آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمے رائنا: سپریم کورٹ نے انڈین کامیڈین پر جرمانہ کیوں عائد کیا؟
- مصنف, سرواپریہ سانگوان
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا کے معروف سٹینڈ اَپ کامیڈین اور یوٹیوبر سمے رائنا ایک بار پھر تنازعے کا شکار ہو گئے ہیں۔
انڈیا کی سپریم کورٹ نے سمے رائنا کے ساتھ ان کے کامیڈین ساتھی وپل گوئل، بلراج گھئی، ونالی ٹھکر اور نشانت تنور پر بھی تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
عدالت کے مطابق ان افراد نے اپنے شوز میں معذور افراد کی شمولیت اور ان کی معاونت کے حوالے سے پہلے جاری کیے گئے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔
عدالت کا فیصلہ
یہ سزا چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے سنائی۔
عدالت نے کہا کہ سمے رائنا نے عدالت کی ہدایت کے باوجود اپنے شوز میں کسی معذور شخص کو مدعو نہیں کیا، حالانکہ انھیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ معذوریوں، خصوصاً سپائنل مسکیولر ایٹرافی (ایس ایم اے) کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے اور متاثرہ افراد کے علاج کے لیے فنڈز جمع کیے جا سکیں۔
تین رکنی بینچ نے کہا: ’ہمارے پاس یہ نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ سمے رائنا نے عدالت کو گمراہ کیا ہے اور عدالتی احکامات کی کھلے عام خلاف ورزی کی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس وجہ سے مزید سنگین ہو جاتا ہے کہ انھوں نے ایک حلف نامہ جمع کرانے کا دعویٰ کیا جبکہ ریکارڈ میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ یہ جرمانہ عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے عائد کا جا رہا ہے، اور چونکہ کوئی حلف نامہ موجود نہیں، اس لیے انھیں تین لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے پھر بھی تعمیل نہ کی تو ہم اس رقم میں ایک صفر مزید بڑھا دیں گے۔‘
چیف جسٹس سوریہ کانت نے عوامی شخصیات کی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’بطور فنکار آپ عوامی زندگی کا حصہ ہیں۔ عوامی زندگی میں عزت کسی سرمایہ کاری کی مانند ہوتی ہے۔ آپ دوسروں کو جتنی عزت دیتے ہیں، آپ کو اتنی ہی زیادہ عزت واپس ملتی ہے۔‘
مقدمے کا پس منظر
یہ مقدمہ کیور ایس ایم اے فاؤنڈیشن نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے دائر کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست میں آن لائن مواد کے ضابطے اور ان کامیڈینز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جن پر معذور افراد کا مذاق اڑانے کا الزام تھا۔
یہ تنازع سمے رائنا کے ایک آن لائن شو سے شروع ہوا، جہاں ایس ایم اے کے علاج کی انتہائی زیادہ لاگت کا مذاق اڑانے والے تبصرے کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ ایس ایم اے ایک جینیاتی بیماری ہے، جو شدید جسمانی معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور اس کے علاج کے لیے بعض اوقات کروڑوں روپے لگ جاتے ہیں اور اس کی انجیکشن انتہائی مہنگی ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ اس سے قبل رائنا کو ہدایت دے چکی تھی کہ وہ ایس ایم اے کے علاج کے لیے فنڈز جمع کریں، معذور افراد کو اپنے شوز میں مدعو کریں اور غیر مشروط معافی مانگیں۔
کیور ایس ایم اے فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش ہونے والی سینیئر وکیل اپراجیتا سنگھ کا کہنا ہے کہ رائنا کے تبصروں نے اس کے مریضوں کو نفسیاتی اور سماجی سطح پر نقصان پہنچایا، عوامی ہمدردی کو کمزور کیا اور فنڈ جمع کرنے کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
عدالت نے ایک موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا: ’اظہارِ رائے کی آزادی طنز و مزاح کے نام پر کمزور اور حساس طبقات کی تذلیل کرنے کا لائسنس نہیں ہو سکتی۔‘
اس حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سٹینڈ اَپ کامیڈین اور طنز نگار سنجے راجورا نے کہا: ’ہمارے معاشرے میں کمزوروں پر طنز کرنے اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنانے کی ایک بیماری سی موجود ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’غریب کا مذاق اڑانا اور کمزور لوگوں کا تمسخر اس معاشرے کی عادت بن چکی ہے اور جب ایسے لوگوں کو پکڑا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’یہ منصفانہ نہیں ہے۔‘ جو کچھ تم صدیوں سے کرتے آئے ہو، کیا وہ منصفانہ ہے؟‘
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ردعمل دیکھے جا سکتے ہیں۔
رجت جین نامی ایک ایکس صارف نے عدالت کی سماعت کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’سمے رائنا کو یہ ملک چھوڑ دینا چاہیے۔ مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت مخلوط حکومت کے تحت وہ سب سے پہلے اپنے وطن کشمیر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اب انھیں خود سے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔‘
فہد منور نامی ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’سمے رائنا پر سپریم کورٹ نے ایک بار پھر جرمانہ عائد کیا ہے۔ سمے مزاحیہ ہیں۔ لیکن شہرت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ بہرحال وہ معاشرے کا آئینہ ہیں۔‘
عدالت کی سابقہ مداخلتیں
یہ پہلا موقع نہیں کہ سپریم کورٹ نے سمے رائنا کی سرزنش کی ہو۔
اگست سنہ 2025 میں عدالت نے معذور افراد کا مذاق اڑانے پر جمع کرائی گئی ان کی معافی پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔
بنچ نے کہا تھا: ’معافی ہمیشہ اس بے عزتی کے تناسب سے ہونی چاہیے جو کی گئی ہو۔‘
جسٹس سوریہ کانت نے مزید خبردار کیا تھا: ’آج معاملہ معذور افراد کا ہے، کل خواتین کا ہو سکتا ہے، پھر بچوں کا، پھر بزرگ شہریوں کا۔ آخر یہ معاشرہ کس سمت میں جائے گا؟‘
سابقہ سماعتوں میں بھی عدالت نے ایس ایم اے کے علاج کی لاگت کے مبینہ مذاق پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب اس سے معذور افراد کی تضحیک ہوتی ہو تو اسے محض مزاح یا طنز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سمے رائنا کون ہیں؟
سمے رائنا 26 اکتوبر سنہ 1997 کو جموں میں ایک کشمیری پنڈت خاندان میں پیدا ہوئے۔
وہ سنہ 2019 میں کامکستان سیزن 2 کے مشترکہ فاتح بننے کے بعد شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
صرف 28 سال کی عمر میں وہ ایک معروف نام بن گئے۔ ان کے عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی وجوہات میں ان کا روزمرہ زندگی سے جڑا مزاح اور کووڈ-19 وبا کے دوران آن لائن شطرنج کو مقبول بنانے میں کردار شامل ہے۔
یوٹیوب پر ان کے ایک کروڑ سے زائد سبسکرائبرز ہیں، جس کی وجہ سے وہ انڈیا کے بااثر ترین ڈیجیٹل کامیڈی سٹارز میں شمار ہوتے ہیں۔
سنہ 2025 میں ان کا ملک گیر ٹور ’سٹل الائو اینڈ انفلٹرڈ‘ ان کے سابقہ تنازعات کے بعد واپسی کے طور پر دیکھا گیا، جس نے صرف تین ماہ میں یوٹیوب پر چھ کروڑ 80 لاکھ سے زائد ویوز حاصل کیے۔
دیگر تنازعات
سمے رائنا کا کریئر متعدد تنازعات کے سائے میں رہا ہے۔
فروری سنہ 2025 میں ان کے شو ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ کی ایک قسط، جس میں پوڈکاسٹر رنویر الٰہ آبادیہ شریک تھے، ایک متنازع تبصرے کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سمے رائنا اور رنویر الٰہ آبادیہ دونوں کو سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
ان تنازعات کے باوجود رائنا نے اپنے دورے جاری رکھے اور نیا مواد بھی تخلیق کرتے رہے، تاہم قانونی مسائل کا سایہ مسلسل ان کے ساتھ رہا۔ ان کے شو ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ کا دوسرا سیزن بھی جانچ پڑتال اور تنقید کے ماحول میں شروع کیا گیا۔