کاروباری معاملات، ایپل واچ اور مسجد کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ: میر رضا علی کی موت کا معمہ اور چار اہم سوالات

Mir Raza Ali
،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر کے قریب ایک ویران مقام سے ملی تھی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومتِ سندھ کے حوالے کر دی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیشن اس قتل سے متعلق الجھی ہوئی گتھی سلجھانے میں کامیاب رہا ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں بی بی سی نے چار بنیادی سوالات کا جائزہ لیا ہے جو بار بار جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران سامنے آئے ہیں اور جن پر کافی بحث ہوئی ہے۔

میر رضا علی رواں برس 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں واقع اپنے گھر سے نکلے تھے اور اگلے روز اُن کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک ویران علاقے سے ملی تھی۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش میں میر رضا علی کی موت کے خودکشی ہونے کے امکان کا ذکر سامنے آیا، لیکن اُن کے خاندان نے ابتدا ہی سے اس مؤقف پر اعتراض کیا اور قتل کا شبہ ظاہر کیا۔

بعد میں قبر کشائی اور دوبارہ طبی معائنے کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ نے موت کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا، جس کے بعد سندھ کی صوبائی حکومت نے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جہاں تمام فریقین کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

میر رضا علی: خودکشی یا قتل

Mir Raza Case
،تصویر کا کیپشنعلیشباہ: ’جائے وقوعہ کے حالات نے میرے بھائی کی موت سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں‘

میر رضا علی کی میت ملنے کے بعد سامنے آنا والا سب سے بنیادی سوال یہی تھا کہ آیا یہ خودکشی ہے یا سوچی سمجھی قتل کی سازش۔

خاندان کا مؤقف ہے کہ ابتدا ہی سے حالات اور دستیاب شواہد پولیس کے خودکشی سے متعلق ابتدائی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

میر رضا کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ طبی شواہد بھی خودکشی کے امکان کی تائید نہیں کرتے، تاہم قاتل کی شناخت اور قتل کے محرکات کا تعین اب بھی ضروری ہے۔

اپنے بھائی میر رضا علی کے لیے انصاف کے حصول کے لیے سرگرم علیشباہ کہتی ہیں کہ اُن کے خاندان نے خود اس مقام کا دورہ کیا، جہاں سے میر رضا کی لاش ملی تھی۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جائے وقوعہ کے حالات نے خودکشی سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں، جو ان کے وکیل کے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران سامنے بھی رکھے۔

علیشباہ نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ پر خون کے نشانات، گولی لگنے کے بعد اس کے داخلی و خارجی مقام اور دیوار پر گولی کا نشان نہ ہونے جیسے پہلوؤں کی نشاندہی کی۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی رپورٹ اور بعد میں خصوصی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں حتمی طور پر خودکشی کو موت کی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔

ان کے مطابق دونوں طبی رپورٹس خودکشی کے امکان کو واضح طور پر رد کرتی ہیں اور اب کسی تیسری طبی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔

Mir Raza
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وکیل نے دعویٰ کیا کہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے دیے گئے پولیس افسران کے بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف مراحل میں تفتیش کے زاویے اور نتائج کے بارے میں اب بھی کئی سوالات موجود ہیں، جن کے جوابات جاننا ضروری ہے۔

میر رضا علی کی ہلاکت کے بعد بننے والی پہلی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے بھی جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ دستیاب شواہد مبینہ طور پر خودکشی کے امکان کے بارے میں تشویش پیدا کرتے تھے۔

ان کے مطابق انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں اس ہلاکت کے پیچھے خودکشی کا حتمی نتیجہ پیش نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کمیشن کے سامنے میر رضا کے دوستوں اور کاروباری ساتھیوں کے بیانات کا حوالہ بھی دیا، جن میں مبینہ طور پر مالی دباؤ اور کرپٹو کرنسی کی تجارت کا ذکر تھا۔

بعد میں تشکیل دی جانے والی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کمیشن کو بتایا کہ انھیں سابقہ تفتیش میں ایسی کوئی خامی نظر نہیں آئی جو تحقیقات کو متاثر کر سکتی ہو۔ تاہم انھوں نے کمیشن کے سامنے ابتدائی کارروائی میں بعض انتظامی بے ضابطگیوں کا اعتراف کیا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور وضاحت کی کہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں میر رضا کی موت کو خودکشی قرار نہیں دیا تھا۔

بعد میں ڈاکٹر سمعیہ سید اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے متعلق بھی یہ مؤقف سامنے آیا کہ طبی نتائج خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

وکیل جبران ناصر کے مطابق ’خاندان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میر رضا کو کسی نے دھمکی دی تھی، وہ بلیک میلنگ کا شکار تھے یا کسی دباؤ میں تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب تک ملزمان سامنے نہیں آتے، قتل کے محرک کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔

مسجد خضرا میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا معمہ

Mir Raza

جبران ناصر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کمیشن کی کارروائی کے دوران سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے پولیس کی تفتیش کے طریقۂ کار، سی سی ٹی وی ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور بعض افراد کے کردار سے متعلق سوالات کو ریکارڈ پر لانے کا موقع فراہم کیا۔

انھوں نے کہا کہ میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کے قریب واقع مسجد خضرا میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اس مقدمے کا ایک اہم پہلو بن کر سامنے آئی ہے۔

جبران ناصر کے مطابق مسجد کے کیمرے کی 28 جولائی کی شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک کی فوٹیج دستیاب نہیں تھی اور پولیس نے اس کی وجہ بجلی کی بندش بتائی، لیکن اُن کے بقول کے الیکٹرک کے نمائندوں نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ متعلقہ مقام بجلی کی فراہمی اس دوران جاری تھی۔

کمیشن نے از خود اس مسجد کا دورہ کیا اور وہاں نصب کیمروں اور اطراف کی عمارتوں کے نگرانی کے نظام کا جائزہ بھی لیا۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق مسجد میں تقریباً سات کیمرے نصب تھے، جن میں سے دو کیمرے اس علاقے کا احاطہ کرتے تھے جہاں سے میر رضا کی لاش ملی تھی۔ مسجد کے مؤذن اور خادم نے بھی ریکارڈنگ غائب ہونے کی وجہ سے لاعلمی ظاہر کی۔

یہ پانچ گھنٹے اس لیے اہم ہیں کہ کیونکہ خاندان کے مطابق بعد کی طبی رپورٹ میں موت کا ممکنہ وقت شام پانچ سے سات بجے کے درمیان بتایا گیا تھا۔ اگر اس عرصے کی فوٹیج دستیاب ہوتی تو ممکن ہے اس سے جائے وقوعہ پر آنے جانے والے افراد یا گاڑیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات مل سکتی تھیں۔

جبران ناصر نے ایک سرمئی سوزوکی سوئفٹ کا ذکر بھی کیا، جو ان کے مطابق میر رضا کی نقل و حرکت کے دوران مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دستیاب فوٹیج میں گاڑی میر رضا کے پیچھے مختلف مقامات پر دکھائی دیتی ہے اور ایک مقام پر رکتی بھی ہے۔

ان کے بیان کے مطابق وہاں میر رضا اور گاڑی کے درمیان کسی قسم کا رابطہ یا اشاروں کا تبادلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی نوعیت واضح نہیں۔

جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ گاڑی میں سوار افراد سے مکمل پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی اور ان کی نقل و حرکت کے بارے میں مختلف وضاحتیں کیوں سامنے آئیں۔

ان کے مطابق گاڑی میں پانچ افراد سوار تھے اور گاڑی کی ملکیت سے متعلق معلومات بھی مزید تحقیق کی متقاضی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گاڑی میں موجود افراد کی وہاں موجودگی کے بارے میں مختلف وجوہات بیان کی گئیں، جن میں کسی بیمار مہمان کو لانا، ایک جھگڑا حل کرانے کے لیے ملاقات اور وہاں پارٹی کے لیے آنا شامل تھا۔

اس معاملے پر ڈی ایس پی سراج احمد لاشاری نے کمیشن کو بتایا تھا کہ انھوں نے مقدمے کی تفتیش قتل کے زاویے سے کی، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے جانچ کے باوجود ایک مشکوک گاڑی کا کسی مخصوص شخص کے ساتھ تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران میر رضا کے موبائل فون سے متعلق پولیس کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ جبران ناصر کے مطابق پولیس نے میڈیا میں یہ بات بیان کی تھی کہ میر رضا نے ایک مخصوص مقام پر اپنا موبائل فون پھینکا تھا۔ لیکن ان کے بقول کمیشن کے سامنے پولیس کے مختلف افسران کے بیانات سے اس مقام اور واقعے کی تفصیلات کے بارے میں ابہام سامنے آیا۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن کے اس مقام کے دورے کے دوران پولیس نے وہ مقام بتایا جہاں مبینہ طور پر فون پھینکا گیا تھا، لیکن خاندان کے مطابق یہ مقام پہلے بیان کیے گئے مقام سے مختلف تھا۔

جبران ناصر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ متعلقہ مقام کے قریب موجود کیمروں کی فوٹیج کیوں حاصل نہیں کی گئی۔

ان کے مطابق پولیس افسران کے بیانات میں بھی اس دعوے کے بارے میں وضاحت درکار ہے کہ فون میر رضا نے خود پھینکا تھا یا اسے کسی دوسرے شخص نے وہاں پھینکا؟

ایپل واچ اور آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ تک مبینہ رسائی

Jibran Nasir

جوڈیشل کمیشن کے سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد میں ایپل واچ اور میر رضا کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ تک رسائی کا معاملہ بھی شامل ہے۔

جبران ناصر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ میر رضا کی ایپل واچ 28 جولائی کے بعد کئی افراد کے ہاتھوں میں رہی اور اسے فوری طور پر سیل نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 12 اگست کو اسے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیجنے کے لیے خط لکھا گیا، جس میں 28 جولائی تک کے ڈیٹا کی جانچ کا کہا گیا تھا۔

جبران ناصر نے کمیشن کے روبرو اعتراض کیا تھا کہ پولیس نے فرانزک ادارے سے یہ معلوم کرنے کے لیے نہیں کہا کہ 28 جولائی کے بعد گھڑی میں کتنی مرتبہ لاگ اِن کیا گیا، کیا ڈیٹا نقل کیا گیا، حذف کیا گیا یا اس میں کوئی تبدیلی کی گئی؟

ان کے مطابق 31 جولائی کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں میر رضا کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ میں کسی تیسرے فریق کے ڈیوائس سے کامیاب لاگ اِن کی تصدیق کی گئی تھی۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ اس لاگ اِن سے متعلق ای میل ایڈریس اور فون نمبر کا تعلق مبینہ طور پر کاروباری شراکت دار احمد بھاردوے سے تھا۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ میر رضا کی موت کے بعد ان کے اکاؤنٹ تک رسائی کس نے حاصل کی اور متعلقہ معلومات کس طرح حاصل ہوئیں۔

کاروباری معاملات اور قرض خواہ

Mir Raza case

میر رضا کے کاروباری معاملات بھی جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں زیر بحث آئے۔

ان کی بہن علیشباہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بھائی کے کاروبار اور قرض خواہوں سے متعلق مختلف فہرستیں گردش کر رہی تھیں، جبکہ کمیشن کے سامنے متعدد افراد نے اپنے کاروباری معاملات اور سرمایہ کاری کے بارے میں بیانات دیے۔

علیشباہ کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد نے اپنے لین دین کو وفلکس کے کاروبار سے متعلق قرار دیا، نہ کہ میر رضا کے ساتھ کسی ذاتی تنازع کا نتیجہ۔ ان کے مطابق ان معاملات سے متعلق ابہام مکمل طور پر دور نہیں ہوا۔

میر رضا کے دوست احمد بھاردوے سے خاندان کی ملاقات بھی اس معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔ علیشباہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ احمد خاندان کے ساتھ بیٹھیں اور ان کے سوالات کے جواب دیں اور اسی سلسلے میں احمد اُن کے گھر بھی آئے۔

علیشباہ کا کہنا ہے کہ خاندان کو امید تھی کہ اس ملاقات سے کچھ نئے حقائق سامنے آئیں گے اور میر رضا کی موت کے بارے میں موجود ابہام کم ہو گا۔ لیکن ان کے مطابق ملاقات کے دوران ایسی کوئی نئی اور واضح معلومات سامنے نہیں آئیں، جن سے خاندان کو اطمینان حاصل ہوتا۔

ان کے بقول احمد نے وہی باتیں دہرائیں جو پہلے کمیشن کی کارروائی یا دیگر ذرائع سے سامنے آ چکی تھیں۔ خاندان کے سوالات کے جواب بھی ایسے نہیں تھے کہ ان کی مدد سے واقعے کی کوئی واضح نئی کڑی سامنے آتی۔

جبران ناصر نے میر رضا کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ تک رسائی کے معاملے پر بھی بھاردوے کا نام بھی لیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اکاؤنٹ میں لاگ اِن کے لیے استعمال ہونے والے ای میل ایڈریس اور فون نمبر کا تعلق مبینہ طور پر احمد سے تھا۔

جبران ناصر نے اسی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ میر رضا کی موت کے بعد اکاؤنٹ تک رسائی کس نے حاصل کی اور پاس ورڈ یا لاگ اِن کی معلومات کس طرح حاصل کی گئیں؟

انھوں نے کاروباری معاملات اور میر رضا کی موت کے بعد بعض اقدامات کے وقت اور ترتیب کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

جبران ناصر نے میر رضا کی موت کے بعد کاروباری اکاؤنٹس، مارکیٹنگ مواد اور ادائیگیوں سے متعلق بعض تبدیلیوں کے وقت پر بھی اعتراض کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جانچنا ضروری ہے کہ یہ اقدامات کب کیے گئے، کس نے کیے اور ان کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ انھوں نے میر رضا کی گاڑی اور دیگر سامان کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔

یاد رہے کہ احمد بھاردوے نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا تھا کہ انھوں نے علیشباہ کو فون نہیں کیا تھا اور نہ ہی انھیں ایپل واچ کھولنے کے لیے کہا تھا۔

ان کے مطابق ان کے دوست رازق نے علیشباہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ گھڑی کھول کر دیکھی جائے، شاید اس میں سے کوئی اہم معلومات مل جائیں۔

بھاردوے کا کہنا تھا کہ وہ اس دوران اپنے ایک دوست کو لینے چلے گئے تھے اور واپسی پر ان کے بھائی نے انھیں بتایا کہ علیشبا کو گھڑی سے کچھ نوٹس ملے ہیں۔

کمیشن نے بھاردوے سے ایپل واچ پر موجود نوٹیفکیشنز کے بارے میں بھی سوالات کیے۔ انھوں نے بتایا کہ ان نوٹیفکیشنز میں مختلف افراد سے متعلق کاروباری ادائیگیوں کی تفصیلات موجود تھیں۔

کمیشن نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ گھڑی اور اس سے منسلک اکاؤنٹ تک رسائی کی کوششیں کیسے ہوئیں اور میر رضا کے اکاؤنٹ سے متعلق موبائل نمبر میں تبدیلی کا معاملہ کیا تھا۔

کیا خاندان جوڈیشل کمیشن سے مطمئن ہے؟

میر رضا کے خاندان اور اس کے وکیل جبران ناصر کا مؤقف ہے کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں اور اب بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

علیشبا کے مطابق ان کا خاندان ابتدا ہی سے جے آئی ٹی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، لیکن اس کے بجائے جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کمیشن کی کارروائی کے دوران خاندان کو مختلف سوالات اٹھانے، شواہد کے بارے میں وضاحت طلب کرنے اور متعلقہ افسران کے بیانات سننے کا موقع ملا۔

ان کے مطابق کمیشن نے بعض اہم پہلوؤں کو سامنے لانے میں مدد دی، لیکن خاندان کو حقیقی اطمینان اسی وقت ہو گا جب اسے معلوم ہو جائے گا کہ میر رضا کو کس نے قتل کیا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں؟

جبران ناصر نے بھی واضح کیا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ اور پولیس کی تفتیش دو الگ چیزیں ہیں۔

ان کے مطابق کمیشن کی رپورٹ چارج شیٹ نہیں ہوتی۔ ملزمان کی شناخت، گرفتاری، پوچھ گچھ، شواہد جمع کرنا، چالان پیش کرنا اور عدالت میں استغاثہ کی معاونت کرنا تفتیشی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کی موجودہ ٹیم خود سابقہ تفتیش کو درست قرار دیتی ہے اور اس میں بڑی خامیوں کو تسلیم نہیں کرتی تو خاندان کے لیے اسی ٹیم پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہے۔

جبران ناصر کے مطابق کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو دوبارہ خط لکھ کر جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔

ان کے خط کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ تحقیقات میں رینجرز، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے، انٹیلیجنس بیورو، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور سی پی ایل سی کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔