مین آف دی میچ فٹبالر کو انعام میں درجنوں انڈے: ’یہ اس ٹرافی سے زیادہ قیمتی ہے جسے آپ کھا بھی نہیں سکتے‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

کھیلوں کی دنیا میں ہر کھلاڑی یقیناً بہترین کارکردگی دکھا کر نہ صرف نام کمانا چاہتا ہے بلکہ بڑے بڑے انعامات بھی حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے کھیلوں فٹ بال، کرکٹ اور اولمکپس میں ایسا ہوتا بھی ہے۔

لیکن افریقہ کے ایک فٹ بالر اس وقت سوشل میڈیا میں دلچسپ تبصروں اور بحث کی زد میں ہیں جنھیں اپنی ٹیم کو میچ جتانے اور پلیئر آف میچ بننے پر انعام میں بہت سارے انڈے ملے ہیں۔

جی ہاں نہ کوئی لگژری گاڑی، نہ کوئی بڑا چیک، نہ کوئی وائرل سپانسرشپ ڈیل بلکہ زیمبیا کے فٹبالر کینیڈی موسونڈا کو میچ میں جیت کی وجہ بننے والے گول پر انڈوں کے پانچ کریٹس دیے گئے۔

نہیں نہیں آپ جیسا سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے انھیں یہ انڈے مارے نہیں گئے بلکہ سچ مچ کھانے کے لیے تحفے میں دیے گئے ہیں۔ انھیں لگ بھگ ڈھائی درجن انڈوں والی پانچ ٹریز انعام میں ملی ہیں جنھیں کھا کر وہ پروٹین حاصل کریں اور مزید اچھا کھیل کھیلیں گے۔

انھوں نے گول کے لیے دو کریٹ اور بہترین کھلاڑی قرار پانے پر تین مزید کریٹس حاصل کیے۔

وہ زیمبیا کی سپر لیگ میں پاور ڈائناموز کے لیے کھیل رہے تھے جب انھوں نے نکانا کے خلاف گول کرتے ہوئے صفر ایک سے برتری حاصل کی۔

ایوارڈز وصول کرنے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایوارڈ کے طور پر یہ انڈے دینے والے سپانسر نہ صرف کھلاڑی کی تعریف کرتے ہیں بلکہ ان سے کہتے ہیں کہ وہ اور اچھا پرفارم کریں اور انڈوں سے لطف اندوز ہوں۔ اس دوران ان کے ساتھی کھلاڑی ہنستے ہوئے تالیاں بھی بجاتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

اس کے بعد شرمندہ ہونے کے بجائے، موسونڈا ایک مسکراہٹ کے ساتھ یہ غیر معمولی انعام قبول کرتے ہیں اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور کلب کے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سٹرائیکر فٹ بالر کی انڈے کی ٹرے اٹھائے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

کینیڈی موسوندا، جو زیمبیا سپر لیگ کے سٹرائیکر ہیں ، پاور ڈائناموز کے لیے کھیلتے ہیں۔

یہ واحد موقع نہیں ہے کہ جب کسی افریقی لیگ میں کھلاڑی کو عجیب و غریب مین آف دی میچ انعام ملا ہو۔ اس خطے کے کھلاڑیوں کو پہلے روایتی دھات کی ٹرافیوں یا نقد رقم کی بجائے زندہ مرغیاں اور روٹیاں بھی تحفے میں دی جاتی تھیں۔

اس انعام کی سادگی پر سوشل میڈیا صارفین جہاں مسکراہٹیں نہیں روک پا رہے وہیں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مشکل وقت میں چھوٹے انعامات بھی بڑے معنی رکھتے ہیں۔

بہت سے لوگوں نے مزاح میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انڈے روایتی ایوارڈز کے مقابلے میں زیادہ عملی ہیں، خاص طور پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے۔

بہت سے لوگوں کے لیے یہ مزاح نہیں تھا، بلکہ ایسے بے شمار کھلاڑیوں کے لیے ایک حقیقت تھی جو شہرت کی چکا چوند سے دور نام کمانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین لفظوں کے ہجے بدل کر ادبی مزاح بھی کر رہے ہیں جیسے انڈوں کو انگلش میں ایگ کہا جاتا ہے تو وہ بہترین انگریزی ایکسلینٹ کو بدل کا فٹ بالر کی کارکردگی کو ’ایگسیلینٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔

ایک صارف کو اس انعام کا مذاق اڑنا پسند نہیں آیا۔

دی ریئل نیٹو سن نامی ایکس ہنڈل نے لکھا ’ہماری ترجیحات خراب ہو گئی ہیں۔ یہ اس ایک ٹرافی سے زیادہ قیمتی ہے جسے آپ کھا بھی نہیں سکتے۔‘

موسان چانسا گانڈو نامی صارف نے ایسی ہی ایک فیس بک پوسٹ پر لکھا ’مجھے اس میں کچھ غلط نظر نہیں آتا۔ چیزوں کو اتنا آسان نہ سمجھیں جتنا آپ دیکھتے ہیں، یہ کلب بہت مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔‘

ڈیو چلو نامی صارف نے لکھا ’یہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی ایک اچھی مثال ہے، اگر مزید کاروبار ہمارے کھلاڑیوں کو ایسی مصنوعات دیں تو اس سے کچھ تحریک ملے گی اور ہمارے کھلاڑی بہتر ہوں گے۔ جو شکایت کر رہے ہیں، وہ ایک سکہ بھی عطیہ نہیں کر سکتے۔‘

کچھ صارفین ناراض بھی نظر آئے۔

ان میں سے ایک جاونہو نامی صارف نے افریقی فٹ بال ایسوی ایشنز کو مخاطب کرکے ایکس پر لکھا ’کیا آپ دوسری ایسوسی ایشنز کو کھلاڑیوں کی دیکھ بھال سکھانے کے لیے سیمینار نہیں کروا سکتے؟‘

ایک اور صارف سارہ مکونتا نے لکھا کہ ’نیت ہی اہم ہے، انعام چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔‘

عمار الحسن نے لکھا ’یہ پروٹین، وٹامنز، معدنیات کولین، چکنائی اور کولیسٹرول کے کریٹس ہیں۔ اگر وہ میچ کا بہترین کھلاڑی بننا چاہتا ہے تو اسے آخری دو چیزوں کے تئیں محتاط رہنا ہو گا۔ مزید یہ کہ، اگر وہ اکیلا سب کھا لے تو اسے پورے گاؤں کی طرف سے ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘