پنجاب سے افریقہ اور افریقہ سے برطانیہ: رشی سونک کے خاندان کی پیچیدہ تاریخ

رشی سونک، برطانیہ
    • مصنف, ہیریئٹ اوریل
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت

اب جبکہ برطانیہ میں ایک نئی حکومت آ چکی ہے تو ایک نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے وزیرِ اعظم کے بارے میں کئی باتیں کی جا رہی ہیں۔

رشی سونک برطانیہ میں کئی چیزوں میں پہل کرنے والے شخص ہیں۔ وہ پہلے برطانوی ایشیائی اور پہلے ہندو ہیں جو اس عہدے پر براجمان ہوں گے۔

وہ جس جماعت یعنی کنزرویٹو کے سربراہ ہیں وہ ایک طویل عرصے سے غیر سفید فام افراد کو بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز کر چکی ہے مگر وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ پہلی مرتبہ ایسے کسی شخص کو دیا گیا ہے۔ 

مگر انڈین نژاد رشی سونک 10 ڈاؤننگ سٹریٹ تک کیسے پہنچے جو طبقے، نسل، نوآبادیاتی دور اور خود سلطنتِ برطانیہ کے عناصر میں گندھی ہوئی جگہ ہے۔ 

سب کی ایک پیچیدہ مگر دلچسپ تاریخ ہے۔

سونک کی خاندانی تاریخ

رشی سونک سنہ 1980 میں ساؤتھیمپٹن میں یشویر اور اوشا سونک کے گھر پیدا ہوئے۔ یہ خاندان ویسے تو پنجابی ہے لیکن یہ مشرقی افریقہ میں برطانوی کالونیوں سے نقل مکانی کر کے برطانیہ آ گئے تھے۔ 

ان کی والدہ تنگانیکا میں پیدا ہوئیں جو موجودہ تنزانیہ کا حصہ ہے۔ ان کے والد کالونی اینڈ پروٹیکٹوریٹ آف کینیا میں برطانیہ سے آزادی سے قبل پیدا ہوئے۔ 

سونک کے دادا اور نانا دونوں ہی برطانوی دور کے پنجاب میں پیدا ہوئے تھے مگر 1930 کی دہائی میں اپنے خاندانوں کے ساتھ مشرقی افریقہ میں برطانوی کالونیوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ 

مگر جب افریقی ممالک آزاد ہونے شروع ہوئے تو وہاں رہنے والے انڈینز بھی ملک چھوڑنے لگے اور ان میں سے کئی لوگ برطانیہ منتقل ہو گئے۔ 

سونک کی ایک تازہ سوانح کے مطابق اُن کے نانا اور نانی کو 60 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہونے کے لیے ان کی نانی کی شادی کے زیورات فروخت کرنے پڑے تھے۔ 

برطانوی انڈیا سے افریقی کالونیوں اور وہاں سے برطانیہ تک کا یہ راستہ ہزاروں خاندانوں نے اپنایا تھا مگر اس کے پیچھے کیا تاریخ ہے؟ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرشی سونک کے والدین اور ان کی اہلیہ ایک جلسے کے دوران

انڈین افراد افریقی کالونیوں میں کیوں منتقل ہوئے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عالمی تاریخ کی پروفیسر ایمیلی گلینکلر کے مطابق 19ویں صدی کے اوائل میں برطانوی سلطنت تیزی سے صنعتی ترقی کر رہی تھی اور غلامی کے خاتمے کے بعد مارکیٹ میں مزدوروں کی شدید کمی پیدا ہو گئی تھی۔ 

اس موضوع پر ایمیلی کی ایک ٹک ٹاک ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے۔ 

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا جس میں انڈینز کو طویل مدتی معاہدوں کے تحت سستے مزدوروں کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ریل کی پٹڑیاں بچھوانے جیسے کام کیے جائیں مگر اکثر اوقات یہ ان معاہدوں میں پھنس جاتے اور قرض ادا کرنے میں ناکام ہو جاتے۔‘ 

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور بیرونِ ملک انڈینز کی آبادی بڑھتی گئی تو اس طرح کی ملازمتیں ختم ہو گئیں اور کئی لوگ واپس انڈیا چلے گئے جس کے بعد برطانیہ نے جنوبی ایشیائی افراد کو اقتصادی مواقع اور بلند سماجی رتبے کے خواب دکھا کر مشرقی افریقہ لوٹنے کی دعوت دی۔ 

ایمیلی بتاتی ہیں کہ درجہ بندیوں پر مبنی کالونیوں میں سفید فام برطانوی افراد سب سے اوپر ہوتے اور سیاہ فام افریقی سب سے نیچے جبکہ جنوبی ایشیائی برادری کہیں بیچ کے درجوں میں ہوتی۔

وہ اکثر اوقات پیشہ ورانہ اور انتظامی امور نبھاتے اور برطانویوں اور مقامی افریقیوں کے درمیان درمیانے شخص کا کردار ادا کرتے۔ 

ایمیلی کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر انڈین لوگ یہاں اس لیے منتقل ہوئے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ افریقی کالونیوں میں برطانویوں کے اس نسلی بنیادوں پر قائم نظام میں وہ درمیانی سیڑھی بن کر ہی مگر اقتصادی مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔‘ 

وقت کے ساتھ ساتھ افریقی انڈین برادریوں نے طاقت حاصل کرنی شروع کر دی۔ مثال کے طور پر یوگینڈا میں 1920 کی دہائی میں وہ زمین کے مالک بننے شروع ہو گئے جو کہ یوگینڈا کے سیاہ فام مقامی افراد کے لیے ناممکن تھا اور سسٹم نے اس عدم مساوات کو جاری ہی رکھا۔ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہRishi Sunak campaign video via PA

،تصویر کا کیپشنرشی سونک کی والدہ کی فارمیسی جہاں وہ خود بھی کام کر چکے ہیں

افریقی آزادی

ساٹھ اور ستّر کی دہائیوں میں برطانوی سلطنت سکڑ رہی تھی اور زیادہ سے زیادہ ممالک آزادی حاصل کر کے سیاہ فام افریقیوں کو ملک کا رہنما چن رہے تھے۔ اسی دور میں انڈین شہریوں نے ان کالونیوں سے نقل مکانی کرنی شروع کر دی۔ 

سنہ 1972 میں اس وقت یوگینڈا کے صدر عیدی امین نے ایشیائی (زیادہ تر انڈین) افراد کو یوگینڈا سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے اُنھیں ملک چھوڑنے کے لیے 90 دن دیے۔ 

جب بھکتی کنسارا اپنے خاندان کے 15 افراد کے ہمراہ یوگینڈا سے برطانیہ پہنچیں تو وہ 14 سال کی تھیں۔ 

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں گھر پر تھی جب میں نے سُنا کہ میرے ابو اور بھائی نے کہا کہ ہمیں اپنا سامان باندھ کر نکلنا ہو گا۔ ہم اب یوگینڈا میں مزید نہیں رہ سکتے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اپنی امی یاد ہیں، وہ اداس تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں ٹھیک تھی، میں خوش تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں لندن جا رہی ہوں۔‘ 

’ہم دو گاڑیوں میں گئے اور فوج کے افراد ہمیں اینتیبے ایئرپورٹ لے گئے۔ پھر مجھے لگا کہ کچھ تو غلط ہے۔ کوئی فوجی کیوں ہمیں لندن جانے کے لیے چھوڑنے آئے گا؟‘ 

یہ لوگ برطانیہ میں بطور پناہ گزین آئے مگر افریقی کالونیوں سے آنے والے کئی تارکینِ وطن کی طرح وہ بھی اپنے اس نئے وطن میں گھلنے ملنے میں کامیاب رہے۔

رشی سونک، برطانیہ
،تصویر کا کیپشنبھکتی کنسارا کے خاندان کے 16 افراد یوگینڈا سے بھاگ کر برطانیہ آئے

برطانیہ میں زندگی

بھکتی کی بیٹی ریہا اب بی بی سی کے لیے رپورٹر ہیں اور اُنھوں نے یوگینڈا سے لوگوں کی بے دخلی پر کئی دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کئی مشرقی افریقی تارکینِ وطن برطانیہ میں گھلنے ملنے میں کامیاب رہے کیونکہ وہ پہلے ہی یہاں آنے سے قبل مڈل کلاس تھے اور ان کے پاس ایسے ہنر تھے جنھیں استعمال کرتے ہوئے وہ نیچے سے اپنی زندگی شروع کر کے اوپر پہنچ سکتے تھے۔

سونک کے نانا تنگانیکا میں ایک ٹیکس اہلکار تھے اور اُنھیں برطانیہ آنے کے بعد یہاں کے ٹیکس ادارے ان لینڈ ریوینیو میں ملازمت مل گئی تھی۔ 

ان کے والدین دونوں ہی طبی شعبے میں شامل ہو گئے۔ والد نے نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور ڈاکٹر شمولیت اختیار کر لی جبکہ والدہ نے اپنی فارمیسی شروع کر لی جہاں کام کرنا رشی سونک کو یاد ہے۔ 

سنہ 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد کئی انڈین افراد افریقہ سے ہوتے ہوئے برطانیہ آنے کے بجائے براہِ راست ایشیا سے یہاں آنے لگے۔ 

ان لوگوں کا اکثریتی طور پر تعلق دیہات سے تھا اور ان کی بڑی تعداد ہندوؤں کے بجائے مسلمانوں پر مشتمل تھی، ان کے پاس اچھی آمدنی والی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے زبان اور ہنر کی بھی کمی تھی۔ 

برطانوی اخبار دی گارڈئین کے مطابق برطانیہ میں ہندو تارکِ وطن ہونے کے فائدے ہیں اور دو تہائی ہندو مرد انتظامی یا پروفیشنل عہدوں پر فائز ہیں۔ 

برطانیہ کے پہلے برٹش انڈین وزیرِ اعظم

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سونک کی بطور وزیرِ اعظم تقرری کے بعد سے کنزرویٹو ارکانِ پارلیمان اپنی جماعت کی ترقی پسندی کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے سنہ 1874 میں پہلے یہودی وزیرِ اعظم بنجمان ڈسرائیلی، 100 برس سے کچھ عرصے بعد 1979 میں پہلی خاتون وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر اور تقریباً نصف صدی بعد پہلے غیر سفید فام شخص کو وزیرِ اعظم منتخب کر لیا ہے۔ 

حالیہ چند سالوں میں برطانوی سیاست اور کنزرویٹو جماعت کی کابینہ کافی متنوع ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ اور سابقہ وزرائے داخلہ سوئیلا بریورمین اور پریتی پٹیل دونوں ہی مشرقی افریقہ سے برطانیہ آنے والے انڈین نژاد والدین کے گھروں میں پیدا ہوئی ہیں۔ 

ریہا کہتی ہیں کہ ’اب یہ بات بھی کافی کہی جا رہی ہے کہ تمام کنزرویٹو ایشیائی افراد مشرقی افریقی ہیں۔ ایک حد تک یہ اس طبقاتی نظام کی عکاس ہے جس میں ان کی پرورش ہوئی ہے۔‘ 

رشی سونک کا وزیرِ اعظم بننا برطانیہ کے لیے ایک اہم لمحہ ہے مگر اب برطانوی انڈین برادری میں بھی تقسیم ہے۔ کچھ لوگ انھیں وزیرِ اعظم دیکھ کر خوش ہیں تو کچھ کو خوشی نہیں ہے۔ رہیا کہتی ہیں کہ اُنھوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو ان کی مشرقی افریقی جڑوں کے باعث کہہ رہے ہیں کہ رشی ان کے نمائندے نہیں ہیں۔ 

وہ کہتی ہیں: ’یہ میرے خلاف بھی استعمال ہوا ہے۔ انڈیا میں کچھ لوگ مثلاً ہندو قوم پرست مجھے بتاتے ہیں کہ میں تکنیکی طور پر انڈین نہیں کیونکہ میرا خاندان تقسیم سے قبل کینیا اور یوگنڈا منتقل ہو گیا تھا اس لیے میری کوئی انڈین جڑیں نہیں ہیں کیونکہ اس وقت انڈیا موجود نہیں تھا۔‘ 

’یہ بحث جاری ہے اور چاہے یہ دائیں بازو کی طرف سے ہو یا بائیں کی طرف سے، میں اپنی شناخت کے بارے میں کافی پراعتماد ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ آپ ایک ساتھ برطانوی، انڈین اور افریقی سب ہو سکتے ہیں۔‘ 

ریہا کہتی ہیں کہ ’کوئی برطانیہ کیسے آیا، اس بات کا سہارا لے کر کسی کی جڑوں کی مذمت کرنا نقصان دہ ہے۔ جنوبی ایشیائی برادری سے کچھ لوگ پرجوش بھی ہیں کہ سونک انڈین نژاد ہیں۔‘ 

’وہ پہلے گندمی، پہلے ہندو شخص ہیں جو برطانیہ کے وزیرِ اعظم بنے ہیں، یہ ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔‘