بلوچستان میں اہلیہ اور بیٹیوں کے سامنے کراچی کے تاجر کا قتل: ’اگر جانیں محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے‘

مقتول علی مرتضیٰ جمیل

،تصویر کا ذریعہFacebook/Ali Murtaza

،تصویر کا کیپشنمقتول علی مرتضیٰ جمیل
    • مصنف, محمد کاظم اور قیصر کامران
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

کراچی سے کوئٹہ کی سیر کے لیے نکلنے والے علی مرتضیٰ جمیل نے شاید کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ خوشیوں سے بھرپور یہ سفر ان کی زندگی کے اختتام پر ختم ہوگا۔

اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ وہ چند خوشگوار دن گزارنے اور اپنے دوست و میزبان احسن خان سے ملاقات کی غرض سے کوئٹہ پہنچے تھے۔ منصوبہ صرف اتنا تھا کہ شہر کی رونقوں اور بلوچستان کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جائے، یادیں سمیٹی جائیں اور پھر واپس کراچی لوٹ آیا جائے۔

لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں، مبینہ طور پر راستہ بھٹک جانے کے بعد ان کا سامنا نامعلوم مسلح افراد سے ہوا۔ فائرنگ کے اس واقعے میں علی مرتضیٰ جمیل جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہوئیں۔ لیکن اس واقعے میں ان کی دو کمسن بیٹیاں اس حملے میں محفوظ رہیں۔

کوئٹہ میں علی مرتضیٰ جمیل کے قریبی دوست احسن خان کو جب اپنے دوست کی ہلاکت کی اطلاع ملی تو ان کے لیے اس خبر پر یقین کرنا بھی مشکل تھا۔

احسن خان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ علی مرتضیٰ جمیل اور ان کے بچے ایک المناک سانحے سے دوچار ہوں گے ورنہ ہم ان کو رات کو کراچی کے لیے سفر ہی نہ کرنے دیتے۔‘

جوان بیٹے کی ہلاک کے بعد شدید صدمے کی حالت میں علی کے والد جمیل نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہاں (بلوچستان) جانے والوں کی جان محفوظ نہیں، تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے۔ میری سب سے درخواست ہے کہ آج کے بعد کوئی بھی اس جگہ نہ جائے، جب تک وہاں لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی ضمانت نہ دی جائے۔‘

دوسری جانب علی کے دوست احسن خان نے بتایا کہ ’ہم نے روانگی سے قبل بھی علی کو روکنے کی بھرپور کوشش کی، ان سے درخواست کی کہ وہ رات کا سفر نہ کریں لیکن وہ نہیں رکے اور کہا کہ اس وقت نکلنا ان کے لیے ضروری ہے۔‘

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

کوئٹہ میں اس واقعے کی ابتدائی تفتیش کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ایک پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ امر افسوسناک ہے کہ علی مرتضیٰ اور ان کے بچے کوئٹہ شہر کی حدود میں ہی کوئٹہ کراچی روٹ کی بجائے غلطی سے کوئٹہ سبی روٹ پر چل پڑے تھے۔‘

علی مرتضیٰ جمیل کون تھے؟

علی مرتضیٰ جمیل کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تھا اور وہ کراچی میں کاروبار کرتے تھے۔

کوئٹہ میں ان کے دوست احسن خان نے بتایا کہ ان کی دو کمسن بیٹیاں ہیں، جن کی عمریں چار سے پانچ سال کے درمیان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’علی مرتضیٰ اور ان کے بچے چند روز قبل اپنی گاڑی میں کراچی سے کوئٹہ سیرو تفریح کے لیے آئے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’وہ بنیادی طور پر زیارت جانا چاہتے تھے۔ اس لیے ہم انھیں زیارت لے گئے اور پھر کوئٹہ کے قریب ہنہ اوڑک وغیرہ کی بھی سیر کروائی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ علی مرتضیٰ اور ان کے بچوں نے سیروسیاحت سے خوب لطف اٹھایا اور سیر و تفریح مکمل کرنے کے بعد جمعہ کی شب انھوں نے واپس کراچی کے لیے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

’علی مرتضٰی نے رات کو ہی نکلنے کا فیصلہ کیا‘

احسن خان نے بتایا کہ جمعے کو انھوں نے علی مرتضیٰ اور ان کے بچوں کے لیے رات کا کھانا بنایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے رات کا کھانا کھا لیا اور گیارہ بجے کے قریب وہ ہمارے گھر سے کراچی روانہ ہونے کے لیے نکلے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ان سے بہت درخواست کی کہ وہ رات کا سفر نہ کریں اور صبح اپنا سفر شروع کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’علی مرتضٰی نے رات کو ہی نکلنے کا فیصلہ کیا اور انھوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کو کراچی میں ایک ضروری کام ہے اس لیے وہ رات کو ہی نکلیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ سریاب روڈ سے کس طرح راستہ بھٹک گئے، جس کے نتیجے میں خاندان کو المناک سانحے سے دوچار ہونا پڑا۔

’اگر وہاں جانے والوں کی جان محفوظ نہیں، تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے‘

علی مرتضیٰ کے والد محمد جمیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری سب سے درخواست ہے کہ آج کے بعد کوئی بھی اس جگہ نہ جائے، جب تک وہاں لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی ضمانت نہ دی جائے۔'

،تصویر کا ذریعہFacebook/Haleem Adil Shaikh

،تصویر کا کیپشنعلی مرتضیٰ کے والد محمد جمیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری سب سے درخواست ہے کہ آج کے بعد کوئی بھی اس جگہ نہ جائے، جب تک وہاں لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی ضمانت نہ دی جائے۔'
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

علی مرتضیٰ کے والد جمیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے بیٹے کی بلوچستان کے بارے میں ہمیشہ مثبت رائے تھی، وہ سمجھتا تھا کہ بلوچستان ایک مہمان نواز صوبہ ہے اور وہاں کے لوگ بھی بہت مہمان نواز ہیں۔‘

کوئٹہ میں قتل ہونے والے کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کے والد نے مزید کہا کہ ’ان کا بیٹا صرف ایک روز کے لیے سیر و تفریح کی غرض سے کوئٹہ گیا تھا اور اسے اپنے ملک اور اس کے مختلف علاقوں پر مکمل اعتماد تھا۔‘

مقتول کے والد کے مطابق ’ان کا بیٹا شہر میں گھومنے پھرنے کے بعد خوشی خوشی رات میں واپس روانہ ہوا۔ روانگی سے قبل اس نے اپنے دوست احمد، جس کے پاس اس نے قیام کیا تھا، اس کو اپنی لوکیشن بھی بھیجی۔‘

علی کے والد نے دعویٰ کیا کہ ’تقریباً آدھے گھنٹے بعد لوکیشن ٹریک ہونا بند ہو گئی، جس پر اس کے دوست پریشان ہو گئے اور تلاش شروع کی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ ایک کچے اور خطرناک علاقے کی طرف چلا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔‘

والد نے بتایا کہ اس حملے میں ان کا بیٹا موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ ان کی بیٹی (بہو) کو پانچ گولیاں لگیں۔ ان کے مطابق تین گولیاں نکال لی گئی ہیں جبکہ دو اب بھی جسم میں موجود ہیں، تاہم ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ وہ ’خطرے سے باہر ہیں اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔‘

علی کے والد نے الزام عائد کیا کہ ’جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد دوستوں نے پولیس اور ایف سی اہلکاروں سے رابطہ کیا، تاہم ان کے بقول سکیورٹی اہلکار رات کے وقت آگے نہیں گئے اور صبح ہونے تک انتظار کیا گیا۔‘

تاہم علی مرتضیٰ کے والد کے اس الزام کے حوالے سے جب بی بی سی اردو نے محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ ’کسی نے اس بارے میں غیر سنجیدہ بات کی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری بہن (علی مرتضیٰ کی اہلیہ) جو کہ اس واقعے میں زخمی ہوئی تھی صدمے کی وجہ سے بات کرنے کی حالت میں نہیں، تاہم ان کے اہلخانہ سے میری بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ پولیس والے وہاں پہنچے تھے اور انھوں نے زخمی خاتون اور بچوں کو کوئٹہ پہنچایا تھا۔‘

مقتول کے والد نے بتایا کہ ’احمد نامی دوست 2016 سے ان کے بیٹے کا دوست اور موبائل کی دکان کا گاہک تھا، اس بچے نے بہت بھاگ دوڑ کی، ہماری بہت مدد کی۔‘

والد کے مطابق واقعے کے وقت ان کی دونوں پوتیاں محفوظ رہیں، تاہم وہ شدید صدمے میں ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ بلوچستان کے جنرل سیکرٹری نے ان سے تعزیت کی اور متاثرہ بچیوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کی پیشکش بھی کی۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

علی مرتضیٰ اور ان کے بچے کیسے راستہ بھٹک گئے؟

کوئٹہ شہر سے کراچی کے روٹ پر جانے کے لیے دو، تین راستے ہیں جن میں سے زیادہ تر لوگ سریاب روڈ اور مغربی بائی پاس کا انتخاب کرتے ہیں۔

سریاب روڈ سے کراچی جانے والوں کو اندازاً دس بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر پرانے کسٹمز کے دفتر سے جنوب مغرب میں لکپاس کی طرف مڑنا پڑتا ہے جبکہ مغربی بائی پاس سونا خان تھانے کے علاقے سے لکپاس کی جانب مڑنا پڑتا ہے۔

کیس کی ابتدائی تفتیش سے باخبر پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’علی مرتضیٰ نے سریاب روڈ سے لکپاس کی جانب مڑنے کے بجائے جنوب کی جانب سیدھے کوئٹہ سبی روٹ پر سفر جاری رکھا۔‘

چونکہ کسٹمز کے علاقے سے شیخ زید ہسپتال تک کوئٹہ کراچی شاہراہ کی توسیع کا منصوبہ طویل عرصے مکمل نہیں ہوا، اس لیے علاقے سے کم واقفیت رکھنے والے اس سبب بھی کنفیوژن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق اگر علی علاقے سے واقفیت رکھتے تو وہ کوئٹہ سبی روٹ پر بھی چند کلومیٹر تک سفر جاری رکھتے ہوئے ضلع کوئٹہ کے حدود میں ہی مغرب کی جانب مڑکر کر کوئٹہ کراچی شاہراہ پرپہنچ سکتے تھے لیکن وہ دشت کی جانب گئے اور وہاں سے کوئٹہ کراچی شاہراہ کی جانب مڑ ے۔

بعض رپورٹس کے مطابق گوگل میپ کی غلطی کی وجہ سے وہ لکپاس کی جانب نہیں مڑسکے۔ سینیئر پولیس اہلکار نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی طور پر یہ بتایا جاسکے گا کہ راستہ بھٹکنے کی وجہ کیا بنی۔‘

تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ خاندان کوئٹہ سے کراچی جا رہا تھا کہ راستہ بھٹک جانے یا مبینہ طور پر گوگل میپس کی غلط رہنمائی کے باعث دشت کے علاقے پہنچ گیا۔

علی مرتضی کی گاڑی پر فائرنگ کس علاقے میں ہوئی؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

تحقیقار سے آگاہ پولیس اہلکار کے مطابق علی مرتضٰی اندازاً 25 سے 30 کلومیٹر دور کوئٹہ سبی شاہراہ سے دشت کے علاقے سے لکپاس کی جانب مڑے۔

یہ علاقہ اگرچہ ضلع کوئٹہ کے سرحد کے قریب واقع ہے لیکن انتظامی لحاظ سے ضلع مستونگ کا حصہ ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق جب علی مرتضٰی کی گاڑی ’دشت کمبیلا‘ کے علاقے میں پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علی مرتضٰی ہلاک اور ان کی بیوی زخمی ہوگئی۔

خیال رہے کہ اس روڈ پر ماضی میں متعدد بار کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے جنگجوؤں کی ناکہ بندی کے علاوہ قرب و جوار کے علاقوں میں کاروائیوں اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’فائرنگ کے بعد رات کو اس علاقے میں کم از کم دو تین گھنٹے تک علی مرتضٰی کی بیوی اور ان کے بچے گاڑی میں موجود رہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صبح چار بجے کے قریب پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس علاقے میں پہنچے اور وہاں سے انھیں کوئٹہ منتقل کیا۔‘

علی مرتضٰی کی اہلیہ کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سنیچر کی صبح سول ہسپتال کوئٹہ میں واقع ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔

سول ہسپتال کے انتظامیہ سے وابستہ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ’اگرچہ خاتون کی حالت خطرے سے باہر تھی لیکن وہ شدید صدمے سے دوچار تھیں۔‘

بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’فوری طور پر علی مرتضیٰ کی میت اور اُن کی زخمی اہلیہ کو کراچی منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے، جہاں اُن کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ کا کہنا ہے کہ ’معصوم اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانا انسانیت نہیں اور مہمانوں کو اس طرح نشانہ بنانا بلوچستان کی روایات کی منافی ہے۔‘

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’معصوم بچوں کے سامنے والد کو قتل کرنا کہاں کی جرآت مندی ہے۔‘

انھون نے کہا کہ ’ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘

‏وزیر داخلہ نے کہا کہ ’متاثرہ فیملی کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابریوسفزئی نے کہا کہ ’حکومت کالعدم تنظیموں کے شدت پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پُرعزم ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار عناصر اپنے انجام تک پہنچ سکیں۔‘

اگرچہ سرکاری حکام اس واقعے کے حوالے سے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کو مورد الزام ٹہرا رہے ہیں لیکن تاحال کسی تنظیم کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

علی مرتضیٰ جمیل کے والد جمیل نے مزید کہا کہ ’خدا کرے کے ایسے کسی اور کا بیٹا نہ جائے، کسی اور کا گھر نہ اجڑے۔ اگر وہ بھی ہمارا ہی ملک ہے تو وہ جگہ بھی ہماری ہونی چاہیے۔ لیکن اگر وہ ہماری نہیں، تو پھر واضح طور پر لکھ دیا جائے کہ وہاں کوئی نہ جائے، وہ ہماری جگہ نہیں ہے۔‘