تاج محل کو مندر قرار دینے کی ایک اور کوشش، مگر تاریخی حقائق اور روایات کیا کہتی ہیں؟

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

تاج محل کا ذکر آتے ہی ذہن میں بلندو بالا مینار اور خوبصورت گنبد و محراب سے آراستہ سفید سنگ مرمر سے تراشی گئی ایک عمارت نظروں کے سامنے آجاتی ہے اور ساتھ ہی کچھ شاعروں کے حسین فقرے بھی یاد آنے لگتے ہیں۔

لیکن دہلی سے 150 میل کے فاصلے پر آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے تقریباً 400 سال سے پوری دنیا کے لیے ’محبت کی نشانی‘ تصور کیا جانے والا دنیا کا یہ نیا ساتواں عجوبہ آج کل ایک تنازعے کا شکار ہے۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں پہلے مندر ہوا کرتا تھا اور اس کے شواہد آج بھی اس کے تہہ خانوں میں پوشیدہ ہیں۔ اور اس کے لیے انھوں نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا تھا، جسے ضلعی عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد انھوں نے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

چنانچہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے تاج محل کا سروے کرائے جانے پر ایک عرضی کے جواب میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت اور محکمۂ آثار قدیمہ کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے اس معاملے پر ان کا مؤقف مانگا ہے۔

مورخین کا کہنا ہے کہ تاج محل کے حوالے سے سنہ 1965 سے پہلے تک کوئی تنازع نہیں تھا اور اس تاریخی عمارت کی تعمیر کے تمام شواہد محفوظ ہیں۔

ہم نے اس بارے میں تاریخ کی معروف سکالر روچیکا شرما سے بات کی۔

تاج محل کی تعمیر

مؤرخین کا کہنا ہے کہ جب سنہ 1631 میں مغل حکمراں شاہ جہاں کی پسندیدہ ملکہ ممتاز محل کی برہان پور میں وفات ہوئی تو انھوں نے ان کے لیے ایک یادگار بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس کے لیے انھوں نے برہان پور سے بہت دور اس وقت کے مغل پایہ تخت آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے ایک پر فضا جگہ کا انتخاب کیا۔

یہ جگہ شاہ جہاں کی سلطنت میں اہم منصب دار اور امبر کے راجہ جے سنگھ کی تھی، جو شاہ جہاں کے دادا اکبر کے معتمد خاص مان سنگھ کے پوتے تھے۔

شاہ جہاں کے دور کے مؤرخ عبدالحمید لاہوری نے اپنی کتاب ’بادشاہ نامہ‘ میں اس کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’روضہ منورہ (یعنی تاج محل) کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا ہے۔‘

اس کی تعمیر سنہ 1648 تک مکمل ہو چکی تھی لیکن اس کے نقش و نگار تزئین و آرائش اور ہشت بہشت باغوں میں بہتی نہروں کی تعمیر میں مزید پانچ سال لگے۔

روچیکا شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ راجہ جے سنگھ نے بادشاہ کی خواہش کے بعد اس جگہ کو مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن شاہ جہاں نے اسے قبول نہیں کیا اور اسی مالیت کی متبادل جگہ انھیں فراہم کروائی جس میں تقریباً دو سال لگ گئے۔

موجودہ تنازع سے قطع نظر تاج محل سے بہت سی ایسی کہانیاں بھی وابستہ ہیں جنھیں بہت سے لوگ سچ سمجھتے ہیں تاہم تاریخ میں ان کی صداقت کے شواہد نہیں ہیں۔

روچیکا شرما نے بتایا کہ اس ضمن میں دو کہانیاں خاص طور پر مشہور ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں لیکن وہ دلچسپی سے خالی بھی نہیں۔

ایک کہانی تو یہ ہے کہ شاہ جہاں نے تاج محل کے بنانے والے معماروں کے ہاتھ کٹوا دیے تاکہ ایسی کوئی دوسری عمارت تعمیر نہ کی جاسکے۔

ڈاکٹر روچیکا شرما نے کہا یہ کہانی جہاں ایک ظالمانہ تصویر پیش کرتی ہے وہیں یہ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ تاج محل ایک بے مثال اور بے نظیر عمارت ہے جس کی انفرادیت برقرار رہنی چاہیے۔

دوسری کہانی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بعض ہندو نواز حلقوں اور ویب سائٹس پر یہ کہانی گردش کرتی ہے کہ بادشاہ نے اس کی تعمیر پر اس قدر پیسے خرچ کیے کہ انھوں نے تمام صوبوں سے بہت زیادہ خراج وصول کیے، اس کی وجہ سے گجرات میں قحط پڑ گيا اور اس کی وجہ سے ہندوؤں کی موت ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ قحط سالی تو آئی تھی لیکن شاہ جہاں نے اس کے لیے مناسب انتظامات کیے تھے اور ہر کسی کو غلہ اور دوسری ضروری اشیا فراہم کی تھیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے سوال کیا کہ اگر قحط پڑا تھا تو اس نے چن چن کر ہندو کو تو نہیں مارا ہوگا اور مرنے والوں میں تو ہندو اور مسلمان سب ہی شامل ہوں گے۔ اس لیے یہ کہانی مذہبی منافرت کے لیے ہی پھیلائی جا رہی ہے۔

موجود تنازع کیا ہے؟

در اصل بی جے پی کے ایک رہنما نے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ تاج محل کا سروے کورایا جائے تاکہ یہ بات صاف ہو جائے کہ اس جگہ پر کبھی مندر ہوا کرتا تھا۔

اب ہائی کورٹ نے بی جے پی کی وفاقی حکومت اور محکمۂ آثار قدیمہ کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے کہ سروے کے مطالبے پر ان کا کیا مؤقف ہے۔ لیکن یہاں یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ تنازع سب سے پہلے کب سامنے آیا۔

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے سنہ 1965 میں پی این اوک نے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے ذکر کیا کہ یہ عمارت (تاج محل) چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی جو ایک راجپوت محل تھا، جسے شاہ جہاں نے تاج محل میں تبدیل کر دیا۔

جائلز ٹلٹسن جیسے مؤرخین نے اوک کے نظریے کو چیلنج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تاج محل جیسی ساخت والی عمارت تعمیر کرنے کے لیے درکار فنی مہارت اور تکنیک علم مغلوں سے پہلے کے ہندوستان میں موجود ہی نہیں تھا۔‘

ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق جب مؤرخین نے پی این اوک کے دعوے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو پھر انھوں نے 24 سال بعد ایک دوسری کتاب ’تاج محل: دی ٹرو سٹوری‘ لکھی، جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ 12ویں صدی میں بنایا گیا ایک مندر تھا جسے شاہ جہاں نے جوں کا توں تاج محل میں بدل دیا۔

در اصل پی این اوک کوئی تاریخ داں نہیں تھے بلکہ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے اور صحافت سے بھی کچھ تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دوسرے مفروضے کے مطابق تاج محل دراصل ابتدا یعنی سنہ 1155 عیسوی میں تعمیر کیا گیا ایک شیو مت سے متعلق مندر تھا، جسے جے سنگھ اول نے شاہ جہاں کو تحفے میں دیا اور شاہ جہاں نے بعد میں اسے ایک مقبرے میں تبدیل کر دیا۔

تاریخ دانوں نے پھر اس دعوے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عمارت کا طرزِ تعمیر واضح طور پر مغل دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں ایک ابھرا ہوا پینڈینٹیو گنبد، تیموری پِشتاق اور نہایت نفیس پیترا دورا یعنی پرچِن کاری کی آرائش موجود ہے، جبکہ یہ ایک جنت نما چار باغ یا ہشت بہشت کی ترتیب میں واقع ہے۔

ڈاکٹر روچیکا شرما نے بتایا کہ وہ اپنے دعوے میں اس قدر سنجیدہ تھے کہ وہ اس معاملے کو لے کر سنہ 2000 میں سپریم کورٹ پہنچ گئے، جہاں عدالت عظمی نے ان کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔

’اوک کے تخیل کو محض ایک من گھڑت کہانی سمجھ کر فراموش کر دینا چاہیے تھا‘

ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق جس بات کو اوک کے تخیل کی محض ایک من گھڑت کہانی سمجھ کر فراموش ہو جانا چاہیے تھا اسے ہندوتوا نواز نظریات رکھنے والے امر ناتھ مشرا، جو اس وقت ایودھیا سدبھاونا سمیتی کے سربراہ ہیں، نے مزید ہوا دی۔

انھوں نے سنہ 2005 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔ اس بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ تاج محل 1196 عیسوی میں چنڈیلا بادشاہ پرماردی نے تعمیر کروایا تھا۔

تاہم تاریخی شواہد کی کمی کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے اس درخواست کو بھی فوری طور پر مسترد کر دیا۔

ایسے بے بنیاد دعوؤں کا خاتمہ کرنے کے لیے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے سنہ 2017 میں ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ تاج محل میں کبھی کوئی مندر قائم تھا یا یہ عمارت کبھی مندر کے طور پر استعمال ہوئی تھی۔

ایسے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے نریندر مودی کی حکومت اور محکمۂ آثار قدیمہ کو جاری کیے جانے والے نوٹس پر ڈاکٹر روچیکا شرما نے یہ سوال اٹھایا کہ جب ایک بار اسے عدالت عالیہ نے پہلے ہی مسترد کر رکھا ہے اور سروے نے وضاحت دے رکھی ہے تو اسے پھر سے قبول کرنے کی کوئی وجہ ہی نظر نہیں آتی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سمجھ سے باہر ہے کہ آخر اس دوران کیا کچھ بدل گیا کہ عدالت نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے۔‘

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تاج محل کی بنیاد میں مندر کی باقیات موجود ہیں اس میں 22 کمرے ہیں جنھیں کھولا جانا چاہیے۔

اس کے متعلق ڈاکٹر روچیکا کہتی ہیں کہ تاج محل میں صرف ممتاز محل اور مغل بادشاہ شاہ جہاں ہی دفن نہیں بلکہ یہ ان کا خاندانی قبرستان ہے جہاں ان کے علاوہ اور بھی اہل خانہ دفن ہیں۔

ان کمروں کو بند کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ کمرے اس لیے بند ہیں کہ اگر کھولے جائیں گے تو بخارات کی وجہ سے تاج محل کی بنیاد کو نقصان پہنچے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر وہ کمرے کھولے بھی گئے تو وہاں دفن مردوں کے ڈھانچوں کے علاوہ اور کچھ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ وہاں کسی طرح کے مندر کے کوئی باقیات نہیں ہیں۔

یہ دعوے کیوں کیے جا رہے ہیں؟

یہ مضحکہ خیز دعوے آخر پیدا کیوں ہوئے؟ یہ دعویٰ کہ ہندوستان کی اسلامی یادگاریں دراصل تبدیل شدہ ’ہندو‘ عمارتیں ہیں، یا یہ کہ انھیں ’ہندو‘ تعمیراتی مواد سے بنایا گیا تھا، ہندوتوا کے اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت صرف فتوحات، قبضے اور ہندوؤں کی غلامی کا ایک دور تھا۔

اوک کا ’تاج محل دراصل تیجو مہالیہ ہے‘ والا دعویٰ اسی وسیع تر پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔ اوک نے اس نوعیت کے کئی دیگر دعوے بھی کیے۔ مثلاً یہ کہ مسیحیت در اصل ’کرشن نیتی‘ (ہندو دیوتا کرشن کی پالیسی) سے ماخوذ مذہب ہے، یا یہ کہ دہلی کا لال قلعہ دراصل ہندوؤں کا قلعہ ’لال کوٹ‘ تھا۔

ڈاکٹر روچیکا شرما کہتی ہیں کہ اوک نے ہم آواز الفاظ گھڑنے میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور وہ مصنوعی و من گھڑت پروپیگنڈے کو فروغ دینے میں بڑی ثابت قدمی دکھاتے رہے ہیں۔

تاہم ہندوتوا نظریات کے عام پیروکار، جو واٹس ایپ پر گردش کرنے والے ان پیغامات سے متاثر ہوتے ہیں جن میں ہندوؤں کی فیاضی کی تعریف اور اسلامی عدم برداشت پر تنقید کی جاتی ہے، وہ بھی اوک کے ان دعوؤں کو آسانی سے قبول کرنے میں دشواری محسوس کریں گے۔

عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون

انڈیا میں مذہبی عبادتگاہوں سے متعلق موجود قانون کہتا ہے کہ سنہ 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے وقت مذہبی عمارتوں کا جو کردار تھا وہ برقرار رہے گا لیکن ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق اس قانون کو بار بار پامال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں موجود 700 سال قدیم کمال مولا مسجد کو اب بھوج شالا مندر قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے سنبھل کی مسجد کے واقعے کا بھی ذکر کیا اور پوچھا کہ جب قانون موجود ہے تو پھر اس میں کسی قسم کی مداخلت کی کیا ضرورت ہے۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں تاریخ ایک مخصوص نظریے کے مطابق نئے سرے سے لکھنے کی کوشش کی جاری ہے اور اس ضمن میں ہمیں تاریخ کی کتابوں میں تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔

تنازعے اور کہانیوں سے ماورا تاج محل آج بھی دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے انڈیا کا سب سے پرکشش مقام ہے اور زیادہ تر ملکی سیاحوں کی بھی پہلی پسند ہے۔

ایسے موقع پر بالی وڈ کے معروف شاعر شکیل بدایونی کا یہ شعر نہایت برمحل معلوم ہوتا ہے:

اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے

ایسے میں تاج محل کے چاہنے والے یہ امید کر رہے ہوں گے یہ محبت کی نشانی محبت کی نشانی ہی بنی رہے۔