جلاوطن ہونے والے ہندوستانی بادشاہ جنھیں برطانیہ چھوڑنے کی اجازت نہ مل سکی

A portrait of Duleep Singh on paper that has aged over time and gone brown. He looks away from the camera and is expressionless. He has a 19th Century traditional Indian turban on as well as clothing. He also has a dark and thick beard.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندلیپ سنگھ نے جلاوطنی کے بعد کئی بار ہندوستان واپس جانے کی کوشش کی، لیکن انھیں کبھی اجازت نہ مل سکی
    • مصنف, شیوانی چوہدری
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

دلیپ سنگھ (1838 تا 1893) پانچ برس کی عمر میں سکھ مہاراجہ کے لقب کے وارث بنے، لیکن سنہ 1849 میں برطانوی سلطنت کی جانب سے سکھ سلطنت کے الحاق کے بعد انھیں برطانیہ جلاوطن کر دیا گیا۔ مہاراجہ نے ہندوستان واپس جانے کی کوشش کی، لیکن انھیں کبھی اجازت نہ مل سکی۔

بالآخر انھوں نے 25 برس کی عمر میں سفوک میں ایلویڈن ہال خریدا اور اپنی پہلی اہلیہ بامبا مولر کے ساتھ وہاں آباد ہو گئے۔ بامبا مولر کا تعلق جرمن نسل سے تھا۔

ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد، سنہ 1996 میں، ایسیکس کے علاقے ہالسٹیڈ سے تعلق رکھنے والے پیٹر بینس نے اس گھر کا دورہ کیا تو وہ اُن کی زندگی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

بعد ازاں انھوں نے بادشاہ کے بارے میں کہانیاں جمع کرنے میں تین دہائیاں صرف کیں اور کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنے آباؤ اجداد پر تحقیق کر رہے ہوں۔

بینس کے مطابق 1850 کی دہائی میں سنگھ کی برطانیہ آمد اس بات کا ثبوت تھی کہ اس ملک میں پنجابی تاریخ کتنی پرانی ہے۔

اس جوڑے کے چھ بچے تھے اور بینس کے مطابق اُن کی پسندیدہ بیٹی شہزادی کیتھرین (1871 تا 1942) تھیں۔

52 سالہ بینس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ان کی کہانی بڑی حد تک بیان ہی نہیں کی گئی تھی۔‘

’انھوں نے ایسے لوگوں کی مدد کی جو نہ اُن کے مذہب سے تعلق رکھتے تھے، نہ ان کے پس منظر سے اور نہ ہی ان کے ورثے سے۔ وہ ان کے لیے مکمل اجنبی تھے۔ یہ صرف خالص انسانیت تھی۔‘

A young Indian woman adorned with jewellery and traditional Indian clothes.
She is wearing covering her head and holding the shawl with two hands.

،تصویر کا ذریعہPeter Bance Collection

،تصویر کا کیپشندلیپ سنگھ کی بیٹی شہزادی صوفیہ نے ساری زندگی خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی

بینس نے مزید کہا: ’میں ان بچوں کے بارے میں زیادہ جاننا چاہتا تھا کیونکہ ایک تارکین وطن کے بچے کے طور پر میں خود کو ان کے قریب سمجھتا تھا۔‘

’میں یہاں (انگلینڈ میں) پلا بڑھا اور میری پیدائش بھی یہیں ہوئی، اس لیے میں ان بچوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا کیونکہ نسلی اعتبار سے وہ پنجابی تھے، لیکن ان کی پرورش یہیں ہوئی تھی۔‘

1990 کی دہائی میں بینس نے نورفوک اور سفوک کے مقامی اخبارات میں اشتہارات دیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی کے پاس شہزادیوں کے بارے میں مزید معلومات موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں تقریباً 300 جوابات موصول ہوئے جن میں ایسے افراد شامل تھے جو انھیں جانتے تھے یا خاندان کے لیے کام کرتے تھے، اور بہت سے لوگوں کو شہزادیوں کی جانب سے تحائف دیے گئے تھے۔

بینس نے کہا کہ انھوں نے نوادرات خریدنے کی پیشکش کی، لیکن بہت سے لوگوں نے اپنی قیمتی اشیا مفت میں دے دیں تاکہ انھیں ان کے ذخیرے کا مستقل حصہ بنایا جا سکے۔

نوادرات کے اس ذخیرے کو زندگی کا مقصد اور مشغلہ دونوں قرار دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے پاس اس خاندان سے متعلق 2,000 سے زیادہ اشیا ہیں اور مجھے کہنا پڑے گا کہ میری پسندیدہ اشیا میں سے ایک تین شہزادیوں کی ان کے ڈیبیوٹانٹ بال کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔‘

’یہ شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ کی ملکیت تھی اور انھوں نے یہ اپنی گاڈ ڈاٹر (جسے انھوں نے بیٹی بنایا ہوا تھا) کو دی تھی، اور یہ ہیمپٹن کورٹ (جنوب مغربی لندن) میں فیراڈے ہاؤس کی تصویر تھی۔‘

A black and white portrait of the three sisters. Two are sat side by side and one is sitting slightly elevated. They are wearing big dresses with a lot of frills and jewels. None of them are smiling but they are all looking at the camera.

،تصویر کا ذریعہPeter Bance Collection

،تصویر کا کیپشنپیٹر بینس کے مطابق تین بہنوں کی تصویر اُن کی پسندیدہ اشیا میں سے ایک ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بینس کے مطابق سب سے چھوٹی بیٹی صوفیہ نے اپنی پوری زندگی خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم بینس کو یہ بات کہ وہ حقِ رائے دہی کی تحریک سے وابستہ تھیں، اس وقت معلوم ہوئی جب انھوں نے ان کی ایک گھریلو ملازمہ کی بیٹی سے بات کی۔

ان کے نوادرات کے ذخیرے میں اب مہاراجہ کی جیکٹ، شہزادیوں کی ساڑھیاں، کھلونے، خطوط اور پینٹنگز شامل ہیں۔

ان میں سے بہت سی اشیا مغربی لندن کے کینسنگٹن پیلس میں نومبر تک ’دی لاسٹ پرنسیسز آف پنجاب‘ کے عنوان سے جاری نمائش میں رکھی گئی ہیں۔

جسا اہلووالیا نے لندن میں منعقد ہونے والی اس نمائش میں اپنی بہن رامنیک کے ساتھ بطور مشیر کام کیا ہے۔

اداکار، کارکن اور مصنف، جن کا تعلق ہندوستانی اور انگریزی دونوں ثقافتوں سے ہے، نے کہا کہ وہ اپنی مخلوط شناخت کے تجربات اور ان کہانیوں کے درمیان مماثلت دیکھ سکتے تھے۔

انھوں نے بی بی سی سے کہا: ’ان کہانیوں نے مجھ پر اور میری بہن پر اثر ڈالا ہے، اور ان میں ہمارے تجربات کی مماثلتیں اور اختلافات دونوں موجود ہیں۔‘

’اس (ایلویڈن ہال) میں مجھے اپنی زندگی کا عکس محسوس ہوا، اس کا بیرونی حصہ بہت انگریزی دکھائی دیتا ہے مگر اندرونی حصہ بہت حد تک ہندوستانی ہے۔‘

A young boy wearing a white shirt and shorts. He is about six years old and has sunglasses attached to his shirt.
He is holding the hand of his Grandad's who is wearing a red turban and has a black beard. 
He is wearing a light blue shirt and grey trousers with a black belt. They are in India with a lot of people in the background and people riding bikes

،تصویر کا ذریعہFamily photo

،تصویر کا کیپشنجسا اہلووالیا، جن کی بچپن کی تصویر یہاں موجود ہے، نے 'بوتھ، ناٹ ہاف' کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے اپنی برطانوی اور انڈین پنجابی شناخت کا جائزہ لیا

اہلووالیا نے مزید کہا: ’ہم ان کہانیوں تک اس لیے پہنچے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ 21ویں صدی میں انگلینڈ میں پروان چڑھنے والے مخلوط ورثے کے حامل پنجابیوں کے طور پر ہم کون ہیں، اور یہ احساس ہو کہ ہماری کہانی محض ایک جدید دور کی منفرد کہانی نہیں بلکہ اس کی ایک تاریخ ہے، اور ہم ثقافتی امتزاج کی ایک ایسی روایت سے جڑے ہیں جو چلتی آ رہی ہے۔‘

’یہ ایک زندہ اور متحرک تاریخ ہے۔۔۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم بطور قوم کون ہیں۔‘

’اگر آپ اپنی قوم کی تاریخ کو درست انداز میں بیان نہیں کرتے تو دوسرے لوگ اس کے فرضی ورژن پیش کریں گے، اور وہ ہماری قوم کی اصل کہانی نہیں ہو گی۔‘