آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے فوجی افسران سمیت 24 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا؟
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو، سرینگر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کِشتواڑ کے اتھولی پولیس سٹیشن میں پیش آنے والے ایک غیر معمولی واقعے نے سیکورٹی فورسز کے درمیان اندرونی تال میل اور قانون کی بالادستی سے جڑے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کے روز انڈین فوج کی 17 راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر، ایک میجر اور ایک نائب صوبیدار سمیت درجنوں فوجی اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر (نمبر 17/2026) درج کی ہے۔
فوجی اہلکاروں پر الزام ہے کہ انھوں نے تھانے پر حملہ کر کے پولیس ملازمین پر تشدد کیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
ادھر جموں میں انڈین فوج کے ترجمان نے واقعے پر اعلیٰ سطح کی 'مشترکہ تحقیقات' کا اعلان کیا ہے۔ یہ تحقیقات پولیس اور فوجی افسران مل کر کریں گے۔
تھانے پر حملہ کیوں ہوا؟
پولیس کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق، یہ حملہ مبینہ طور پر ’پہلے سے منصوبہ بند‘ تھا۔
ضلع کے کجئی گاؤں میں واقع 17 راشٹریہ رائفلز کے کیمپ سے لگ بھگ 30 سے 40 فوجی اہلکار، جن کی قیادت اعلیٰ افسران کر رہے تھے، اتھولی تھانے کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔
عینی شاہدین اور ایف آئی آر کے متن کے مطابق، یہ اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں اور سروس ہتھیاروں سے لیس تھے۔
انھوں نے ’ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کئی پولیس ملازمین زخمی ہوئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے دوران تھانے میں موجود محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سینیئر افسر اور ان کے سکیورٹی عملے پر بھی مبینہ تشدد کیا گیا۔ جبکہ تھانے کے باہر کھڑی سرکاری گاڑیوں اور مین گیٹ کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس تصادم کی وجہ ’ایک معمولی تنازعہ تھا‘ جس میں مبینہ طور پر ’ایک فوجی گاڑی کو روکے جانے پر تلخی ہوئی۔‘
واقعے کے بعد انڈین فوج کے جموں میں مقیم ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے بیان جاری کیا ہے کہ معاملے کی اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور فوج قانونی عمل میں مکمل تعاون کرے گی۔
شوپیاں فائرنگ کیس، گاندربل تصادم، بڈگام اور کپواڑہ کے واقعات
کشمیر میں پولیس اور فوج یا نیم فوجی دستوں (سی آر پی ایف) کے درمیان تصادم کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں مقامی انتظامیہ یا پولیس اور فوج کے درمیان دائرہ اختیار اور اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آئی۔
شوپیاں فائرنگ کیس
جنوری 2018 میں شوپیاں کے گنوپورہ گاؤں میں پتھراؤ کرنے والے ہجوم پر فوج کی فائرنگ سے تین عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
جموں و کشمیر پولیس نے 10 گڑھوال رائفلز کے اہلکاروں اور میجر آدتیہ کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کی ایف آئی آر درج کی تھی۔
اس واقعے نے اس وقت کی پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت میں شدید سیاسی تنازع پیدا کر دیا تھا اور بعد میں سپریم کورٹ نے اس تحقیقات پر روک لگا دی تھی۔
گاندربل تصادم
سال 2017 میں گاندربل کے علاقے میں امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی کے دوران مقامی پولیس اہلکاروں اور فوج کے درمیان سڑک پر تنازع ہوا تھا۔
اس واقعے میں الزام تھا کہ فوجی اہلکاروں نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر کے پولیس اہلکاروں کو زد و کوب کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔
بڈگام اور کپواڑہ کے واقعات
وادی کے مختلف حصوں میں ماضی میں کئی مرتبہ ایسے واقعات دیکھے گئے جہاں تلاشی مہم یا ناکوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ کے دوران مقامی پولیس اور فوج کے نچلے رینک کے اہلکاروں کے درمیان تلخیاں پیدا ہوئیں، جنھیں بعد میں اعلیٰ حکام نے مداخلت کر کے رفع دفع کیا۔
فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟
کشمیر میں تعینات انسانی حقوق کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب بھی فوج یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کی، تو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) کے تحت حاصل استثنیٰ کی وجہ سے ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
افسپا کے تحت کسی بھی فوجی اہلکار پر عام عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے نئی دہلّی کی وزارتِ دفاع سے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے، جو کہ شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔
تاہم موجودہ کِشتواڑ واقعے کی نوعیت تھوڑی مختلف ہے کیونکہ یہاں متاثرہ فریق کوئی عام شہری نہیں بلکہ خود ریاست کی امن و امان نافذ کرنے والی ایجنسی یعنی پولیس ہے۔
انڈین قوانین کے تحت سرکاری ملازم پر دورانِ ڈیوٹی حملہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔