انڈیا میں سؤر کا گوشت کھانے کے بعد جب ایک خاتون کے دماغ میں 38 کیڑے پائے گئے

    • مصنف, نکولا برائن
    • عہدہ, بی بی سی ویلز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

لاؤری ڈینمین کو پہلی بار اس وقت احساس ہوا کہ کچھ غلط ہے جب ان کو بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد ایک میٹر لمبا کیڑا (ٹیپ وارم) ملا۔

ویلز سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ لاؤری نے کہا کہ یہ انتہائی گھناؤنا لگ رہا تھا، بالکل ٹیپ جیسا، جس پر چھوٹی چھوٹی لائنیں تھیں۔

یہ نیورو سسٹیسرکوسس کی پہلی علامت تھی، ایک ایسی بیماری جس نے لاؤری کے دماغ میں 38 کیڑے چھوڑ دیے، جس کے باعث انھیں شدید سر درد رہنے لگا، دورے پڑنے لگے اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوئے۔

وہ برطانیہ میں ان چند افراد میں شامل ہیں جن میں اس دماغی انفیکشن کی تشخیص ہوتی ہے، جو سؤر کے ٹیپ وارم کے لاروا کی وجہ سے ہوتا ہے۔

صحت دوبارہ بحال ہونے میں برسوں لگنے کے بعد لاؤری اب اس تجربے کو مثبت چیز میں بدلنا چاہتی ہیں اور اس متعلق آگاہی پھیلانا چاہتی ہیں۔

میڈیا کے شعبے میں کام کرنے والی لاؤری سنہ 2007 میں تین ماہ کے لیے انڈیا گئی تھیں اور ان کے ڈاکٹر اور ماہر کنسلٹنٹ ڈاکٹر برینڈن ہیلی کا خیال ہے کہ وہیں سے انھیں یہ انفیکشن ہوا۔

لاؤری نے اس سفر کے دوران گوشت سے پرہیز کا فیصلہ کیا تھا تاکہ فوڈ پوائزننگ سے بچ سکیں لیکن ڈاکٹر ہیلی کا ماننا ہے کہ انھوں نے نادانستہ طور پر سؤر کا ایسا گوشت کھا لیا جس میں ٹیپ وارم کے انڈے موجود تھے۔

اس کے تین سال بعد یعنی سنہ 2010 میں لاؤری نے ایک ریستوران میں بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد کیڑے کو دیکھا اور اسے فلش کر دیا۔

وہ اپنے جی پی (جنرل پریکٹشنر) کے پاس گئیں مگر پاخانے کے ٹیسٹ اطمینان بخش آئے اور چونکہ وہ خود کو ٹھیک محسوس کر رہی تھیں تو اس لیے زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

لیکن ایک سال کے اندر انھیں سر میں شدید درد رہنے لگا۔

پھر 2011 میں انھیں پہلا دورہ پڑا۔ انھوں نے کہا ’مجھے الفاظ ادا کرنے میں واقعی مشکل پیش آنے لگی تھی۔‘

’اس کے بعد جب مجھے ہوش آیا تو میں ایمبولینس میں تھی اور سوچ رہی تھی کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔‘

اس کے بعد ہسپتال میں سی اے ٹی اور ایم آر ائی سکین کیے گئے۔

لاؤری نے کہا کہ ’ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ہم نے آپ کے سکین دیکھے ہیں اور ہمیں آپ کے دماغ میں 38 کیڑے ملے ہیں۔‘

’میں اور میری ماں بس حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ آخر یہ کیا ہے۔‘

ابتدا میں ڈاکٹروں کو لگا کہ یہ ٹاکسوپلاسموسس ہے، جو متاثرہ بلی کے فضلے سے رابطے کے ذریعے پھیلنے والا انفیکشن ہے۔

لیکن پھر لاؤری کی والدہ نے پوچھا کہ کیا اس دورے کا تعلق ایک سال قبل ملنے والے ٹیپ وارم سے ہو سکتا ہے۔

مزید تحقیقات کے بعد بالآخر ان میں نیورو سسٹیسرکوسس کی تشخیص ہوئی۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق انسان کچے یا اچھی طرح نہ پکے ہوئے سؤر کے گوشت، ٹیپ وارم کے انڈوں سے آلودہ پانی، یا صفائی کی ناقص عادات کی وجہ سے ان انفیکشن سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ میں یہ بیماری انتہائی نایاب ہے اور اس کے کیس زیادہ تر ایسے افراد میں دیکھے جاتے ہیں جو ان علاقوں سے آئے ہوں جہاں یہ بیماری عام ہو۔

لاؤری نے کہا کہ ’اس وقت آپ کے ذہن میں بے شمار سوالات آتے ہیں کیونکہ آپ کو نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کی صحت کے حوالے سے آگے کیا ہونے والا ہے۔‘

’اب کیا ہو گا؟ مجھے کس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا؟ کون سی دوائیں لینی ہوں گی؟ کیا میں دوبارہ کام پر جا سکوں گی؟‘

وہ دو ہفتے ہسپتال میں رہیں اور انھیں ادویات اور سٹیرائیڈز دیے گئے۔

کچھ عرصے تک ایسا لگا کہ علاج کامیاب ہو گیا اور کئی سال تک لاؤری کی صحت ٹھیک رہی۔ اس دوران وہ اپنی بہن کے ساتھ نیوزی لینڈ گئیں، برسٹل منتقل ہوئیں، سرکس کی کلاسز لیں اور ہاف میراتھن میں دوڑیں۔

لیکن پھر ایک دن کام کے دوران وہ گر گئیں۔

سکینز میں لاؤری کے دماغ میں شدید سوجن دیکھی گئی۔ گرنے کے بعد ان کا جسم سن ہونے اور جھنجھناہٹ کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔

اس کے بعد لاؤری نے کام چھوڑ دیا اور اپنے والد کے ساتھ رہنے لگیں۔

انھیں ایسے سٹیرائیڈز دیے گئے جن سے ان کی ظاہری شکل بدل گئی، وہ افسردگی کا شکار ہو گئیں اور یہاں تک کہ ان کی ذہنی صحت بُری طرح متاثر ہو گئی۔

لاؤری نے بتایا کہ انھیں شدید بے چینی اور گھبراہٹ کے دورے پڑتے تھے۔

’میرے خاندان کے لیے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ دوست آتے اور مجھے انتہائی خراب حالت میں دیکھتے تھے۔‘

ان لوگوں میں سے ایک نکولا براؤن تھیں، جو 20 برس سے ان کی دوست ہیں۔

لاؤری سے ملاقات پر نکولا ان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئیں۔

نکولا یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’میں کمرے میں داخل ہوئی تو لاؤری ایک بچے کی طرح حرکتیں کر رہی تھی۔‘

’وہ فرش پر گھٹنوں کے بل چل رہی تھیں، پردے کے پیچھے چھپ رہی تھیں، اپنے والد کی گود میں ایسے بیٹھی تھیں جیسے ان کی عمر پانچ سال ہو۔‘

نکولا بتاتی ہیں کہ ملاقات کے اختتام پر لاؤری نے انھیں برا بھلا اور دوبارہ نہ آنے کو کہا۔

بعد میں لاؤری نے انھیں ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ’ملاقات کے لیے بہت شکریہ۔ آپ آج رات مجھے خبروں میں دیکھیں گی۔ پولیس میرے پیچھے ہے۔‘

نکولا نے کہا کہ یہ خوفناک اور غیر یقینی کا وقت تھا۔

’مجھے یاد ہے کہ میں سوچ رہی تھی کہ کیا لاؤری اب ایسی ہی ہیں؟ کیا ہم کبھی اپنی پرانی لاؤری کو دوبارہ دیکھ سکیں گے؟‘

اس کے بعد لاؤری کی مکمل صحت کی بحالی ایک طویل سفر ثابت ہوئی۔

ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی لاؤری کی حالت بہت خراب رہی اور وہ اپنے والد کے ساتھ رہنے لگیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے بالکل اپنا آپ محسوس نہیں ہوتا تھا، میں بالکل پہلے جیسی نظر نہیں آتی تھی اور میرا کہیں باہر جانے کا دل نہیں کرتا تھا۔‘

اس کے بعد لاؤری نے آرٹ فاؤنڈیشن کورس مکمل کیا اور سنہ 2018 تک خود کو اتنا مضبوط محسوس کرنے لگیں کہ کارڈف میں واپس اپنے گھر منتقل ہو سکیں، جہاں انھوں نے انٹیریئر ڈیزائننگ کی ڈگری حاصل کی۔

وہ بالآخر 2022 میں دوبارہ کام پر واپس چلی گئیں۔

لاؤری کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر ہیلی نے کہا کہ ان کے پورے پیشہ ورانہ کیریئر میں یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کیس پر برطانیہ اور امریکہ کے کئی ماہرین نے بھی غور کیا۔

’مجھے امید نہیں کہ اپنے کیریئر میں دوبارہ ایسا کوئی کیس دیکھوں گا اور ملک بھر میں متعدی امراض کے کئی کنسلٹنٹس ایسے ہوں گے جو کبھی ایسا کیس نہیں دیکھیں گے۔ یہ اتنا نایاب ہے۔‘

برسوں کی مشکلات کے بعد اب لاؤری کے دماغ میں موجود کیڑے کیلسیفائی ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میرے دماغ سے انھیں نکالنے کے لیے کبھی کوئی سرجری نہیں ہوئی۔ ’بظاہر وہ آہستہ آہستہ مر جاتے ہیں اور پھر کیلسیفائی ہو جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر ہیلی نے کہا کہ لاؤری کو ایسا علاج دیا گیا تھا جس نے ’تمام انڈوں کو ختم کر دیا۔‘

2017 کے بعد سے انھیں کوئی دورہ نہیں پڑا لیکن وہ زندگی بھر مرگی کی دوا استعمال کرتی رہیں گی۔

لاؤری کہتی ہیں کہ وہ پُرعزم ہیں کہ ان کے اس تجربے سے کوئی مثبت نتیجہ نکلے۔

انھوں نے کہا کہ ’اب میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں اور اس بیماری کے بارے میں آگاہی پھیلانا چاہتی ہوں اور اس سے کوئی مثبت کام کرنا چاہتی ہوں۔‘

’آپ نہیں جانتے کہ اگلا موڑ کیا لے کر آئے گا۔ میں زندہ اور صحت مند ہونے پر خوش ہوں اور اس نعمت کو کبھی معمولی نہیں سمجھتی۔‘