رشی سونک: ’بادشاہ سے زیادہ امیر‘ نئے وزیرِ اعظم کے پاس کتنی دولت ہے؟

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

برطانیہ کے نئے اور پہلے ایشیائی وزیرِ اعظم رشی سونک اور ان کی اہلیہ کے مالی معاملات پر کھل کر بات ہو رہی ہے۔ نئے وزیرِ اعظم کے سامنے برطانیہ میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کا بحران کھڑا ہے تو وہیں ان سے سوالات کیے جا رہے ہیں کہ اتنا امیر شخص سخت معاشی فیصلے لیتے ہوئے عام لوگوں کے حالات سے کیسے باخبر ہو سکتا ہے؟ 

کنزرویٹو پارٹی کا سربراہ بننے کی ان کی پہلی مہم کے دوران ان کے بارے میں جو انکشافات سامنے آئے، اُنھیں بھی مدِ نظر رکھا جائے تو لوگ سوال کر رہے ہیں کہ رشی سونک کے پاس آخر کتنی دولت ہے؟ 

مگر ان کا اصرار ہے کہ وہ اس نوکری کے لیے درست شخص ہیں۔ اُنھوں نے ’ایمانداری اور عاجزی‘ کے ساتھ خدمت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ’برطانوی عوام کے فائدے کے لیے دن رات کام کرنے‘ کا وعدہ بھی کیا ہے۔ 

تو ہم رشی سونک اور ان کے خاندان کی دولت کے بارے میں کیا جانتے ہیں، اور کیا اس سے فرق بھی پڑتا ہے؟ 

’شاہی خاندان سے زیادہ دولت‘

سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے تبصرہ کیا کہ یہ جوڑی کتنی امیر ہے۔ رشی سونک نے اب تک اپنی ذاتی دولت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ 

مگر سنڈے ٹائمز کی رِچ لسٹ کے مطابق سابق بینکر رشی سونک اور ایک بڑی انڈین ٹیکنالوجی کمپنی کے بانی کی بیٹی اکشتا مورتی کی دولت اندازاً 73 کروڑ پاؤنڈز کے برابر ہے۔ 

حالانکہ نئے بادشاہ کو ان کی والدہ کی چھوڑی ہوئی زیادہ تر دولت ملے گی لیکن یاد رہے کہ اپنی وفات سے قبل ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی دولت اسی فہرست کے مطابق 37 کروڑ پاؤنڈ کے لگ بھگ تھی۔ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رشی سونک کی اہلیہ اکشتا مورتی

رشی سونک کی دولت اور ان کی اہلیہ کے مالی معاملات میں اپریل 2022 میں عوام میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی۔ اکشتا مورتی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے شوہر پر سے سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے اپنی غیر ملکی آمدنی پر بھی برطانیہ میں ٹیکس ادا کرنا شروع کریں گی۔

یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب اس وقت برطانیہ کے وزیرِ خزانہ رشی سونک نے اپوزیشن کی جانب سے اپنے ٹیکس معاملات میں عدم شفافیت کے الزامات پر خود کو وزیرِ اعظم کے مشیرِ اخلاقیات کے سامنے پیش کر دیا۔ 

رشی سونک نے کہا تھا کہ اُنھیں یقین ہے کہ اُنھوں نے تمام قوانین کی پاسداری کی ہے مگر لیبر پارٹی نے کہا کہ اُنھیں اب بھی سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔ 

رشی سونک کا کریئر

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رشی سونک مشرقی افریقہ سے برطانیہ کے علاقے ساؤتھیمپٹن ہجرت کرنے والے انڈین والدین کے گھر میں 1980 میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک ڈاکٹر تھے جبکہ ان کی والدہ کی اپنی فارمیسی تھی۔ 

ونچیسٹر کالج میں ایک نجی بورڈنگ سکول میں تعلیم حاصل کرنے اور ساؤتھیمپٹن کے ایک مقامی ریستوران میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بطور ویٹر کام کرنے کے بعد اُنھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں سیاسیات، فلسفے اور اقتصادیات میں فرسٹ کلاس ڈگری حاصل کی۔ بعد میں اُنھوں نے کیلیفورنیا کی سٹین فورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا جہاں ان کی ملاقات اکشتا مورتی سے ہوئی۔ 

سنہ 2001 سے 2004 کے دوران رشی سونک دنیا کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ایک گولڈمین ساکس میں تجزیہ کار رہے اور بعد میں دو ہیج فنڈز میں پارٹنر بھی رہے۔ 

سنہ 2015 میں رشی سونک شمالی یارکشائر میں رچمنڈ کے علاقے سے رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے اور سابق وزیرِ اعظم ٹریزا مے کی حکومت میں جونیئر وزیر بنے۔ اس کے بعد اُنھیں اگلے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے چیف سیکریٹری برائے خزانہ تعینات کر دیا اور اس کے بعد فروری 2020 میں وہ وزیرِ خزانہ یعنی چانسلر آف دی ایکسچیکر بن گئے۔ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تنخواہ

وزیرِ اعظم کے طور پر رشی سونک کی سالانہ تنخواہ تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار 80 پاؤنڈز بنتی ہے۔ وزیرِ اعظم کی آمدنی دو مختلف زمروں میں ہوتی ہے، ایک وزارتِ عظمیٰ کی اور ایک رکنِ پارلیمان کی۔ رکنِ پارلیمان اور سابق وزیرِ خزانہ کے طور پر رشی سونک کی گذشتہ سالانہ تنخواہ ایک لاکھ 51 ہزار 649 پاؤنڈز تھی۔ 

بطور وزیرِ اعظم رشی سونک کو ہر برس ایک لاکھ 15 ہزار پاؤنڈز کا الاؤنس بھی ملے گا تاکہ وہ سرکاری فرائض کی انجام دہی پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کر سکیں۔ 

یہ کسی عام شخص کے نزدیک بہت سے پیسے ہو سکتے ہیں مگر دوسرے عالمی رہنماؤں مثلاً امریکی صدر کے مقابلے میں یہ کافی کم ہے جنھیں تقریباً تین لاکھ 53 ہزار پاؤنڈ سالانہ ملتے ہیں۔ 

ذاتی دولت

مگر سیاست میں آنے سے قبل رشی سونک دو انتہائی منافع بخش ہیج فنڈز میں پارٹنر تھے اور اب ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ برطانیہ کے امیر ترین ارکانِ پارلیمنٹ میں سے ہیں۔ 

برطانوی اشاعت دی ٹائمز کے مطابق وہ ’20 کے پیٹے میں ہی کروڑ پتی‘ بن گئے تھے مگر اُنھوں نے کبھی بھی عوامی طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے۔ 

لیبر پارٹی ان پر اپنے سابق سکول کو ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ عطیہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے جو اُنھوں نے بچوں کے لیے وظیفے کی مد میں دیے تھے۔ 

لیبر نے کئی سوالات اٹھائے مثلاً کیا رشی سونک نے کبھی نرم ٹیکس قوانین والے ممالک کا فائدہ اٹھایا ہے۔ 

اخبار دی انڈیپینڈینٹ کے مطابق ایسا ہوا ہے اور 2020 کی ایک رپورٹ میں اُنھیں برٹش ورجن آئلینڈز اور کیمین آئلینڈز میں ٹیکس بچانے کے لیے قائم کیے گئے ٹرسٹ کا بینیفشری قرار دیا گیا۔ رشی سونک کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ان دعووں ’کو نہیں پہچانتے۔

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہHM Treasury

برطانیہ کے ایسے سیاست دان جنھوں نے سرمایہ کاریاں کر رکھی ہوتی ہیں، وہ سرکاری ملازمتیں ملنے پر ’بلائنڈ ٹرسٹ‘ بنا لیتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی سرمایہ کاری سے یہ جانے بغیر رقم حاصل کرتے رہتے ہیں کہ رقم درحقیقت کہاں لگائی گئی ہے۔ 

اس کا مقصد مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کو روکنا ہوتا ہے جب وہ ایسی اقتصادی فیصلہ سازی کر رہے ہوں جس سے انھیں بھی آمدنی ہونے کا امکان ہو۔ مگر یہ طرزِ عمل متنازع ہے۔ 

رشی سونک نے وزرا کے مفادات کی فہرست میں اپنے بلائنڈ ٹرسٹ لکھوائے ہوئے ہیں۔ 

اُنھوں نے سنہ 2019 میں بلائنڈ ٹرسٹ بنایا تھا جب اُنھیں وزیرِ خزانہ ساجد جاوید سے ایک درجہ نیچے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ 

لیبر جماعت کا کہنا ہے کہ رشی سونک وہ پہلے چانسلر ہیں جنھوں نے وزرا کے مفادات کی فہرست بننے کے بعد اپنے انویسٹمنٹ فنڈ کا اندراج کروایا ہے۔ لیبر کا سوال ہے کہ کیا ایسی کسی ترتیب کی اجازت ہونی بھی چاہیے یا نہیں۔ 

اپوزیشن نے رشی سونک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ٹرسٹ کی تفصیلات عام کریں اور بتائیں کہ کیا فروری 2020 میں ان کے چانسلر بننے کے بعد سے اُنھیں معلوم ہے کہ ان کی سرمایہ کاری کیسی جا رہی ہے۔ 

وزارتِ خزانہ نے کہا کہ ’رشی سونک نے لیٹر سے متعلق وزارتی ضابطے پر عمل کیا ہے۔‘ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سابق وزیرِ اعظم ٹریزا مے کا بھی ایک بلائنڈ ٹرسٹ تھا مگر سنہ 2016 میں ان کے پیش رو ڈیوڈ کیمرون نے ارکانِ پارلیمان سے کہا تھا کہ اُن کے نزدیک عہدہ قبول کرنے سے قبل ٹرسٹ بنانے سے ’زیادہ آسان اور سیدھا طریقہ یہ ہے کہ سب کچھ فروخت کر دیا جائے۔‘ 

مانا جاتا ہے کہ رشی سونک کی بہت سی جائیداد ہے۔ 

سنہ 2015 میں اُنھوں نے 15 لاکھ پاؤنڈ کے عوض اپنے حلقے رچمنڈ میں کربی سگسٹن گاؤں میں ایک گریڈ 2 کوٹھی خریدی تھی۔ 

اس کے علاوہ لندن کے علاقے جنوبی کینسنگٹن میں ایک پانچ کمروں کا ٹاؤن ہاؤس بھی ہے جو ریکارڈز کے مطابق آخری مرتبہ سنہ 2010 میں 45 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ 

اس جوڑے کا جنوبی کینسنگٹن میں ایک فلیٹ بھی ہے جبکہ کیلیفورنیا کے علاقے سینٹا مونیکا میں بحرالکاہل کے نظاروں والا ایک پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ بھی ہے۔ 

رشی سونک اس سے پہلے ڈاؤننگ سٹریٹ میں ایک سرکاری فلیٹ میں رہ چکے ہیں جبکہ بکنگھم شائر میں ایک قدیم رہائش گاہ ڈورنی ووڈ میں بھی، جس کے رہائشی کا تعین کرنا صرف اور صرف وزیرِ اعظم کا اختیار ہے۔ 

اب بطور وزیرِ اعظم وہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ 

اکشتا مورتی کا کریئر اور خاندانی دولت

اکشتا کئی ارب ڈالر کے خاندانی کاروبار کی جانشین ہیں۔ سنہ 1980 میں ان کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد انھیں ان کے دادا دادی کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دیا گیا تھا کیونکہ ان کے والد نارائن مورتی اور والدہ سدھا مورتی ممبئی میں اپنے کریئرز پر کام کر رہے تھے۔ 

ایک سال بعد نارائن نے مشترکہ طور پر انفوسِس کی بنیاد رکھی جس نے اُنھیں انڈیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں پہنچا دیا۔ 

اکشتا مورتی نے تعلیم امریکہ میں حاصل کی جہاں اُنھوں نے کیلیفورنیا کے کلیریمونٹ میکینا کالج میں معاشیات اور فرینچ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اُنھوں نے ایک فیشن کالج سے ڈپلومہ حاصل کیا اور اس کے بعد ڈیلوئیٹ اور یونی لیور میں کام کیا، اور پھر سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ 

اس جوڑے کی شادی سنہ 2009 میں ہوئی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نارائن مورتی کی زیرِ سربراہی انفوسس دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک بنی۔ یہ اس وقت دنیا کے 50 ممالک میں کام کر رہی ہیں جن میں برطانیہ بھی شامل ہے جہاں اس کے پاس کئی سرکاری ٹھیکے ہیں۔ 

بنگلور میں ہیڈکوارٹرڈ اس کمپنی کی آمدنی سنہ 2019 میں 11.8 ارب ڈالر، سنہ 2020 میں 12.8 ارب ڈالر اور سنہ 2021 میں 13.5 ارب ڈالر رہی۔ 

سنہ 2011 میں نارائن نے کمپنی کی چیئرمین شپ چھوڑ دی تھی مگر اب بھی اس کمپنی میں ان کا اقلیتی حصہ ہے۔ کمپنی کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق وہ اس میں 0.39 فیصد شیئرز کے حامل ہیں۔ 

نارائن مورتی دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں سمیت کثیرالقومی بینکوں ایچ ایس بی سی اور آئی سی آئی سی کے بورڈز میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ 

وہ کیٹامیرن وینچرز نامی ایک سرمایہ کاری کمپنی کے بھی چیئرمین ہیں جو ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثوں کی منتظم ہے۔ 

فوربز کے ایک اندازے کے مطابق ان کی اپنی قدر 4.98 ارب ڈالر ہے۔ 

ان کی اہلیہ سدھا انفوسِس فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ہیں۔ یہ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو فلاحی کاموں کی سرپرستی کرتی ہے۔ اُنھیں ان کے فلاحی کاموں اور ادب کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے ناول ’ڈالر بہو‘ پر ایک ٹی وی سیریز بھی بن چکی ہے۔ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننارائن مورتی اور ان کی اہلیہ سدھا مورتی کی کمپنی انفوسِس انڈیا کی سب سے منافع بخش کمپنیوں میں سے ہے

اکشتا مورتی کو اپنے شیئرز پر سالانہ منافع ملتا ہے جو گذشتہ برس ایک کروڑ 16 لاکھ پاؤنڈ کے لگ بھگ تھا۔ مستقبل میں وہ اس آمدنی پر برطانیہ میں ٹیکس ادا کریں گی۔ 

جب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملہ کیا تو انفوسِس کے روس میں آپریشنز کے باعث اکشتا مورتی کے اس کمپنی میں شیئرز پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔ کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ روس میں اپنا دفتر بند کر رہی ہے۔ 

مگر جب اُنھوں نے اپنے نان ڈوم سٹیٹس کی تصدیق کی تو شیئرز سے ان کی آمدنی پر دوبارہ سوالات اٹھنے لگے۔ نان ڈوم ایک ایسی قانونی رعایت ہے جس کے حامل شخص کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ صرف برطانوی آمدنی پر برطانیہ میں ٹیکس دے۔ 

انفوسِس کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق اکشتا مورتی کا انفوسس میں 0.9 فیصد حصہ ہے۔ اس کی قدر گھٹتی بڑھتی رہتی ہے مگر یہ اندازاً 70 کروڑ پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔ 

اکشتا مورتی کو اپنے شیئرز پر سالانہ منافع ملتا ہے جو گذشتہ برس ایک کروڑ 16 لاکھ پاؤنڈ کے لگ بھگ تھا۔ مستقبل میں وہ اس آمدنی پر برطانیہ میں ٹیکس ادا کریں گی۔ 

کیٹامیرن وینچرز برطانیہ

برطانیہ میں ان کے سب سے اہم کاروباری مفادات میں سے ایک لندن میں قائم کیٹامیرن وینچرز کی ایک شاخ ہے جو سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ 

اکشتا کی لنکڈ ان پروفائل کے مطابق کمپنی ’ایسی برطانوی برانڈز کی مدد کرتی ہے جنھیں سرمایہ کاری، انتظامی مہارت اور نیٹ ورک پارٹنرز کی ضرورت ہو تاکہ وہ ترقی کر سکیں۔‘ 

اُنھوں نے یہ کمپنی رشی سونک کے ساتھ مل کر سنہ 2013 میں بنائی تھی۔ چانسلر سنہ 2015 میں رکنِ پارلیمان بننے کے بعد اس کے ڈائریکٹر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور ایک برس بعد ان کی اہلیہ اس کی اکثریتی شیئر ہولڈر بن گئیں۔ 

سنہ 2020 میں کیٹامیرن وینچرز برطانیہ نے اپنی سرمایہ کاری کی قدر 35 لاکھ پاؤنڈ بتائی تھی جو کہ سنہ 2019 میں 15 لاکھ پاؤنڈ تھی۔ 

رشی سونک، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہPool

دیگر برطانوی کمپنیاں

اکشتا مورتی کے برطانیہ میں دیگر کمپنیوں میں بھی مفادات رہے ہیں۔ 

کمپنیز ہاؤس پر اُنھیں ڈگمی فٹنس نامی جمز کی ایک چین کی ڈائریکٹر بھی بتایا گیا ہے۔ 

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث آمدنی میں کمی کے بعد اس کمپنی کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی گئی۔ اکشتا کے اس کمپنی میں 4.4 فیصد کے شیئرز ہیں اور اس کمپنی کے ذمے قرض خواہوں مثلاً برطانوی محکمہ محصولات سمیت کئی دیگر کے لاکھوں پاؤنڈز واجب الادا ہیں۔ 

ان کی لنکڈ ان پروفائل پر اُنھیں نیو اینڈ لِنگووڈ کی ڈائریکٹر بھی بتایا گیا ہے جو مردوں کے سینکڑوں پاؤنڈ قیمت کے ریشمی پاجاموں سمیت دیگر زیر جامہ ملبوسات فروخت کرتی ہے۔