آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے ساتھ پیش رفت مثبت، قطر میں حالیہ ملاقاتیں بھی اچھی رہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات میں پیش رفت ’مثبت‘ ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کمی کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی خطرے کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
  • ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان پر حملوں کے حوالے سے انڈیا کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کے خلاف اس کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔' دوسری جانب پاکستان اور انڈیا نے قونصلر رسائی کے دوطرفہ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کر لیا ہے۔
  • عبوری معاہدے کو تحفظ دیا جائے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جائے: چین کا امریکہ اور ایران سے مطالبہ
  • امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری، تہران کے عوامی بیانات ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ ہیں: جے ڈی وینس

لائیو کوریج

  1. کالام کی سیف اللہ جھیل میں کشتی حادثہ، چھ افراد ہلاک: ریسکیو 1122

    سوات کے علاقے کالام کی سیف اللہ جھیل میں سیاحوں سے بھری کشتی کو حادثہ پیش آگیا ہے۔ ریسکیو 1122 نے اس حادثے میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے تحت کشتی میں سوار سیاحوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو ڈی سی سہیل خان نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ افراد کی لاشوں کو سول ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سہیل خان نے مزید بتایا کہ ’ ان کے مطابق جھیل سیف اللہ پر اکثر سیاح اس موسم میں گھومنے آتے ہیں تاہم یہاں سیکشن 144 نافذ تھا اور اس دوران اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ خود اب کالام ہسپتال جا رہے ہیں جہاں معلوم ہو سکے گا کہ کل کتنا نقصان ہوا ہے اور کشتی میں سوار افراد کی تعداد کتنی تھی۔

    ریسکیو 1122 کے بیان کے مطابق سوات کے کنٹرول روم کو سیف اللہ جھیل کالام میں کشتی حادثے کی اطلاع موصول ہونے پر امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوع کی جانب روانہ کر دی گئیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کالام کشتی حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اپنے بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ ادارے لاپتہ افراد کی تلاش تک سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھیں جبکہ انھوں نے سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات اور کشتی رانی کے قواعد پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

  2. ایران کے ساتھ پیش رفت مثبت انداز میں جاری ہے: ٹرمپ کی صحافیوں سے گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات میں پیش رفت ’مثبت‘ ہے جبکہ قطر میں ہونے والی حالیہ ملاقاتیں بھی اچھی رہیں۔

    بدھ کو نارتھ ڈکوٹا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کمی کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان کافی اچھی ملاقاتیں ہوئیں تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران پر دباؤ بھی ڈالا لیکن اس کے باوجود بات چیت کا عمل جاری ہے۔

    دوسری جانب ایران ماضی میں کئی بار اس بات پر زور دے چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہیں جن میں قطر اور پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

  3. ایران: سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا آیت اللہ خامنہ ای کے ’خون کا بدلہ‘ لینے کا اعلان

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے ایک بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ’خون کا بدلہ‘ لینے کا اعلان کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کے میڈیا نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محمد باقر ذولقدر کے دستخط سے ایک پیغام شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ’خون کا بدلہ‘ ان کے قاتلوں سے ضرور لیا جائے گا۔

    محمد باقر کا یہ پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے رہبراعلیٰ خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے کے پہلے دن مارے گئے تھے۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے کچھ دیگر افراد کے ہمراہ ایران کے کئی دیگر اہم عہدیدار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات 4 سے 8 جولائی تک تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہونے والی ہیں جبکہ عراق کے شہروں بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں بھی سوگ کی یہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

  4. اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان پر عراقچی کا ردعمل: ’ایرانی قیادت کو دی گئی دھمکی کا جواب دیا جائے گا‘

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی خطرے کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

    ان کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیانات کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تو اسرائیل ’طاقت کے ساتھ‘ جواب دے گا۔

    اس بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیلی فوج ایران کے خلاف آزادانہ کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

    عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مندرجات ’بالکل واضح‘ ہیں اور سب اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی صدر نے اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو اس فریم ورک کا پابند رکھے گا تاہم اگر اسرائیل اس سے انحراف کرتا ہے تو ایران جواب دے گا۔

  5. میزائل اور ڈرون پروگرام ’قومی سلامتی کی سرخ لکیر ہیں: ایران کے قائم مقام وزیر دفاع کا انتباہ

    ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، خصوصاً میزائل اور ڈرون پروگرام، ’قومی سلامتی کی سرخ لکیر‘ ہیں اور اس معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

    بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ماجد ابن الرضا نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ حالیہ اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے مختلف پہلوؤں اور نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

    ان کے مطابق اس موقع پر زور دیا گیا کہ ایران کا دفاع، میزائل اور ڈرون طاقت قومی سلامتی کی سرخ لکیر ہے اور یہ معاملہ کسی صورت مذاکرات کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی ان صلاحیتوں کو مقامی وسائل اور تکنیکی مہارت کے ذریعے مزید مضبوط بناتا رہے گا۔

  6. پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور انڈیا نے قونصلر رسائی کے دوطرفہ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کر لیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ سفارتی ذرائع کے ذریعے یکم جولائی کو کیا گیا۔

    بیان کے مطابق ’پاکستان نے اسلام آباد میں انڈیا کے ہائی کمیشن کو 250 انڈین قیدیوں کی فہرست فراہم کی جن میں 52 عام شہری اور 198 ماہی گیر شامل ہیں۔‘

    دوسری جانب انڈیا نے 439 (ممکنہ) پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کی، جن میں 386 شہری اور 53 ماہی گیر بتائے جا رہے ہیں، جو انڈیا کی جیلوں میں قید ہیں۔

    یاد رہے کہ 21 مئی 2008 کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایسی فہرستیں ایک دوسرے کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

    بیان کے مطابق پاکستان نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ ایسے 97 پاکستانی قیدیوں کو رہا کر کے وطن واپس بھیجے جو اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں اور جن کی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں 64 شہری اور 33 ماہی گیر شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ زیر حراست تمام پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ان قیدیوں کو جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ ان کی شہریت کی بروقت تصدیق ممکن ہو سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جلد وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

  7. آبنائے ہرمز مزید آٹھ دن ’جنگی آپریشنز زون‘ رہے گی: شپنگ یونینز اور کمپنیوں کا اعلان

    جہاز رانی سے متعلق یونینوں اور کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کم از کم اگلے آٹھ دن تک ’جنگی آپریشنز زون‘ تصور کیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود دو بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق آبنائے ہرمز کم از کم نو جولائی تک ’جنگی آپریشنز زون‘ رہے گی، جبکہ صورتحال کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن اور جہاز مالکان کی نمائندہ تنظیم جوائنٹ نیگوشیئنگ گروپ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’انسانی زندگی کو درپیش سنگین اور مسلسل خطرات اور خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال‘ کے پیش نظر کیا گیا۔

    بی بی سی فارسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق اگر گزشتہ جمعرات کے بعد دو مختلف دنوں میں بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنایا جاتا اور آمدورفت معمول کے مطابق رہتی تو اس ہفتے درجہ بندی پر نظرِ ثانی ممکن تھی۔

    یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کو پہلی بار پانچ مارچ کو جنگی آپریشن زون کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا جب توانائی بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    یہ درجہ بندی ان بحری جہازوں پر لاگو ہوتی ہے جن کے مالکان انٹرنیشنل بارگیننگ فورم کے لیبر معاہدوں کا حصہ ہیں، اور ایسے جہازوں کی تعداد دنیا بھر میں تقریباً 15 ہزار ہے۔

  8. پاکستان نے افغانستان میں جائز اہداف کو نشانہ بنایا، انڈیا کا الزام بے بنیاد ہے: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے اس بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ڈھانچوں کے خلاف پاکستان کے جائز، ہدفی اور متناسب اقدامات پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ انڈین وزارت خارجہ نے اتوار کی شب افغانستان پر کیے گئے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے حملوں کو ’کھلی جارحیت، افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے اور اپنی داخلی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کے لیے سرحد پار تشدد کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ انڈیا افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    بدھ کے روز جاری ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں انڈیا کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز بیان ایک ایسے ملک کی طرف سے سامنے آیا ہے جو ماضی میں اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت میں مداخلت کرتا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’ انڈیا غیر قانونی طور پراپنے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بھی دباتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ قراردادوں کے خلاف ہے۔‘

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی نہ صرف معاونت بلکہ سرپرستی بھی کرتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’انڈیا مسلسل خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف اس کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام مناسب اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔‘

    یاد رہے کہ 28 جون کی شب پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔

    پاکستانی دعووں کے برعکس افغان حکام اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کا کہنا ہے پاکستانی حملوں میں دو درجن سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔

  9. عبوری معاہدے کو تحفظ دیا جائے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جائے: چین کا امریکہ اور ایران سے مطالبہ

    چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران اپنے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کریں گے تاکہ مذاکرات کے اگلے مراحل کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے۔

    وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کے روز کہا کہ اس وقت ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ عبوری معاہدے کو تحفظ دیا جائے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جائے، مذاکرات کی رفتار برقرار رکھی جائے، اور ایک ایسے طویل المدتی حل کی جانب پیش قدمی کی جائے جس پر نہ صرف امریکہ اور ایران متفق ہوں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور عالمی برادری بھی اسے قبول کریں۔

    ایک حالیہ رپورٹ، جو مشاورتی ادارے ایشیا گروپ کی جانب سے جاری کی گئی، کے مطابق آبنائے ہرمز کے بحران سے ایشیا میں سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوا ہے، اور امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اور جغرافیائی سیاسی رجحانات سے بھی چین کو مزید فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

  10. آبنائے ہرمز میں نامزد راستے سے ہٹ کر چلنے والا کنٹینر جہاز پھنس گیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک غیر ملکی کنٹینر جہاز آبنائے ہرمز میں اس وقت ریت میں دھنس گیا جب وہ ایرانی حکام کی طرف سے مقرر کردہ بحری راستے سے ہٹ کر کم گہرے پانیوں میں داخل ہو گیا۔

    رپورٹ میں پاسدارانِ انقلاب کی اس تنبیہہ کو دہرایا گیا کہ جہازوں کو صرف ایران کے جزیرے لارک کے جنوب میں واقع مخصوص بحری راہداری سے ہی گزرنا چاہیے، جسے تہران آبنائے ہرمز سے آنے جانے کا واحد منظور شدہ راستہ قرار دیتا ہے۔

    حالیہ مہینوں میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں نے خلیجی علاقے میں معمول کے مطابق بحری تجارت کی بحالی کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، حالانکہ امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد شپنگ سرگرمیوں میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

  11. میناب سکول پر مہلک حملہ کبھی بھلایا نہیں جائے گا: ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر

    ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر علی بحرینی نے کہا ہے کہ ایران اس حملے کو دنیا کی یادداشت سے محو نہیں ہونے دے گا۔ انھوں نے یہ بات حملے کے متاثرین اور عینی شاہدین کے ساتھ ایک ورچوئل ملاقات کے دوران کہی۔

    28 فروری کو ہونے والے اس میزائل حملے میں، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، کم از کم 168 بچے اور اساتذہ ہلاک ہوئے۔ متاثرین میں زیادہ تر کم عمر لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرینی نے کہا کہ ’انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کی تکالیف اور شہریوں کے خلاف جرائم وقت کے ساتھ فراموش نہ ہوں۔ آج کوئی ایسا ملک نہیں جو اس حملے کی مجرمانہ نوعیت سے ناواقف ہو یا میناب سکول کا نام نہ جانتا ہو۔‘

    امریکہ اور اسرائیل نے اس سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بحرینی کا کہنا تھا کہ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حملے کی ذمہ داری حملہ آور ہونے کے ناتے امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔‘

  12. اسرائیل پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کرے گا: وزیر توانائی و انفراسٹرکچر ایلی کوہن

    اسرائیل کے وزیر برائے توانائی و انفراسٹرکچر ایلی کوہن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کا کنٹرول مسلسل بڑھتا رہے گا یہاں تک کہ یہ 100 فیصد تک پہنچ جائے۔

    گالی اسرائیل ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کو ’ایک ملی میٹر بھی سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا‘۔

    ان کے مطابق دو ماہ قبل اسرائیل کا کنٹرول تقریباً 53 فیصد تھا۔ ایک ماہ قبل یہ بڑھ کر 60 فیصد ہو گیا۔ جبکہ اب یہ تقریباً 70 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی پالیسی کے تحت اس کنٹرول میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

  13. اسلحہ رکھنے کا حق اندرونی معاملہ ہے اور یہ لبنان کی ضرورت بھی ہے: لبنانی عہدیدار ابراہیم کنعان

    لبنان کی پارلیمانی فنانس و بجٹ کمیٹی کے سربراہ ابراہیم کنعان نے صدر جوزف عون سے ملاقات کی، جس میں واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی اور آئندہ حکومتی حکمتِ عملی پر بات چیت کی گئی۔

    لبنانی صدراتی دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کنعان کے حوالے سے کہا کہ ’ریاست کا اسلحہ رکھنے کا حق ایک لبنانی معاملہ ہے اور خصوصاً جنگ کے بعد کی صورتحال میں لبنان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔‘

    ابراہیم کنعان نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے بعد صدر کے اہداف کے لیے ان کا یقین اور وابستگی مزید مضبوط ہوئی ہے، جن میں سرفہرست بین الاقوامی سرحدوں کے مطابق پورے علاقے کی آزادی، بے گھر افراد کی واپسی، اور پھر تعمیرِ نو شامل ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’قومی اتحاد بنیاد ہے، آج اسے کمزور کرنا صرف تقسیم اور قبضے کو مزید تقویت دے گا اور ملک کی تباہی کا سبب بنے گا۔‘

  14. حالیہ جنگ کے دوران ایران میں 44 سائنسی مراکز کو نقصان پہنچا: رپورٹ

    وزارتِ سائنس کے پارلیمانی امور، قانونی و بلز سینٹر کے سربراہ افشین صفہان نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران ملک بھر میں 44 سائنسی مراکز کو نقصان پہنچا۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک حتمی رپورٹ، جو ایرانی حکومت کو بھی فراہم کی گئی ہے، کے مطابق تعلیمی و سائنسی مراکز کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 700 سے 800 ملین ڈالر سے زائد کا لگایا گیا ہے۔

    حالیہ جنگ کے دوران ایران کے بعض تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔

    اسی طرح پاسچر انسٹیٹیوٹ کی مرکزی عمارت کے کچھ حصوں کی تباہی نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔

  15. آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بدستور جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے: میری ٹائم کمپنی

    ونڈورڈ نامی میری ٹائم اے آئی کمپنی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر بحالی ابھی بھی ممکن نہیں بنائی جا سکی ہے۔

    کمپنی نے کہا کہ 29 جون کو آبنائے ہرمز میں ٹریفک ’جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم‘ رہی، جہاں جہازوں کی آمدورفت محدود اور مشتبہ سرگرمیاں دیکھی گئیں۔

    کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ متعدد پابندیوں کا شکار آئل ٹینکر گزرتے رہے، جن میں ایک اور ایرانی جہاز بھی شامل تھا جو ایک ہفتے میں دوسری بار جعلی یورپی جھنڈا لہراتا ہوا پایا گیا۔

    مزید کہا گیا کہ ’فی الحال صرف امریکی مدد سے چلنے والا جنوبی راستہ، جسے ‘پروجیکٹ فریڈم’ کہا جاتا ہے، محدود اور نسبتاً محفوظ گزرگاہ فراہم کر رہا ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق 16 کارگو جہاز آبنائے میں داخل ہو رہے تھے جبکہ 23 باہر جا رہے تھے۔

    اس سے پہلے خبر دی گئی تھی کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود ویک اینڈ پر بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت جاری رہی، حالانکہ جمعہ اور سنیچر کو دو جہازوں پر حملے ہوئے تھے۔ میری ٹریفک کے مطابق تین دنوں کے دوران 108 مصدقہ ٹرانزٹ ریکارڈ کیے گئے۔

  16. خامنہ ای کی آخری رسومات: 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان

    ایرانی حکومت نے منگل 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ اس تعطیل کا مقصد ’ایران کے سابق رہنما کے سوگواروں کی دارالحکومت سے واپسی کو آسان بنانا‘ ہے۔

    ان کے مطابق جمعرات کے روز پورے ایران میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔ علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات 8 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

    سرکاری شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقاریب چار سے آٹھ جولائی کے درمیان تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، جبکہ عراق کے شہروں بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں بھی تعزیتی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی رہائش گاہ اور دفتر، جسے ’بیتِ رہبری‘ کہا جاتا ہے، کو نشانہ بنایا گیا، تاہم تاحال ان کی تدفین نہیں کی گئی۔

  17. آبنائے ہرمز میں پھنسے 10 جہاز واپس نکل گئے: تھائی لینڈ

    تھائی لینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 میں سے 10 تھائی جھنڈا بردار یا تھائی کمپنیوں کے زیرِ انتظام جہاز بحفاظت اس آبی گزرگاہ سے نکل چکے ہیں۔

    وزارت نے بتایا کہ ایک جہاز ’ہتھایا ناری‘ اب بھی اس علاقے میں موجود ہے اور کارگو لوڈ ہونے کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد توقع ہے کہ وہ بھی جلد روانہ ہو جائے گا۔

  18. دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران نے 40 ملین بیرل تیل برآمد کیا: ایرانی سپیکر قالیباف

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد دو ہفتوں سے کم عرصے میں 40 ملین بیرل سے زائد تیل برآمد کیا ہے۔

    انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد بحری پابندیوں کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ سفارت کاری بھی ٹھوس نتائج دے سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی اصل ضمانت اس کی عسکری قوت ہے، اسی لیے اس کا میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتیں ’کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتیں‘۔

    قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ’یورینیم کی افزودگی ہمارا جائز اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت حتمی معاہدے کے لیے دی گئی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، اور مذاکرات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔

    اسی انٹرویو میں قالیباف نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کے نظم و نسق کے حوالے سے قانونی اور سروس سے متعلق تمام امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ شقوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، جن میں لبنان میں کشیدگی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات کو یقینی بنانا اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور لبنان نے ایک ’ڈی کنفلکشن سیل‘ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے، اور تہران اور واشنگٹن اس کے لیے اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ بیروت کی جانب سے بھی جلد نامزدگی متوقع ہے۔

    قالیباف کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا مقصد لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہے، جبکہ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا الگ فریم ورک اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا اور مفاہمتی یادداشت کے تحت دی گئی 60 روزہ رعایت صرف عارضی نوعیت کی ہے، جس کے تحت سمندری خدمات کی فیس میں چھوٹ دی گئی ہے۔

    ان کے بقول ’یہ ہمارے علاقائی پانی ہیں اور ہم امریکہ کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ یہ تاثر دے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو عسکری شکل دے دی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں اپنے اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘ اور آبنائے ہرمز کو ایک ایسی اہمیت کا حامل قرار دیا جو ان کے بقول ’ہماری سب سے بڑی طاقت کا ذریعہ‘ ہے۔

  19. خلیج میں پھنسا جنوبی کوریا کا جہاز مرمت مکمل ہوتے ہی روانگی کے لیے تیار

    جنوبی کوریا کی وزارتِ سمندر و جہاز رانی کا کہنا ہے کہ کارگو جہاز ’نامو‘، جسے مئی میں ایک حملے میں نقصان پہنچا تھا، مرمت مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے باہر نکل جائے گا۔

    یہ بلک کیریئر جہاز، جسے ایچ ایم ایم کمپنی چلا رہی ہے، 28 فروری سے خلیج میں پھنسا ہوا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

    وزارت کے مطابق یہ جہاز اس وقت دبئی کی ایک بندرگاہ پر مرمت کے عمل سے گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ جولائی کے آخر تک آبنائے ہرمز سے نکل جائے گا۔ ایران نے اس جہاز کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، جبکہ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ یہ حتمی طور پر تعین نہیں کر سکا کہ حملے کا ذمہ دار کون تھا یا آیا یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں۔

    ’نامو‘ پر عملے کے 32 افراد سوار ہیں اور یہ ان دو جنوبی کوریائی جہازوں میں سے ایک ہے جو اب بھی آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ اب تک تقریباً 24 جہاز اس آبی گزرگاہ سے نکل چکے ہیں۔

  20. امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری ہیں: نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ ’فارسی طرزِ مذاکرات‘ ہے، جبکہ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔

    دی مائیکل نولز شو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو منگل کو نشر کیا گیا، جے ڈی وینس نے کہا’مقررہ مذاکرات ہونے تھے، دراصل تکنیکی نوعیت کے مذاکرات، جو پہلے سے جاری بات چیت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ یقینی طور پر یکم جولائی کو ہو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انھیں ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔

    ان کے بقول ’وہ کہتے ہیں کہ نہیں، امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے میں سمجھ نہیں پاتا۔‘

    وائٹ ہاؤس کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ روانہ ہوئے تھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی براہ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے مشاورت کا عمل جاری ہے۔