کینیا میں بدترین خشک سالی، جگہ جگہ جانوروں کی لاشیں

کینیا کے جنگلات
،تصویر کا کیپشنشہریوں کا کہنا تھا کہ یہ روزمرہ کا معاملہ ہے
وقت اشاعت

کینیا میں 40 سالوں میں بدترین خشک سالی کے باعث پورے امبوسیلی نیشنل پارک میں جنگلی جانوروں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں جو کہ ملک کا دوسرا بڑا پارک ہے۔

کینیا نیشنل پارک
،تصویر کا کیپشنشدید خشک سالی کے سبب بے شمار جانور ہلاک ہو رہے ہیں

بی بی سی کے عملے نے سینکڑوں سبزی خور جانوروں کو زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا جب کہ دیگر بھوک سے مر گئے۔ مقامی کمیونٹی رینجرز کا کہنا ہے کہ ہر روز کم از کم دسیوں جانور بھوک سے مر رہے ہیں۔ بی بی سی کے عملے نے پارک میں ایک ہاتھی کو مرتے دیکھا جو کہ خاصی بڑی عمر کا تھا۔

کینیا
،تصویر کا کیپشنخشک سالی کے سبب 400 زیبرا بھی ہلاک ہوئے ہیں

انکا کہنا ہے کہ جانوروں سے انکا جذباتی لگاؤ ہے اور ان کو مرتے ہوئے دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔ ایک رینجرز نے کہا ’ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ماسائی برادری میں ایک کہاوت ہے کہ جب ہم کسی بڑے جانور یا ہاتھی جیسے بڑے جانوروں کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو چیزیں تباہ کن اور خطرناک ہوتی ہیں‘۔

کینیا
،تصویر کا کیپشنحکومت نے اس ہفتے سب سے زیادہ متاثرہ پارکوں میں گھاس اور پانی فراہم کرنا شروع کیا ہے

خشک سالی کے باوجود پارک میں سیاحوں کا ہجوم جاری ہے۔ مشرقی افریقی ملک میں سفاری کا تجربہ بڑی تعداد میں سیاحوں کو راغب کرتا ہے۔ کینیا کی وزارت سیاحت نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک میں خشک سالی کے باعث 205 ہاتھی، 500 جنگلی جانور، 400 زیبرا اور 50 بھینسیں ہلاک ہو چکی ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام