اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی گاڑی بلااجازت چلانے پر گریڈ ٹو کے ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کی بلااجازت گاڑی استعمال کرنے پر اس کے گھر کے ملازم کو جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔
جبری طور پر ریٹائر کیے جانے والا گریڈ ٹو کا ملازم محمد اسحاق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جج جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے گھر میں بطور ویٹر کام کر رہا تھا۔
محمد اسحاق پر الزام تھا کہ انھوں نے مذکورہ جج کی گاڑی ان کی اجازت کے بغیر نہ صرف استعمال کی بلکہ اس گاڑی کو ایک سو کلومیٹر سے زائد چلا لیا جس کی وجہ سے پیٹرول استعمال ہوا اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار نے ویٹر محمد اسحاق کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں جبری طور پر ریٹائر کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ محمد اسحاق نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈمن جج جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں اس حکم کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی۔
محمد اسحاق نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ان کی بیٹی بیمار تھی اور ان کو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا اور ان کے پاس اس وقت نہ کوئی ذاتی سواری تھی اور نہ ہی وہ کسی سواری کا انتظام کر سکتے تھے، اس لیے انھوں نے جج کی گاڑی کو استعمال کیا۔
اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار نے محمد اسحاق کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا جس کا محمد اسحاق نے جواب دینے کی بجائے اس نوٹس کو چیلنج کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کے حکام نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے محمد اسحاق جن کو سروس میں 14 سال ہو گئے تھے، کو جبری ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کی طرف سے عدالت میں جو ریکارڈ جمع کروایا گیا اس کے مطابق گزشتہ دس برس کے دوران محمد اسحاق اس سے پہلے بھی چار مرتبہ مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن میں ایک مرتبہ وہ تین دن بغیر بتائے چھٹی پر چلے گئے جبکہ دوسری مرتبہ انھیں ججز ریسٹ ہاوس پر تعینات کیا گیا تو وہاں سے بھی بتائے بغیر چھٹی پر چلے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈمن جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اپیل کی سماعت کے دوران محمد اسحاق نے تسلیم کیا کہ انھوں نے گاڑی جج کی اجازت کے بغیر استعمال کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ محمد اسحاق جس عہدے پر کام کر رہے تھے ان کا یہ عہدہ تو انھیں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملازم کی اس حرکت سے متوقع خطرناک نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ رجسٹرار آفس نے ملازم کو جبری ریٹائر کر کے پینشن دینے کا فیصلہ دیا، اس لیے رجسٹرار ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملازم محمد اسحاق کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔

























