کارگل جنگ، کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی حوالگی کا تنازع اور بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک فون کال کی کہانی

کیپٹن کرنل شیر خان

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN ARMY

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 11 منٹ

جولائی 1999 میں متنازع خطۂ کشمیر کے علاقے کارگل میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں تھی جب لندن میں بی بی سی اُردو سروس کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے کے لہجے میں پریشانی نمایاں تھی۔

بی بی سی اُردو سروس کے سابق سربراہ عباس ناصر نے اِس فون کال کا تذکرہ اپنے ایک کالم میں کیا جو مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے اس پُرتشدد احتجاج کے تناظر میں لکھا گیا تھا جس میں کارگل جنگ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجی افسر کیپٹن کرنل شیر خان کا مردان شہر میں نصب مجسمہ بھی گِرا دیا گیا تھا۔

روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں عباس ناصر نے لکھا کہ یہ منظر ہجوم کو شاید انقلابی محسوس ہوا ہو، لیکن اُن کے نزدیک اس نے کیپٹن کرنل شیر خان کے اہلِخانہ کے زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے۔ اِسی تناظر میں انھوں نے اُس فون کال کا ذکر کیا جو انھیں کارگل جنگ کے آخری دنوں میں موصول ہوئی تھی۔

عباس ناصر نے لکھا کہ ’اپنا تعارف کروانے کے بعد گھبرائی ہوئی آواز میں بات کرنے والے شخص نے بتایا کہ وہ شارجہ ایئرپورٹ پر ہیں، پاکستان جا رہا ہیں، اور انھیں بی بی سی اُردو سروس کی مدد درکار ہے۔ انھیں بتایا گیا تھا کہ بی بی سی اُردو نے اُن کے بھائی کی کارگل میں موت کی خبر نشر کی ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں نے سرینگر میں ہمارے نمائندے الطاف حسین سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ انڈین فوج کارگل سے چند لاشیں سرینگر لائی ہے اور انھیں میڈیا کو دکھایا گیا ہے۔‘

’الطاف نے اس نوجوان افسر کی شکل و صورت بیان کی اور کہا کہ اس کی شناخت اس کی جیب سے ملنے والے ایک خط سے ہوئی ہے، جو بظاہر اُس کی بہن نے لکھا تھا۔ میں نے فوراً شارجہ والے موبائل نمبر پر دوبارہ فون کیا اور تمام تفصیلات بتائیں، حتیٰ کہ خط کا متن اور بھیجنے والی کا نام بھی۔‘

’دوسری طرف کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، مگر پھر اس شخص نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا: یہ یقیناً میرا چھوٹا بھائی، کیپٹن کرنل شیر خان ہے۔ میری بہن نے واقعی مجھے اس خط کے بارے میں بتایا تھا اور اس کا نام کسی اور کو معلوم نہیں ہو سکتا تھا۔‘

شیر خان اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ

،تصویر کا ذریعہSHER KHAN/FACEBOOK

،تصویر کا کیپشنشیر خان اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ

عباس ناصر کے مطابق کال کرنے والے شخص نے اُن سے کہا: ’میں ہمیشہ آپ کا شکر گزار رہوں گا کہ آپ نے ہمیں یہ اطلاع دی۔ جب سے وہ اس طویل مشن پر گیا تھا، کئی مہینوں سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی گئی۔ اس کی آخری تعیناتی ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) میں تھی۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’ہمیں جاننے کا حق حاصل ہے۔ مجھے غلط مت سمجھیے گا، ہم کئی بھائی ہیں اور ہم میں سے ہر ایک پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ لیکن ہماری حکومت اپنے شہدا کو اپنا کیوں نہیں مانتی؟ شاید انھیں ہمارے بھائی کی قربانی پر فخر نہ ہو، مگر ہمیں ہے۔ وہ ہم سب سے پہلے یہ سعادت پا گیا۔‘

عباس نے لکھا: ’میں نے ابتدا میں یہی سمجھا کہ شاید ایسا آپریشنل وجوہات کی بنا پر ہو گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فضائیہ اور بحریہ کے سربراہوں کو بھی اس کارروائی سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔‘

تب فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے بعد میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’اِن دی لائن آف فائر‘ میں لکھا کہ فوج میں تمام معلومات ’ضرورت کے مطابق آگاہی‘ کے اصول کے تحت مہیا کی جاتی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی امیر فضل الرحمٰن نے حال ہی میں یہ الزام لگا کر ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا کہ 1999 کی کارگل جنگ کے دوران ’پاکستان کی فوج نے اپنے شہید اہلکاروں کی لاشیں وصول کرنے سے انکار‘ کر دیا تھا۔

گذشتہ دنوں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خاص طور پر دعویٰ کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان کی میت بھی انڈیا ہی کے اصرار پر پاکستان واپس لائی گئی تھی۔

بی بی سی اُردو نے تاریخی شواہد کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ دراس۔کارگل علاقے میں واقع ایک پہاڑی چوٹی ٹائیگر ہِل (جسے پوائنٹ 5062 بھی کہا جاتا ہے) پر کیپٹن کرنل شیر خان کس طرح ہلاک ہوئے، اس کے بعد کیا ہوا اور اُن کی میت کس طرح پاکستان واپس پہنچی۔

کیپٹن کرنل شیر خان جو ’فوج میں جانے کے لیے پیدا ہوئے‘

برطانوی صحافی اوون بینیٹ جونز اپنی کتاب ’پاکستان: آئی آف دی سٹارم‘ میں لکھتے ہیں کہ صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے ضلع صوابی کے ایک گاؤں نواں کَلی کے کیپٹن کرنل شیر خان گویا پیدا ہی فوج میں جانے کے لیے ہوئے تھے۔

’اُن کے دادا نے ان کا نام ’کرنل‘ رکھا جو اِس خواہش کا اظہار تھا کہ وہ ایک دن فوج میں کرنل کے عہدے تک پہنچیں۔‘

پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر سردار اعجاز احمد سندھو سنہ 1994 میں اوکاڑہ میں نئی قائم ہونے والی ’27 سندھ رجمنٹ‘ میں کرنل شیر خان کے سینیئر تھے۔

انگریزی روزنامے ’دی نیشن‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ کرنل شیر خان نہایت سادہ مزاج، خوش اخلاق، با ادب، مذہبی رجحان کے حامل، دیانتدار، فرض شناس اور غیر معمولی جرات کے مالک تھے۔

اوکاڑہ میں کرنل شیر خان کے روم میٹ میجراعجاز کے مطابق ’اُن کے پاس ایک اچھا ریڈیو تھا جس پر وہ بی بی سی سُنتے تھے۔ سنہ 1995 میں اُن کا تبادلہ 12 ناردرن لائٹ انفنٹری میں ہوا تو وہ بے حد خوش تھے۔‘

’الوداعی تقریب میں انھوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ یہاں سے جا تو رہے ہیں، مگر ایک دن پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوئے واپس آئیں گے۔‘

میجر سندھو کے مطابق پانچ جولائی 1999 کو کیپٹن کرنل شیر خان کو ایک اہم اگلی دفاعی چوکی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

’دشمن کی شدید گولہ باری کے باوجود انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کو پسپا کر دیا۔‘

’اسی روز انڈین فوج نے توپ خانے کی بھرپور مدد سے اس چوکی پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے بڑا حملہ کیا۔ عددی برتری رکھنے والے دشمن کے مقابلے میں کیپٹن کرنل شیر خان نے جوابی حملے کی قیادت بے خوفی سے کی۔ انھوں نے حملہ ناکام بنا دیا، مگر اس دوران انھیں متعدد گولیاں لگیں اور وہ اس شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے جس کی وہ ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے۔‘

اوون بینیٹ جونز لکھتے ہیں کہ کیپٹن کرنل شیر خان کے آخری لمحات کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں پر ایک ایسی چوکی کے دفاع میں گزرے جسے بچانا تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔

’تین دن اور تین راتوں تک شدید گولہ باری اور فضائی حملوں کے بعد وہ اور ان کے ساتھی انڈین فوج کے محاصرے میں آ گئے۔ دو حملے پسپا کرنے کے بعد وہ تھک چکے تھے، تعداد میں کم تھے اور اسلحہ بھی کم ہو چکا تھا۔ ہتھیار ڈال دینا حقیقت پسندانہ راستہ تھا، مگر انھوں نے انکار کرتے ہوئے جوابی حملے کا حکم دیا۔‘

’چند ہی منٹوں میں ان کی گولیاں ختم ہو گئیں، لیکن وہ بندوق کے بٹ سے لڑائی جاری رکھنے کی کوشش کرتے رہے، حتیٰ کہ انڈین فوجیوں کی فائرنگ نے اُن کی جان لے لی۔‘

’ایک انڈین افسر کے بقول: دن کی روشنی میں حملہ کرنا خودکشی کے مترادف تھا کیونکہ ہم اُن کی ہر حرکت دیکھ سکتے تھے، مگر انھوں نے فوجی روایت کے اعلیٰ ترین معیار کے مطابق حملہ کیا۔‘

کیپٹن کرنل شیر خان

،تصویر کا ذریعہSHER KHAN/FACEBOOK

،تصویر کا کیپشنکیپٹن کرنل شیر خان

اپنی کتاب ’دی سپرٹ آف لیڈرشپ‘ میں راجندر ڈی پیٹسوٹے انڈین فوج کے بریگیڈیئر مہیندر پرتاب سنگھ باجوہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ٹائیگر ہل پرانڈیا کے دوبارہ قبضے کے بعد انھیں اندازہ تھا کہ جوابی حملہ ضرور ہو گا، لہٰذا چوٹیوں پر مزید فوجی تعینات کر دیے گئے۔

’اگلی صبح ایک نہایت شدید جوابی حملہ ہوا۔ بریگیڈیئر باجوہ کے مطابق ٹریک سوٹ پہنے ایک شخص بار بار حملے کی قیادت کر رہا تھا۔ وہ منتشر ہو جانے والے فوجیوں کو دوبارہ جمع کرتا اور پھر نیا حملہ کر دیتا۔‘

’حکم ملتے ہی انڈین فوج نے بھرپور حملہ کیا، جس میں دیگر فوجیوں کے ساتھ وہ دلیر، ٹریک سوٹ پہنے شخص بھی مارا گیا۔ دوسرے فوجیوں کی لاشیں وہیں دفن کر دی گئیں، تاہم اس شخص کی لاش نیچے لائی گئی۔‘

’بعد میں اس کی شناخت پاکستان آرمی کی 27 ویں سندھ رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان کے طور پر ہوئی۔‘

اوون بینیٹ جونز کے مطابق کیپٹن کرنل شیر خان کی بہادری کا اعتراف انڈین فوج نے بھی کیا۔

’ایک انڈین افسر (بریگیڈیئر مہیندر پرتاب سنگھ باجوہ)، جنھوں نے میدانِ جنگ میں اُن کی جرات اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی، نے اُن کے لیے نشانِ حیدر کی سفارش کی۔ اُن کا کہنا تھا: ’ہم دشمن کی صف میں موجود ایک پیشہ ور سپاہی کی بہادری کا بھی احترام کرتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہو گی اگر کرنل شیر خان کی شجاعت کو اس کا جائز مقام ملے۔‘

اوون لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد تقریباً ہر معاملہ متنازع بن گیا۔

’پاکستان کا مؤقف تھا کہ کیپٹن کرنل شیر خان لائن آف کنٹرول پر واقع ایک چوکی پر مارے گئے جبکہ انڈیا کا کہنا تھا کہ وہ اور سینکڑوں پاکستانی فوجی انڈیا کے زیرِ انتظام علاقے میں موجود تھے۔‘

’چونکہ اُن کی میت انڈین فوج کے قبضے میں تھی اور اِسے دلی منتقل کیا جا چکا تھا، اس لیے پاکستان پر سوال اٹھا کہ اگر وہ پاکستانی حدود میں مارے گئے تھے تو اُن کی میت انڈیا کے قبضے میں کیسے آئی۔ پاکستانی حکام نے جواب دیا کہ انڈین فوج پروپیگنڈے کی غرض سے میت کو لائن آف کنٹرول کے پار لے گئی۔‘

مصنف کے مطابق بعد ازاں میت کی واپسی بھی ایک بین الاقوامی معاملہ بن گئی۔

’انڈیا نے کہا کہ وہ میت اس وقت تک پاکستان کے حوالے نہیں کرے گا جب تک پاکستان یہ تسلیم نہ کرے کہ کیپٹن کرنل شیر خان ان پاکستانی فوجیوں میں شامل تھے جو لائن آف کنٹرول کے پار انڈین جانب تعینات تھے۔‘

’انڈیا نے تجویز دی کہ پاکستان کے حکام یا اہلِخانہ دلی آ کر میت کی شناخت کریں، جبکہ پاکستان کا مطالبہ تھا کہ میت اسلام آباد بھیجی جائے تاکہ اس کی تصدیق کی جا سکے۔‘

’بالآخر دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ہوا۔ پاکستان نے دلی کوئی وفد نہیں بھیجا، تاہم اس نے تسلیم کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان پاکستان فوج کے افسر تھے۔ تقریباً دو ہفتے بعد انڈیا نے میت بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے حوالے کی، جہاں سے تابوت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر کراچی پہنچایا گیا۔‘

کراچی ایئرپورٹ، 18 جولائی 1999: فوج کے جوانوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنجنگ کے دوران مارے جانے کے تقریباً دو ہفتے بعد کیپٹن کرنل شیر خان کی میت انڈیا سے پاکستان لائی گئی

کارگل جنگ کے وقت انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ سے منسلک ریٹائرڈ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب ’وٹنیس ٹو بلنڈر‘ (اُردو ترجمہ: جینٹلمین استغفراللہ) میں لکھا ہے کہ کیپٹن کرنل شیر کی نعش جسے دشمن اٹھا کر لے گئے اور دلی منتقل کر دیا، دو ہفتوں کی تاخیر کے بعد واپس کی گئی۔

’18 جولائی کی رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔ ملیر چھاؤنی اور کراچی میں تعینات سینکڑوں فوجی کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمع تھے۔ شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ کیپٹن کرنل شیر کے دو بھائی بھی پہنچ چکے تھے۔‘

’ایک بج کر پانچ منٹ پر طیارہ اترا۔ دو تابوت باہر نکالے گئے۔ ایک کرنل شیر کا تھا اور دوسرا ایک نامعلوم سپاہی کا۔ یونٹ کے ایک خطیب نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور پھر قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت کیں: اور جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں، انھیں مردہ مت کہو کہ وہ زندہ ہیں لیکن تمھیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔‘

اشفاق لکھتے ہیں کہ نماز کے بعد تابوت پاک فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے میں رکھے گئے۔ اعلیٰ سول اور فوجی عہدے داروں نے سلامی دی جب کہ شہریوں نے نمناک آنکھوں سے الوداع کہا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک بار پھر نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں صدرِ پاکستان رفیق تارڑ بھی شامل تھے۔

’اسلام آباد سے کیپٹن کرنل شیر کا جسدِ خاکی ایک ہیلی کاپٹر میں ان کے آبائی گاؤں پہنچایا گیا جہاں اعلیٰ صوبائی عہدے دار اور ہزاروں دیگر افراد اپنے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور جنازے میں شرکت کے لیے جمع تھے۔‘

ریٹائرڈ میجر سندھو لکھتے ہیں کہ جب وہ کرنل شیر خان کی تدفین میں شرکت کے لیے صوابی گئے تو انھیں ان کے بھائیوں، انور شیر اور سکندر شیر، اور ان کے والد خورشید خان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔

سندھو کے مطابق انور شیر نے انھیں بتایا کہ انھیں اپنے بھائی کی میت کو پاکستان واپس لانے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’اس وقت آپریشنل حساسیت کے باعث پاکستان کی فوج سرکاری طور پر میت کا دعویٰ نہیں کر رہی تھی۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ اس اذیت ناک صورتحال میں ان کے والد کو یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ شاید کرنل شیر خان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے یا انھوں نے ریاست کے خلاف کوئی اقدام کیا ہے۔

اسلام آباد، 14 اگست 1999: پاکستان کے صدر رفیق تارڑ نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران کیپٹن کرنل شیر خان کے والد خورشید خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز، نشانِ حیدر، دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشناس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے کیپٹن کرنل شیر خان کے والد خورشید خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’نشانِ حیدر‘ دیا

’اسی شدید اضطراب کی کیفیت میں انھوں نے اپنے بیٹے انور کو ہدایت کی کہ وہ فوجی قیادت تک ان کا واضح پیغام پہنچا دیں کہ اگر ان کے بیٹے کی میت قبول کرنے سے پاکستان کی ساکھ یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ اپنے بیٹے سے لا تعلقی اختیار کر لیں گے۔‘

’وہ میت کو دیکھ کر یہ کہہ دیں گے کہ یہ ان کا بیٹا نہیں ہے اور صرف انسانی ہمدردی کے تحت جسدِ خاکی کو دفن کر دیں گے۔‘

کرنل اشفاق نے لکھا کہ کیپٹن کرنل شیر خان کے بڑے بھائی انورشیر، جو ابوظہبی کے شہر العین میں کاروبارکرتے ہیں، نے بتایا کہ ان کے خاندان نے کرنل شیر کی شادی کے لیے پانچ لاکھ روپے مختص کر رکھے تھے اور یہ طے تھا کہ شمالی علاقوں سے واپسی پر ان کی شادی کردی جائے۔

تاہم بعدازاں اُن کی شادی کے لیے مختص یہ رقم نواں کلی میں ایک سکول کھولنے کے لیے وقف کر دی گئی۔

اوون بینیٹ جونز لکھتے ہیں کہ اُن کے دادا نے اس امید پر اُن کا نام ’کرنل‘ رکھا تھا کہ وہ ایک دن فوج میں کرنل بنیں گے، مگر وہ کیپٹن کے عہدے ہی پر کارگل جنگ میں جان سے گئے۔

میجرسَندھو کے مطابق کیپٹن کرنل شیرخان کی 27 سندھ رجمنٹ کا نام تبدیل کر کے ’شیرِ حیدری‘ رکھ دیا گیا۔