16ویں صدی کے اخبارات ہمیں مغلیہ سلطنت کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟

Emperor Aurangzeb Carried on a Palanquin, circa 1775. Creator: Unknown.

،تصویر کا ذریعہHeritage Images via Getty Images

،تصویر کا کیپشناورنگزیب کے ابتدائی بیس سالہ دورِ حکومت کی آرکائیول معلومات کچھ حد تک نامکمل ہیں لیکن 1680 کی دہائی کے اوائل کے بعد محفوظ رہ جانے والا مواد حیرت انگیز ہے
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

جب یورپ اخبارات ایجاد کر رہا تھا، تو اُس وقت مغل ہندوستان کے پاس اپنا ایک باقاعدہ خبروں کا نظام موجود تھا۔

سولہویں صدی کے اواخر سے کاتب، کارکنان اور سیکریٹریوں کی ایک پوری فوج ’اخبارات‘ مرتب کرتی تھی، مختصر رپورٹیں جن میں درباری سازشیں، فوجی مہمات، تقرریاں، مالی امور اور افواہیں شامل ہوتی تھیں۔

یہ تحریریں فارسی زبان میں نازک سے کاغذ پر لکھی جاتی تھیں اور مغلیہ سلطنت کے اطلاعاتی نظام کی بنیاد تھیں: ایک ایسا نظام جو جزوی طور پر خفیہ معلومات کا خلاصہ، سرکاری مراسلہ اور خبرنامے جیسا تھا۔

روزانہ سینکڑوں یا شاید ہزاروں ایسے اخبارات شاہی دربار اور صوبائی مراکز کے درمیان گردش کرتے تھے اور اس وسیع سلطنت کو جوڑنے کا کام کرتے تھے، جو اپنے عروج پر برصغیر کے بڑے حصے پر حکمرانی کرتی تھی اور دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل تھی۔

ان میں سے بہت سے اخبارات کو درباری اہلکاروں کے سامنے بلند آواز سے پڑھا بھی جاتا تھا، جس کے ذریعے شاہی دربار کی خبریں سلطنت کے دور دراز علاقوں تک پہنچتی تھیں۔

کئی دہائیوں تک ان رپورٹوں، احکامات اور انتظامی ریکارڈز کے دسیوں ہزار صفحات انڈیا اور برطانیہ کی لائبریریوں اور آرکائیوز میں محفوظ پڑے رہے۔ مؤرخین کو معلوم تھا کہ یہ موجود ہیں، لیکن بہت کم لوگوں نے ان میں گہرائی تک جانے کی کوشش کی۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے مؤرخ مونس ڈی فاروقی نے تقریباً دو دہائیوں تک یہی کام کیا ہے۔

Pages from the Akhbarat, handwritten Persian reports that carried news, gossip and intelligence from the imperial court across the empire.

،تصویر کا ذریعہRoyal Asiatic Society of Great Britain and Ireland

،تصویر کا کیپشنمغل اخبارات فارسی زبان میں لکھے جاتے تھے

سنہ 2007 میں مونس نے خود کو اخباراتِ دربارِ معلّی کے مطالعے میں مصروف کیا، یہ اخبارات کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو انڈیا اور برطانیہ کے مختلف آرکائیوز میں محفوظ ہے۔

کولکتہ کی نیشنل لائبریری میں 6,500 سے زائد صفحات کا مطالعہ کرتے ہوئے انھوں نے شہزادوں، جرنیلوں، درباریوں، شاہی خواتین، محل کے خواجہ سراؤں اور دیگر کئی شخصیات کی زندگیوں کا سراغ ہزاروں اندراجات کے ذریعے لگایا۔

اس تحقیق کا نتیجہ اورنگزیب (جو اپنے شاہی نام عالمگیر سے بھی جانے جاتے ہیں) اور سترہویں صدی کے اواخر میں مغلیہ سلطنت کی ایک نئی تاریخ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ نہ صرف انڈیا کے سب سے متنازع مغل حکمران کی ایک تازہ تصویر پیش کرتی ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ ابتدائی جدید دور کی دنیا کی بڑی سلطنتوں میں سے ایک حقیقت میں کیسے کام کرتی تھی۔

مغل دور کی یہ خبری رپورٹس کم از کم چار معروف مجموعوں میں محفوظ ہیں: لندن، بیکانیر، سیتاماؤ اور کولکتہ۔ تاہم مؤرخین کو شبہ ہے کہ کچھ اور ذخیرے نجی ملکیت میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان میں سے ایک ذخیرہ جے پور قلعے کے ٹھنڈے اور خشک تہہ خانے میں گٹھریوں کی صورت میں محفوظ تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہدیدار اور قدیم اشیا کے شوقین جیمز ٹاڈ نے ان اخباری رپورٹس کی بڑی تعداد مستعار لی، مگر 1823 میں برطانیہ واپسی کے وقت انھیں واپس نہ کیا۔ بعد میں انھوں نے یہ مجموعہ رائل ایشیاٹک سوسائٹی کی لائبریری کو عطیہ کر دیا۔

سب سے بڑا اور قیمتی ذخیرہ کولکتہ کی نیشنل لائبریری میں موجود ہے، جس میں اورنگزیب کے دورِ حکومت سے متعلق 21 جلدیں شامل ہیں۔ اورنگزیب نے 1658 سے 1707 تک مغل سلطنت پر حکومت کی اور وہ اس کے آخری عظیم توسیع پسند بادشاہ تھے۔

یہ جلدیں ایک وقت میں ممتاز انڈین مؤرخ سر جدوناتھ سرکار کی ذاتی لائبریری کا حصہ تھیں، جو اورنگزیب کے سب سے بااثر سوانح نگار سمجھے جاتے ہیں۔

پہلی نظر میں اس مواد کا بڑا حصہ انتہائی معمولی اور بورنگ محسوس ہوتا ہے: تقرریاں، تنازعات، فوجی نقل و حرکت، تحائف، بیماریاں اور بے شمار انتظامی تفصیلات۔

لیکن جب ان سب کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ کچھ نایاب بن جاتا ہے: ایک ایسی سلطنت کا لگ بھگ مکمل ریکارڈ جو خود پر ہی نظر رکھ رہی تھی، جیسا کہ فاروقی نے بیان کیا ہے۔

اورنگزیب کے ابتدائی بیس سالہ دورِ حکومت کی آرکائیول معلومات کچھ حد تک نامکمل ہیں لیکن 1680 کی دہائی کے اوائل کے بعد محفوظ رہ جانے والا مواد حیرت انگیز ہے، جو کئی برسوں تک تقریباً روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ دستاویزات شہنشاہ کے تقریباً نصف صدی پر محیط دورِ حکومت کے لگ بھگ ایک تہائی حصے پر روشنی ڈالتی ہیں۔

Historian Munis D Faruqui
،تصویر کا کیپشنتاریخ دان مونس فاروقی دو دہائیوں سے مغلیہ مواد کا مطالعہ کر رہے ہیں

فاروقی نے اپنی علمی زندگی کا بڑا حصہ سترہویں صدی کے اواخر کے مغل دور پر غور و فکر کرتے ہوئے گزارا ہے۔ اس زمانے میں سلطنت اپنے عروج پر تھی، مگر ساتھ ہی ایک ایسے زوال کی جانب بھی بڑھ رہی تھی جس نے بالآخر برطانوی اقتدار کی راہ ہموار کی۔ اخبارات نے انھیں اس دنیا کو دیکھنے کا ایک بالکل نیا زاویہ فراہم کیا۔

فاروقی نے مجھے بتایا: ’اخبارات کے ساتھ کام کرنے کا میرا پورا تجربہ ایک کے بعد ایک ’حیرت انگیز‘ لمحے سے بھرپور رہا ہے! میں ہر وقت حیران ہوتا ہوں کہ اُس وقت معلوماتی نظام کس قدر گہرا اور پیچیدہ تھا۔‘

وہ خبری رپورٹس جن کا فاروقی نے مطالعہ کیا جے پور کے راجہ کے لیے تیار کی جاتی تھیں۔ امکان ہے کہ سینکڑوں دیگر امرا، شہزادے اور سرکاری اہلکار بھی سلطنت بھر میں اپنے ایجنٹوں سے اس قسم کی رپورٹس حاصل کرتے تھے، یوں یہ ابتدائی جدید دنیا کے سب سے جدید اور مؤثر معلوماتی نیٹ ورکس میں سے ایک بن گیا۔

فاروقی کہتے ہیں: ’جب میں اس نظام کے بارے میں سوچتا ہوں جس نے اس قدر وسیع معلومات اکٹھی کرنے اور منتقل کرنے کا انتظام پیدا کیا، تو میں حیران رہ جاتا ہوں۔‘

معلومات کی اس بے مثال مقدار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید دور سے پہلے کے معیار کے مطابق مغل ریاست اپنی وسیع سلطنت پر غیر معمولی حد تک گہری نظر رکھتی تھی۔

فاروقی کے مطابق اگرچہ اس معلومات پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت مختلف اوقات میں مختلف رہی، لیکن اس کا اثر ’کبھی مثبت اور کبھی منفی‘ انداز میں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا تھا۔

بار بار یہ رپورٹس فاروقی کے پہلے سے قائم تصورات کو بدلتی گئیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں ان وسیع مذہبی تبدیلیوں کے بہت کم شواہد ملے جو عام طور پر اورنگزیب کے دربار سے منسوب کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، شاہی حرم اور خواجہ سراؤں کا ادارہ سیاسی طور پر اس سے کہیں زیادہ بااثر ثابت ہوا ’جتنا کسی نے کبھی تصور کیا تھا۔‘

شہنشاہ توقع کے برخلاف کم خشک مزاج دکھائی دیتے ہیں اور ان رپورٹوں میں سکھوں جیسے گروہوں کے بارے میں منفی حوالوں کی تعداد بھی فاروقی کی توقع سے کہیں کم تھی۔ یہ بات سکھوں کی اُس دیرینہ روایت کے برعکس ہے جو کم از کم 1711 تک اورنگزیب کو ان کے روحانی رہنماؤں اور کمیونٹی پر ظلم و ستم کا ذمہ دار ٹھہراتی آئی ہے۔

کچھ دریافتیں سنسنی خیز انکشاف کے بجائے تکرار کے ذریعے سامنے آئیں۔

فاروقی کو خبرناموں میں ایک نام بار بار دکھائی دینے لگا: زینت النسا، اورنگزیب کی بیٹی۔ مؤرخین اس کے وجود سے تو واقف تھے، لیکن دربار میں ان کے کردار کے بارے میں بہت کم لکھا گیا تھا۔ تاہم صفحہ در صفحہ، وہ ان ریکارڈز میں نمایاں ہوتی چلی جاتی ہیں۔

A man walks along the stairs of of the National Library of India in Kolkata

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکولکتہ کی نیشنل لائبریری

چند ہی ہفتوں میں فاروقی کو اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی شاہی شخصیت نہیں تھی۔

زینت النسا ایک بااثر سیاسی کردار تھیں اور اپنی زندگی کے آخری برسوں میں اپنے عمر رسیدہ اور سیاسی طور پر کمزور والد کے لیے ’انتہائی طاقتور اور اہم سہارا‘ ثابت ہوئیں۔

فاروقی نے ان کے ہر ذکر کو نوٹ کرنا شروع کر دیا اور بعد میں وہ مغل حرم پر اپنی تحقیق میں نمایاں حیثیت اختیار کر گئیں۔

ہر نئی دریافت نے پرانے تصورات کو چیلنج کیا۔ فاروقی کہتے ہیں: ’وہ بہت سی کہانیاں جو میں 1990 کی دہائی سے خود کو سناتا آ رہا تھا [جب میں نے پہلی بار اخبارات کے بارے میں سنا]، ان سب پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔‘

ان کے مطابق یہ اخبارات نہ صرف اورنگزیب بلکہ پوری مغلیہ سلطنت کو نئے سرے سے سمجھنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں۔

پھر مورخین نے بڑی حد تک ان اخبارات کے مطالعے سے گریز کیوں کیا؟

فاروقی کہتے ہیں کہ وہ اس ہچکچاہٹ کو سمجھتے ہیں۔ اپنے ابتدائی کیریئر میں انھوں نے ایک اور وسیع مغل آرکائیو کے ساتھ سات ہفتے انتہائی مشکل وقت گزارا، جس کے بعد انھوں نے اس عمل کو ترک کر دیا۔

اس تجربے نے انھیں تقریباً ایک دہائی تک بے ترتیب اور بغیر فہرست کے بڑے ذخائر پڑھنے سے محتاط بنا دیا۔

وہ کہتے ہیں: ’ان میں کسی چیز کو تلاش کرنا گھاس کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔‘

’کوئی اشاریہ (انڈیکس) موجود نہیں اور دسیوں ہزار اندراجات پر مشتمل یہ ذخیرہ صبر، مستقل مزاجی اور اس آمادگی کا تقاضا کرتا ہے کہ متعلقہ معلومات اور پیٹرنز تلاش کرنے کے لیے صفحہ در صفحہ مطالعہ کیا جائے۔‘

Mughal portrait of Aurangzeb (1618-1707) a Mughal Emperor. Dated 17th Century.

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images

،تصویر کا کیپشنشہنشاہ اورنگزیب کی ایک تصویر

فاروقی کے مطابق اورنگزیب کی شخصیت پر آج بھی نئی بحثیں اس لیے جنم لیتی ہیں کہ اس کے دور سے متعلق مواد کی مقدار غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔

ابتدائی مغل بادشاہوں کے بارے میں دستیاب شواہد نسبتاً محدود ہیں، لیکن اورنگزیب کے دور تک پہنچتے پہنچتے دستاویزی ریکارڈ میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے: انتظامی آرکائیوز، ذاتی خطوط، علاقائی تواریخ، سوانحی لغات، شاعری، یورپی تجارتی کمپنیوں کے کاغذات اور سیاحوں کے بیانات، یہ سب بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

فاروقی کے لیے یہ اخبارات معلومات حاصل کرنے کا نہایت اہم ذریعہ تھے، مگر وہ اس وسیع تر ذخیرے کا صرف ایک حصہ ہیں، جو ابھی تک حیرت انگیز حد تک کم استعمال ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اس تمام مواد کی بنیاد پر درجنوں نہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، جو ابھی بھی جرات مند مؤرخین کے انتظار میں ہیں کہ وہ آئیں اور ان سے استفادہ حاصل کریں۔‘

جب فاروقی نے پہلی بار کولکتہ میں اخبارات کے اس ذخیرے کو کھولا تو انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے سامنے کیا آنے والا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’جب میں نے پہلی جلد کا پہلا صفحہ پلٹا تو مجھے فوراً احساس ہو گیا کہ یہ مجموعہ کتنا غیر معمولی ہے۔‘

’میں نے فوراً ہی ایسی کہانیوں کے آثار دیکھ لیے تھے جنھیں طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا تھا یا جن پر بہت کم کام ہوا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کی کتاب ان میں سے صرف ایک چھوٹے سے حصے کو ہی بیان کرتی ہے۔

’اور بھی بے شمار پہلو ہیں جو ابھی دریافت کیے جانے باقی ہیں اور جن پر دوسرے لوگ کام کر سکتے ہیں۔‘