آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اجے دیوگن کی فلم ’چوہان‘ کا ٹریلر اور کشمیریوں کے ہرے ہوتے زخم: ’کاش اُس دن میں مر گیا ہوتا، اس نے میری زندگی برباد کر دی‘
- مصنف, غافرہ قادر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
وہ نومبر 2018 کی ایک سرد دوپہر تھی جب 18 ماہ کی ہبہ جان اپنی والدہ کی گود میں گھر کے اندر بیٹھی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع شوپیاں کے علاقے کپران میں احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔
جیسے ہی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں اور آنسو گیس کا دھواں گھر کے اندر داخل ہوا، تو ننّھی ہبہ کو سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی۔ ہبہ کی والدہ نے تازہ ہوا کے لیے گھر کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ باہر پیلٹ گن سے چلائی گئی گولی گھر کا دروازے کو چیرتے ہوئے اندر آئی اور اس سے نِکلنے والے دھات کے چھروں نے ہبہ کی دائیں آنکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے دھاتی ذرات تو نکال دیے، لیکن وہ یہ یقین دہانی نہ کروا سکے کہ ہبہ کبھی دوبارہ مکمل طور پر دیکھ بھی پائیں گی یا نہیں۔
ہبہ کی آنکھ پر لپٹی پٹیوں والی تصاویر پر مبنی رپورٹس دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر نشر ہوئیں اور وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اُس وقت جاری ’پیلٹ گن بحران‘ کی سب سے نمایاں علامت بن کر سامنے آئیں۔
مگر اب تقریباً آٹھ برس بعد ہبہ اور سینکڑوں دیگر پیلٹ گن متاثرین کی تصاویر، ایک بار پھر کشمیر میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ لیکن اس بار یہ کسی احتجاج یا فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بالی وڈ فلم ’چوہان‘ کا حال ہی میں ریلیز ہونے والا ٹیزر ہے۔
بالی وڈ اداکار اجے دیوگن کی نئی فلم ’چوہان‘ کا ٹیزر گذشتہ ماہ کے اختتام پر جاری ہوا تھا جس کے بعد کشمیر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
اجے دیوگن کی فلم کے ٹیزر میں آخر ایسا ہے کیا؟
’چوک پر300 لڑکے تھے میجر، مگر گھر صرف 270 پہنچے۔ 30 لڑکے کم ہیں۔‘
اس کے بعد اجے دیوگن کی آواز آتی ہے جو کہتے ہیں کہ ’غلطی ہماری نہیں تھی، آرڈرز اُوپر سے آئے تھے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے۔ مگر سامنے والا سیدھا پتھر ہی اُٹھا لے، تو جواب کیا؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ وہ ڈائیلاگز ہیں کہ جن سے اِس فلم کے ٹیزر کا آغاز ہوتا ہے۔
دو منٹ، 24 سیکنڈ کے اس ٹیزر میں اجے دیوگن کا کردار، ہجوم کو قابو میں کرنے کے مختلف طریقوں کو غیر مؤثر قرار دیتا ہے۔ اس میں وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’آنسو گیس کو آن لائن خریدے گئے ماسک سے بے اثر کیا جا سکتا ہے، واٹر کینن کا اثر عارضی ہوتا ہے، جبکہ پیلٹ گن صرف ’محدود نقصان‘ پہنچاتی ہے۔‘
کشمیر کے بہت سے لوگوں کے لیے یہاں استعمال کیے گئے یہ الفاظ کہ ’پیلٹ گن صرف محدود نقصان ہی پہنچاتی ہے‘ غم و غصے کو جنم دے رہی ہے۔ اور ماضی میں سکیورٹی فورسز کی پیلٹ گنز کا نشانہ بننے والے افراد کے پُرانے زخموں پھر سے ہرے ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2010 میں کشمیر میں پیلٹ گنز کو مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا اور ابتدا میں حکام نے اسے ’غیر مہلک‘ قرار دیا تھا۔ تاہم اِس کے استعمال کے نتیجے میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، بینائی سے محروم ہوئے یا مستقل معذوری کا شکار ہوئے۔
12 بور پمپ ایکشن شاٹ گن کے ایک کارتوس سے سینکڑوں باریک دھاتی ذرات نکلتے ہیں جو وسیع علاقے میں بے ترتیب انداز میں پھیل جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، ڈاکٹروں اور حتیٰ کہ بعض پولیس افسران نے بھی اعتراف کیا تھا کہ فائر کے بعد ان ذرات کو کسی خاص سمت میں محدود رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
’اس میں کچھ بھی محدود نہیں‘
پیلٹ گن کے متاثرین میں انشا مشتاق لون بھی شامل ہیں۔
انشا جولائی 2016 میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران 14 برس کی عمر میں پیلٹ گن کا نشانہ بنی تھیں۔
برہان وانی کی موت کے تین روز بعد انشا اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانک کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھیں کہ علاقے میں ہو کیا رہا ہے۔ تاہم اُن کے مطابق انھیں کیا خبر تھی کہ کھڑکی سے باہر جھانکنے کی انھیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ چند ہی لمحوں بعد درجنوں پیلٹس کے ٹکڑے اُن کے چہرے میں پیوست ہو گئے۔
سو سے زائد دھاتی ذرات اُن کے جسم اور آنکھوں میں پیوست ہوئے، جس کے نتیجے میں اُن کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے اور جب وہ ہسپتال میں ہوش میں آئیں تو اُن کی دونوں آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیش آنے والے متعدد واقعات کے پس منظر میں اجے دیوگن کی اس فلم کے ٹیزر میں پیلٹ گن کے اثرات کو معمولی اور محدود دکھائے جانے پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
مقامی کشمیری نوجوان عمر مختار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم میں سے جن لوگوں نے 2017 کے ہولناک واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، اُن کے لیے ’محدود نقصان‘ کے الفاظ صرف جھوٹ نہیں بلکہ پوری نسل کو اس کی وجہ سے پہنچنے والے صدمے کا مذاق ہے۔‘
’مجھے یہ جاننے کے لیے کسی فلمی سکرپٹ کی ضرورت نہیں کہ پیلٹ گنز کیا کرتی ہیں۔ میں نے اس کی حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔‘
ایک اور کشمیری نوجوان عمیر اشرف نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اُس دور کا تشدد صرف سڑکوں تک محدود نہیں تھا بلکہ ہسپتالوں تک بھی پہنچ گیا تھا۔ ہسپتالوں کے وارڈز میں آنسو گیس اِتنی بھر جاتی تھی کہ مریض بھی شدید متاثر ہوتے تھے۔ یہ کسی بھی طرح ’محدود نقصان‘ نہیں تھا بلکہ ایک انسانی المیہ تھا۔‘
فلم کے ٹیزر پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’جب بالی وڈ ان واقعات کو غیر اہم بنا کر یا مسخ کر کے پیش کرتا ہے تو یہ متاثرین کے درد کو بڑھانے اور حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر سینیما ہماری کہانیاں دیانت داری سے بیان نہیں کر سکتا تو کم از کم ہمارے زخموں کو تفریح کا ذریعہ نہ بنائے اور ان پر نمک پاشی سے گریز کرے۔‘
سوشل میڈیا پر نہ صرف کشمیریوں بلکہ مختلف شعبے ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی اس ٹیزر پر مایوسی اور ناراضی کا اظہار کیا۔
’دی ہندو‘ کی نائب مدیر وجیتا سنگھ نے اس فلم پر سوال اٹھاتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’پٹھان سے کہنا چوہان آ رہا ہے، مگر کشمیری تو پٹھان نہیں ہیں۔‘
انھوں نے بی جے پی کی دوہری پالیسی پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ ’یہی بی جے پی حکومت اُن نوجوانوں کے لیے عام معافی کا پیکج بھی لے کر آئی تھی۔ اُس وقت عوامی رابطے اور اعتماد سازی کی کوششیں بھی کی گئی تھیں۔ پھر اس قسم کے پروپیگنڈے کا مقصد کیا ہے؟ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا، بہت سے لوگوں نے اپنی بینائی کھو دی اور حکومت نے سنہ 17-2016 کے بعد مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال سے متعلق اپنی حکمتِ عملی بھی تبدیل کی۔‘
’دی بھوٹانیز‘ اخبار کے مدیر تنزنگ لامسانگ نے ایکس پر لکھا کہ ’کشمیر کے کشیدہ حالات اور عسکریت پسندی جدید انڈین تاریخ کے سب سے المناک ابواب میں سے ایک ہے۔۔۔ پیلٹ گنز کے باعث 17 افراد جان سے گئے جبکہ 139 افراد جن میں بچے بھی شامل تھے اپنی بینائی سے محروم ہو گئے اور اجے دیوگن کہتے ہیں کہ آئیے اس پر ایک ایکشن فلم بناتے ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔‘
سرکاری اعداد و شمار ان زخموں کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں
انڈین پارلیمان میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2016 سے اگست 2017 کے درمیان 17 افراد پیلٹ گن سے لگنے والے زخموں کے باعث ہلاک ہوئے۔ جموں و کشمیر سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق صرف سنہ 2016 کے دوران 1726 افراد پیلٹ گنز سے زخمی ہوئے۔
جبکہ سنہ 2018 میں اُس وقت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ جولائی سنہ 2016 سے فروری سنہ 2017 کے درمیان 6221 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے جن میں سے 728 افراد کی آنکھیں متاثر ہوئیں۔
طبی مطالعات کے مطابق ان زخموں سے ہونے والا نقصان ’وسیع اور اکثر ناقابلِ تلافی‘ ہوتا ہے۔
انڈین جرنل آف آپتھلمولوجی میں شائع ایک تحقیق میں سنہ 2016 کے مظاہروں کے بعد سرینگر کے ایک ہسپتال میں داخل ہونے والے 777 مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے پایا کہ سرجری کے باوجود بہت سے مریضوں کی بینائی بحال نہ ہو سکی۔
تحقیق میں شامل نصف سے زیادہ مریضوں کی عمر 20 سے 29 سال کے درمیان تھی جبکہ ایک تہائی سے زیادہ 10 سے 19 سال کے لڑکے تھے۔
یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے چھ سال تک کے بچوں میں بھی پیلٹ لگنے سے آنے والے زخموں کے واقعات ریکارڈ کیے جبکہ زخمی بچوں کی تصاویر کشمیر کی بے چینی کی علامت بن گئیں۔
زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئی
پیلٹ گن کا نشانہ بننے والے نوجوان امیر ڈار کے لیے اس کے اثرات آج بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔
جولائی 2016 میں برہان وانی کے جنازے سے واپسی کے دوران پیلٹ ان کی دونوں آنکھوں میں لگے۔ ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو گئی جبکہ دوسری آنکھ کی روشنی بھی بہت حد تک متاثر ہوئی۔
اپریل 2018 میں ارشد احمد خان سرینگر کے علاقے صورہ میں ایک دکان کے باہر بیٹھے تھے جب جھڑپوں کے دوران وہ زخمی ہوئے۔
انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’کاش میں اُس دن مر گیا ہوتا۔ اس نے میری زندگی برباد کر دی۔‘
پیلٹس نے اُن کے آپٹک نرو (اعصاب بصری) کو نقصان پہنچایا جس کے باعث وہ مستقل نظر کی کمزوری کا شکار ہو گئے۔
ارشد خان کے مطابق پیلٹ گنز نے اُن کے خاندان کو بھی تباہ کر دیا کیونکہ اُن کی والدہ، جو مہینوں تک ان کی حالت کے باعث پریشان رہیں وہ برین ہیمرج کے باعث وفات پا گئیں اور اس کے تین ماہ بعد ان کے والد بھی وفات پا گئے۔
انھوں نے کہا کہ ’انسان ایک بار مرتا ہے، لیکن ایسا واقعہ آپ کو ہر روز مارتا ہے۔‘
بعض لوگ آج بھی اپنے جسم میں پیوست دھاتی ذرات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
سیاسی ردِعمل
اجے دیوگن کی فلم کے ٹیزر پر صرف کشمیری سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ہی نہیں بلکہ دیگر حلقوں نے بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
سرینگر سے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ ٹیزر اُن کشمیریوں کے لیے انتہائی پریشان کن‘ ہے جنھوں نے وہ دور اپنی آنکھوں سے دیکھا، جب پیلٹ گنز درد اور ناقابلِ تلافی نقصان کی علامت بن گئی تھیں۔
دوسری جانب راجپوت تنظیم شتریہ پریشد نے فلم کے عنوان اور چوہان نام کے استعمال پر اعتراض اٹھایا ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم نیرج یادو اور اجے دیوگن کی آنے والی فلم چوہان کی جانب سے چوہان قبیلے کے نام کو معاصر فرقہ وارانہ سیاست کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’راجپوت تاریخ کوئی سیاسی حربہ نہیں ہے۔ چوہانوں کی میراث راجپوت تاریخ سے تعلق رکھتی ہے، نہ کہ انتخابی بیان بازیوں یا بیرونی عناصر کے پیدا کردہ مصنوعی تنازعات سے۔ ہم نظریاتی مقاصد کے لیے راجپوت شناخت کو ہتھیار بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔‘
بعض حلقوں نے ٹیزر کا خیر مقدم بھی کیا ہے اور سینیئر اداکار امیتابھ بچن نے بھی آن لائن اس کی تعریف کی ہے۔
سنہ 2016 سے 2018 کے دوران سرینگر میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ پیلٹ سے زخمی ہونے والے بیشتر افراد شدید ذہنی مسائل، بشمول ڈپریشن، کا شکار ہوئے۔
گذشتہ سال 2025 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق نے متاثرین کی طویل المدتی ذہنی اذیت، جذباتی دباؤ، تعلیم میں رکاوٹ اور ذاتی شناخت میں تبدیلیوں کو دستاویز کیا۔
فلم کے ٹریلر پر اٹھنے والے تنازعے سے قطع نظر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہبہ جان اور انشاء مشتاق سمیت سینکڑوں متاثرین آج بھی بینائی سے محروم ہیں اور جسم میں پیوست دھاتی ذرات اور ذہنی صدمے کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ایسے میں یہ معاملہ محض ایک فلمی مکالمہ نہیں رہتا بلکہ اُن تکالیف کی نفی محسوس ہوتا ہے جنھیں وہ ہر روز جھیلتے ہیں۔