بے بی پاؤڈر سے کینسر کے دعوے: جانسن اینڈ جانسن کی مقدمات کے تصفیے کے لیے 5.5 ارب ڈالر تک کی پیشکش

    جانسن بے بی پاؤڈر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جانسن اینڈ جانسن (جے اینڈ جے) نے امریکہ میں دائر ہونے والے ہزاروں مقدمات کے تصفیے کے لیے 5.5 ارب ڈالر (4.14 ارب پاؤنڈ) تک ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کا بے بی پاؤڈر اور ٹیلک پر مشتمل دیگر مصنوعات بیضہ دانی کے کینسر کا سبب بنتی ہیں۔

    اس مجوزہ تاریخی تصفیے کا مقصد ایک طویل قانونی تنازع کا خاتمہ کرنا ہے جو کئی برسوں سے نیو جرسی میں قائم صحتِ عامہ کی اس بڑی کمپنی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

    جے اینڈ جے نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس کی ٹیلک پر مبنی مصنوعات کینسر کا سبب بنتی ہیں، اور کمپنی اپنے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے بے بی پاؤڈر کا فارمولا بھی تبدیل کر چکی ہے۔

    کمپنی کے نائب صدر برائے قانونی چارہ جوئی ایرک ہاس نے پیر کے روز کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں، تاہم جے اینڈ جے اس معاملے کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے تصفیے پر آمادہ ہے۔

    جے اینڈ جانسن کے مطابق یہ تصفیہ تقریباً 76 ہزار مقدمات سے نمٹنے کے لیے ہے، جو ٹیلک سے متعلق باقی ماندہ مقدمات کی بڑی تعداد ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال تین ارب ڈالر تک ادا کرے گی اور 2028 سے پہلے مزید کوئی ادائیگی نہیں کرے گی۔

    کمپنی کے مطابق اس تجویز کو حتمی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اور وفاقی عدالتوں میں زیرِ سماعت بیضہ دانی کے کینسر سے متعلق 95 فیصد دعووں کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرمیں اسے قبول کریں۔

    ایرک ہاس نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ اگر مقدمات کی کارروائی جاری رہتی تو وہ بالآخر کامیاب رہتی، جیسا کہ اب تک عدالتوں میں سنے گئے زیادہ تر مقدمات میں ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ مجوزہ تصفیہ کمپنی کو اس معاملے کو ماضی کا حصہ بنانے کا موقع دے گا اور جے اینڈ جے کو جانیں بچانے والی ادویات اور طبی آلات کی تیاری کے اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دے گا۔

  8. بلوچستان: نوشکی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 31 جولائی تک کرفیو نافذ کر دیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کا نقشہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 31 جولائی تک کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں موجودہ شورش میں نوشکی دوسرا ضلع ہے جہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق کرفیو منگل کی شب 8 بجے نافذ کر دیا گیا جو کہ 31 جولائی کی شب 8 بجے تک جاری رہے گا۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق کوئی بھی شخص مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بغیر اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکے گا اور نہ ہی ضلع نوشکی کی حدود میں نقل و حرکت کر سکے گا۔

    کرفیو کے دوران ہر قسم کی عوامی نقل و حرکت، اجتماعات، جلوس اور غیر ضروری سفر پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ڈپٹی کمشنر نوشکی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد، سرکاری فرائض انجام دینے والے افسران و اہلکاروں، ہنگامی طبی خدمات، ریسکیو سروسز، یوٹیلٹی سروس فراہم کرنے والے اداروں اور عوامی مفاد میں ضروری قرار دیے جانے والے دیگر افراد یا طبقات کو کرفیو سے استثنیٰ دینے کے مجاز ہوں گے۔

    تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اس کے نفاذ کے لیے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کریں گے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    خیال رہے نوشکی کا شمار بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ نوشکی سے قبل ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

  9. بلوچستان: بارکھان میں پولیس کے ڈی ایس پی ہلاک، کیچ اور خضدار سے 11 افراد اغوا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں تشدد کے ایک واقعے میں ایک پولیس آفیسر مارے گئے جبکہ دو مختلف علاقوں سے سات مزدوروں سمیت 11 افراد کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

    ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد مزید سات مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ دو گاڑیوں سے چاول چھین کر لے گئے۔

    ادھر نوشکی شہر کے جنوب میں سیکورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملے اور جوابی کارروائی کے بعد نوشکی شہر میں کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں۔

    پولیس آفیسر کہاں مارے گئے؟

    پولیس کے ڈی ایس پی مرید بگٹی ضلع بارکھان میں منگل کی شب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مارے گئے۔

    ایک سرکاری اہلکار کے مطابق بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی مرید بگٹی ایک پرائیویٹ گاڑی میں ایک اور پولیس اہلکار کے ساتھ بارکھان میں جا رہے تھے کہ ناکہ بندی کرنے والے مسلح افراد نے ان کو اغوا کرنے کے بعد انھیں ہلاک کر دیا۔

    وزیر اعلی بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی مارے گئے جبکہ دوسرے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

    انھوں نے کہا کہ رکھنی میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔

    social media

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    11 افراد کو کہاں کہاں سے اغوا کیا گیا ؟

    اغوا ہونے والے 11 افراد میں سے سات مزدور تھے جن کو ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے قریب کلاتک کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے کلاتک کے مقام پر ناکہ بندی کی تھی جہاں سے ان مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔

    اغوا کیے جانے والے مزدور غیر مقامی ہیں۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اغوا کے بعد مسلح افراد نے ایک مزدور کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا جبکہ باقی چھ کو اپنے ساتھ لے گئے۔

    انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ریاست دشمن عناصر کی کارروائی ہے جو اپنے بیرونی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

    چار دیگر افراد کو ضلع خضدار کے علاقے کرخ سے اغوا کیا گیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اغوا ہونے اس علاقے میں آبپاشی کے مقاصد کے لیے ایک پراجیکٹ پر کام کررہے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ تین روز قبل اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ مینیجر اور ایک سرویئر شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو افراد کا تعلق سندھ جبکہ دو کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

    گاڑیوں کو کہاں نذرِ آتش کیا گیا؟

    ادھر ضلع چاغی کے علاقے پدگ میں نامعلوم مسلح افراد نے سات گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ گاڑیاں کوئٹہ سے تفتان کی جانب جارہی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے رات ڈھائی بجے ان گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ نذر آتش کی جانے والی گاڑیوں میں تین آئل ٹینکر اور چار ٹریلرز شامل تھے۔

    ایک اور واقعے میں دالبندین اور پدگ کے درمیان نامعلوم مسلح افراد دو ٹرکوں سے چاول اتار کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

    نوشکی شہر میں حملے کے بعد دکانیں بند ہو گئیں

    ادھر نوشکی شہر کے جنوب میں نامعلوم مسلح افراد نے منگل کی صبح سیکورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

    سینیئر سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد فورسز نے جوابی کاروائی کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کے حملے میں سیکورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اس واقعے کے بعد نوشکی شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دی ہیں۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قانون کی عملداری، امن و امان اور انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر جدید اسلحے سے حملے کیے گئے۔
    • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میرپور میں ان کی جماعت کے ووٹ پر ’ڈاکہ ڈالنے‘ کی کوشش کی گئی۔ جواب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’گلگت بلتستان میں جیت گئے تو دھاندلی نہیں تھی، کشمیر میں ہار گئے تو دھاندلی یاد آ گئی۔‘
    • وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
    • اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ’حالیہ جنگ کے دوران امریکی فوجی طیاروں نے ایران پر حملوں کے لیے اسرائیلی فوجی اڈوں کا استعمال کیا۔‘
    • ایرانی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’حالیہ جنگ کے نتیجے میں ملک کی گیس اور پیٹرول کی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بتایا کہ ’ایران تقریباً 230 ملین مکعب میٹر گیس کی پیداواری صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔‘
    • افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری ضلع بہارک میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گئے۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔