آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’20 لوگوں کو سردی سے ٹھٹھر کر مرتے دیکھا‘: یورپ جانے کی خواہش میں اپنے اعضا گنوانے والوں کے الزامات
- مصنف, مامون دُرانی
- عہدہ, بی بی سی افغان فارنزک
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’جب مجھے ہوش آیا تو میری دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئی تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھ اٹھائے، وہ ہلکے محسوس ہو رہے تھے، دونوں کاٹ دیے گئے تھے۔ میرا گلا بند ہو گیا اور میں بول نہیں سکا۔‘
13 سے 25 سال کی عمر کے درمیان ایک درجن افغان تارکین وطن نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کو وہ ان 50 افراد میں شامل تھے جنھیں ترک سرحدی محافظوں نے مارا پیٹا، کپڑے اُتارے اور اُنھیں برف میں چھوڑ دیا۔
ان 12 میں سے 11 افغان باشندے فراسٹ بائٹ کی وجہ سے اپنے اعضا سے محروم ہو گئے جن میں 13 سالہ عاصم بھی شامل ہیں۔
پانچ افغان باشندوں کا دعویٰ ہے کہ اُنھوں نے اپنے سامنے 20 افراد کو سردی سے ٹھٹھر کر مرتے دیکھا۔
اگرچہ ترکی کو دنیا میں بڑی تعداد میں تارکین وطن کی میزبانی پر بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے تاہم انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک نے متعدد افغان باشندوں کو مناسب جانچ پڑتال کے بغیر واپس بھیجا۔
ترکی کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کہ ملک کی سرحدی فورسز نے قومی اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے بنیادی انسانی اقدار اور وقار کا احترام کیا، جو ترک ثقافتی اصولوں کے مطابق ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ زیر حراست تارکین وطن کو خوراک، پانی اور طبی امداد سمیت ہر ضروری سہولت فراہم کی گئی۔
’ہمیں لکڑیاں اُٹھانے اور برف ہٹانے پر مجبور کیا گیا‘
رواں برس 10 سے 20 جنوری کے درمیان، جب درجہ حرارت منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، تقریباً 50 غیر رجسٹر افغان تارکین وطن کو مشرقی اناطولیہ کے شہر وان سے گرفتار کیا گیا، جو ایران کی سرحد کے قریب ترکی کا اہم شہر اور مہاجرین کی سمگلنگ کا مرکز ہے۔
21 سالہ شہسوار نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کہ شہر میں داخل ہوتے ہی انھیں گرفتار کر لیا گیا، جب سمگلروں نے انھیں چوتھی کوشش میں برف کے درمیان ایرانی سرحد پار کرائی۔
’ترک پولیس بہت غصے میں تھی، اُنھوں نے ہمیں قطار میں کھڑا کیا اور مارنا شروع کر دیا۔‘
شہسوار کہتے ہیں کہ ’شدید تشدد کے بعد ہمیں کئی راتوں تک ایک گودام میں رکھا گیا، جہاں ہم پر برف پڑ رہی تھی اور ہمیں دن میں صرف ایک بار پانی اور خشک روٹی دی جاتی تھی۔‘
ایک اور افغان باشندے 23 سالہ الوالدین نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کہ ’اُنھوں نے ہمیں کھانا نہیں دیا اور سخت مشقت کرنے پر مجبور کیا۔ ہمیں لکڑیاں اُٹھانی پڑتی تھیں اور برف ہٹانے کا کہا جاتا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کا اپنے خاندان یا اس سمگلر سے کوئی رابطہ نہیں تھا جس نے انھیں یورپ لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔
25 جنوری کو بی بی سی افغان فارنزک سے بات کرنے والے تقریباً تمام 12 افراد کا کہنا ہے کہ انھیں باہر قطار میں کھڑا کر کے لوہے کی سلاخوں سے مارا گیا۔
الوالدین کے مطابق ’ان کے کپڑے اتار دیے گئے، ہاتھ باندھ دیے گئے اور انھیں پیٹ کے بل ایک پہاڑی کی طرف رینگنے پر مجبور کیا گیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ترک سرحدی فورسز کی مار پیٹ کی وجہ سے بعض لوگوں کے سر پھٹ گئے تھے اور خون ان کے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔‘
شہسوار کے مطابق، کچھ افراد کو اتنا مارا گیا کہ وہ اپنے ہاتھ استعمال کرنے کے قابل نہ رہے۔
’انھوں نے ہمارے تمام کپڑے لے لیے، صرف ایک پتلون چھوڑ دی۔ اُنھوں نے ہمارے جوتے اور موزے بھی لے لیے، پھر ہمیں آٹھ، آٹھ کے گروہوں میں مختلف جگہوں پر ایران کی طرف چھوڑ دیا گیا۔‘
اس رات شدید برفانی طوفان تھا اور حدِ نگاہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔
اُن کے بقول راستے برف سے ڈھکے ہوئے تھے اور ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کس سمت جانا ہے یا اگر ہم وہیں رہے تو زندہ بچیں گے یا نہیں۔
بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ ان کے گروہ کا ایک لڑکا، دانیال، جو برف میں راستہ بھٹک گیا تھا، ہلاک ہو گیا۔
شہسوار خود، بھوک اور شدید سردی سے نڈھال ہو کر ایک بڑی چٹان کے پاس پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جہاں احمد اور عاصم، جن کے ہاتھ جم چکے تھے، ان کے ساتھ آ ملے۔
شہسوار بتاتے ہیں کہ ’صبح عاصم آگے بڑھ گیا لیکن ہم اتنے منجمد تھے کہ بول نہیں سکتے تھے۔ احمد میرے بازوؤں میں تھا اور تھوڑی دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کی سانس بند ہو چکی تھی۔‘
اگلے مہینے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں عاصم کو برف میں پایا گیا، وہ بھیگا ہوا تھا، فراسٹ بائٹ کا شکار تھا اور نامناسب لباس میں تھا۔
تاہم تارکین وطن کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں کیونکہ بی بی سی افغان فارنزک سے بات کرنے والے 12 افراد کے مطابق، ایران میں انھیں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا گیا۔
29 جنوری کو تہران میں افغان سفارت خانے نے کہا کہ اس نے ایران اور ترکی سرحد پر شدید سردی میں پھنسے افغان شہریوں کی شناخت اور صحت بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔
چار دن بعد انھیں زمینی راستے سے افغانستان کے صوبہ ہرات منتقل کیا گیا اور وہاں سے مزید طبی علاج کے لیے دارالحکومت کابل لے جایا گیا۔
لیکن تب تک، جیسا کہ 12 میں سے 11 کے ساتھ ہوا، شہسوار کے جسم کے وہ حصے جو فراسٹ بائٹ کا شکار ہوئے تھے سیاہ پڑنے لگے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیوں کو سیاہ ہوتے دیکھتے رہے اور ان کا پورا جسم کھجلی کا شکار ہو گیا۔
جب وہ کابل کے ہسپتال پہنچے تو ان کے والد اور بھائی نے ایک دستاویز پر دستخط کیے اور انھیں آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا، جہاں ان کی دونوں ٹانگیں اور ہاتھ کاٹ دیے گئے۔
عالمی ادارہ صحت اور برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق فوری طبی امداد فراسٹ بائٹ کا علاج کر سکتی ہے، لیکن ان بدقسمت 11 افراد کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی۔
’مہاجرین زیادہ خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں‘
وان بار ایسوسی ایشن کے انسانی حقوق مرکز کے پناہ گزین کمیشن کے سربراہ شفق بوزکُرت نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کہ ’انھیں ان الزامات کے حوالے سے کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں‘ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں تارکین وطن کو واپس بھیجنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ترکی میں مقیم کارکن ذاکرہ حکمت کا کہنا ہے کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان تارکین وطن سال میں کئی بار ایسی ہی کہانیاں سناتے رہے ہیں کیونکہ سرحدی نگرانی میں اضافے نے انھیں ملک میں داخلے کے لیے زیادہ خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بہار کے آنے اور برف پگھلنے کے بعد، ان افراد کی لاشیں مقامی لوگوں اور چرواہوں کو ملتی ہیں، جو پھر سکیورٹی فورسز کو اطلاع دیتے ہیں۔‘
وان میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن محمود کچن نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کہ جن پہاڑی دروں کے ذریعے یہ لوگ ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، یہ راستے اکثر مشکل موسمی حالات میں طے کیے جاتے ہیں اور اس میں شدید سردی، چوٹ اور سمگلروں کے ہاتھوں استحصال جیسے بڑے خطرات شامل ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ افغان شہریوں اور دیگر تارکین وطن کے متعدد کیسز پر کام کر چکے ہیں جنھوں نے بدسلوکی، سرحد سے واپس دھکیلنے، پناہ کے طریقہ کار تک رسائی سے انکار اور ایران-ترکی کے سرحدی علاقے خصوصاً وان صوبے اور اس کے اطراف میں جبری واپسی کے الزامات لگائے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھی اکتوبر 2021 اور نومبر 2022 کی رپورٹس میں افغان پناہ گزینوں کو مارنے، پناہ کے طریقہ کار تک رسائی سے انکار اور ترک فوجیوں کی جانب سے فوری طور پر ایران واپس دھکیلنے کے الزامات کا ذکر کیا۔
اسی طرح 2022 میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی افغان مردوں، خواتین اور بچوں کو غیر قانونی طور پر واپس بھیجے جانے کی اطلاع دی۔ اس کی رپورٹ (They don't treat us like humans) میں ایرانی اور ترک حکام کی جانب سے فائرنگ، حراست، تشدد اور دیگر بدسلوکی کے واقعات بھی درج ہیں۔
تاہم ترکی کی وزارتِِ خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی افغان فارنزک کو بتایا کہ ایسے بے بنیاد الزامات غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ترکی کی کامیاب کوششوں کی عکاسی نہیں کرتے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی کے باعث ترکی انسانی مرکزیت پر مبنی اور پائیدار نظام نافذ کرنا چاہتا ہے جو تہذیبی اقدار کے مطابق ہو اور سلامتی اور آزادی میں توازن پیدا کرے۔
اُن کے بقول اسی مقصد کے تحت ترکی بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے اُصولوں اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن رکھتے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مؤثر اقدامات کرتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ترکی ایران کے ساتھ اپنی 560 کلومیٹر طویل سرحد کی 24 گھنٹے نگرانی کرتا ہے، جدید نگرانی کے آلات استعمال کرتا اور تمام سرحدی واقعات کا ریکارڈ رکھتا ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی کے اقدامات اور کامیاب جدوجہد کی بدولت یورپ کی جانب غیر قانونی تارکین وطن کا بہاؤ تقریباً مکمل طور پر رُک گیا۔
اس تحریر کے لیے ایرانی حکام سے بھی مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا۔